میرے زمانہ کی دہلی

سید ضمیر حسن دہلوی
ماہرین یادش بخیر۔کل کی بات ہے کہ دلی میں شادی کی وہ کون سی محفل تھی جہاں دلی کے پرانے شہدے نہ پہنچتے ہوں۔ نکاح ختم ہوتے ہی ان کے یہ بول محفل میں گونجنے لگتے تھے، ’’ الٰہی سازگاری ہو، محمد کا صدقہ ،الٰہی دولہا ست پوتا ہو،دولہا باوا کو پوتے پڑپوتے کھلانے نصیب ہوں۔ اللہ کرے، آمین، دلوائیے حضور سیدھے ہاتھ سے ہزار روپے اوردوشالہ ہم شہدوں کو۔ خدا حضور کو سلامت رکھے۔ خدا کا دیدار ہو، محمد کی شفاعت، سازگاری ہو، برخورداری ہو۔‘‘ اس کے بعد شہدے اور بھاٹ مل کریہ بول گاتے

Read more

بات سے بات چلے

کم اونچی پہاڑیوں پر سے ادب کا جتنا حصہ نظر آسکتا ہے پیٹ پر ہاتھ رکھے اسے تاکتے رہتے ہیں۔
سختی موسم کی ہو یا قارئین و سامعین کی، نقاد کی طبع نازک پر بہت گراں ہے۔ ادبی سیاست کے نازو نعم میں پلے ، یہ ’ضخیم انفاس‘ اپنے چیلوں کی خدمات کے طفیل اتنے آرام طلب ہوچکے ہیں کہ ان سے کسی طرح کی پابندی برداشت نہیں ہے۔ ادب میں ما بعد جدید رجحانات کی نام نہاد ترجمانی بھی در اصل اسی ضخیم نفس امّارہ کی نفسیات میں پوشیدہ ہے۔ اسی لیے اس میں ادب کی بے مہار آزادی ہم کنار رکھنا چاہتے ہیں

Read more

میرے زمانہ کی دلی

کے فروغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام تک ضرور رسائی حاصل کرے۔ جو زبانیں محض خواص کے دائرۂ عمل میں رہتی ہیں وہ فنا ہوجاتی ہیں۔ اردو نے جو مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کے زیرسایہ پلی بڑھی۔ دلی میں یہ صورت مزید تقویت حاصل کرگئی کیونکہ یہاں قلعہ معلیٰ کی زبان جامع مسجد کی سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی گلی محلوں تک پہنچی اوراس نے عوام الناس میں فروغ پایا۔ اس زبان کو فروغ دینے میں ارزل واسفل طبقے کا بھی بڑ ا معنی خیز کردار رہاہے۔ دلی کے کرخن

Read more

تحقیق و تنقید کے مرد میداں،مولوی عبد الحق

ڈاکٹر خالد حسین
حکیم الامت علامہ اقبال کا مشہور مصرع ہے ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘۔ حقیقتاً یہ مصرع مولوی عبدالحق پر سب سے زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ ان کی دیدہ وری کو اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو وہ ہمہ جہت اور ہمہ صفت نظر آتی ہے۔ مکتوب نگاری، خاکہ نویسی، تحقیق و تنقید اور لغت نگاری اُن کی دیدہ وری کی مختلف جہتیں ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ انہوں نے بیک وقت اتنے متنوع اور متضاد موضوعات پر کس طرح خامہ فرسائی کی؟ مزید طرہ یہ کہ خامہ فرسائی ہی نہیں کی بلکہ انہیں اپناکر بامِ عروج پر بھی پہنچایا۔ بابائے اردو، مولوی عبدالحق کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ ان کی زندگی سر تا سر عزم و ثبات کا پیکر اور جوش و ولولہ کا مجسمہ تھی۔ اردو زبا

Read more

جاپان میں اردو کی صورتحال

اردو زبان کی شیرینی و لطافت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ اس زبان نے صرف اپنوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ غیروں میں بھی مقبولیت کا درجہ حاصل کیا۔ ہندوستان میں بھلے ہی یہ زبان سیاسی سازش کا شکار ہو کر رہ گئی، لیکن اب اس نے دنیا کے دور دراز کے علاقوں میں نئی بستیاں بسانی شروع کردی ہیں۔ اسی سلسلے میں ’چوتھی دنیا‘ کے خصوصی ن

Read more

ادبی اچکا صاحب کتاب

عظیم اختر
ممکن ہے دہلی والوں کے استاد یعنی استاد رسا کسی زمانے میں یہاں کے شعری، ادبی حلقوں میں اور مشاعروں میں رسا دہلوی کے نام سے جانے پہچانے جاتے رہے ہوں لیکن ہماری عمر کے لوگوں نے جب ہوش سنبھالا تو استاد کا سابقہ ان کے نام کے ساتھ لازم و ملزوم ہی نظر آیا اور وہ دہلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک استاد رسا کے نام سے ہی مشہور نظر آئے۔ ہر چھوٹا بڑا شخص ان کو استاد یا استاد رسا کہتا تھا۔ مشاعروں کے پوسٹروں اور دعوت ناموں میں بھی اہتمام کے ساتھ استاد رسا لکھا بھی جاتا تھا۔ اس طرح دہلی کی ادبی اور سماجی زندگی میں استاد کا لفظ ان کی پہچان بن گیا تھا۔ ان کے اکثر ہم عصر شعراء بھی انہیں استاد ہی کہہ کر مخا

Read more

کئی چراغ بجھ گئے

منظر عباس
سیما اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بچپن سے ہی وہ لاڈو پیار سے پلی تھی۔ اپنے خاندان میں اکلوتی لڑکی تھی۔بہت ذہین تھی، عقل و شعور والی تھی ۔صوم و صلوٰۃ کی پابند تھی۔ ساری باتیں تھیں، لیکن بدنصیب تھی۔ علم حاصل کرنے میں کافی تیز تھی۔ مڈل اسکول سے لے کر ہائی اسکول تک تمام امتحان میں اچھے نمبر سے کامیاب ہوئی تھی۔ میٹرک کے امتحان میں تو اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پھر اس کاداخلہ کالج میں ہوا۔ وہاں بھی اس نے خوب محنت کی اور فرسٹ ڈویژن سے آئی اے کا امتحان پاس کیا۔ والدین نے پڑھائی کا سلسلہ نہیں روکا اور سیما نے بی اے میں بھی داخلہ لیا۔ وہ بی اے کے تین سال کافی لگن سے پڑھتی رہی۔ کسی طرف دھیان نہیں لگائی ۔ اس کا کوئی دوسرا مشغلہ بھی نہ تھا ۔ اسے کسی چیز سے الفت نہیں تھی ۔ اور پھر اس کی محنت رنگ لائی۔ آج اس کا بی اے کا ریزلٹ آنے والا تھا۔ اور جب ریزلٹ آیا

Read more

سماج واد: ایک ادھین کتاب کا اجراء

نئی دہلی : ایم آر مورارکا فاؤنڈیشن اور پرگیا سنستھان کے ذریعہ گزشتہ 19 جون کو تین مورتی بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں مہاویر پرساد آر مورارکا کی کتاب ’سماج واد : ایک ادھیین‘ کا اجراء کیا گیا۔ کتاب کا اجراء ڈاکٹر نامور سنگھ نے کیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے ک

Read more