پی جے تھامس کی ہٹ دھرمی

سنتوش بھارتیہ
پی جے تھامس استعفیٰ دیں یا نہ دیں، تا عمر سی وی سی بنے رہیں، مگر اس بات کا افسوس رہے گا کہ پہلی بار سی وی سی کا عہدہ سوالوں کے دائرے میں آیا۔ اگر کوئی ایسا شخص ہوتا جو اپنی تقرری کرنے والے کو پریشانی میں نہ ڈالنا چاہتا تو وہ استعفیٰ دے دیتا۔ پی جے تھامس اے راجا کے ساتھ ان کے سکریٹری تھے۔ راجا کے تمام فیصلے کاغذی رہ جاتے اگر تھامس ان پر دستخط نہیں کرتے۔ سکریٹری کے دستخط کے بعد ہی وہ قابل تسلیم ہوتا ہے۔ تھامس نے کبھی وزارتی سکریٹری کو نہیں لک

Read more

یہ بہار اور ترقی کی جیت ہے

سنتوش بھارتیہ
دو کہاوتیں ہیں۔ ایک لالو یادو اور ایک رام ولاس پاسوان پر اور ایک کانگریس پر نافذ ہوتی ہے۔ کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کی کہانی ہم سب نے بچپن میں پڑھی بھی ہے اور زندگی میں کئی بار سنی بھی ہے۔ خرگوش سوچتا تھا کہ کچھوا کہاں اس کے سامنے دوڑ پائے گا، اس لیے آرام کر لو، بعد میں دوڑ کر ہرا ہی دوںگا۔ لالو یادو کو لگتا تھا کہ وہ اور رام ولاس پاسوان مل جائیںگے تو طاقتور دو سماجوں کا گٹھ جوڑ ہوجائے گا۔ یادو اور پاسوان اور پھر مسلمان ان کے ساتھ رہے گا ہی۔ وہ بی جے پی کے ساتھ جائے گا نہیں۔ دونوں نے خرگوش

Read more

ا ب بدعنوانیوں سے لڑنے کا وقت آ گیا ہے

سنتوش بھارتیہ
ابھی کچھ ماہ قبل تک کہا جاتا تھا کہ بدعنوانی ہماری زندگی کا ایک حصہ بن گئی ہے اور اب اس پر بات کرنا بیکار ہے۔ باتیں تو یہاں تک شروع ہو گئی تھیں کہ کالی کمائی پر تھوڑا زیادہ ٹیکس لگا دو ، تاکہ لوگ اسے ڈکلیئر کر کے اپنے بینک میں رکھ سکیں، اس سے پیسہ غیر ملکی بینکوں میں تو نہیں جائے گا،لیکن ذخیرہ اندوزی کسی بھی چیز کی ہو بری ہی ہ

Read more

اوبامہ جو لینے آئے تھے وہ لے گئے

سنتوش بھارتیہ
براک اوبامہ آئے اور چلے گئے۔ ملک میں بادشاہ کے استقبال کا ماحول تھا۔ اوبامہ امریکہ سے چلے تھے تو انتخاب میں شکست کھائے صدر تھے لیکن جب وہ اپنے ملک واپس پہنچے تو مسکراتے ہوئے واپس پہنچے، کیونکہ ان کے ہاتھ میں 55ہزار نوکریوں کا خزانہ تھا۔ وہ اس ملک سے نوکریاں چھین کر لے گئے تھے جس ملک میں نوکریاں پاگلوں کی طرح تلاش کی جا رہی ہیں،لیکن ہم نے تالیاں بجائیں کیونکہ ہمیں سمجھ میں ہی نہیںآ رہا ہے کہ اوبامہ ہمیں کیا دے گئے اور ہم سے کیا لے گئے۔
لیکن سب سے پہلے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو اوبامہ نے کیا دیا، جن سے سونیا گاندھی ہوٹل میں جا کر ملیں اور جن سے راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں دو بار ہاتھ ملایا۔

Read more

آپ کو عوام نے چنا ہے ان کا حق تو ادا کیجئے

سنتوش بھارتیہ
نومبرکا مہینہ یوں تو تہواروں کا مہینہ ہے اور دسہرہ، دیوالی کے ساتھ ساتھ سیاسی تہوار بھی اسی مہینے میں ہیں، یعنی 8؍نومبر سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہورہا ہے۔ 6سے 8نومبر کو اوباما تشریف لارہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں یہ اچھی طرح دیکھا کہ بار بار کسی ایک سوال کو لے کر پورے پورے دن کے لیے پارلیمنٹ اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ ایک بات بار بار ذہن میں آتی ہے کہ پارلیمنٹ میں یوں تو ہر مسئلہ پر سوال اٹھایا جاتا ہے، ان مسائل پر بھی جو بہت اہم نہیں ہوتے، مگر مسلم ممبر آف پارلیمنٹ کیا کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کے مسائل کیوں نہیںاٹھاتے۔ پارلیمنٹ میں مسلمانوں سے وابستہ بہت سے اہم مسائل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی لے لیجیے، بی جے پی کو تو چھوڑ دیجیے، مگر کانگریس کے لیڈر کیوں خاموش ہیں؟ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی کانگریسی لیڈر نے کوئی بیان نہیں دیا۔ وزیراعظم خاموش، سونیا گاندھی خاموش، پرنب مکھرجی خام

Read more

حادثہ کو بھول کر آگے بڑھنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
اجودھیا پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کئی لوگ اس سوال پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ نہ صرف رائے کا اظہار کر رہے ہیں، بلکہ سیاست کو نئے سرے سے موڑنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ لیکن ملک کے عوام، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ہندو بھی، اس سوال سے بہت پریشان نہیں ہیں۔ فیصلہ آنے سے پہلے ملک کے، خاص طور سے شمالی ہند کے مندروں میں بھجن-کیرتن ہوئے، لوگوں کو منظم کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن عام آدمی اس سے نہیں جڑا۔ دوسری جانب مسلم سماج نے کہا تھا کہ عدالت کا جو فیصلہ آئے گا

Read more

بہار اسمبلی انتخابات: پسماندہ ذاتوں کے پاس ہے اقتدار کی چابی

سنتوش بھارتیہ
بہار میں اسمبلی انتخابات میں اعلیٰ ذات کا ووٹ کس کو ملے گا اس پر سب کی نظر جمی ہے۔کس اتحاد کو کتنی سیٹیں ملیں گی اس کا اندازہ اس بات پر ٹکا ہے کہ براہمن، راجپوت، بھومی ہار اور کائستھ کس کو ووٹ دیں گے۔دراصل اس بار کے انتخاب میں اقتدار کی چابی اعلیٰ ذات نہیںبلکہ پسماندہ ذات کے پاس ہے۔پسماندہ ذات تعداد میں پہلے سے ہی زیادہ ہیں لیکن انتخ

Read more

ایماندار لوگوں کو اسمبلی میں پہنچائو

سنتوش بھارتیہ
بہار کے انتخابات صرف نتیش کمار، لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کے لیے نہیں، بلکہ ریاست کے لوگوں کے لیے بھی ایک سخت آزمائش ہے۔ بہار کے لوگوں کو اب یہ طے کرنا ہے کہ آئندہ اسمبلی میں ان کی نمائندگی کون لوگ کریںگے، زمینی سطح پر کام کرنے والے سماجی اور سیاسی کارکن یا پھر پیسے والے؟ تعلیم یافتہ لوگوں کو اسمبلی میں بھیجا جائے گا یا پھر غنڈے اور مجرمانہ شبیہ والے لوگ انتخاب جیتیںگے؟ بہار کے عوام کے سامنے ایسے کئی سوالات ہیں ، جن کا جواب اسے دینا ہے۔ کیا اس بار منتخب ہو کر آئے اراکین اسمبلی پر یہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں تک ریاست کے لوگوں کے مسائل کو دور کرنے کی ذمہ داری نبھا پائیںگے؟ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور اسے چلانے کی ذمہ داری سیاسی پا

Read more

کشمیریوں کا دل جیتنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
اس بار کا تشدد اتنے دنوں تک اس لئے چلا، کیونکہ مسلسل لوگوں کی موت ہو رہی تھی۔ ہلاکتوںکی وجہ سے لوگ سڑکوں پر اترآتے تھے اور حکومت کرفیو لگا دیتی تھی۔ مخالفت احتجاجی مظاہروں میں تبدیلی ہوتی رہی اور حکومت اسے دبانے کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتی رہی۔ ا س سے عوام اور حکومت کے درمیان نفرت اور غیر یقینی کی گہری کھائی پیدا ہو گئی۔ عمر عبد اللہ کے بیان پر بی جے پی نے جس طرح اسمبلی میں ہنگامہ کیا، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ کشمیر میں بحالیٔ امن کے خلاف ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ کشمیر کے لوگ

Read more

اب فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہے

سنتوش بھارتیہ
اب فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہے۔ 60سال بعد الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ بغیر کسی ثبوت اور تصدیق کے کورٹ نے کہہ دیا کہ رام کی پیدائش وہیں ہوئی ہے، جہاں بیس سال قبل بابری مسجد کے گنبد تھے۔یہ عقیدہ ہے اور اسے عدالت نے تصدیق اور ثبوت کی شکل میں مانا ہے۔اگر جائے پیدائش کورٹ مانتا ہے تو کہیں ان کا محل ہوگا کہیں راجا دشرتھ کا دربار ہوگا، کہیں تین مہارانیوں کی رہائش رہی ہوگی۔کوئی اسے کترک کہے گا مگر عدالت اگر ایسی ہی بنیاد پر فیصلہ دے دے تو کیا کہیں گے؟ اسلئے امید کرنی چاہئے کہ سپریم کورٹ

Read more