ملک کی معیشت اور 2011

سنتوش بھارتیہ
دو ہزار دس رخصت ہوا چاہتا ہے اور نئے سال یعنی2011کی آمدآمد ہے۔ ہر طرف جشن کا ماحول ہے۔لوگ سیرو تفریح کے لیے نکل رہے ہیں، لیکن ایک بات یہاں غور کرنے کی ہے کہ سال2010ہم سے کیا لے گیا اور ہمیں کیا دے گیا۔اس پر ایک لمبی بحث کی جا سکتی ہے،لیکن یہ بات ضرور ہے کہ سال2010ہمارے لیے کئی تلخ یادیں چھوڑ گیا، تاہم کچھ یادیں دھیرے سے خوش گمانیوں کا احساس بھی کراکے گزریں۔ ویسے تو وہ خوش گمانیاں کئی ہیں، لیکن میں ملک کی معیشت کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔2010میرے خیال سے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑے گھوٹالوں کا سال رہا۔ اس برس ایسے ایسے گھوٹالے وجود پذیر ہوئے، جن کے بارے میں سن کر عقل حیران رہ جاتی ہے ، لیکن خوش آئند بات یہ رہی کہ ان

Read more

آپکے پاس ایسا ہتھیار ہے جو بدعنوانوں کی نیند حرام کر سکتا ہے

سنتوش بھارتیہ
موجودہ وقت میں ہندوستان میں جس قدر گھوٹالوں کے انکشافات ہوئے ہیں اتنے شایدکبھی نہیں ہوئے اور اسی دور میں گھوٹالوں کا ریکارڈ بھی بنا ہے۔2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ایک ریکارڈ ہے، جس کو لکھنا بھی مشکل ترین ہے۔ہر لیڈر ، افسر، صحافی،صنعتکار اور دلال جس کو جیسے موقع ملتا ہے ملک کو لوٹتا کھسوٹتا ہے۔ ملک بھر میں بدعنوانی کا بول بالا ہے۔ موجودہ وقت کے گھوٹالے منفرد نوعیت کے ہیں۔جب لیڈر ،صحافی، صنعتکار اور دلالوں کا گٹھ جوڑ ہو تو وہاں کسی بڑے گھوٹالے کی امید ہی کی جا سکتی ہے۔اسی سبب سپریم کورٹ نے بھی 2

Read more

یہ کانگریس کے امتحان کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
چوہتر میں لکھی لائنیں ،جنہیں بندیل کھنڈ کے عوامی شاعر رام گوپال دیکشت نے لکھا تھا،کون چلے گاآج دیش سے بھرشٹاچار مٹانے کو ،بربرتا سے لوہا لینے ستاّ سے ٹکرانے کو ،آج دیکھ لے کون رچاتا موت کے سنگ سگائی ہے،اٹھو جوانوں تمہیں جگانے کرانتی دوار پر آئی ہے،یاد آتی ہے۔اتفاق سے ان دنوں اقتدار میں اندرا گاندھی تھیں اور ان کے خلاف طلبہ تحریک چل رہی تھی،جس کا اہم ایشو بدعنوانی تھا۔طلبہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے،اندرا جی الیکشن ہار گئیں،لیکن جو اقتدار میں آئے،نہ اسے سنبھال سکے اور نہ عوام کی امیدیں پورا کر سکے۔
پھر آئی 80کی دہائی۔راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ایک صاف بولنے والا چہرا تھاجس پر ملک نے بھروسہ کیا اور جمہوریت کی تاریخ میں پہلی بار 412سیٹوں پر انہیں جیت

Read more

پی جے تھامس کی ہٹ دھرمی

سنتوش بھارتیہ
پی جے تھامس استعفیٰ دیں یا نہ دیں، تا عمر سی وی سی بنے رہیں، مگر اس بات کا افسوس رہے گا کہ پہلی بار سی وی سی کا عہدہ سوالوں کے دائرے میں آیا۔ اگر کوئی ایسا شخص ہوتا جو اپنی تقرری کرنے والے کو پریشانی میں نہ ڈالنا چاہتا تو وہ استعفیٰ دے دیتا۔ پی جے تھامس اے راجا کے ساتھ ان کے سکریٹری تھے۔ راجا کے تمام فیصلے کاغذی رہ جاتے اگر تھامس ان پر دستخط نہیں کرتے۔ سکریٹری کے دستخط کے بعد ہی وہ قابل تسلیم ہوتا ہے۔ تھامس نے کبھی وزارتی سکریٹری کو نہیں لک

Read more

یہ بہار اور ترقی کی جیت ہے

سنتوش بھارتیہ
دو کہاوتیں ہیں۔ ایک لالو یادو اور ایک رام ولاس پاسوان پر اور ایک کانگریس پر نافذ ہوتی ہے۔ کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کی کہانی ہم سب نے بچپن میں پڑھی بھی ہے اور زندگی میں کئی بار سنی بھی ہے۔ خرگوش سوچتا تھا کہ کچھوا کہاں اس کے سامنے دوڑ پائے گا، اس لیے آرام کر لو، بعد میں دوڑ کر ہرا ہی دوںگا۔ لالو یادو کو لگتا تھا کہ وہ اور رام ولاس پاسوان مل جائیںگے تو طاقتور دو سماجوں کا گٹھ جوڑ ہوجائے گا۔ یادو اور پاسوان اور پھر مسلمان ان کے ساتھ رہے گا ہی۔ وہ بی جے پی کے ساتھ جائے گا نہیں۔ دونوں نے خرگوش

Read more

ا ب بدعنوانیوں سے لڑنے کا وقت آ گیا ہے

سنتوش بھارتیہ
ابھی کچھ ماہ قبل تک کہا جاتا تھا کہ بدعنوانی ہماری زندگی کا ایک حصہ بن گئی ہے اور اب اس پر بات کرنا بیکار ہے۔ باتیں تو یہاں تک شروع ہو گئی تھیں کہ کالی کمائی پر تھوڑا زیادہ ٹیکس لگا دو ، تاکہ لوگ اسے ڈکلیئر کر کے اپنے بینک میں رکھ سکیں، اس سے پیسہ غیر ملکی بینکوں میں تو نہیں جائے گا،لیکن ذخیرہ اندوزی کسی بھی چیز کی ہو بری ہی ہ

Read more

اوبامہ جو لینے آئے تھے وہ لے گئے

سنتوش بھارتیہ
براک اوبامہ آئے اور چلے گئے۔ ملک میں بادشاہ کے استقبال کا ماحول تھا۔ اوبامہ امریکہ سے چلے تھے تو انتخاب میں شکست کھائے صدر تھے لیکن جب وہ اپنے ملک واپس پہنچے تو مسکراتے ہوئے واپس پہنچے، کیونکہ ان کے ہاتھ میں 55ہزار نوکریوں کا خزانہ تھا۔ وہ اس ملک سے نوکریاں چھین کر لے گئے تھے جس ملک میں نوکریاں پاگلوں کی طرح تلاش کی جا رہی ہیں،لیکن ہم نے تالیاں بجائیں کیونکہ ہمیں سمجھ میں ہی نہیںآ رہا ہے کہ اوبامہ ہمیں کیا دے گئے اور ہم سے کیا لے گئے۔
لیکن سب سے پہلے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو اوبامہ نے کیا دیا، جن سے سونیا گاندھی ہوٹل میں جا کر ملیں اور جن سے راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں دو بار ہاتھ ملایا۔

Read more

آپ کو عوام نے چنا ہے ان کا حق تو ادا کیجئے

سنتوش بھارتیہ
نومبرکا مہینہ یوں تو تہواروں کا مہینہ ہے اور دسہرہ، دیوالی کے ساتھ ساتھ سیاسی تہوار بھی اسی مہینے میں ہیں، یعنی 8؍نومبر سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہورہا ہے۔ 6سے 8نومبر کو اوباما تشریف لارہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں یہ اچھی طرح دیکھا کہ بار بار کسی ایک سوال کو لے کر پورے پورے دن کے لیے پارلیمنٹ اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ ایک بات بار بار ذہن میں آتی ہے کہ پارلیمنٹ میں یوں تو ہر مسئلہ پر سوال اٹھایا جاتا ہے، ان مسائل پر بھی جو بہت اہم نہیں ہوتے، مگر مسلم ممبر آف پارلیمنٹ کیا کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کے مسائل کیوں نہیںاٹھاتے۔ پارلیمنٹ میں مسلمانوں سے وابستہ بہت سے اہم مسائل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی لے لیجیے، بی جے پی کو تو چھوڑ دیجیے، مگر کانگریس کے لیڈر کیوں خاموش ہیں؟ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی کانگریسی لیڈر نے کوئی بیان نہیں دیا۔ وزیراعظم خاموش، سونیا گاندھی خاموش، پرنب مکھرجی خام

Read more

حادثہ کو بھول کر آگے بڑھنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
اجودھیا پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کئی لوگ اس سوال پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ نہ صرف رائے کا اظہار کر رہے ہیں، بلکہ سیاست کو نئے سرے سے موڑنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ لیکن ملک کے عوام، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ہندو بھی، اس سوال سے بہت پریشان نہیں ہیں۔ فیصلہ آنے سے پہلے ملک کے، خاص طور سے شمالی ہند کے مندروں میں بھجن-کیرتن ہوئے، لوگوں کو منظم کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن عام آدمی اس سے نہیں جڑا۔ دوسری جانب مسلم سماج نے کہا تھا کہ عدالت کا جو فیصلہ آئے گا

Read more

بہار اسمبلی انتخابات: پسماندہ ذاتوں کے پاس ہے اقتدار کی چابی

سنتوش بھارتیہ
بہار میں اسمبلی انتخابات میں اعلیٰ ذات کا ووٹ کس کو ملے گا اس پر سب کی نظر جمی ہے۔کس اتحاد کو کتنی سیٹیں ملیں گی اس کا اندازہ اس بات پر ٹکا ہے کہ براہمن، راجپوت، بھومی ہار اور کائستھ کس کو ووٹ دیں گے۔دراصل اس بار کے انتخاب میں اقتدار کی چابی اعلیٰ ذات نہیںبلکہ پسماندہ ذات کے پاس ہے۔پسماندہ ذات تعداد میں پہلے سے ہی زیادہ ہیں لیکن انتخ

Read more