یورپ میں نسلی تعصب بڑا چیلنج

محسن شمسی
براعظم ہند(ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش) سے روزگار کی تلاش میں یوروپ جانے اور وہاں بس جانے والوں کی کہانی کافی پرانی ہے۔ دوسری جنگ عظیم (38-45 ) کے بعد یوروپ تباہ ہوچکا تھا اور دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں تھا۔ جنگ میں لگ بھگ سترہ لاکھ انسانوں کی موت کے بعد نئے لگائے جانے والے کارخانوں میں مزدوروں کی قلت تھی۔ گورے ممالک کی نظر بے روزگاروں سے بھرے غریب ممالک کی طرف مڑی اور بہتر زندگی کے خواب میں ان ممالک کے بے روزگار یوروپ کی جانب دوڑنے لگے۔ خی

Read more

مسلم حکمرانوں کے لئے لمحۂ فکریہ

رضوان عابد
تیونسکے سابق صدر زین العابدین نے ریاست و حکومت کی طاقت کو اپنی طاقت سمجھ لیا۔15جنوری 2011تک فوج اور قانون کی طاقت، جو زین العابدین کی ہاتھ جوڑی غلام تھی،اب اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔وہ فوج کا کمانڈر بھی تھا۔پولس اس کی ذاتی ملکیت تھی۔وہ اپنی مرضی سے پولس اور فوج میں ردو بدل کرتا تھااور اس کے چنے ہوئے پولس اور فوج کے اہلکار قانون،ضمیر اور انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالتے تھے۔تیونس میں ہر دوسرا آدمی پولس کا مخبر تھا۔صدر کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی کہتا تو ا

Read more

ایک مغرب زدہ ظالم بدکردار حکمراں کا دردناک انجام

رضوان عابد
تنونس افریقہ کا مضبوط اسلامی ملک ہے۔اس نے1956میں فرانس سے آزادی حاصل کی۔ زین العابدین بن علی 1987میں تیونس کے صدر بنے۔ روشن خیال اور متعدل انسان ہیں۔ مغرب اور مغربی تہذیب سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے 24سالہ دور حکومت میں تیونس کو مکمل طور پر مغرب زدہ کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے۔ فرانس دنیا کا دوسرے نمبر کا سیاحتی ملک ہے۔صرف پیرس میں ہرسال دس کروڑ سیاح آتے ہیں۔ یوروپ کے سیاحتی فارمولے کے مطابق سیاحت کے لئے شراب کباب اور شباب نہایت ضروری ہیں۔ یوروپی ماہرین کے مطابق اگر کسی جگہ پر قحبہ خانہ ، ڈسکو کلب اچھے ریستوراں اور پب نہ ہوں تو سیاحتی انڈسٹری ترقی نہیں کر سکتی، کیونکہ پیرس دنیا کا بڑا سیاحتی مرکز ہے،ا

Read more

پاکستان میں کسی شہ کا بھرم باقی نہیں رہا!

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم ہالینڈ
جیساکہ ہم جانتے ہیں پاکستان پر ’’برا وقت‘‘ آیا ہوا ہے اور میرے حساب سے یہ ’’برا وقت‘‘ اچانک نہیں آپڑا ، اس کے لیے برسوں سے زمین تیار کی جارہی تھی شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر۔گزشتہ آدھی صدی سے پاکستان میں اتھل پتھل ہے، یہاں کے تمام ادارے، سوسائٹیاں، سرکاری و غیرسرکاری انسٹی ٹیوشن، ایسوسی ایشن، اکیڈمیاں، یونیورسٹیاں، پارٹیاں، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور تمام اعلیٰ و ارفع قدریں سب گڈمڈ ہیں، الٹ پلٹ اور اتھل پتھل ہوچکی ہیں۔ آج سیاست میں ہمارا کام یہ تلاش کرنا نہیں ہے کہ سچ کیا ہے بلکہ یہ تلاش کرنا ہے کہ وہ سچ کیا ہے جو ہمیں درکار ہے؟ اس وقت کشور حسین شادباد آفت زدہ اور مصیبت زدہ ہے، لیکن اس مصیبت سے نکلنا تو درکنار یہاں تو اس کے بارے میں غور و فکر ہی ناپید

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
جو مزہ سیاستداں حضرات کی بخیہ اھیڑنے اور پارلیمنٹ یا اس کے باہر عوامی جلسوں میں تو تو میںمیںکا بازار لگانے میں ہے، وہ مزہ عوامی مسائل کی چارہ گری میں کہاں۔ان کو پس پشت چھوڑ کر اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں الجھنا ہی آج کے سیاستداں حضرات کا کام رہ گیا ہے۔ وہ مختلف انواع و اقسام میں عوام الناس کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیںاور عوام مہنگائی سے تنگ آ کر چوری چکاری کی جانب راغب ہونے لگے ہیں۔ایک تصور یہ ہے کہ لندن میں چوریاں کم ہوتی ہیں۔وہاں لے کوگ آسودہ حال ہیں۔جنہیں دو دن قبل لندن کے علاقہ کینٹ سے45ہزار پونڈ کے سانپ اژدہے اور چھپکلیاں چوری ہو گئیں۔یہاں کے خوش حال طبقے کے مکانوں میں اگر آپ جائیں تو تین یا چار طبقوںکے شیشوں کے شوروم بنے ہوتے ہیں۔

Read more

پاکستانی قوم اور ناموس رسالت

عفاف اظہر
پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کا ریکارڈ رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال نے نا صرف غیر مسلم اقلیتوں بلکہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اس قدر سنگین الزامات عائد کرنا ایک معمول بنتا چلا جا رہا ہے جو ملک میں موجود مختلف فرقوں کے درمیان بڑھتی نفرت اور فرقہ واریت کی انتہا کا پتہ دیتی ہے ۔ توہین رسالت کے قانون پر تحقیق کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے مطابق اس قانون کے تحت ملک میں ساڑھے نو سو سے بھی زائد مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بیشتر عیسائی ،ہندو یا پھر احمدی نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک

Read more

!دردناک، افسوسناک، المناک اور شرمناک

اسد مفتی
ہالینڈکے ایک روزنامہ نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر پر ایک مذہبی جنونی کے جان لیوا حملے کے بارے میں لکھا ہے’’گورنر سلمان تاثیر کے دن دہاڑے قتل سے ایک بات پوری طرح عیاں ہو گئی ہے کہ حکومت پاکستان ملکی استحکام کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کی جڑیں گہرائی تک اتر چکی ہیں‘‘۔
پاکستان کے معروف دانشور اور مذہبی اسکالر جاوید غامدی نے ایک ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے سلمان تاثیر کے قتل کو جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے ک

Read more

تیونیشیا کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔

ایم ودود ساجد
جس ملک کی ہزاروں مسجدیں نماز سے محض دس منٹ پہلے کھلیں اور نماز کے دس منٹ بعد بند کردی جائیں تو کیا آپ اس ملک کو عرب ملک قرار دے سکتے ہیں؟میرا خیال ہے کہ ایسے ملک کو عرب تو کیا ایک عام سا مسلم ملک بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔عوامی بغاوت کی آگ میں جھلسنے والے شمالی افریقی عرب ملک تیونیشیا میں پچھلے 30سال سے یہی سب کچھ ہوتا آرہا تھا۔تیونس میں آنے والا عوامی انقلاب اچانک نہیں آگیا ہے۔کم سے کم یہ میرے جیسے لکھنے والوں کے لئے متوقع انقلاب ہے اور اس کی آگ سے جلد یا بدیر دوسرے عرب ممالک بھی جھلسنے والے ہیں۔میں نے جون 2005میںملک بھرکے اخبارات میں شائع ہونیو الے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آج کل عرب ممالک میں اصلاحات کی آندھی چلی ہوئی ہے اور اس پوری صورت حال کالازمی تقاضہ یہ ہے کہ عرب شہنشاہیت اپنے انجام کو پہنچ جائے۔اس کے بعد مارچ2006میں شائع ہونیو الے ایک دوسرے مضمون میں ‘ میں نے رائے ظاہر

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن
زمانہ سے آنکھیں موند کر بے تکی فکر کا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی صورتحال کا بے لاگ جائزہ نہیں لے سکتی۔کبھی کسی مسئلے کو اپنے سارے حدود اربعہ سمیت پیش نظر رکھ کے اس کے اسباب و محرکات کا معروضی تجزیہ نہیں کر سکتی۔کسی سفیر کوصف دشمناں میں شمار کر لیا جائے تو اس کی حق بات بھی ناروا دکھائی دیتی ہے اور ایسا انداز فکر مذہبی تعصب ، علاقائی تعصب یا لسانی تعصب کی بنا پر بنتا ہے،جو آج ہمارے چہارسو دکھائی دے رہاہے۔ اب اعتدال کی راہ گم ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ توازن کھو رہا ہے۔اختلاف رائے یا بے جا فکر کے دریچے وا ہو رہے ہیں۔ ایک برطانوی قانون ستارہ شناس لیس پولین نے ستارگان سے حساب لگایا ہے کہ سال نو برطانیہ میں آباد مسلمانوں کے لیے نئی صبح کا امین ہو

Read more