سنبھلئے، ابھی کچھ بگڑا نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
بہت ساری چیزیں امریکہ میں بنتی ہیں، امریکہ میں کھلتی ہیں، تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کس طرح کے جال میں کبھی پھنس چکے تھے، اِن دنوں پھنس رہے ہیں یا آگے پھنسنے والے ہیں۔ ہمارے ملک کی معزز ہستیاں، جو لوگوں کی رائے بناتی ہیں، جن میں جسٹس راجندر سچر، دلیپ پڈگاؤنکر، عمر کے آخری پڑاؤ پر کھڑے مشہور ایڈیٹر، رائٹر اور سماجی کارکن کلدیپ نیر صاحب اور گوتم نو لکھا شامل ہیں جنہوں نے رورل جرنلزم اور نظریاتی صحافت میں نام کمایا تھا اور ان کے ساتھ بہت سارے ل

Read more

جنرل وی کے سنگھ کو سپریم کورٹ جانا چاہئے

سنتوش بھارتیہ
مرکزیحکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ ہندوستان کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 ہے، یہ بات حکومت ہند اور فوج کے ذریعے فراہم کیے گئے جواب میں ہے۔ جن اہل کاروں نے جواب دیا ہے، ان کے دستخط ہیں۔ اس کے باوجود حکومت ہند جھوٹ بول رہی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 ہے۔ حکومت یہ جھوٹ اس لیے بول رہی ہے کہ ہندوستان کے سب سے طاقتور شخص کے خاندان کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے۔ ان کی دلچسپی ایک مخصوص آدمی میں ہے اور وہ آدمی اتفاق سے انہی کے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں یہ لکھتے ہوئے ہچکچاہٹ ضرور ہو رہی ہے کہ کوئی آدمی کسی بھی فرقہ کا، اہل ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دوسرے آدمی کو، جو اس فرقہ کا نہیں ہے، جس کے کردار پر کوئی داغ نہیں ہے، جو بے داغ ہے، ایماندار ہے، اس کے ساتھ ناانصافی کریں۔ حکومت ہند یہ ناانص

Read more

کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے

سنتوش بھارتیہ
کابینہ میں ہوئے رد و بدل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے یہ پیغام گیا ہے کہ حکومت یا کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے۔اس کے سامنے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ملک کو چلانے کے لیے کس طرح کے لوگ ضروری ہیں اور پارٹی کو انتخاب میں جیت دلانے کے لیے کس طرح کے لوگ چاہئیں، یہ بھی کانگریس کے سامنے کچھ صاف نہیں ہے۔ اس ردو بدل سے یہی پیغام گیا ہے کہ پوری کانگریس پارٹی کنفیوژڈ لوگوں کی پارٹی ہے، وہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔کانگریس میں جنریشن وار چل رہی ہ

Read more

راہل جی، گائوں میں آپ نے کیا سیکھا

سنتوش بھارتیہ
باپو جی جب موہن داس کرم چند گاندھی تھے، نوجوان وکیل تھے اور جنوبی افریقہ میں وکالت کرنے گئے تو ان کے ساتھ ایک حادثہ ہوا۔ گوروں نے انہیں فرسٹ کلاس میں بیٹھنے کے لائق نہیں سمجھا اور زبردستی گاڑی سے دھکا دے کر باہر پھینک دیا۔ جب وہ ہندوستان واپس آئے، ان کے من میں ہندوستان میں کچھ کام کرنے کی خواہش جاگی۔ انہیں لگا کہ وہ ہندوستان میں کچھ نیا کر سکتے ہیں

Read more

آپ کا اور آپ کی مسکراہٹ کا شکریہ

سنتوش بھارتیہ
اپنے ساتھیوں پر لکھنا یا تبصرہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ہم اس سے ایک ایسی روایت کو جنم دیتے ہیں کہ لوگ آپ کے اوپر بھی لکھیں۔ آپ انہیں مدعو کرتے ہیں۔ میں یہی کرنے جا رہا ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کو مدعو کرنے جا رہا ہوں کہ ہمارے اوپر جہاں انہیں کچھ غلط دکھائی دے، وہ لکھیں۔ میرا اشارہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملک کے پانچ مدیران کی بات چیت کی جانب ہے۔ ان پانچ مدیران میں ہندی کے کم تھے، انگریزی کے زیادہ تھے، جس میں ایک مراٹھی کا بھی تھا۔ یہ مدیران ملک کے عقیدہ کے پہریدار ثابت نہیں ہوئے۔کسی بھی صحافی سے یہ امید کی جا سکتی ہے، اور امید کی بھی جانی چاہیے کہ وہ اس ملک میں رہنے والے ہر انسان کے دکھ درد، آنسو، پریشانی، بھوک پیاس اورموت کی طرف زیادہ متوجہ ہوگا، اس کی زیادہ فکر کرے گا اور جب بھی اس کا سامنا حکومت نام کے ادارے سے، خواہ حکومت نام کے اس ادارہ کا ک

Read more

حکومت شفافیت کی طرفدار نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
معاملہ چاہے لوک پال کا ہو یا پھر کالے دھن کا، دراصل ان سب کے پیچھے اصل ایشوسرکاری کام میں ذمہ داری اور جوابدہی کا ہے۔آج بد عنوانی کو لے کر ملک میں جو ماحول بنا ہے، اس میں سی بی آئی سمیت تفتیشی ایجنسیوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔حکومت الٹا سوچتی ہے۔ سی بی آئی کو جوابدہ بنانے کی جگہ اسے آر ٹی آئی کے دائرے سے ہی باہر کر دیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ سی بی آئی کے دفتر سے اب کوئی جانکاری آر ٹی آئی کے ذریعہ باہر نہیں آ سکتی۔ حکومت اور کانگریس پارٹی اطلاع حاصل کرنے کے اختیار کے قانون کو یو پی اے سرکار کی پہلی اہم حصولیابی مانتی ہے۔ عوامی اجلاسوں میں کانگریسی لیڈر اورحکومت کے وزیریہ کہتے ہیں کہ چاہ

Read more

صحافت کی قیمت جان ہو سکتی ہے

سنتوش بھارتیہ
صحافت ایک ایسا پیشہ ہے، جس کی قیمت کیا ہے، ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے۔ صحافت میں جو لوگ آتے ہیں انہیں کم از کم یہ ذہن میں رکھ کر آنا چاہیے کہ صحافت کے پیشہ کی قیمت ان کی اپنی جان ہو سکتی ہے۔ ممبئی میں مڈ ڈے کے صحافی جے ڈے کا قتل اس حقیقت کی ایک بار پھر نشاندہی کرتا ہے۔ جے ڈے بے خوف ہو کر اپنی ذمہ داری کو نبھا رہے تھے۔ بنیادی طور پر وہ کرائم پورٹر تھے اور ممبئی کے انڈر ورلڈ اور ممبئی پولس کے گٹھ جوڑاور کون سفید پوش ایسے ہیں جو جرم کو پناہ دیتے ہیں، اس کے بارے میں وہ لگاتار لکھتے رہتے تھے۔ ان کے پاس جانکاریاں بھی تھیں اور زیادہ تر جانکاریاں ان کے پاس اپنے آپ پہنچ رہی تھیں۔ صحافت میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب آپ خود کو قائم کر لیتے ہیں تو ساری خبریں اپنے آپ چل کر آ جاتی ہیں۔ جے ڈے اسی پایہ کے صحافی تھے۔ جے ڈے کو خراج عقیدت پیش کرنے ک

Read more

انا اور رام دیو امید کی ایک کرن ہیں

سنتوش بھارتیہ
یہ ملک اعتماد کا مارا ہوا ہے۔ اس ملک نے ہر اس آدمی پر بھروسہ کیا، جس نے کہا کہ ہم مسائل سے نجات دلائیں گے۔ ایک طرف نہرو، اندرا، راجیو اور وی پی سنگھ تو دوسر جانب عوام نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور جے پی پر بھروسہ کیا۔ لوہیا نے سب سے پہلے مشروط حکومت کی شروعات کی تھی۔ لوگوں نے بھروسہ کیا، لیکن ان کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے۔ رفتہ رفتہ ملک کے لوگ اس جگہ پر پہنچ رہے ہیں، جہاں پر یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ وہ کسی پر بھروسہ کریں یا نہ کریں۔

Read more

حکومت اس خطرے کو پہنچانے

سنتوش بھارتیہ
صرف حکومت ہند ہی نہیں ، تمام حکومتوں کے بیدار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بیدار ہونے کا وقت اس لیے کہ اگر کوئی سرکار بہتر حکومت کرتی ہوئی نہیں دکھائی دیتی یا کوئی سرکار لوگوں کے لیے کام کرتی نہیں دکھائی دیتی تو اب لوگوں کا غصہ جلدی پھوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ انّا ہزارے کی تحریک نے یہ دکھایا کہ لوگ سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ کسانوں نے یہ دکھایا کہ اگر ان کے مفاد کے خلاف کوئی سرکار کام کرے گی تو وہ سڑک پر آ جائیں گے اور صرف ستیاگرہ ہی نہیں کریں گے بلکہ پرتشدد ستیاگرہ کریں گے۔ سرکار کو یا تو گولی چلانی پڑے گی یا کسانوں سے بات کرکے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ بابا رام دیو کا ستیاگرہ بھی یہی بتاتا ہے کہ آپ اگر

Read more

اتر پردیش کا انتخاب کئی پارٹیوں کا مستقبل طے کرے گا

سنتوش بھارتیہ
اگلی مقابلہ آرائی اترپردیش میں ہونے والی ہے۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی سیاسی طور پر سب سے آگے ہیں۔ مایاوتی نے اپنی پارٹی کے ایسے ممبران کو، جن کے خلاف مقامی سطح پر غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی تھی، بدلا ہے اور ایسے لوگوں کو ساتھ لینے کی کوشش کی ہے جو انھیں ووٹ دلوا سکیں۔ مایاوتی عوام کی زبان بول رہی ہیں۔ اترپردیش میں حکومت کرنے کی کنجی بھی اسی زبان میں ہے۔ اگر کوئی بھی پارٹی کسی ایک طبقہ یا ایک ذات کی پارٹی بن کر سامنے آتی ہے تو شاید اسے اُس طبقہ یا ذات کی حمایت تو مل سکتی ہے، لیکن اقتدار اس کے پاس آئے گا یا وہ اقتدار پر قابض ہو پائے گا، اس میں شک ہے۔ مایاوتی کے ساتھ دلت طبقہ ابھی بھی متحد ہے۔ حالانکہ سیاسی طور پر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اب دلت دھیرے دھیرے مایاوتی سے دور ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ دلتوں کو لگتا ہے کہ اپنی اہلیت سے مایاوتی اس ع

Read more