انیس سو تیس سے شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کا یہ 19واں ایڈیشن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ایک لاکھ افراد اسٹیڈیم میں موجود تھے جب کہ دنیا بھر میں دو ارب سے زائد افراد براہ راست ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں میں شامل ہیں۔
جیساکہ آپ جانتے ہیں ان دنوں دنیا (با لخصوص یوروپ) کو فٹ بال کا
مذاکرات کے سلسلوں سے مسلم اور غیر مسلم ممالک میں جو سب سے بڑا اختلاف محسوس کیاگیاہے وہ یوروپین ممالک کے آئین یعنی constitution اور اسلامی شریعت میں تضاد کا ہے۔ مثلاًاسلامی حدود کے قوانین، عورت کے حقوق،شادی و طلاق کے قواعد، لڑکیوں کی تعلیم کے علاوہ اولاد کے حقوق ہیں،جن کامقام یہاں کے آئین میں بے حد اہم اور حساس ہونے کے ساتھ آزادانہ اور لبرل ہے۔ یہ معاملات براہ راست ا سلامی معاشرت سے ٹکراتے ہیں۔ یوروپ میں مسلم خاندانوں کے والدین اور بڑوںکی اپنی اولاد پر ویسی حکمرانی نہیں رہتی جیسی ان پر ان کے والدین کی رہ چکی ہوتی ہے ۔ اس لیے اولا
برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کے لئے ایک درد ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ برطانوی ہوم سکریٹری میڈم تھریسامئی نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر برطانیہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے ،کیونکہ کسی ایسے شخص کو برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،جس کی آمد عوامی مفاد میں نہ ہو، لیکن لیبر پارٹی کے لارڈ نظیر احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے، اس سے مسلم کمیونٹی میںرنگ و نسل کی نفرت اور بڑھے گی۔دوسری جانب محمد صبغت اللہ بیرسٹر اور دوسرے چند مسلم لیڈروںنے کہا ہے کہ یہ اچھا قدم ہے۔
غزہ کے عوام کے لیے امدادی قافلے پر حملے کے خلاف برطانیہ بھر میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کا مظاہرہ جاری ہے۔ برابر اسرائیل کے خلاف مظاہرے نہایت منظم طریقے سے ہو رہے ہیں۔ سبھی ’’فری فلسطین فری فلسطین‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مصنوعا
ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ جب تک ’’اوپن ایئرجیل‘‘ کی حیثیت سے غزہ انسانی ضمیر پر رستا ہوا زخم بنا رہے گا، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
انقرہ کے ایک ٹی وی چینل پر ایک خصوصی پروگرام میں
یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک کوئی اپنی زبان کی طرح زبان نہ بولے اوراپنے جیساکھانا نہ کھائے وہ دل میں نہیں اترتا، لیکن کسی کو اپنا بنانے کے لیے پہلے اس کا بننا پڑتا ہے دوسرے کو اپنابنانے کے لیے اس کے جیسا کھانا پڑتاہے اس کی بولی بولنا پڑتی ہے۔ مگریوروپ میںیہ کیسے ہو اور کون کرے۔ یہاں زبان کے ساتھ ساتھ رنگ اور اس سے بڑھ کر مذہ
عفاف اظہر، کناڈا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد متفقہ طور پر غزہ امداد لے کر جانے والی کشتیوں پر اسرائیلی کمانڈودستوں کے حملے کی فوری شفاف اور غیر جانبدرانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کی صبح غزہ کے لئے امداد لے جانے والے بحری بیڑے پر اسرائیلی کمانڈوز [...]
عفاف اظہر آج ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ تو ہم سب ہی دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں سانحوں پر سانحے ہو رہے ہیں قیامت پر قیامت گزر رہی ہے کہیں بھوک ہے تو کہیں خشک سالی کہیں بے سرو سامانی ہے تو کہیں جرائم کی فراوانی . اور اس [...]
بشریٰ اقبال ملک۔جرمنی آج کل جرمنی کے تمام اسکولوں میں اسلام کو بطور ایک مضمون پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تربیت اور اسلامی نصاب مرتب کرنے کے لیے زور شور سے کام کے علاوہ مساجد کے امام مقرر کرنے کے لیے اصول مرتب کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں جرمنی میں مسلمانوں کا پڑھا لکھا [...]
جون 2008میں خبر آئی تھی کہ ہالینڈ کی حکومت نے ایک نئے قانون کی تیاری کا حکم دیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کو ہالینڈ میں رہنے کے لئے انتہائی سخت امتحان پاس کرنا ہوگا۔ اس نئے قانون سے ہالینڈ میں مقیم کم از کم پانچ لاکھ مسلمانوں کو سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ پھربھی حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ نیا قانون (سعادت حسن منٹو والا نہیں)تارکین کے امور سے متعلق وزیر ریٹا فرڈونک نے تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ اس