حکومت شفافیت کی طرفدار نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
معاملہ چاہے لوک پال کا ہو یا پھر کالے دھن کا، دراصل ان سب کے پیچھے اصل ایشوسرکاری کام میں ذمہ داری اور جوابدہی کا ہے۔آج بد عنوانی کو لے کر ملک میں جو ماحول بنا ہے، اس میں سی بی آئی سمیت تفتیشی ایجنسیوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔حکومت الٹا سوچتی ہے۔ سی بی آئی کو جوابدہ بنانے کی جگہ اسے آر ٹی آئی کے دائرے سے ہی باہر کر دیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ سی بی آئی کے دفتر سے اب کوئی جانکاری آر ٹی آئی کے ذریعہ باہر نہیں آ سکتی۔ حکومت اور کانگریس پارٹی اطلاع حاصل کرنے کے اختیار کے قانون کو یو پی اے سرکار کی پہلی اہم حصولیابی مانتی ہے۔ عوامی اجلاسوں میں کانگریسی لیڈر اورحکومت کے وزیریہ کہتے ہیں کہ چاہ

Read more

صحافت کی قیمت جان ہو سکتی ہے

سنتوش بھارتیہ
صحافت ایک ایسا پیشہ ہے، جس کی قیمت کیا ہے، ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے۔ صحافت میں جو لوگ آتے ہیں انہیں کم از کم یہ ذہن میں رکھ کر آنا چاہیے کہ صحافت کے پیشہ کی قیمت ان کی اپنی جان ہو سکتی ہے۔ ممبئی میں مڈ ڈے کے صحافی جے ڈے کا قتل اس حقیقت کی ایک بار پھر نشاندہی کرتا ہے۔ جے ڈے بے خوف ہو کر اپنی ذمہ داری کو نبھا رہے تھے۔ بنیادی طور پر وہ کرائم پورٹر تھے اور ممبئی کے انڈر ورلڈ اور ممبئی پولس کے گٹھ جوڑاور کون سفید پوش ایسے ہیں جو جرم کو پناہ دیتے ہیں، اس کے بارے میں وہ لگاتار لکھتے رہتے تھے۔ ان کے پاس جانکاریاں بھی تھیں اور زیادہ تر جانکاریاں ان کے پاس اپنے آپ پہنچ رہی تھیں۔ صحافت میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب آپ خود کو قائم کر لیتے ہیں تو ساری خبریں اپنے آپ چل کر آ جاتی ہیں۔ جے ڈے اسی پایہ کے صحافی تھے۔ جے ڈے کو خراج عقیدت پیش کرنے ک

Read more

انا اور رام دیو امید کی ایک کرن ہیں

سنتوش بھارتیہ
یہ ملک اعتماد کا مارا ہوا ہے۔ اس ملک نے ہر اس آدمی پر بھروسہ کیا، جس نے کہا کہ ہم مسائل سے نجات دلائیں گے۔ ایک طرف نہرو، اندرا، راجیو اور وی پی سنگھ تو دوسر جانب عوام نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور جے پی پر بھروسہ کیا۔ لوہیا نے سب سے پہلے مشروط حکومت کی شروعات کی تھی۔ لوگوں نے بھروسہ کیا، لیکن ان کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے۔ رفتہ رفتہ ملک کے لوگ اس جگہ پر پہنچ رہے ہیں، جہاں پر یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ وہ کسی پر بھروسہ کریں یا نہ کریں۔

Read more

حکومت اس خطرے کو پہنچانے

سنتوش بھارتیہ
صرف حکومت ہند ہی نہیں ، تمام حکومتوں کے بیدار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بیدار ہونے کا وقت اس لیے کہ اگر کوئی سرکار بہتر حکومت کرتی ہوئی نہیں دکھائی دیتی یا کوئی سرکار لوگوں کے لیے کام کرتی نہیں دکھائی دیتی تو اب لوگوں کا غصہ جلدی پھوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ انّا ہزارے کی تحریک نے یہ دکھایا کہ لوگ سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ کسانوں نے یہ دکھایا کہ اگر ان کے مفاد کے خلاف کوئی سرکار کام کرے گی تو وہ سڑک پر آ جائیں گے اور صرف ستیاگرہ ہی نہیں کریں گے بلکہ پرتشدد ستیاگرہ کریں گے۔ سرکار کو یا تو گولی چلانی پڑے گی یا کسانوں سے بات کرکے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ بابا رام دیو کا ستیاگرہ بھی یہی بتاتا ہے کہ آپ اگر

Read more

اتر پردیش کا انتخاب کئی پارٹیوں کا مستقبل طے کرے گا

سنتوش بھارتیہ
اگلی مقابلہ آرائی اترپردیش میں ہونے والی ہے۔ وزیر اعلیٰ مایاوتی سیاسی طور پر سب سے آگے ہیں۔ مایاوتی نے اپنی پارٹی کے ایسے ممبران کو، جن کے خلاف مقامی سطح پر غم و غصے کی لہر پیدا ہوئی تھی، بدلا ہے اور ایسے لوگوں کو ساتھ لینے کی کوشش کی ہے جو انھیں ووٹ دلوا سکیں۔ مایاوتی عوام کی زبان بول رہی ہیں۔ اترپردیش میں حکومت کرنے کی کنجی بھی اسی زبان میں ہے۔ اگر کوئی بھی پارٹی کسی ایک طبقہ یا ایک ذات کی پارٹی بن کر سامنے آتی ہے تو شاید اسے اُس طبقہ یا ذات کی حمایت تو مل سکتی ہے، لیکن اقتدار اس کے پاس آئے گا یا وہ اقتدار پر قابض ہو پائے گا، اس میں شک ہے۔ مایاوتی کے ساتھ دلت طبقہ ابھی بھی متحد ہے۔ حالانکہ سیاسی طور پر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اب دلت دھیرے دھیرے مایاوتی سے دور ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ دلتوں کو لگتا ہے کہ اپنی اہلیت سے مایاوتی اس ع

Read more

سونے کا نہیں، جاگتے رہنے کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کی سیاست میں غالباً سپریم کورٹ کی مداخلت سے کئی حیرت انگیز چیزیں ہو رہی ہیں۔ پہلے اے راجا کا جیل جانا، بعد میں سریش کلماڈی اور پھر کنی موئی کا جیل کا سفر اس بات کا اشارہ ہے کہ کئی اور لوگ بھی اس راہ کے متوقع مسافر ہیں، لیکن یہ سب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد کیوںہورہا ہے؟ کیوں سرکار اسے کرانے میں، اچھی حکومت چلانے میں، انصاف دیتی دکھائی دینے میں اور بدعنوانی کو روکنے کی قوت ارادی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہی ہے؟ مرکزی حکومت کو دیکھتے ہوئے کئی ریاستی حکومتیں بھی اسی راستے پر ہیں۔ اگر مرکزی حکومت گڈگورننس کے ساتھ انصاف پسند دکھائی دینے لگے ت

Read more

آنکھ بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا

سنتوش بھارتیہ
جب اٹل جی وزیر اعظم بنے تو بی جے پی اس جیسا دبائو نہیں ڈال پائی جیسا اس نے وی پی سنگھ پر دبائو ڈالا تھا۔ صاف کہہ دیا تھا جارج فرنانڈیز، نتیش کمار، شرد یادو، ممتا بنرجی نے کہ اگر آپ نے ایک بار بھی نام لیا رام جنم بھومی تنازعہ کا اور مندر بنانے کا تو ہم آپ کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔یہ تھا تیسرے محاذ کا یا سماجوادی آئیڈیا لوجی کا اثر۔ یہ کانگریس کی بدقسمتی تھی کہ وہ خود کو سوشلسٹ کہتی ہے لیکن ان جماعتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا پائی جن کا سوشلزم میں اعتماد تھا۔دراصل سوشلسٹ، کانگریس کو بناوٹی سوشلسٹ کہتے رہے ہیں۔ نظریاتی اختلافبھی بہت رہا ہے۔ اس نظریاتی اختلافکے پیچھے ڈاکٹر لوہیا کا بہت بڑ

Read more

رام دیو جی، آپ کا ستیہ گرہ کیسا ہوگا

سنتوش بھارتیہ
ملک ایک کنفرنٹیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔کنفرنٹیشن ملکی مفاد میں ہے یا نہیں ہے، ابھی یہ نہیں کہہ سکتے، لیکن کنفرنٹیشن کیوں اور کس طرح کا ہونے والا ہے، اسے ذرا سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بدعنوانی ان دنوں ملک میں مرکزی موضوع بنا ہوا ہے اور انا ہزارے ،جن کی وجہ سے ملک میں ایک بیداری پیدا ہوئی، وہ ملک بھر میں گھومنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اتر پردیش میں کئی جگہ انہیں جانا تھا، لیکن وہ نہیں جا پائے، کیونکہ ڈاکٹر نے انہیں منع کر دیا۔ اگر ڈاکٹر اجاز

Read more

ملک پارٹی لائن سے زیادہ اہم ہے

سنتوش بھارتیہ
ملک میں جمہوریت رہے گی یا نہیں رہے گی، اس کے بارے میں تھوڑی سی فکر زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جمہوریت کو چلانے کی ذمہ داری اگر سیدھے طور پر دیکھیں تو ہمارے ممبران پارلیمنٹ کی ہوتی ہے وہ لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر جاتے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک سے جڑے مسائل کے اوپر آپس میں تنازعہ نہ کریںبلکہبحث کریں اور بحث کر کے جو ملک کیمفاد میں ہو، وہ فیصلہ کریں۔ جمہوریت بھی بچے اور بے روزگاری، مہنگائی اور غریبی

Read more

!سیاستداں قوم بڑی خطرناک ہوتی ہے

سنتوش بھارتیہ
سیاستدانوں سے ڈرنا چاہئے۔ گزشتہ ایک ماہ کے حادثات کچھ یہی اشارہ کرتے ہیں۔ اب وہ سیاستداں خواہ سماجوادی پارٹی کا ہو، بی جے پی کا ہو یا پھر وہ کانگریس کا ہو۔ سیاستداں کب کیا کرے ، کیسے کرے اس کی مثال گزشتہ ایک ماہ میں ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔مثال کے طور پر انا ہزارے کو لیا جا سکتا ہے ،جو یہ سمجھنے میں آسانی پیدا کردے گا کہ سیاستدانوں سے کیوںڈرنا چاہئے۔ انا ہزارے نے ایک تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ کچھ لوگ آئے۔ ظاہر ہے، اس میں پولس افسران، سابق نوکر شاہ، سماجی کارکن تھے۔ اس لئے خود بخود لوگ جگہ جگہ پر جمع ہوئے اور انھوں نے انا ہزارے کے ساتھ بھوک ہڑتال کی۔ جو بھوک ہڑتال پر ن

Read more