یہ پہل جمہوریت کو مضبوط کرے گی

کیا سپریم کورٹ یہ بھی طے کرے گا کہ اگر نالی بنانی ہے، تو نالی کا سائز کیا ہوگا؟ اینٹیں کہاں سے آئیں گی؟ سیمنٹ کہاں سے آئے گا؟ یا پھر سپریم کورٹ یہ کرتا ہے کہ نالی یہاں پر بننی چاہیے، تو اس پر عمل کرنے کا کام ان کا ہوگا، جن کے اوپر اس کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کو صرف اصولی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانے کا کام سرکار کا یا جس سے متعلق وہ فیصلہ ہوتا ہے، اس ادارہ کا ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہی نہیں ہو رہا ہے۔
شری انا ہزارے نے سارے ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے مہم چلائی، جس میں انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ اختیار ملنا چاہیے کہ وہ ان امیدواروں کو خارج کردے، جو امیدوار لوک

Read more

گاندھی کے خوابوں کا ہندوستان کہاں گیا

دو اکتوبر بھی گزر گیا۔ یہ 2 اکتوبر ہندوستان کے درد، تکلیف، پریشانی اور مایوسی کا 2 اکتوبر ہے۔ 2 اکتوبر اس انسان کا یومِ پیدائش ہے، جس انسان نے نہ صرف ملک کو آزادی دلائی، بلکہ آزادی کے بعد کا ملک کیسا ہوگا، اس کا خواب بھی دیکھا۔ مہاتما گاندھی ایک مکمل انسان تھے، اس لیے انہوں نے ایک مکمل خواب دیکھا۔ گاندھی کیسا سماج چاہتے تھے، کیسی سرکار چاہتے تھے، کیسا نظام چاہتے تھے، اس کا انہوں نے صاف طور پر ذکر کیا ہے۔ گاندھی گاؤوں کو اقتصادیات کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ فیصلوں کا مرکز بھی وہ گاؤوں کو بنانا چاہتے تھے۔ لیکن یہ دو اکتوبر گاندھی کے خوابوں کی راکھ کے ڈھیر پر آیا ہوا دو اکتوبر ہے۔ آنے والا دو اکتوبر 2014 ہمیں پھر سے یاد دلائے گا کہ ہم گاندھی کے خوابوں سے کتنی

Read more

صحافیوں کو آواز بلند کرنی چاہئے

ہم اپنی کچھ رپورٹوں کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں، جن میں سب سے پہلی رپورٹ کوئلہ گھوٹالے کو لے کر تھی۔ ہم نے اسے ملک میں سب سے پہلے شائع کیا۔ اس سے پہلے ہم نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ اپنے اخبار میں شائع کی تھی اور چنوتی دی تھی کہ سرکار کہے کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے۔ اس رپورٹ کو لے کر راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا۔ آخر کار لوک سبھا کی تاریخ میں پہلی بار 45 سے 50 ممبرانِ پارلیمنٹ چوتھی دنیا اخبار لے کر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس کے اوپر جواب دیں۔ وزیر اعظم کو رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ کی میز پر رکھنے کی یقین دہانی کرانی پڑی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ملک کے سامنے آئی۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکار نے

Read more

یہ ہمارے لئے امتحان کی گھڑی ہے

مظفر نگر کے گاؤوں میں فسادات کی تحقیق کے بعد جو چیزیں سامنے آتی ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ پورا علاقہ دو طرح کے باہم مخالف کرداروں سے بھرا ہوا ہے۔ اس پورے علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کم، لیکن آریہ سماج کا زیادہ اثر ہے۔ یہاں آریہ سماج کب سخت گیر ہندوتوا میں بدل گیا، یہ خود آریہ سماج کے لوگوں کو بھی نہیں معلوم۔ گزشتہ تین مہینے میں ایسے مسلمان جو اونچا پائجامہ پہنتے ہیں، بڑی داڑھی رکھتے ہیں اور ٹوپی لگاتے ہیں، ایسے لوگوں کو چن چن کر فقرہ بازیوں اور کچھ جگہوں پر لوگوں کے حملوں کا بھی شکار ہونا پڑا۔ ٹرین میں یا اسٹیشنوں پر زبردستی داڑھی ٹوپی والے مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوششیں کافی بڑھ گئی تھیں۔ یہ ساری جانکاری ضلع انتظامیہ کو تھی۔ ضلع انتظامیہ نے ریاستی سطح پر

Read more

یہ سیاسی فیصلوں کی گھڑی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی میں قیادت کا جھگڑا اِن معنوں میں اہم ہے کہ 75 سال کے اوپر کے لوگوں کے لیے سیاسی پھانسی کا حکم نامہ سنگھ کے ذریعے لکھا جا چکا ہے۔ اس پر عمل نریندر مودی کو کرنا ہے۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ہم نریندر مودی کو جلاد کہہ رہے ہیں۔ ہم صرف سیاست کے اُس المیہ کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں، جو کرسی کی بے مروت لڑائی سے پیدا ہوتی ہے۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کی مانگ سیاست سے باہر وہ لوگ کر رہے ہیں، جو ملک کو مغرب کا غلام بنانا چاہتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر وہ لوگ کر رہے ہیں، جو لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی جیسے لوگوں کی سمجھداری کا ماضی میں شکار ہو چکے ہیں۔ خود نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے لیے بے چین نہیں دکھائی

Read more

اس امید میں امکان بھی دکھائی دیتا ہے

امریکی کی سڑکوں پر 18 اگست کو ایک عجیب و غریب نظارہ دکھائی دیا۔ عام طور پر یہاں کی سڑکوں پر ایک لاکھ کے آس پاس لوگ ہوتے ہیں، لیکن 18 اگست کو یہاں کی سڑکوں پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ اکٹھا تھے۔ دونوں طرف ٹھیک ویسی ہی بھیڑ تھی، جیسی دہلی میں انڈیا گیٹ پر 26 جنوری کی پریڈ کے دوران دکھائی دیتی ہے۔ لوگ جوش و خروش سے لبریز تھے۔ جھنڈے لہرا رہے تھے۔ موقع تھا نیویارک میں ہندوستانی یومِ آزادی کو منانے کا۔ ہمارے ملک میں یومِ آزادی 15 اگست کو منایا جاتا ہے، نیویارک میں امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی اسے اتوار کے دن مناتے ہیں، تاکہ دور دور سے لوگ آسانی سے اس پروگرام میں شامل ہو سکیں۔ اور سڑکیں سچ مچ بھری ہوئی تھیں، دور دراز سے لوگ آئے ہوئے تھے۔

Read more

مہا بھارت کے آثار نظر آ رہے ہیں

پارلیمانی نظام کی جیسی شکل ہمارے ملک میں ہے، اس کا استعمال ہوشیار لوگ اپنے حق میں جس طرح کرتے ہیں، وہ مطالعہ کے قابل ہے۔ کلاسیکی انداز سے دیکھیں، تو پارلیمانی نظام کا استعمال عوام کے دکھ درد کے ازالہ کے لیے ہونا چاہیے اور ملک میں پھیلے ہوئے کسی بھی طرح کے مسئلے کا حل پارلیمنٹ سے نکلنا چاہیے، لیکن ہماری پارلیمنٹ اس صورتحال سے میلوں دور ہے۔

Read more

اب پارٹی امیدوار نہیں، عوامی امیدوار

دو ہزار چودہ لوک سبھا انتخابات کے بعد کی صورتِ حال پر بات کریں، تو کانگریس کا نیتا کون ہوگا،یہ طے ہے۔ راہل گاندھی ہی کانگریس کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بنیں گے، یہ کہا جاسکتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کانگریس کے خود کے لوگوں کو راہل گاندھی کی قابلیت پر بھروسہ نہیں ہے۔ کانگریس کے جتنے بھی سینئر لیڈروں سے میری ملاقات ہو رہی ہے، انہیں راہل کی ذہنی صلاحیت پر پورا بھروسہ نہیں ہے۔ اگر کانگریس میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے پر ایک رائے نہیں ہو پاتی، تو کانگریس کی طرف سے پھر سے کوئی ایسا شخص وزیر اعظم بن جائے گا، جیسے وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں۔ اُس صورت میں اے کے انٹونی پہلے نمبر پر ہیں۔ اور آج ب

Read more

بی جے پی کو سچ بولنا چاہئے

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ صلاح دینا چاہیے کہ وہ ملک کے لوگوں سے یہ کہے کہ اگر ملک کے لوگ ایودھیا میں رام مندر بنانا چاہتے ہیں، تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔ اسے یہ بھی صلاح دینی چاہیے کہ صرف ایودھیا میں ہی نہیں، اگر متھرا اور کاشی میں مسجدوں کو ہٹا کر ساری جگہ کرشن جنم بھومی اور وشو ناتھ مندر کو دینی ہے، تو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ بھی بی جے پی کے ذریعے اعلان کروانا چاہیے کہ دفعہ 370 اور کامن سول کوڈ اگر ملک کے لوگ چاہتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں اور آخر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے وہ ملک کے لوگوں سے کہے کہ اگر دونوں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے اور انہیں ہندوستان میں ملانے کا واضح اعلان کرنا ہے، تو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔

Read more

مودی کی وجہ سے ملک کا سیکولر کردار بدل جائے گا

سنتوش بھارتیہ
ملک انتخاب کے قریب جیسے جیسے پہنچ رہا ہے، سیاسی پارٹیوں میں انتخابی ہلچل اتنی ہی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن کی تیاری عوامی طور پر کرنی شروع کر دی ہے۔ نریندر مودی لگ بھگ بی جے پی کو کنٹرول کرنے کی حالت میں ہیں اور جان بوجھ کر ایسی تصویریں باہر آ رہی ہیں، جن میں لال کرشن اڈوانی نریندر مودی کے ساتھ بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی بساط بچھا دی ہے، لیکن اُس بساط پر انہوں نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ وہ خود نہیں کھیل رہے ہیں، بلکہ امت شاہ کے

Read more