پی جے تھامس کی ذلت بھری وداعی

سنتوش بھارتیہ
سی وی سی یعنی چیف ویجلنس کمشنر کے خلاف سپریم کورٹ نے اپنی رائے ظاہر کر دی اور یہ سپریم کورٹ کی رائے نہیں، یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ان کی تقرری ناجائز ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے ،جس کمیٹی نے ان کو منتخب کیا، جس میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اپوزیشن لیڈر سشما سوراج تھیں۔ اس کی کارکردگی پر ضرور سوال اٹھتاہے ، کیوں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے سشما سوراج کی رائے پر توجہ نہیں دی۔سیاست میں اس طرح کا رویہ یا کارکردگی زیادہ سمجھداری بھری نہیںہے، اس لئے سمجھداری بھری ن

Read more

!جے پی سی سے امید

سنتوش بھارتیہ
لیجئے کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ آخر کارحکومت نے 2جی اسپیکٹرم معاملہ میں بدعنوانی کی تفتیش کے لئے 30افراد پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ کمیٹی 1998 سے 2009سے متعلق ٹیلی مواصلات کے سودوں کی بھی جانچ کرے گی اور اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور ٹیلی مواصلات لائسنس کی قیمتوں پر مرکزی کابینہ کے فیصلوں اور اس کے نتائج کی بھی جانچ کرے گی۔
یقینا وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر اور بے حد دبائو کے بعد لیا ہوگا کیونکہ جس طرح مانسون اجلاس بنا کارروائی کے ختم ہو گیا اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ وزیر اعظم کو بحالت مجبوری یہ فیصلہ لینا پڑا۔۔ اسی نے مرکزی حکومت کو یقینا جاگنے کے لئے آمادہ کیا۔ سب سے پہلے ہم بات کریں ان ممبران کی جن کو اس کمیٹی میں لیا گیا ہ

Read more

!بڑے مدیران کے چھوٹے سوال

سنتوش بھارتیہ
کسی بھی جمہوری نظام میں میڈیا کا کام ایک پہریدار کا ہوتا ہے۔ وہ حکومت کا نہیں، عوام کا پہریدار ہوتا ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ حکومت جو کرتی ہے اور جو نہیں کرتی ہے، وہ اسے عوام کے سامنے لائے۔ جب کبھی حکمراں جماعت ،اپوزیشن پارٹیاں، افسران اور پولس اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کرتے ہیں، تب میڈیا انہیں ان کے فرائض کا احساس کراتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت کی طرح ملک کا میڈیا بھی بحران میں ہے، وہ گمراہی کا شکار ہو گیا ہے۔
گزشتہ 16فروری کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک خصوصی پریس کانفرنس بلائی۔ خصوصی اس لئے کیونکہ اس میں صرف ٹیلی ویژن چینلوں کے چنندہ مدیران کوہی بلایا گیا ت

Read more

وزیراعظم ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟

سنتوش بھارتیہ
پارلیمنٹ کو جاگنا ہوگا۔ ملک کے سارے اداروں پر خاص طور سے آئینی اداروں پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ انہیں سوالوں کے دائروں میں آنے سے بچنا چاہیے، نہیں تو نظام پر اعتمادکا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ نئے خطرات کے بادل نظر آرہے ہیں۔ اسرو نے ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے قاعدے قوانین توڑ ڈالے۔ وزیراعظم پر ایک نیا سوال کھڑا ہوگیا، کیوں کہ اسرو وزیراعظم کے پاس ہے۔ کیا وزیراعظم کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے کہ وہ اپنے ماتحت آنے والی وزارتوں کا کام کاج دیکھ سکیں، کیوں کہ اگر وزیراعظم کے علم میں یہ معاملہ آیا ہ

Read more

وزیر اعظم کو عوام سے ڈرنا چاہئے

سنتوش بھارتیہ
راجاابھی کچھ ماہ قبل مرکزی کابینہ میں وزیر تھے۔ اب سی بی آئی کی گرفت میں ہیں۔ پہلے ریمانڈ پھر جیل۔ ظاہر ہے ضمانت پر باہر آہی جائیںگے، لیکن ان کی گرفتاری نے سیدھا سوال وزیراعظم کے طریقۂ کار پر کھڑا کردیا ہے۔ منموہن سنگھ کے وزیراعظم بننے کے دوسرے دور اقتدار میں راجا ہی ٹیلی مواصلات کے وزیر رہے۔ ان سے پہلے کے وزیر مواصلات دیاندھی مارن نے جس طرح سے وزیراعظم کے دفتر کو دھمکایا، زبانی نہیں خط لکھ کر، اس کے بعد تو جیسے وزیراعظم کے دفتر کو سانپ سونگھ گیا۔ دیاندھی مارن نے پہلے

Read more

سوناونے کے قتل نے کھڑے کئے کئی سوال

سنتوش بھارتیہ
کیا اس ملک سے ایمانداری اور وفاداری کا جلد ہی جنازہ اٹھ جائے گا؟ کیا ہندوستان میں ایماندار افسران پیدا ہونے بند ہو جائیں گے؟حالات دیکھ کر تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ چہار جانب بے ایمانی، رشوت خوری، دہشت پسندی، بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ کا بول بالا ہے۔ایمانداری گویا اس ملک کو راس آنی بند ہو گئی ہے اور بے ایمانی اس کا مقدر بن گئی ہے۔ ناسک کے ایڈیشنل ضلع افسر آنجہانی یشونت سوناونے کا بس اتنا ہی قصور تھا کہ وہ ایماندار تھے۔ ان کے اس قصور نے ہی انہیں آنجہانی بنا دیا اور بچوں کو یتیم و بیوی کو بیوہ۔واقعی ہمار

Read more

!بے قصور مسلم نوجوانوں کا مستقبل دائو پر

سنتوش بھارتیہ
ہندودہشت گردی، مسلم دہشت گردی، سنگھ پریوار کی دہشت گردی یہ تینوں ہی اصطلاحیں سوامی اسیمانند کے اقبالیہ بیان کے بعد سے لگاتار سننے میں آ رہی ہیں۔ ایک اخبار نے سرخی لگائی ’’اسیما نند کے اقبالیہ بیان سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے والوں کا منہ کالا‘‘۔ ایک اخبار نے سرخی لگائی’’ یہ ہندو دہشت گردی نہیں سنگھ پریوار کی دہشت گردی ہے‘‘۔ ایک اخبار نے لکھا’’سوامی اسیمانند کا اقبالیہ بیان اور ہندو دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب‘‘، غرضیکہ جتنے اخبار اتنی سرخیاں۔ سوامی اسیمانند کا مختلف بم دھماکوں میں ملوث ہونا ثابت ہونے کے بعد اہم یہ نہیں ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہندو دہشت گرد ی ہے یا مسلمان۔ یہ سوچنا ہے کہ دہشت گرد نہ ہندو ہے نہ مسلمان ۔وہ انسانیت کی قتل و غارت گری کا وہ بھیانک رخ ہے جس سے ن

Read more

حکومت کی پالیسیاں مہنگائی بڑھانے والی ہیں

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان پہلی بار مہنگائی کی مار نہیں جھیل رہا ہے۔ چاہے وہ نہرو کا زمانہ رہا ہو یا اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی حکومت، سب نے مہنگائی سے مقابلہ کیا۔ مہنگائی بڑھتے ہی حکومت کہتی کہ دو دنوں کے اندر مہنگائی پر لگام لگے گی تو دو دنوں کے بعد حالات بدل بھی جاتے تھے۔ آج حکومت وعدے پر وعدے کر رہی ہے، لیکن اشیا کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ مہنگائی کی وجہ برسات نہیں، کم پیداوار نہیں، بلکہ جمع خوری اور کالا بازاری ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت مہنگائی پر لگام لگانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ ملک کی پالیسی پر صنعت کاروں کا قبضہ ہوگیا ہے یا پھر حکومت بازار میں مداخلت کرنا ہی نہیں چاہتی۔ عالمی اقتصادی نظام میں 1920-1930 کی مندی کو گریٹ ڈپریشن کے

Read more

دو ہزار دس تجھے ہم یاد رکھیں گے

سنتوش بھارتیہ
دو ہزار آٹھ میں ہم خوش گمانیوں میں مبتلا تھے کہ شدید عالمی مالی بحران نے ہماری معیشت کو زیادہ متاثر نہیں کیا۔جہاں یوروپ، امریکہ اور جاپان جیسی دنیا کی بڑی معیشتوں کے بڑے بڑے ادارے دیوالیہ ہو گئے، وہیں ہندوستان مسلسل ترقی کی قابل ذکر شرح درج کرتا رہا۔دنیا بھر کے اداروں نے ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے دستبردار کرنا شروع کر دیا یعنی چھنٹنی شروع کردی۔یکایک لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے، لیکن ہمارے ہندوستان میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔نہ لوگوں کی ملازمتیں گئیں اور نہ ہی ہمارے بینک دیوالیہ ہوئے۔عوام نے منموہ

Read more
Page 30 of 35« First...1020...2829303132...Last »