وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ قانون بنائے جاتے ہیں اور بناتے وقت ہی اسے توڑنے کے راستے بھی بن جاتے ہیں۔ قانون بنائے جاتے ہیں اور ان سے بچنے کا راستہ بھی انہی میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اسی کا سہارا لے کر عدالتوں میں وکیل اپنے ملزم کو چھڑا لے جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بہت سارے معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ مجرم باہر گھومتے ہیں، جب کہ بے گناہ اندر ہوتے ہیں۔ کسی نے دو سو روپے کی چوری کی، وہ جیل کے اندر اور جس نے دو سو کروڑ ر

Read more

رنگناتھ مشرا رپورٹ نفاذ ہونی چاہئے

سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش کا انتخاب سر پر ہے اور مسلم ریزرویشن کا شگوفہ کانگریس نے چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس اس لیے کہ اقلیتی امور کے وزیر کانگریس کے ممبر ہیں، اس لیے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ شگوفہ کانگریس نے چھوڑا ہے۔ شگوفہ اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ اگر سنجیدگی ہوتی تو کئی سالوں تک رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ٹھنڈے بستے میں نہیں پڑی رہتی اور نہ سرکار دباؤ میں آکر اسے رکھتی۔ سرکار اپنے آپ اسے پارلیمنٹ کے

Read more

یہ سمجھداری بھرا فیصلہ نہیں ہے

سنتوش بھارتیہ
کتنا بھی کہیں اور کتنا بھی سوچیں ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ ملک کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے کئی سارے طریقے ہیں، پر اگر ایسے راستے کو، جو کہیں پہنچتا ہی نہ ہو یا دنیا میں جسے آزمایا جا چکا ہو، ہم پھر ایک بار آزمائیں تو اسے عقلمندی نہیں، بیوقوفی کہیں گے۔ یہ سوال دماغ میں اٹھتا ہے۔ ملک میں بازار ہے، جو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا تھا، لیکن وہ سماج اور سیاست کو سمت نہیں عطا کرتا تھا۔ جب سے انسان تہذیب یافتہ ہوا، تب سے بازار سماج کے پیچھے رہا۔ اس نے سماج کو ہدایت نہیں دی۔ ہندوستان میں، جب اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، تب بھی بازار تھا، لیکن اس نے ہندوستان کو ڈکٹیٹ نہیں کیا۔ ہزاروں س

Read more

ہماری قوتِ برداشت کم ہو رہی ہے

سنتوش بھارتیہ
صدربش کے اوپر جوتا کیا چلا، ساری دنیا میں جوتوں کی بہار آ گئی۔ ہمارے ملک میں یہ دوسرا یا تیسرا واقعہ ہے جب لیڈروں کے اوپر حملے ہوئے۔ جناردن دویدی پر جوتا پھینکا گیا اور اب شرد پوار کو ایک شخص نے تھپڑ مارا۔ یہ واقعات دو طرح کے اشارے کرتے ہیں۔ پہلا اشارہ کہ ملک میں جمہوری اقدار پر سے نوجوانوں کا بھروسہ اٹھ رہا ہے۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ احتجاج، دھرنا، بھو

Read more

انا نے ایک اچھا موقع گنوا دیا

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے کے اوپر چاروں طرف سے حملہ ہورہا ہے۔ ایک طرف سیاست داں حملہ کررہے ہیں تو دوسری طرف میڈیا حملہ کر رہا ہے۔ سیاست داں دو طرح سے حملے کررہے ہیں۔پہلا حملہ ان کی شبیہ کو بگاڑنے کا ہو رہا ہے، جس کی قیادت دِگ وجے سنگھ کر رہے ہیں۔ دوسرا حملہ ان کی شبیہ کو بھنانے کا ہورہا ہے، جس کی قیادت شری موہن بھاگوت اور بی جے پی کے تمام لیڈر کر رہ

Read more

عدالتی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے

سنتوش بھارتیہ
ملک کا اعتماد اگر کسی ایک ادارہ کے اوپر ابھی تک بنا ہوا ہے، تو وہ ہے ہمارا عدالتی نظام، جو کبھی کبھی اس کی جھلکیاں دیتا ہے اور یہ پیغام بھی کہ لوگوں کو اس کے اوپر اعتماد بنائے رکھنا چاہیے۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ نچلی عدالتیں صحیح فیصلے ٹالتی ہیں اور ان کے اوپر کی عدالتیں بھی صحیح فیصلے ٹالتی ہیں۔ اخیر میں سپریم کورٹ جب فیصلہ دیتا ہے تو لوگوں کو لگتا ہے کہ عدالتی نظام میں اعتقاد رکھنا ہی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے بہت سارے فیصلے ملک میں رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں کچھ ای

Read more

جسٹس کاٹجو کی باتوں پر ہنگامہ کیوں؟

سنتوش بھارتیہ
آخر جسٹس کاٹجو نے ایسا کیا کہہ دیا کہ دہلی میں طوفان کھڑا ہوگیا۔ الیکٹرانک میڈیا کے جتنے بڑے سردار ہیں، وہ سب تن کر کھڑے ہوگئے، جیسے لگا کہ ان کی عصمت دری ہونے والی ہے اور انہیں اپنی عزت کی حفاظت کرنی ہے۔ جسٹس کاٹجو نے جو کہا، اسے اس ملک کا ہر آدمی صحیح مانتا ہے کیونکہ صحافی کی ذمہ داری کسی بھی سپاہی، کسی بھی ڈاکٹر اور کسی بھی منصف سے کم نہیں ہوتی۔ صحافت ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہر برائی کا سامنا کیا جاسکتاہے، صحافت اعتماد کا وہ سمبل ہے کہ جب کہیں بھ

Read more

اب بدلائو کی نئی کہانی کا انتظار ہے

سنتوش بھارتیہ
ملک کے عوام کو کیا اس بار بھی مایوس ہونا پڑے گا اور اگر مایوس ہونا پڑے گا تو یہ جمہوریت کے لیے اچھی خبر نہیں مانی جانی چاہیے۔ اناّ ہزارے نے جب رام لیلا میدان میں تحریک شروع کی، تب ان کے ساتھ لوگ بڑے اعتماد کے ساتھ پورے ملک میں کھڑے ہو گئے۔ بہت دنوں کے بعد یہ پہلی تحریک تھی، جس میں شمال، مشرق، جنوب اور مغرب یعنی ملک کے ہر حصے میں کچھ نہ کچھ ہوا۔ غریب، امیر، نچلا متوسط طبقہ اور اعلیٰ متوسط طبقہ سب نے اپنی رائے بنائی اور کم از کم یہ کہا کہ ملک کے مسائل کا حل نکلنا چاہیے اور سرکار کو زیادہ جوابدہ ہونا چاہیے۔ لیکن ایک بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انّا ہزارے اور ان کی ٹیم اُس اعتماد کا تحفظ کر پائی

Read more

وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت

سنتوش بھارتیہ
دو اکتوبر گزر گیا۔ پہلی بار ملک میں 2 اکتوبر سرکاری فائلوں اور سرکاری تقاریب سے باہر نکل کر لوگوں کے بیچ میں رہا۔ لوگوں نے گاندھی ٹوپی لگا کر مہاتما گاندھی کو یاد کیا۔ نہ صرف مہاتما گاندھی کو یاد کیا ،بلکہ ان کے افکار پر گفتگو کی، سمینار کیے۔2 اکتوبر کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ اس ملک میں بہت سالوں کے بعد گاندھی کا نام گاندھی وادیوں کے ذریعہ نہیں، بلکہ گاندھی کے افکار کی طاقت کی بنیاد پر لوگوں کے دل میں گھر کر رہا ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے اور شاید شرمناک بھی کہ آزادی کے بعد جتنی حکومت

Read more

سرکار اقتصادی استحصال بند کرے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان میں ایک عجیب چیز ہے۔ مہنگائی بڑھانے میں حکومت کو بہت مزہ آتا ہے۔ حکومت جان بوجھ کر مہنگائی بڑھاتی ہے یا ایسا کرنا حکومت کی مجبوری ہے، یہ حکومت جانے، وہ ماہر معاشیات جانیں جو جھوٹے اعداد و شمار تیار کرتے ہیں، لیکن ہندوستان کے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہو رہی ہے، یہ بات نہ سیاسی جماعتیں سمجھ رہی ہیں اور نہ حکومت سمجھ رہی ہے۔ حالات بے قابو ہوں گے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، کیونکہ حکومت کے پاس یا ماہر معاشیات کے پاس، خاص کر ان ماہر معاشیات کے پاس جو حکو

Read more