زہیر حسن شیخ
آج شیفتہ شام ڈھلے چمن میں، آسمان کو گھورتے پائے گئے۔ ہم نے پوچھا، حضور کیا لباس مجاز میں نظر آنے کا پھر تقاضہ کیا جا رہا ہے یاکسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟ فرمایا، امت کا ایک نباض یہ تقاضہ کر کے دیکھ چکا اور پھر اسی کے دلنواز اور لازوال سخن سے یہ بھی کہلوا دیا گیا کہ، تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں۔ جہاں صنم آشنا میں ہر ایک کجی اور برائی شامل ہے وہاں نماز میں عشق حقیقی کے تمام پہلو۔ پھر ا
ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان میں مسلمان اقلیتی برادری کا درجہ رکھتا ہے۔ ملک کے آئین نے دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے مسلمانوں کو بھی یکساں حقوق فراہم کیے ہیں، لیکن آزادی کے 60 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی، آج مسلمان اپنے حقوق مانگ رہا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ہمارے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بڑا سوال ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہی نکلتا ہے کہ ملک میں اب تک بننے والی حکومتیں مسلمانوں کو ان کا آئینی حق دلانے میں ناکام رہی
نام کتاب : کہیں کچھ کھو گیا ہے مصنف ؍ناشر : انجم عثمانی صفحات : 144 قیمت : 200 روپے تبصرہ نگار : شاہد نعیم انجم عثمانی کم لفظوں میں بڑی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں معاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی اقدار، رشتوں کا تصادم اور اقلیتوں کے احوال [...]
فیروز بخت احمد
مایہ ناز بچوں کے ادیب سراج انور نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا، ــ’’بچوں کے لیے لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے لیے لکھنا ایک بے حد دشوار کام ہے۔ بڑے ادیبوں سے جب بچوں کے لیے لکھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ وجہ محض یہ ہے کہ بچوں کے ادیب کو دراصل اس کی انگلی پکڑ کر اس کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ اسی کی طرح اپنے ذہن کو کچا بنا کر سوچنا پڑتا ہے۔ اسی کی طرح آسان لفظوں
مرزا غالب کی یاد میں سمینار کاانعقاد
آگرہ: آگرہ جس طر ح محبت کامر کز ہے اسی طرح علم و ادب کا بھی بین الاقوامی مرکز ہے، اور مرزا غالب اس مر کز کے بنیادی ستون ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عزیز برنی نے کیا۔ وہ یہاں مرزا غالب ریسرچ اکیڈمی کی جانب سے منعقد سمینار میں بہ حیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ سور سدن آڈیٹوریم میں تقریر کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ آگرہ تو مرزا غالب کا پیدائشی وطن ہے وہاں ان کے نا م س
عظیم اختر
ویسے تو ہمارے دوست بھائی تقو ایک سیدھے سادے سچے مسلمان ہیں۔ ہر جگہ مسلمانوں کا بول بالا چاہتے ہیں۔ مسلمان سیاست داں ہو یا فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کا کھلاڑی، اس کی تعریف کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک سے تپاک سے ملتے ہیں، اپنائیت سے پیش آتے ہیں۔ سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرتے ہیں اور راہ چلتے شناساؤں کو اتنی بلند آواز سے سلام کرتے ہیں کہ دوسرے راہ گیر بھی شرعی طریقے سے سلام کا جواب دینے ا
ڈاکٹر راحت ابرار
انیسویں صدی کے سب سے عظیم شاعرمرزااسداللہ خاں غالب نے اپنے ایک شعر میں اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر میر تقی میر کی شاعرانہ عظمت کو بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ:
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے می
فیض احمد فیضؔ کا شمار ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی تخلیقات سے عالمی ادب میں اردو زبان کا نام روشن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں، جن کی حیات و شخصیت اور شاعری کے بارے میں ان کی زندگی میں بھی کثرت کے ساتھ لکھا گیا او
میکش ؔاکبرآبادی کی یاد میں سمینار
آگرہ :گزشتہ دنوںآگرہ کے گرانڈ ہوٹل میں ’’بزم میکش‘‘ کی جانب سے معروف شاعرجناب میکش ؔاکبرآبادی کی یاد میں ایک سمینار جناب سیّدمحمدعلی کاظمی، سابق ایڈوکیٹ جنرل، یوپی کی صدرات میں منعقد ہوا۔سمینار کے مہمانِ خصوصی جناب فیروزبخت احمدتھے۔بخت نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ علم ودانش ،فن وجوہرکی نگری آگرہ نے بڑے بڑے سپوتوںخصوصاًشعراوادبا کو جنم دیا ہے۔سمینارکے صدر جناب سیّد محمدعلی کاظمی نے کہاکہ
زہرہ ؔنگاہ کی شاعری میں اچھوتے پن کا احساس ہوتا ہے
نئی دہلی:زہرہ نگاہ کی شاعری کا چرچہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ان کے کلام کو مقبولیت حا صل ہے ۔ ان کی شاعری سماج کا آئینہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ تقریب’’ایک شام زہرہ نگاہ کے نام‘‘ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری پروفیسر صدیق الر حمن قدوائی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ کی غزلوں، نظموں اور رباعیوں میں ایک اچھوتے پن کا احساس ہوتاہے ۔ زہرہ ؔنگاہ نے اپنی