اسرائیل و فلسطین جنگ میں حقیقی جیت کس کی؟

غزہ جنگ میں جیت کس کی ہے،حماس کی یا اسرائیل کی؟یہ ایک بڑاسوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت پیچیدہ اور تجزیہ پر مبنی ہے۔ایک طرف اسرائیل طاقت سے لیس اور دولت سے بھرپور ہے ۔دوسری طرف فلسطین نہتھا اور بے سروسامانی میں جی رہا ہے۔ایسے میں جانی نقصان کس کا زیادہ ہورہا ہوگا ؟ اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس جنگ نے اسرائیل کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ فلسطین کو ہوئے نقصان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ نقصان ہے، نفسیاتی ، سفارتی اورمحسوساتی شکست ۔اگر تینوں نقصانات کا تجزیہ کرلیا جائے تو پوچھے گئے سوال کا جواب کچھ بخود سامنے آجائے گا کہ جیت کس کی ہوئی ہے۔

Read more

اسرائل کی ہٹ دھرمی، غزہ تباہ ہو رہا ہے

ؒخلیجی جنگ میں امریکہ نے جو غلطی کی تھی آج اسی غلطی کو اسرائیل دہرارہا ہے۔خلیجی جنگ کا آغاز کویت کے دفاع کے لئے ہوا تھا اور اس کا اختتام مرحوم صدام حسین سے انتقام کی شکل میں سامنے آیا۔اس انتقامی کارروائی میں ہزاروں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ 17 جنوری 1991 کو ہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے رات میں امریکہ نے کویت کے دفاع میں عراق پر پہلا ہوائی حملہ کیا۔اس کے بعد اتحادی ملکوں کی حمایت سے مسلسل ہوائی اور پھر زمینی حملے ہوتے رہے ۔نتیجتاً صدام حسین کی فوج پسپا ہوکر واپس لوٹ گئی۔ عراقی فوج کی واپسی کے بعد خلیجی جنگ کو طویل کھینچنے کا کوئی جواز نہیں بچا تھا۔صدام حسین کے خلاف انٹرنیشنل کرائم کورٹ میں مقدمہ چلنا چاہئے تھا ۔لیکن امریکہ نے ایسا نہیں کیا،حملے جاری رکھے۔ یہاں تک کہ 2003 میں صدام حسین گرفتار کرلئے گئے اور پھر عراق کی عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں پھانسی کی سزا دے دی گئی۔

Read more

سچائی پر پردہ ڈالنے کی سماج وادی سازش

اتر پردیش کا بگڑا قانون و نظام کہیں سماج وادی سرکار کے لئے عدم استحکام کا سبب نہ بن جائے۔یہ فکر سماج وادی تھِنک ٹینک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جارہی ہے۔محض دو یا سوا دوبرسوں میں اکھلیش سرکار کے اوپر ناکامی کا ایسا ٹھپہ لگ گیا ہے، جسے مٹانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ خواتین کے استحصال اور عصمت دری جیسے تمام حادثات سے ریاستی سرکارپہلے سے ہی متزلزل تھی ،اسی بیچ چیکنگ کرتے پولیس والوں کو کار جیپ سے کچل کر مار دینے کی کوشش، تین بی جے پی لیڈروں کا قتل، فیروز آباد میں دو پولیس والوں کو بدمعاشوں کے ذریعہ گھات لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیے جانے جیسے حادثوں کی وجہ سے پانی سر سے اونچا جاتا دکھ رہا ہے۔ مرکز کی بی جے پی سرکار اور اتر پردیش سے انتخاب جیت کر وزیر بنے راجناتھ سنگھ، اوما بھارتی اور کلراج مشرا کے ذریعہ ریاست کے حالات پر لگاتار سخت ریمارکس کی وجہ سے سیاسی پارا چڑھا ہوا ہے۔

Read more

عراق کو ختم کر رہا ہے امریکہ

جب آپ طاقتور ہوتے ہیں تو آپ پر اس بات کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اگر آپ کسی کمزور کی مدد کرنے جا رہے ہیں تو اس کی حفاظت کا پورا خیال رکھیں گے۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں پوری طرح ناکام رہا ہے کیونکہ اس نے اگر عراق پر اس بات کے لئے حملہ کیا تھا کہ صدام حسین تباہی مچا سکتے ہیں تو یہ تباہی امریکہ بھی کیوں نہیں روک سکا۔ ایک طرح سے حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ اسے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ امریکہ نے عراق میں صدام حسین کے دور کا تو خاتمہ کر دیا لیکن اس کے بعد ملک میں شروع ہوئی پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں سے نجات نہیں دلا پایا۔ سال 2003میں جب امریکہ نے صدام حسین کو اقتدار سے باہر کیا تو اس کا منفی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ اس علاقے میں ایران کا غلبہ بڑھنے لگا۔ ایران عراق کے شیعوں کو وسیع علاقائی جدوجہد میں معاون کے طور پر دیکھنے لگا۔ ایسی صورت میں بہت ممکن ہے کہ ایران سے ملی حمایت کے سبب اقتدار میں آئے نور ی المالکی کے شیعہ دبدبے والے رویہ نے سنیوں کو ناراض کر دیا جس کا نتیجہ ہمیں آج کی صورتحال کے طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔

Read more

عراق میں بڑھتی خانہ جنگی،اعتماد بحالی ہی مسئلہ کا حل

عراق سلک رہا ہے۔داعشجنگجو ئوں کے ہاتھوں عراقی فوجیوں کو نشانا بنایا جارہا ہے اور بے گناہ شہری تشدد کا نشانا بن رہے ہیں۔عراق کے کئی علاقے جنگجوئوں کے قبضے میں جاچکے ہیں ۔موصل اور صوبہ نینوا سے فوجیوں کو باہر نکال کرجنگجوئوں نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ تکریت اورصوبہ انبار اور شمال میں واقع دوسرے چھوٹے بڑے کئی شہر اور قصبے پہلے سے ہی ان کے قبضے میں ہیں اور اب صوبہ صلاح الدین اور تل عفر پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عسکریت پسند ی دھیرے دھیرے اپنا دائرہ بڑھاتے جارہے ہیں اور حکومت ان کو روکنے میں پورے طور پر ناکام ہے۔بلکہ خطرہ منڈلانے لگا ہے کہ وہ بغداد کو اپنے نشانے پر نہ لے لیں۔ کیونکہ بغداد کے مضافات میں واقع بعقوبہ تک جنگجو پہنچ چکے ہیں۔

Read more

ترکی میں اردگان کا متعدل اسلامی ماڈل جاری رہے گا

رجب طیب اردوگان عالم اسلام کے پہلے ایسے لیڈر ہیں جن کو عالم عرب کے صحافیوں نے ’قائد منتظر‘ لکھا ہے۔ دراصل انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جہاں ایک طرف ترکی میں عریانیت اور مغربی تہذیب کے بڑھتے اثرات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں انہوں نے بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیل سے براہ راست ٹکر لے کر عالم عرب میں اپنی شخصیت کو بہت زیادہ ابھار دیا۔ اردوگان اے کے پی (عدالت و ترقی پارٹی ) کے صدر ہیں اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔پارٹی نے انہیں 14 مارچ 2003 سے ملک کا وزیر اعظم بنا رکھا ہے۔

Read more

فلطسینی عوام پر نئی نئی شکل میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری

فلسطین کی سرزمین کو اس معنی میں بڑی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ بیت المقدس عیسائی ، یہودی اور مسلمانوں تینوں ہی کے لئے انتہائی مقدس اور اہمیت کا حامل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں یہودی اور مسلمانوں میں تنازع چلتا رہتا ہے۔ اسرائیل چونکہ یہودیوں کا ایک طاقتور ملک ہے جبکہ ان کے مقابلے میں فلسطین کے مسلمان کمزور اور نہتھے ہیں ۔اسی لئے اسرائیلی یہودی طاقت کا استعمال کرکے جب چاہتے ہیں مسلمانوں کو بیت المقدس میں داخلے پر پابندی لگا دیتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں یہودیوں کے ایک تہوار ’’ عید الفصح‘‘ جو کہ 15 اپریل سے 7 دنوں تک چلتا ہے کو منانے کے لئے اسرائیل پولیس نے مسجد اقصیٰ میں 50سال سے کم عمر کے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ان کے تہوار کے موقع پر تشدد کرسکتے ہیں۔کتنی عجیب و غریب دلیل ہے کہ اب تک جس قوم پر ظلم ہوتا رہا ، اسے ہی اپنی عبادت گاہ میں جانے سے روکا جارہا ہے ۔یہی نہیں، فلسطینی مسلمانوں کو مسجد الخلیل میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

Read more

بنگلہ دیش میں ایمر جنسی جیسا ماحول

ایک محاورہ بہت مشہور ہے کہ مصیبت کے وقت میں پڑوسی ہی کام آتا ہے ۔اس محاورے کی اہمیت ہر سطح پر ہے،چاہے انفرادی ہو ، اجتماعی ہو یا قومی ہو۔یہ اور بات ہے کہ قومی سطح پر ہم اس محاورے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہیں۔ تقریباً تمام ہی پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔پڑوس کے ملکوں میں سے کسی ملک کے ساتھ سرکاری طور پر اچھے تعلقات ہیں تو وہاں کے عوام ہم سے ناراض ہیں اور کہیں عوامی و سرکاری دونوں ہی سطحوں پر ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ایسے ہی ملکوں میں ایک ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔یہ ہمارا ایک ایسا پڑوسی ملک ہے جس کے 4092 اسکوائرکلو میٹر میں ہماری سرحدیں تین طرف سے ملی ہوئی ہیں۔سرحد کے اتنے بڑے دائرے میں ہم ایک ساتھ ہونے کے باوجود 54 ایسی انٹرنیشنل ندیاں جو ہندوستان سے بنگلہ دیش کی طرف بہہ کر جاتی ہیں ،ان پر ہمارا ختلاف چل رہا ہے۔ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہے

Read more

کیا نواز شریف پاکستان میں’ گڈ گورننس ‘ لا پائیں گے

پاکستان میں جب سے موجودہ حکومت یعنی میاں نواز شریف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی

Read more
Page 10 of 44« First...89101112...203040...Last »