اتراکھنڈ کی مدد ہر ہندوستانی کا فرض ہے

سنتوش بھارتیہ
اتراکھنڈ کی آفاتِ سماوی کیا خداکی طرف سے نازل کی گئی آفات ہیں؟ کیا یہ بھگوان کی ناراضگی کا نتیجہ ہے، یا یہ (ہندو عقیدہ کے مطابق) گنگا ماں کے غصے کا نتیجہ ہے؟ ہم ہندوستان کے لوگ نقصان اٹھانے کے بعد اپنے من کو مطمئن کرنے کے لیے بھگوان پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں اور یہ عادت انہیں بچا لے جاتی ہے، جو آفاتِ سماوی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہو رہا ہے۔

Read more

فوج رائے سینا ہلس تک جا سکتی ہے

سنتوش بھارتیہ
چھتیس گڑھ میں بہت بڑا حادثہ ہو گیا۔ کانگریس کے قافلہ پر گولی کا چلنا، تقریباً 29 لوگوں کا مارا جانا، مارنے کے لیے لوگوں کے نام پکارنا اور اس کے بعد جن لوگوں کی جان بچ گئی، ان کا میڈیا میں آکر طرح طرح کے بیان دینا۔ دوسرا واقعہ۔ پولس کے جوانوں کا گھیر کر قتل اور ان کا مجبوری کی حالت میں شکار بن جانا اور اس کے بعد پولس کے لوگوں کا سرکار کے اوپر الزام لگانا۔ کیا ان دونوں واقعات کا نظم و نسق سے تعلق ہے، ج

Read more

خبروں کا لوکلائزیشن باعث تشویش

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان میں ایک مزیدار کھیل اخباروں کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے۔ اطلاعات کی ترسیل رک گئی ہے اور اسے روکنے میں سب سے بڑا رول اخباروں کا ہی ہے۔ نہ صرف اخبار اس کی وجہ سے خوش ہیں، بلکہ سرکار کو بھی یہ صورتِ حال راس آ رہی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں خبروں کا لوکلائزیشن بہت تیزی سے ہوا ہے۔ بیس یا 25 سال قبل جنیو، منڈن، شادی، یومِ پیدائش اور چھوٹے جرائم سے متعلق خبریں اخباروں میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتی تھیں، لیکن پہلے اخباروں کے نیشنل ایڈیشن نکلے، پھر ان کے علاقائی ایڈیشن نکلے اور اب ضلع ایڈیشنوں سے بات آگے بڑھ کر تحصیل ایڈیشنوں تک پہنچ چکی ہے۔ اخباروں

Read more

سیاسی پارٹیوں کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی

سنتوش بھارتیہ
کرناٹک کے انتخاب نے پھر ایک حقیقت کو ثابت کیا کہ ہندوستان کے عوام پرچار کے بھلاوے میں نہیں آنے والے یا نہیں آتے ہیں۔ دراصل، پورے ملک میں نریندر مودی کو لے کر میڈیا نے ایسا سماں باندھا کہ سبھی دیکھتے ہی رہ گئے۔ ظاہر ہے، اس کے پیچھے بڑے پیسے کا رول رہا ہوگا یا پھر بڑی پبلک رلیشن کمپنیوں کے رابطوں کا جادو رہا ہوگا، جس نے پورے ملک میں نہ صرف نریندر مودی کو واحد متبادل کے روپ میں کھڑا کیا، بلکہ ان کا قد اتنا بڑھا دیا کہ وہ قد پارٹی سے زیادہ بڑھنے لگا۔ لیکن کرناٹک انتخاب میں نریندر مودی بھی چھوٹے ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی چھوٹی ہوئی۔ سوال ی

Read more

!سیاست کا مہرا بنا سربجیت

سنتوش بھارتیہ
آخر کار سربجیت سنگھ کی موت ہو ہی گئی اور سامنے آ گیا پاکستان کے ایک اور جھوٹ کا سچ! پہلے جیل میں حملہ اور پھر اسپتال میں موت۔ موت کے فوراً بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آناً فاناً میں سربجیت سنگھ کی موت پر نہ صرف صدمے کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سربجیت ہندوستان کے بہادر

Read more

عوام ایک ذمہ دار پارلیمنٹ کی تعمیر کریں

سنتوش بھارتیہ
عظیم ملک کی عظیم پارلیمنٹ نہایت عظیم مثال آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ رہی ہے۔ پارلیمنٹ کو نہ اپنے وقار کا خیال ہے، نہ وہ لوگوں کی زندگی میں آ رہی مشکلوں سے واسطہ رکھتی ہے اور نہ ہی وہ ان سوالوں کو اٹھاتی ہے، جن کا رشتہ اس ملک کے غریب سے ہے۔ پارلیمنٹ میں یہ بھی مدعا نہیں اٹھتا کہ مکیش امبانی کو زیڈ پلس سیکورٹی کیوں دی گئی؟ وزیر داخلہ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ اس سیکورٹی کے بدلے امبانی پیسہ دیں گے۔ تو کیا وزیر داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس ملک کا ہر پیسے والا کچھ لاکھ روپے دے کر ہندوستانی سرکار کی زیڈ پلس سیکورٹی حاصل کر سکتا ہے؟ افسوس! پارلیمنٹ میں

Read more

غیر یقینی کے بھنور میں ہندوستانی سیاست

سنتوش بھارتیہ
نریندر مودی کو بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہونے کا اعلان کرے گی یا انہیں امیدوار بنانے کا اعلان کیے بغیر ہی وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے آگے کرے گی، یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ نتیش کمار اخیر میں کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ اگر نتیش کمار این ڈی اے سے الگ ہو جاتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی بلا جھجک نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہونے کا اعلان کرے گی یا ان کی قیادت میں الیکشن لڑے گی اور اگر نتیش کمار بنے رہتے ہیں، تو ایسی حالت میں بھی الیکش

Read more

سیاستدانوں کے لئے خطرہ ہیں انا ہزارے

سنتوش بھارتیہ
میں پچھلے دنوں انا ہزارے کی یاترا میں ان کے ساتھ تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ انا ہزارے شاید دوبارہ تاریخ رقم کرنے کے راستے پر نکل سکتے ہیں۔ انا ہزارے کی یاترا امرتسر سے شروع ہوئی اور پنجاب ہوتے ہوئے ہریانہ پہنچی۔ ہریانہ کے بعد وہ اتر پردیش گئی۔ اس یاترا میں پہلی خاص چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ انا ہزارے کا ساتھ دینے کے لیے ہر عمر کا آدمی آج بھی تیار ہے۔ پلکھوا میں 98 سال کے ایک بزرگ نے مرتے دَم تک انا ہزارے کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ سولہ، سترہ، اٹھارہ سال کے نوجوان آگے بڑھ کر انا

Read more

ملک کے لئے کب سوچیں گی سیاسی پارٹیاں؟

سنتوش بھارتیہ
کانگریس کی انتخابی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، کانگریس پورے بھروسے کے ساتھ یہ مان بیٹھی ہے کہ وہ تین سو سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ کانگریس جیت رہی ہے اورکانگریس مان بیٹھی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت یعنی کانگریس کی صدر، قائم مقام صدر، جنرل سکریٹری یا 28اکبر روڈ کا پورا عملہ اس خیال پر یقین کئے بیٹھا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کا کارکن تھوڑی پریشانی میں ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ شاید کانگریس اقتدار

Read more