!دور اندیش فیصلے، عمل درآمد کی ضرورت

انور غازی
اقتصادی تعاون تنظیم بین الاقوامی طور پر ایشیا کے دس ممالک کی تنظیم ہے۔ یہ 1985میں پاکستان، ترکی اور ایران کے باہمی اشتراک سے وجود میں آئی۔ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سے ایک رکن ممالک کے درمیان یوروپی یونین کی طرح ’’آزادانہ تجارت‘‘ کا ماحول سازگار بنانا ہے، جہاں یہ تمام ممالک آزادانہ باہمی طور پر سامان کی خریدوفروخت اور خدمات مہیا کرسکیں۔ آپس میں اکنامکس، ٹیکنیکل اور کلچرل ترقی کو فروغ مل سکے۔ یہ تنظیم اپنے رکن ممالک کو ترقی میں اضافہ، تجارت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کے دس رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قزاقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ اس تنظیم کا سکریٹریٹ اور ثقافتی ڈپارٹمنٹ ایران کے شہر تہران میں، اقتصادی بیورو ترکی میں اور سائنٹفک بیور

Read more

عرب ممالک میں تبدیلی کی لہر

تنویر جعفری
مصر کی تاریخ میں 11 فروری 2011 کا دن اس وقت درج ہوگیا، جب ملک کے اقتدار پر 30 سالوں تک قابض رہنے والے 82 سالہ صدر حسنی مبارک کو عوامی احتجاج کے سبب راجدھانی قاہرہ میں واقع اپنا عالی شان محل یعنی صدارتی محل چھوڑ کر شرم الشیخ بھاگنا پڑا۔ دوسرے ممالک کے مفاد پرست، ظالم اور اقتدار کے لالچی تاناشاہوں کی طرح مصر میں بھی صدر حسنی مبارک نے اپنی انتظامی گرفت بے حد مضبوط کر رکھی تھی۔ ایسا محسوس نہیں ہورہا تھا کہ مبارک کو ان کے جیتے جی کبھی اقتدار سے بے دخل بھی ہونا پڑ سکتا ہے، لیکن یہ سارے قیاس اس وقت ختم ہوگئے جب پرامن اور عدم تشددکے ملک گیر احتجاج کے سبب 18 دنوں تک چلے لمبے ٹکراؤ کے بعد مبارک کو اپنی گدی چھوڑنی پڑی۔ مبارک کی تین دہائیوں

Read more

انقلاب تو ہے مگر شعوری یا لاشعوری؟

عفاف اظہر
مصر میں اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں جمع ہوئے اور صدر حسنی مبارک سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مصر کی سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں جمع مظاہرین کا مقصد صرف یہ ہے کہ تیس سال سے صدارت کی کرسی پر براجمان حسنی مبارک فوری طور پر صدارت چھوڑ دیں ۔مصری عوام کا کہنا ہے کہ انکا سب سے بڑا مسئلہ صدر حسنی خود ہیں ۔ دوسری طرف صدر حسنی مبارک پر اقتدار سے فوری طور پر الگ ہو جانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر بھی دباؤ بڑھتا جا

Read more

لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
قاہرہ کے تحریر اسکوائر کے بعد لندن کی سڑکوں پر مصری عوام سرگرم عمل ہیں۔ تیونس میں زین العابدین بن علی کے بعد پورے مشرق و سطیٰ میں ارتعاش سا آگیا ہے۔ محکوموں، مظلوموں اور مجبوروں کو لگا کہ ان کی تقدیر اپنے ہاتھ میں ہے۔ مصر میں اس عوامی بیداری کا ہدف اول بنا دنیابھر کے ڈکٹیٹروں کی طرح حسنی مبارک۔ وہ اس زعم میں مبتلا رہا کہ مصر اس کی مٹھی میں ہے اور کوئی توانا حزب اختلاف منظم ہی نہیں ہو پائی۔ اخوان المسلمین کو سالہا سال سے ریاستی جبر وتشدد کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔ اخوان المسلمین میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ سربلند کر کے انقلاب کا نعرہ بلند کرسکے۔ مبارک کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نفری رکھنے والی سیاہ پوش مصری پولس میری وفادار ہے جو کسی بھی شورش کو کچلن

Read more

اب سوڈان بھی تقسیم ہونے کو تیار

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنوبی سوڈان کو ایک آزاد ریاست کے طورپر امسال جولائی میں باضابطہ طورپر تسلیم کرلے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان علیحدگی کے بعد وہاں امن و استحکام سب سے بڑی ضرورت ہے جسے یقینی بنانا دونوں حصوں کی لیڈرشپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں ا

Read more

یورپ میں نسلی تعصب بڑا چیلنج

محسن شمسی
براعظم ہند(ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش) سے روزگار کی تلاش میں یوروپ جانے اور وہاں بس جانے والوں کی کہانی کافی پرانی ہے۔ دوسری جنگ عظیم (38-45 ) کے بعد یوروپ تباہ ہوچکا تھا اور دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں تھا۔ جنگ میں لگ بھگ سترہ لاکھ انسانوں کی موت کے بعد نئے لگائے جانے والے کارخانوں میں مزدوروں کی قلت تھی۔ گورے ممالک کی نظر بے روزگاروں سے بھرے غریب ممالک کی طرف مڑی اور بہتر زندگی کے خواب میں ان ممالک کے بے روزگار یوروپ کی جانب دوڑنے لگے۔ خی

Read more

مسلم حکمرانوں کے لئے لمحۂ فکریہ

رضوان عابد
تیونسکے سابق صدر زین العابدین نے ریاست و حکومت کی طاقت کو اپنی طاقت سمجھ لیا۔15جنوری 2011تک فوج اور قانون کی طاقت، جو زین العابدین کی ہاتھ جوڑی غلام تھی،اب اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔وہ فوج کا کمانڈر بھی تھا۔پولس اس کی ذاتی ملکیت تھی۔وہ اپنی مرضی سے پولس اور فوج میں ردو بدل کرتا تھااور اس کے چنے ہوئے پولس اور فوج کے اہلکار قانون،ضمیر اور انصاف کو اپنے پیروں تلے روند ڈالتے تھے۔تیونس میں ہر دوسرا آدمی پولس کا مخبر تھا۔صدر کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی کہتا تو ا

Read more

ایک مغرب زدہ ظالم بدکردار حکمراں کا دردناک انجام

رضوان عابد
تنونس افریقہ کا مضبوط اسلامی ملک ہے۔اس نے1956میں فرانس سے آزادی حاصل کی۔ زین العابدین بن علی 1987میں تیونس کے صدر بنے۔ روشن خیال اور متعدل انسان ہیں۔ مغرب اور مغربی تہذیب سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے 24سالہ دور حکومت میں تیونس کو مکمل طور پر مغرب زدہ کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے۔ فرانس دنیا کا دوسرے نمبر کا سیاحتی ملک ہے۔صرف پیرس میں ہرسال دس کروڑ سیاح آتے ہیں۔ یوروپ کے سیاحتی فارمولے کے مطابق سیاحت کے لئے شراب کباب اور شباب نہایت ضروری ہیں۔ یوروپی ماہرین کے مطابق اگر کسی جگہ پر قحبہ خانہ ، ڈسکو کلب اچھے ریستوراں اور پب نہ ہوں تو سیاحتی انڈسٹری ترقی نہیں کر سکتی، کیونکہ پیرس دنیا کا بڑا سیاحتی مرکز ہے،ا

Read more

پاکستان میں کسی شہ کا بھرم باقی نہیں رہا!

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم ہالینڈ
جیساکہ ہم جانتے ہیں پاکستان پر ’’برا وقت‘‘ آیا ہوا ہے اور میرے حساب سے یہ ’’برا وقت‘‘ اچانک نہیں آپڑا ، اس کے لیے برسوں سے زمین تیار کی جارہی تھی شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر۔گزشتہ آدھی صدی سے پاکستان میں اتھل پتھل ہے، یہاں کے تمام ادارے، سوسائٹیاں، سرکاری و غیرسرکاری انسٹی ٹیوشن، ایسوسی ایشن، اکیڈمیاں، یونیورسٹیاں، پارٹیاں، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور تمام اعلیٰ و ارفع قدریں سب گڈمڈ ہیں، الٹ پلٹ اور اتھل پتھل ہوچکی ہیں۔ آج سیاست میں ہمارا کام یہ تلاش کرنا نہیں ہے کہ سچ کیا ہے بلکہ یہ تلاش کرنا ہے کہ وہ سچ کیا ہے جو ہمیں درکار ہے؟ اس وقت کشور حسین شادباد آفت زدہ اور مصیبت زدہ ہے، لیکن اس مصیبت سے نکلنا تو درکنار یہاں تو اس کے بارے میں غور و فکر ہی ناپید

Read more