میرے زمانہ کی دلی

سید ضمیر حسن دہلوی
دلی کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ناصر نذیر فراق نے لکھا ہے کہ جب لال قلعہ اور جامع مسجد بن کر تیار ہوگئے تو شاہجہاں نے حکم دیا کہ امراء اور رئوساء کی حویلیاں شہر کے بیچوں بیچ اور کاریگر ، صنعت کاروں کے کوچے کنارے کنارے بسائے جائیں۔دلی گیٹ سے جٹواڑے، قصاب پورے، گھونسیوں کے محلے، کھٹیکوں کی بستی،کونڈے والان، نیاریان،رود گران، چابک سواران اور فراش خانے سے گزر کر آپ مسجد فتح پوری پہنچ جائیں گے۔چاندنی چوک میں جو گلیاں اور کوچے ہیں وہ نوابین، رئوساء اور جوہریوں سے آباد تھے۔جامع مسجد کے قریب کوچہ چیلان میں علماء اور صلحاء رہتے تھے۔بنگش کے کمرے کے پاس نواب مصطفیٰ شیفتہ کی حویلی، صدر الصدور کی حویلی ، نواب دوجانے کا مکان ، نواب عزیز آبادی کا پھاٹک، ش

Read more

اسکول چلیں ہم کا نعرہ تو اچھا ہے،مگر۔۔۔۔

خلیل احمد خلش
یکم جولائی سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی اسکولوں کی رونق لوٹ آئی ہے۔ حسب سابق امسال بھی تعلیمی سیشن شروع ہوتے ہی ’’ سَرو شکشا ابھیان‘‘ کے تحت اسکول کے بچوں بچیوں نے اس نعرے کے ساتھ ریلیاں نکالیں۔’’ آدھی روٹی کھائیں گے اسکول پڑھنے جائیں گے‘‘۔تعلیمی نعرے دینے اور دلوانے والے سبھی علم پرور اور علم دوستوں کا اس بات پر زور تھا کہ غریب امیر سبھی بچے پڑھیں،سبھی آگے بڑھیں۔انہی تعلیمی سرگرمیوں کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مارا ماری کا سلسلہ شروع ہوا۔ گلی کوچوں میں پرچون کی دکان کی طرح کھلنے والی تعلیمی دکانوں کے دکانداروں نے نونہالوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے معیاری تعلیم ، اعلیٰ تعلیم یافتہ استادوں کے ذریعہ دینے کے خوبصورت اشتہار اخباروں م

Read more

میں بھی حاضر تھا وہاں

مدرسہ قادریہ میں جلسۂ دستار بندی کا انعقاد
ہماچل پردیش: ’’جب حشر کے میدا ن میں اولین و آخرین کا اجتماع ہوگا، حضرت آدم ؑ سے حضرت محمدصلے اللہ علیہ وسلم تک تما م انبیا ء و اولیاء اور ساری مخلوق خداکے سامنے حاضر ہوگی اس وقت حافظ قرآن کے والدین کو بلا یا جائے گا، رب کائنات حافظ قرآن کے والدکی تاج پوشی کرے گا، جس کی روشنی عر ش اعظم کی روشنی سے زیا دہ ہو گی ۔‘‘اس فکر کا اظہار مدرسہ قادریہ، مسروالا، ہماچل پردیش کے نا ظم حضرت مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے جلسۂ دستار بندی کے موقع پر ہماچل پردیش ،پنجاب

Read more

لیڈر پلیڈر مردہ باد

مہتاب پیکر اعظمی
میرے اس تجربے کا ہرووٹرچشم دیدگواہ ہے کہ برسات کے زمانے میں جس طرح بے شمار مینڈک مینڈکنی کے پیٹ سے جنم لے کر عالم وجود میں نمودارہوتے ہیں اور بلاوجہ ٹرٹرکرتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح الیکشن کے دنوں میں شکم سیاست سے لیڈرپلیڈر پیدا ہوتے ہیں اور گلی گلی میں راشن کا جھوٹا وعدہ کرکے بھاشن جھاڑتے ہیںیعنی ٹراٹراتے ہیں۔ جس طرح برسات کے رم جھم موس

Read more

میرے زمانہ کی دہلی

سید ضمیر حسن دہلوی
ماہرین یادش بخیر۔کل کی بات ہے کہ دلی میں شادی کی وہ کون سی محفل تھی جہاں دلی کے پرانے شہدے نہ پہنچتے ہوں۔ نکاح ختم ہوتے ہی ان کے یہ بول محفل میں گونجنے لگتے تھے، ’’ الٰہی سازگاری ہو، محمد کا صدقہ ،الٰہی دولہا ست پوتا ہو،دولہا باوا کو پوتے پڑپوتے کھلانے نصیب ہوں۔ اللہ کرے، آمین، دلوائیے حضور سیدھے ہاتھ سے ہزار روپے اوردوشالہ ہم شہدوں کو۔ خدا حضور کو سلامت رکھے۔ خدا کا دیدار ہو، محمد کی شفاعت، سازگاری ہو، برخورداری ہو۔‘‘ اس کے بعد شہدے اور بھاٹ مل کریہ بول گاتے

Read more

بات سے بات چلے

کم اونچی پہاڑیوں پر سے ادب کا جتنا حصہ نظر آسکتا ہے پیٹ پر ہاتھ رکھے اسے تاکتے رہتے ہیں۔
سختی موسم کی ہو یا قارئین و سامعین کی، نقاد کی طبع نازک پر بہت گراں ہے۔ ادبی سیاست کے نازو نعم میں پلے ، یہ ’ضخیم انفاس‘ اپنے چیلوں کی خدمات کے طفیل اتنے آرام طلب ہوچکے ہیں کہ ان سے کسی طرح کی پابندی برداشت نہیں ہے۔ ادب میں ما بعد جدید رجحانات کی نام نہاد ترجمانی بھی در اصل اسی ضخیم نفس امّارہ کی نفسیات میں پوشیدہ ہے۔ اسی لیے اس میں ادب کی بے مہار آزادی ہم کنار رکھنا چاہتے ہیں

Read more

میرے زمانہ کی دلی

کے فروغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام تک ضرور رسائی حاصل کرے۔ جو زبانیں محض خواص کے دائرۂ عمل میں رہتی ہیں وہ فنا ہوجاتی ہیں۔ اردو نے جو مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کے زیرسایہ پلی بڑھی۔ دلی میں یہ صورت مزید تقویت حاصل کرگئی کیونکہ یہاں قلعہ معلیٰ کی زبان جامع مسجد کی سیڑھیوں سے ہوتی ہوئی گلی محلوں تک پہنچی اوراس نے عوام الناس میں فروغ پایا۔ اس زبان کو فروغ دینے میں ارزل واسفل طبقے کا بھی بڑ ا معنی خیز کردار رہاہے۔ دلی کے کرخن

Read more

تحقیق و تنقید کے مرد میداں،مولوی عبد الحق

ڈاکٹر خالد حسین
حکیم الامت علامہ اقبال کا مشہور مصرع ہے ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘۔ حقیقتاً یہ مصرع مولوی عبدالحق پر سب سے زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ ان کی دیدہ وری کو اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو وہ ہمہ جہت اور ہمہ صفت نظر آتی ہے۔ مکتوب نگاری، خاکہ نویسی، تحقیق و تنقید اور لغت نگاری اُن کی دیدہ وری کی مختلف جہتیں ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ انہوں نے بیک وقت اتنے متنوع اور متضاد موضوعات پر کس طرح خامہ فرسائی کی؟ مزید طرہ یہ کہ خامہ فرسائی ہی نہیں کی بلکہ انہیں اپناکر بامِ عروج پر بھی پہنچایا۔ بابائے اردو، مولوی عبدالحق کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ ان کی زندگی سر تا سر عزم و ثبات کا پیکر اور جوش و ولولہ کا مجسمہ تھی۔ اردو زبا

Read more