پاکستانی قوم اور ناموس رسالت

عفاف اظہر
پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال نے نا صرف غیر مسلم اقلیتوں بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اس قدر سنگین الزامات عائد کرنا ایک معمول بنتا چلا جا رہا ہے جو ملک میں موجود مختلف فرقوں کے درمیان بڑھتی نفرت اور فرقہ واریت کی انتہا کا پتہ دیتی ہے ۔ توہین رسالت کے قانون پر تحقیق کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے مطابق اس قانون کے تحت ملک میں ساڑھے نو سو سے بھی زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بیشتر عیسائی ،ہندو یا پھر احمدی نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک

Read more

!دردناک، افسوسناک، المناک اور شرمناک

اسد مفتی
ہالینڈکے ایک روزنامہ نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر پر ایک مذہبی جنونی کے جان لیوا حملے کے بارے میں لکھا ہے’’گورنر سلمان تاثیر کے دن دہاڑے قتل سے ایک بات پوری طرح عیاں ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان ملکی استحکام کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کی جڑیں گہرائی تک اتر چکی ہیں‘‘۔
پاکستان کے معروف دانشور اور مذہبی اسکالر جاوید غامدی نے ایک ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے سلمان تاثیر کے قتل کو جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے ک

Read more

تیونیشیا کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔

ایم ودود ساجد
جس ملک کی ہزاروں مسجدیں نماز سے محض دس منٹ پہلے کھلیں اور نماز کے دس منٹ بعد بند کردی جائیں تو کیا آپ اس ملک کو عرب ملک قرار دے سکتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ ایسے ملک کو عرب تو کیا ایک عام سا مسلم ملک بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔عوامی بغاوت کی آگ میں جھلسنے والے شمالی افریقی عرب ملک تیونیشیا میں پچھلے 30سال سے یہی سب کچھ ہوتا آرہا تھا۔تیونس میں آنے والا عوامی انقلاب اچانک نہیں آگیا ہے۔کم سے کم یہ میرے جیسے لکھنے والوں کے لئے متوقع انقلاب ہے اور اس کی آگ سے جلد یا بدیر دوسرے عرب ممالک بھی جھلسنے والے ہیں۔میں نے جون 2005میںملک بھرکے اخبارات میں شائع ہونیو الے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آج کل عرب ممالک میں اصلاحات کی آندھی چلی ہوئی ہے اور اس پوری صورت حال کالازمی تقاضہ یہ ہے کہ عرب شہنشاہیت اپنے انجام کو پہنچ جائے۔اس کے بعد مارچ2006میں شائع ہونیو الے ایک دوسرے مضمون میں ‘ میں نے رائے ظاہر

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن
زمانہ سے آنکھیں موند کر بے تکی فکر کا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی صورتحال کا بے لاگ جائزہ نہیں لے سکتی۔کبھی کسی مسئلے کو اپنے سارے حدود اربعہ سمیت پیش نظر رکھ کے اس کے اسباب و محرکات کا معروضی تجزیہ نہیں کر سکتی۔کسی سفیر کوصف دشمناں میں شمار کر لیا جائے تو اس کی حق بات بھی ناروا دکھائی دیتی ہے اور ایسا انداز فکر مذہبی تعصب ، علاقائی تعصب یا لسانی تعصب کی بنا پر بنتا ہے،جو آج ہمارے چہارسو دکھائی دے رہاہے۔ اب اعتدال کی راہ گم ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ توازن کھو رہا ہے۔اختلاف رائے یا بے جا فکر کے دریچے وا ہو رہے ہیں۔ ایک برطانوی قانون ستارہ شناس لیس پولین نے ستارگان سے حساب لگایا ہے کہ سال نو برطانیہ میں آباد مسلمانوں کے لیے نئی صبح کا امین ہو

Read more

کیا جہالت کے جنوں سے قوم پاگل ہو گئی ہے؟

اظہر، کناڈا
گزشتہ ہفتہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل ہوا تو گویا ایک فارغ البال قوم کے ہاتھوں چٹ پٹی خبر ہی آ گئی۔ میڈیا کے تمام صحافتی اداکارے سرگرم عمل تھے تو سیاسی فنکار بھی اپنی اپنی بولیوں میں کہاں کسی سے کم تھے۔ہر کسی نے ہی اس موقع پر اپنا اپنا کردار بہ خوبی نبھایا۔ ایک طرف مذہبی بہروپئے تھے جنہوں نے نام و نہاد شریعت کے زہر آلود نشترچلا چلا کر مذہب کی چھاتی کو خوب لہو لہان کیا تودوسری طرف کالے کوٹ والوں کی کالی کرتوتوں نے بھری عدالت کے باہر ایک قاتل کو پھولوں کے ہار پہنا کر ایک خونی، ایک مذہب

Read more

سیلاب کی کہانی، سوختہ سامانی

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم ، ہالینڈ
اقوام متحدہ کی جانب سے میکسیکو میں منعقدہ موسمیاتی مسائل پر بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے موسمیات سے تحفظ کیلئے ایک مالیاتی فنڈ کے قیام کی بھرپور کوشش کی۔ اس موقع پر سیلاب سے تہس نہس پاکستان نے اپنی پوری پوری کوشش کی ہے کہ اسے ’’موسمیات کے حوالے سے دنیا کی انتہائی غیر محفوظ‘‘ قوم کا درجہ مل جائے، جس طرح بنگلہ دیش کی سر زمین، ڈوبتی ہوئی جزیرہ مملکتیں اور قحط زدہ افریقی قوموں کو انتہائی غیر محفوظ تسلیم کیاگیاہے (براہ کرم یہاں پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا تصور ذہن میں نہ لائیے)۔ حکومت پاکستان کے مشاہدہ کے مطابق پاکستان کے 124 اضلاع میں سے 79 اضلاع سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔ ملک بھر میں17 ہزار مربع کلومیٹر پر کھڑی فصلیں تباہ و برباد ہوگئی

Read more

لندن نامہ

حیدرطباطبائی
دو ہزار دس رخصت ہوچکا ہے۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کا آخری سورج افق مغرب میں غروب ہوچکا ہے۔ اس سلسلہ ہائے روز و شب کا نام وقت ہے۔ وقت کے اس سیل بے پناہ کو زمانہ بھی کہاجاتا ہے، جس کی صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپکتے رہتے ہیں اور انسان اپنی تسبیح روز و شب کا دانا دانا شمار کرتا رہتا ہے اور وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح ہولے ہولے سرکتا رہتا ہے۔ بلاشبہ جو لمحہ ہماری گرفت سے نکل کر ماضی کے سمندر میں غرق ہوگیا وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ ہم، لمحۂ موجود ہی کی لوح پر اپنی تقدیر کا نوشتہ رقم کر رہے ہیں۔
آج لندن کا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہے۔ آفتاب عالم تاب بہت دنوں سے نظر نہیں آیا، کبھی روئی کے گالوں کی مانند برف باری کبھی رم جھم بارش کا تار سا بندھا ہے۔ برطانوی حک

Read more

کیا زکوٰۃ کی آڑ میں دہش جا رہی ہے

اسد مفتی
امریکہ کی مسلم تنظیموں نے امریکی صدر براک اوباما سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے زکوٰۃ کی شکل میں دوسروں کی امداد اور خدمت خلق کے حق کو بحال کریں اور اس تعلق سے سابق امریکی صدر جارج بش نے جو مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا اس کا ازالہ کریں۔ مسلمان اس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ اگر وہ زکوٰۃ کی بنیاد پر افراد یا جماعت میں سے کسی کی مدد کریں گے تو انہیں دہشت گردی کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کے جرم میں پکڑ لیا جائے گا یا پریشان کیا جائے گا۔ امریکہ کی دو اسلامی تنظیموں ’’امپیک‘‘ اور ’’اسنا‘‘ نے ایک خط لکھ کر اوباما کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ امریکی اسلامی تنظیموں کی کونسل نے جو نفع حاصل کرنے کی بنیاد پر کام نہیں کرتی تھیں کو اس اتہام کی بنیا

Read more

پاکستان گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل اور تو ہین رسالت

محمود ایاز
مجھے پاکستان کے مسلمانوں کا یہ ورڑن پسند نہیں ہے ً ، گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ایک مذہبی انتہا پسند نے مار دیا ، کیا مذہب کے معاملے میں اختلاف رائے رکھنے والے کو مار دیا جائے گا ؟ جبکہ اسلام آزادی اظہار کا درس دیتا ہے۔
اسلام بنیادی طور پر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور احترامِ انسانیت کا درس دیتا ہے مگر جہاں اسلامی قوانین میں رد و بدل کی بات کی جاتی ہے وہاں اللہ فرماتا ہے کہ میں نے دین مکمل کردیا ہے۔ مگر پچھلے کچھ دنوں اور خوصاً گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد سے بھونچال توہین رسالت کے قانون پر آیا ہوا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اختلاف رائے کی اتنی بڑی سزا

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
حق و باطل کی معرکہ آرائی ہمیشہ سے جاری ہے، لیکن کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حسین ابن علیؓ نے قربانی دے کر حق کی بقا، اسلام کی سربلندی اور بالادستی، اعلیٰ انسانی تحفظ، قدرت کے اٹل اور ابدی فیصلے کو صحیح ثابت کر کے تا قیامت اسلام کا بیمہ کردیا۔لندن میں بھی محرم بڑی تابناکی سے منایا جاتا ہے۔ لندن میں سنی حضرات کی 35مساجد ہیں، جہاں شہادت کربلا پر سیر حاصل بیان ہوتا ہے اور 28امام باڑے و مساجد ہیں، جہاں شیعہ حضرات ماتم و مجالس منعقد کرتے ہیں۔ دو جگہ ٹوٹینگ بیگ اور سلاؤں میں ذوالجناح بھی نکالا جاتا ہے۔ امام باڑوں کے اندر زنجیروں و قماعوں کا ماتم ہوتا ہے، جس کو انگریز بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کے خلاف طلبا کے مظاہروں میں سیاسی رنگ بھردیا گیا۔

Read more