کیا نواز شریف پاکستان میں’ گڈ گورننس ‘ لا پائیں گے

پاکستان میں جب سے موجودہ حکومت یعنی میاں نواز شریف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی

Read more

آخر پاکستانی لیڈران کا ملک سے باہر ہی علاج کیوں؟

کسی زمانے میں پرویز مشرف کا نعرہ ہوا کرتا تھا ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ ۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں تو ان کے نعرے بھی بدل گئے۔ اب ان کانعرہ ہے ’’ سب سے پہلے اپنی جان‘‘۔ پرویز مشرف بیماری کے نام پر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔اس طرح وہ اپنے خلاف غداری کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ وہ کب تک عدالت میں حاضر ہونے سے محفوظ رہتے ہیں یا

Read more

مسلم ممالک بدحالی کے شکار

دنیا میں مسلم اکثریت والے 57 ممالک ہیں۔ان میں سے بیشتر ملکوں کو قدرت نے قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ان قدرتی وسائل میں پٹرول سرفہرست ہے اور اس بات کو سب جانتے ہیں کہ اگر پٹرول کا بڑا ذخیرہ کہیں پایا جاتا ہے تو وہ خلیجی ممالک ہیں اور ان خلیجی ملکوں میں عرب مسلمان بستے ہیں ۔ خلیجکے علاوہ بحر قزوین (Caspian Sea) سے قفقاز (Caucasus) تک پھیلے ہوئے علاقے اور عراق ، شام ، ایران اور مصر سے الجزئر تک پھیلے ہوئے طویل علاقے میں بھی پٹرول کے متعدد ذخائر پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کے نقشوں پر نگاہ ڈالیں تو مشرق میں افغانستان ،پاکستان ،مشرقی فلپائنس سے لے کر بحر اطلس کے کنارے تک اور مغرب کی جانب مغربی ساحلوں سے ملتا ہوا موریطانیہ اور مغرب سینگال تک اور وسطی ایشیا میں بلقان اور شمالی افریقہ تک اور جنوبی ایشیا میں انڈونیشیا، اور وسطی افریقہ تک وسیع عریض علاقے میں پھیلے ہوئے مسلم ملکوں کو قدرت نے معدنیات اور خوردو نوش و زرعی پیدوار کی زبردست صلاحیتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ یہی نہیں بحری راستے جن پر نظام مواصلات کا انحصار ہوتا ہے ان پر پر قدرت نے مسلم ملکوں کو ہی کنترول دے رکھا ہے۔

Read more

کیا ہندوستان کو بھی فرانس جیسے خونی انقلاب کی ضرورت ہے؟

فرانس کا انقلاب بہت خونی انقلاب تھا اور بہت اوباش قسم کے لوگوں کے ہاتھوں یہ انقلاب برپا ہوا۔ اس کی وجہ بنیادی وجہ معاش اور سماجی نابرابری تھی۔کسی بھی ملک یا خطے کی قدرتی وسائل وہاں کے رہنے وا لوں کا حق ہوتے ہیں اور ان وسائل پر وہاں کے رہنے والوں کا برابر کا حصہ ہوتا ہے ۔لیکن ہمیشہ سے یہ ہوتا آیا ہے کہ حکمراں طبقہ ، امیر ووزیر اور ان کے حوارین پورے ملک کے قدرتی وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں عوام کو انکا جائز حق نہیں پہنچ پاتا ۔ اسی وجہ سے امیری غریبی کا فرق بڑھتا ہے اور ایک حد کے بعد انقلاب برپا ہوجاتاہے۔ فرانس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ حکمرانوں امیروں اور ان کے حوارین نے عوام سے رابطہ تقریباً منقطع کرلیا۔ امیروں نے اپنی بستیاں الگ بسالیں اور مکمل طور سے قدرتی وسائل

Read more

پاکستانی شرعی عدالت میں خاتون جج کی تقرری قابل تعریف قدم

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔اس پر بنیاد پرستی کا الزام بھی لگتا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان میں خواتین کی حالت زار پر بار بار سوالیہ نشان بھی لگ جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے ۔لیکن جس طرح ہندوستان کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی رہی ہیں اسی طرح پاکستان بھی پیچھے نہیں رہا۔ وہاں بھی بے نظیر بھٹو وزیر اعظم رہی ہیں ۔اسی طرح حنا ربانی کھر وزیر خارجہ رہی ہیں اور اسی طرح اسماء جہانگیر ہیں اور بھی بہت سے بڑے بڑے ادارے ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ ، میڈیا اور دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی خواتین کی خاطر خواہ نمائندگی رہی ہے۔ لیکن قابل تعریف ہے کہ پہلی مرتبہ شرعی عدالت میں کسی خاتون کو جج مقرر کیا گیا ہے۔

Read more

مصر کی فوجی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات : مرسی اور ان کے حامیوں پر زبردست کریک ڈائون

کہاوت مشہور ہے کہ ایک غلطی کو چھپانے کے لئے سو غلطیاں کرنی پڑتی ہیں۔ یہ کہاوت ان دنوں مصر کی حکومت پر فٹ ہورہی ہے۔ پہلے جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو معزول کرکے فوجی حکومت قائم کرنے کی غلطی کی۔ اب اس قدم کو جائز ٹھہرانے کے لئے منتخب حکومت کے نمائندوں پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور نام نہاد عدالت قائم کرکے ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔مصر کی فوجی حکومت کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ملکوں کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں کے مفاد محمد مرسی کی جمہوری حکومت کے خاتمے میں مضمر تھے ۔اسرائیل تو اس لئے خاموش ہے کہ اخوان حکومت کے قیام سے اس کے مفاد کو نقصان پہنچ رہا تھا اور سعودی عرب کو یہ خط

Read more

عبد القادر ملا کی پھانسی حکومت بنگلہ دیش کا سیاسی انتقام

بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے نائب قیم عبد القادر ملا کی 12 دسمبر 2013 کی شب پھانسی پر دنیا بھر میں ماتم بچھی ہے اور پڑوسی ملکوں میں زبردست احتجاج کیا جارہا ہے۔
عبد القادر ملا سینٹرل بنگلہ دیش میں ضلع فرید پور کے ایک گائوں امیر آباد میں 14 اگست 1948 میں پیدا ہوئے۔1966 میں فریدپور کے راجندر کالج میں تعلیم کے دوران جماعت اسلامی سے جڑے۔ اس وقت اس جماعت کو ’’اسلامی چھاتر سنگھ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔بطور صحافی ان کی خدمات قابل قدر رہی ہیں۔ روزنامہ ’’سنگرام‘‘ ڈھاکہ کے ایگزکٹو ایڈیٹر

Read more

خلیج تعاون کونسل اجلاس میں اہم پیش رفت

کویت میں خلیج تعاون کونسل کا 34 واں اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہواہے جب ملک شام میں حالات پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔عصمت دری اور قتل کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔دوسری طرف مصر میں سیاسی فضا ایک نیا رنگ لے رہی ہے۔ جامعہ ازہر کے مشہور عالم شیخ

Read more

بالی معاہدہ ہندوستان کے تجارتی مفادات کو زیادہ پورا کرتا ہے

عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا پرانا نام جنرل ایگریمنٹ آن ٹیریفس اینڈ ٹریڈ (گیٹ) ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1995 میں ہوا۔اس کا مقصد عالمی سطح پر تجارت کو فروغ دینا، کسٹم کے نظام کو سادہ بنانا، زرعی سبسڈی اور غریب ممالک کو امداد کی فراہمی اور معاشی پابندیوں، ڈیوٹی، کوٹا، سبسڈی، ٹیریف وغیرہ کی نگرانی کرنا جیسے معاملات پر اتفاق رائے سے پہنچنا ہے۔نیز یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ تنازع کی صورت میں عالمی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت ڈبلیو ٹی او کے 159 باقاعدہ ارکان ہیں اور 2013 کی اس کی تجارتی کانفرنس انڈونیشیا کی ایک ریاست بالی میں منعقد ہوئی ہے جس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر سے وزرائے تجارت شریک ہوئے ہیں۔ اس کانفرنس کو عالمی طور پر آزاد تجارت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Read more