پورے سسٹم کو سدھارنے کی ضرورت ہے

سنتوش بھارتیہ
بار بار کہنے کے باوجود سرکار کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ سرکار سے مطلب صرف وزیر نہیں، بلکہ سرکار سے مطلب پور ا سسٹم ،داروغہ سے لے کر ہوم سکریٹری تک۔یہ سب نشے کی گولی کھاکر سو رہے ہیں اور ملک ہر دوسرے تیسرے مہینے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔دلی ہائی کورٹ میں تین مہینے کے اندر ہوا دوسرا بم دھماکہ ہمارے سسٹم کے کھوکھلے پن اور سب سے آخر میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ناکارہ پن کو چیخ چیخ کر بیان کر رہا ہے۔ انگریزوں کے زمانے میں سسٹم اتنا بڑا نہیں

Read more

آنے والے دن پریشانی بھرے ہیں

سنتوش بھارتیہ
ملک اگلے کچھ دنوں تک پریشانی میں مزید مبتلا رہے گا۔ پریشانی میں مبتلا اس لیے رہے گا، کیوں کہ ہماری عظیم سرکار بحران کو سلجھانا کم جانتی ہے، پریشانی پیدا کرنا زیادہ جانتی ہے۔ قانون کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جب قانون نئے سرے سے لکھے جائیں اور پہلے سے بنے اُن قوانین کی اندیکھی کی جائے، جنہیں سپریم کورٹ نے درست ٹھہرایا ہے، تب لگتا ہے کہ بحران جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے کم از کم سات فیصلے ایسے ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی کبھی تاریخ پیدائش

Read more

یہ پورے ملک کی تحریک

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے تاریخ میں سنہرا باب بن کر جڑ گئے ہیں۔ آزادی کے بعد کئی لیڈران نے تحریکیں چلائیں، لوگ ان کے ساتھ جڑے، انھوں نے اپنی باتیں بھی منوائیں۔ بھوک ہڑتالیں بھی کیں، ان میں لوگ شہید بھی ہوئے، لیکن انا کا قصہ ان سب سے الگ ہے۔ ایک ایسا آدمی ،جو ملک میں کہیں گھوما نہیں، جس نے ریاستوں میں اجلاس نہیں کئے، لوگوں کو تیار نہیں کیا، ان کے پاس اپنا ایشو نہیں پہنچایا، کوئی تنظیم نہیں بنائی، اس کے ساتھ آزادی کے بعد کا سب سے بڑا عوامی جم غفیر کھڑا ہے۔ کل کیا ہوگا، کوئی نہیں جانتا، لیکن آج پورا ہندوستان انا ہزارے

Read more

کانگریس کی چار رکنی کمیٹی کی اگنی پریکشا

سنتوش بھارتیہ
شریمتی سونیا گاندھی امریکہ میں اپنی بیماری کے بعد صحت یاب ہورہی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں کانگریس پارٹی کو چلانے کے لیے چار رکنی کمیٹی بنائی۔ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کا سارا کام یہ کمیٹی دیکھنے والی ہے اور اہم فیصلے لینے والی ہے۔ اس کمیٹی میں راہل گاندھی ، اے کے انٹونی، جناردن دویدی اور احمد پٹیل ہیں۔ ترتیب میں دیکھیں تو پہلا نمبر راہل گاندھی کا، دوسرا احمد پٹیل ، تیسرا جناردن دویدی اور چوتھا اے کے انٹونی کا ہونا چاہیے۔اے کے انٹونی اس کمیٹی میں اس لیے رکھے گئے ہیں کیونکہ اے کے انٹونی کو سونیا گاندھی کا سب سے وفادار مانا جاتا ہے، اور دس جن پتھ کی رائے میں سب سے بے ضرر اگر کوئی آدمی ہے تو وہ اے کے انٹونی ہیں۔لیکن اس کمیٹی کو بنانے میں سونیا گاندھی سے ایک چوک ہوگئی۔ چوک سونیا گاندھی کی نظر میں نہیں ہوئی ہوگی، لیکن یہ چوک کانگریس کے کارکنان کی نظر میں ہوئ

Read more

جمہوریت کی گنجائش ختم ہو رہی ہے

سنتوش بھارتیہ
کیا کہیں، اپنا ماتھا پیٹیں، بھگوان کو، اللہ کو، گاڈ کو قصوروار ٹھہرائیں، کس پر اپنا غصہ نکالیں؟ سی اے جی کی رپورٹ آ گئی۔ رپورٹ میں کیا نہیں ہے! دیکھنے پر لگتا ہے کہ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں، اس میں ایماندار نظام کے نام کی کوئی چیز ہی نہیں بچی ہے۔ یہ ٹو جی اسپیکٹرم کا مسئلہ نہیں ہے، جس میں وزیر اعظم صاحب نے کہہ دیا کہ انہوں نے پر اس دھیان نہیں دیا۔ لوگ ان کو دھمکاتے رہے۔ ان کے وزیر ہی ان کو دھمکاتے رہے۔ وزیر اعظم خاموش رہے۔ ملک کو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو گیا۔ وزیر اعظم صاحب کے پاس وقت نہیں تھاکہ وہ اس طرف دھیان دے پاتے۔ انہوں نے ملک سے معافی مانگ لی، ملک نے انہیں معاف بھی کردیا، پر اب ک

Read more

سنبھلئے، ابھی کچھ بگڑا نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
بہت ساری چیزیں امریکہ میں بنتی ہیں، امریکہ میں کھلتی ہیں، تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کس طرح کے جال میں کبھی پھنس چکے تھے، اِن دنوں پھنس رہے ہیں یا آگے پھنسنے والے ہیں۔ ہمارے ملک کی معزز ہستیاں، جو لوگوں کی رائے بناتی ہیں، جن میں جسٹس راجندر سچر، دلیپ پڈگاؤنکر، عمر کے آخری پڑاؤ پر کھڑے مشہور ایڈیٹر، رائٹر اور سماجی کارکن کلدیپ نیر صاحب اور گوتم نو لکھا شامل ہیں جنہوں نے رورل جرنلزم اور نظریاتی صحافت میں نام کمایا تھا اور ان کے ساتھ بہت سارے ل

Read more

جنرل وی کے سنگھ کو سپریم کورٹ جانا چاہئے

سنتوش بھارتیہ
مرکزیحکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ ہندوستان کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 ہے، یہ بات حکومت ہند اور فوج کے ذریعے فراہم کیے گئے جواب میں ہے۔ جن اہل کاروں نے جواب دیا ہے، ان کے دستخط ہیں۔ اس کے باوجود حکومت ہند جھوٹ بول رہی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 ہے۔ حکومت یہ جھوٹ اس لیے بول رہی ہے کہ ہندوستان کے سب سے طاقتور شخص کے خاندان کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے۔ ان کی دلچسپی ایک مخصوص آدمی میں ہے اور وہ آدمی اتفاق سے انہی کے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں یہ لکھتے ہوئے ہچکچاہٹ ضرور ہو رہی ہے کہ کوئی آدمی کسی بھی فرقہ کا، اہل ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دوسرے آدمی کو، جو اس فرقہ کا نہیں ہے، جس کے کردار پر کوئی داغ نہیں ہے، جو بے داغ ہے، ایماندار ہے، اس کے ساتھ ناانصافی کریں۔ حکومت ہند یہ ناانص

Read more

کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے

سنتوش بھارتیہ
کابینہ میں ہوئے رد و بدل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے یہ پیغام گیا ہے کہ حکومت یا کانگریس پارٹی کنفیوژن میں ہے۔اس کے سامنے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ملک کو چلانے کے لیے کس طرح کے لوگ ضروری ہیں اور پارٹی کو انتخاب میں جیت دلانے کے لیے کس طرح کے لوگ چاہئیں، یہ بھی کانگریس کے سامنے کچھ صاف نہیں ہے۔ اس ردو بدل سے یہی پیغام گیا ہے کہ پوری کانگریس پارٹی کنفیوژڈ لوگوں کی پارٹی ہے، وہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔کانگریس میں جنریشن وار چل رہی ہ

Read more

راہل جی، گائوں میں آپ نے کیا سیکھا

سنتوش بھارتیہ
باپو جی جب موہن داس کرم چند گاندھی تھے، نوجوان وکیل تھے اور جنوبی افریقہ میں وکالت کرنے گئے تو ان کے ساتھ ایک حادثہ ہوا۔ گوروں نے انہیں فرسٹ کلاس میں بیٹھنے کے لائق نہیں سمجھا اور زبردستی گاڑی سے دھکا دے کر باہر پھینک دیا۔ جب وہ ہندوستان واپس آئے، ان کے من میں ہندوستان میں کچھ کام کرنے کی خواہش جاگی۔ انہیں لگا کہ وہ ہندوستان میں کچھ نیا کر سکتے ہیں

Read more