شفیق عالم
فرانس ایک ایسا ملک ہے جو اپنی سیکولر اقدار کی پاسداری پر ناز کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے داخلی سلامتی کو بہانہ بناکریہاںکی اقلیتوں کو، خاص طور سے مسلمانوں کو جس طرح سے ہراساں کیا جارہا ہے اورجس طرح سے سیکولر اقدار کو پامال کیا جارہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہ وہی فرانس ہے جسے یوروپ کی روشن خیالی کا نقیب کہاجاتا ہے۔ انسان کی انفرادی آزادی کے لیے پہلی آواز یہیں سے اٹھی تھی۔ لیکن آج یہاں گنگا الٹی بہہ
افغانستان میں طالبان کا اثر کم ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں گاہے بگاہے حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیںلیکن اس دوران ایک بڑا حملہ ہوا، جو افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں حکمت عملی پرنظر ثانی کرنے پر مجبورکرتا ہے۔ یہ حملہ گزشتہ کئی حملوں سے الگ دکھائی دے رہا ہے۔ پہلے کے حملے کسی سفا
عفاف اظہر
حلال و حرام کا فلسفہ بھی عجیب ہے جس پر پوری امت بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ کی مانند آنکھوں پر حلال و حرام کی یہ عینک چڑھائے اپنی مخصوص ڈگر پر رواں دواں ہے بطور خاص یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی تو پوری زندگی اسی فلسفے میں الجھی نظر آتی ہے۔ یہ بیچارے گورے آخر کہاں تک تعاون کریں کہ جتنا بھی کریں کم لگتا ہے۔ حلال فوڈ کی دوکانیں کم پڑ گئیں توتمام فوڈ مارکیٹس میں الگ سے حلال فوڈ کے سیکشن ہی بنا ڈالے
احمد اجراوی
گیارہ ستمبر کے حملوں کا بے بنیاد الزام اسلامی دنیا کے سر منڈھنے اور اسے مذہبی جنگ اور تہذیبی تصادم کا عنوان قرار دینے کے بعد افغانستان وعراق کو تہس نہس کرکے امریکہ کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ عالم اسلام کے ہر خطے پر بالادستی حاصل کرنے سے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ چناں چہ امریکہ ہر اس مسلم ملک کو ترچھی نظروں سے دیکھ رہا ہے، جو اس کے اہداف کو بہ عجلت رو بہ عمل لانے کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔ اسر
میگھناد دیسائی
مغل اعظم اکبر سفید کپڑوں میں گرم ریت پر چلتے ہوئے ننگے پیر اجمیر گئے تھے۔ انہیں معین الدین چشتی کی درگاہ سے بیٹے کے لئے دعا کی حاجت تھی۔ ان کے پیچھے سجے دھجے ہاتھی چل رہے تھے، لیکن ان ہاتھیوں کے کجاوے خالی تھے۔ اس سے اقتدار کی طاقت کا اظہار ہوتا تھا۔آصف علی زرداری بھی اجمیر گئے،لیکن ان کے پاس ایک نہیں،بلکہ ایسے کئی ایشوز تھے، جن کے لئے انہیں اس بزرگ کی دعا کی ضرورت ہے۔ انہیں بد عنوانی ک
وسیم احمد
جرمنی یوروپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ایک طاقتور ملک ہے۔یہاں کی اکثریت مسیحی کلچر میں یقین رکھتی ہے ۔ یہاں کے عوام خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اسلامی کلچر کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی 2009 کے ایک عام سروے کے مطابق3.8 سے 4.3 ملین ہے یعنی ملک کی کل آبادی کی 5 فیصد ہے ۔ان میں سے 45 فیصد کے پاس نیشنلٹی ہے اور 55 فیصد مہاجر کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔مسلمان
عزیز اے مبارکی
سری لنکا میں 25 سالوں تک چلنے والی خانہ جنگی کے دوران پوری توجہ وہاں کے اکثریتی طبقہ ،سنہلیوں اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت، تملوں پر ہی مرکوز رہی، جب کہ سری لنکا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 9 فیصد ہے جو خود کو ایک علیحدہ نسلی گروہ تصور کرتے ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سری لنکا کے مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ملک میں پائیدار امن کو بحال نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس کے لی
وسیم احمد
دنیا بھر میںاسلامی تہذیب میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔خاص طور پرنائن الیون کے بعد جب یوروپی ممالک میں کچھ شر پسند عناصر کی طرف سے اسلام کو بد نام کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں تب سے لوگوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کو جاننے کا شوق بڑھا ہے ۔اس کی مثال ہے چین، جہاں مسلم تہذیب کو قریب سے جاننے کے لئے نوجوان نہ صرف مساجد اور اسلامی اداروں میں کثرت سے جانے لگے ہیں بلکہ ایسے چینلوں کو کثرت سے دیکھتے ہ
راجیو کمار جنوبی کوریا کوریا کی راجدھانی سیول میں ایٹمی سلامتی سے متعلق چوٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں 53ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا، جو جوہری توانائی کے پر امن استعمال ، جوہری ہتھیاروںکے عدم پھیلاؤ اور اسکے ذخیرے میں کمی کے امکانات کے اقدام پر غور کرتے نظر آئے۔تمام ممالک [...]
شفیق عالم
مشہور ماہرلسانیات اور امریکی خارجہ پالیسی کے سخت ترین نقاد ں میں سے ایک نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ’’آپ کے حقوق یوںہی نہیںملیںگے ،ا ٓپ کو انہیں حاصل کرنا ہوگاـ‘‘۔ مغربی ممالک میں حجاب سے متعلق حالیہ تنازعات کااصل تناظر بھی یہی ہے۔یہاںگزشتہ دنوں حجاب اور اسکارف کے تعلق سے جو واقعات رونما ہو ئی