انّا کو ابھی بھی کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں

گزشتہ دنوں ایک حیران کن بات ہوئی۔ ایک تحریک سے وابستہ دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ انا ہزارے نے بھسما سُر پیدا کر دیا ہے۔ میں چونکا! میں نے ان سے پوچھا، بھسما سُر! کون؟ تو انہوں نے اروِند کجریوال کا نام لیا اور کہا کہ انا نے تحریک کی حصولیابی کے روپ میں اروِند کجریوال ملک کو دیا۔ میں نے پوچھا، اس میں بھسما سُر والی کیا بات ہوئی، تو انہوں نے جواب دیا کہ اروِند کجریوال اگر صرف انا سے اپنے راستے جدا ہونے کی بات کو سچ ثابت کرتے، تو کوئی بات نہیں تھی، کیوں کہ دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے، لیکن ہمارے راستے الگ ہیں۔ لیکن اروِند کجریوال تو انا کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Read more

بہار نئے محاذ کی جانب بڑھ رہا ہے

بہار میں ایک نیا سیاسی محاذ بن رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے رام وِلاس پاسوان اور لالو پرساد یادو کی پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھی اور ان کا اتحاد تھا۔ لالو یادو کے جیل جانے کے بعد بھی رام وِلاس پاسوان لالو یادو کے ساتھ کھڑے رہے۔ جیل سے جو بھی لوگ لالو یادو سے مل کر لوٹتے تھے، وہ یہ بتاتے تھے کہ لالو یادو رام ولاس پاسوان کو لے کر بہت مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس کی سیٹوں کے بارے میں شاید پھر سوچنا پڑ سکتا ہے۔ دراصل، گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی تھی، لیکن اس کے امیدواروں نے کچھ جگہوں پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

Read more

اس دور میں محتاط رہنا ضروری ہے

اب اسٹنگ آپریشن کے نئے کرداروں کے بارے میں جانئے۔ میرے پاس ایک فون آتا ہے۔ فون کرنے والا آدمی خود کو اڑیسہ کا انڈسٹری منسٹر بدری پاترا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آدمی کہتا ہے کہ آپ نے انا ہزارے جی کا بہت ساتھ دیا اور انا جی کے انشن کے بعد جس طرح سے لوک پال بل پاس ہوا اور اس میں آپ نے جو رول ادا کیا، اسے لے کر ہم سب آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اس نے پھر دوہرایا کہ نوین جی آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، لوک پال بل تو ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس ہوا، اس میں پارلیمنٹ کا رول ہے، میرا کیا رول ہے؟ میں نے کہا، رہی بات نوین پٹنائک جی سے بات کرنے کی، تو اس میں

Read more

انا کے ساتھیوں نے انہیں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

دو ہزار تیرہ گزر گیا۔ 2013 واقعات کا سال رہا اور اس پورے سال میں بدعنوانی کو لے کر نئے نئے معاملے سامنے آئے۔ بدعنوانی کو دبانے کی کوششیں ہوئیں۔ عوام کا جوش ختم ہوا اور اس کی جڑ میں جو لوگ تھے، انہوں نے اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔
میں سال کے واقعات کے تاریخ وار تجزیہ میں نہیں جانا چاہتا، کیوں کہ اس کا تجزیہ سارے اخبار کریں گے۔ میں صرف 2013 کی شروعات میں 30 جنوری کو پٹنہ میں ہوئی انا ہزارے کی ریلی کی طرف جانا چاہتا ہوں۔ 2011 میں انا ہزارے نے اگست میں اَنشن کیا اور وہ اَنشن کے بعد رالے گن سدھی واپس آ گئے۔ اُس اَنشن کے بعد انا ہزارے کے ساتھیوں کی کئی میٹنگیں ہوئیں اور انا کو لگا کہ ان کے ساتھیوں کا ارادہ کچھ اور ہے۔ ان کے ساتھی شروع سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے ہماچل میں ایک سروے کرایا گیا اور

Read more

انا کا قد میڈیا سے بہت بڑا ہے

شاید میڈیا کے لیے انا ہزارے اب فروخت ہونے والی چیز نہیں رہے۔ انا ہزارے سے زیادہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں فروخت ہونے والی چیز ہیں۔ میڈیا یہ مانتا ہے کہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں کی سیکس کہانیاں لوگ زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بیچ میں ترون تیج پال آگئے اور میڈیا کے لوگوں کو ان کی سیکس کہانیاں دکھانے اور لکھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا۔ اب کوئی سوال پوچھے، تو کیسے پوچھے کہ ایک لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی وجہ سے کیا ان کی ساری صحافت خارج کر دی جائے؟ میڈیا کے ہمارے ساتھی بھی کھیل کرتے ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں جنسی چھیڑ چھاڑ، عصمت دری اور ریپ کے ایک معنی ہیں۔ لفظی چھیڑ چھاڑ، بدسلوکی اور جسمانی چھیڑ چھاڑ کے ایک اور معنی ہیں۔ لیکن پورے میڈیا نے

Read more

ہم سوئیں گے یا ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے؟

شاید یہی الیکشن کا جادو ہے۔ ہمارے ملک کے لوگ کسی بھی الیکشن میں، چاہے وہ کارپوریشن کا الیکشن ہو، اسمبلی کا الیکشن ہو یا ملک کا الیکشن ہو، تماشہ دیکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ عجوبہ کی طرح لیڈروں کی تقریر سنتے ہیں اور تقریریں سن کر کوئی سوال نہیں اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی دھیان نہیں دیتے کہ جو سوال کارپوریشن کے الیکشن میں اٹھانے چاہئیں، وہ اسمبلیوں میں کیوں اٹھاتے ہیں، ان کے وعدے اسمبلیوں میں کیسے ہوتے ہیں؟ اور جن سوالوں کوپارلیمنٹ کے انتخابات میں اٹھانا چاہیے، ان سوالوں کو اسمبلیوں کے ذریعے کیسے حل کیا

Read more

انا جیسے آدمی کے راستے رکا نہیں کرتے

اس وقت اروِند کجریوال کا نام سرخیوں میں ہے۔ کئی طرح کے سوال ان سے پوچھے جا رہے ہیں اور وہ لوگوں سے پوچھ رہے ہیں۔ اس تنازع کی شروعات تب ہوئی، جب انا ہزارے نے اروِند کجریوال کو ایک خط لکھا۔ حالانکہ خط ذاتی تھا، لیکن اس کا جواب اروِند کجریوال نے ایک پریس کانفرنس بلا کر دینا چاہا۔ وہ شاید یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ انا جی نے جو خط لکھا ہے، وہ کوئی خاص معنی نہیں رکھتا، بلکہ اروِند جو جواب دیں گے، اس کا خاص مطلب ہے، لیکن پانسہ الٹا پڑ گیا اور گٹھری کھلی، تو اس میں سے بہت ساری چیزیں باہر آ گئیں۔

Read more

فرقہ واریت کی سیاست

فرقہ واریت کی مخالفت صرف اس لئے کرنا کیونکہ نریندر مودی فرقہ پرست ہیں یا نریندر مودی کی پارٹی فرقہ پرست ہے یا پھر کانگریس کی مخالفت اس لئے کرنا کیونکہ کانگریس فرقہ واریت کی مخالفت کر رہی ہے اور جو فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہیں انہیں کانگریس کو ووٹ دینا چاہئے۔ یہ ایسی دلیل ہے ، جن دلیلوں پر اگر فیصلے لئے جائیں تو فیصلے نہایت غلط ہوں گے۔فرقہ واریت ایک ایسا لفظ ہے جس لفظ کی توضیح آج تک ہرایک نے اپنی اپنی طرح سے کی ہے، لیکن فرقہ واریت کا رشتہ جب ایک بڑے طبقے سے ہو یعنی ہندوستان کے 80 فیصد یا 90 فیصد عوام سے ہو، تب فرقہ واریت کا مطلب سمجھنے میں نہ صرف احتیاط برتنی چاہئے، بلکہ اس کا وہی مطلب سمجھنا چاہئے ، جس مطلب کا رشتہ 80 فیصد

Read more

عوام کے سامنے کئی بڑے خطرے پیدا ہو رہے ہیں

آئندہ چنائو میں عوام یا تو فٹبال بننے جا رہی ہے یا تو تماشبین ۔ سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر کوئی بھی آدمی کچھ بھی بیچنے کی کوشش کرے، ڈمرو بجانے لگے،ڈولی عجیب حلیہ بنا لے، تو اسے کچھ ہی دیر میں 500یا ایک ہزار تماشبین مل ہی جاتے ہیں۔ ٹھیک ویسا ہی کام سیاسی جماعتیں اپنے ملک کے عوام کے ساتھ کرنے جا رہی ہیں۔ اب تو خواب بھی نہیں بیچتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو خواب بیچ کر بے وقوف بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں پر لوگ مرغے کی لڑائی دکھا کربھی بے وقوف بنائے جا سکتے ہیں۔ دہلی کی

Read more

فرقہ واریت کی مخالفت کیسے کی جائے یہ سوچنا ضروری ہے

ایک بڑا ہی مشہور شعر ہے ’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا‘۔ کچھ ایسا ہی ماحول بنا، جب 29 اکتوبر کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں فرقہ واریت کے خلاف 14 سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں بار بار کہا گیا کہ 17 سیاسی پارٹیاں ہیں اور وہیں پر یہ اعلان ہوا کہ 14 سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں۔ تین پارٹیوں کا فرق اور وہ بھی منتظمین کے منھ سے ہی بار بار اس تضاد کا ظاہر ہونا آخر تک نہیں سمجھ پایا کہ اس میٹنگ میں 14 پارٹیاں تھیں یا 17 پارٹیاں تھیں۔ میٹنگ کا بنیادی ایشو فرقہ واریت تھا۔ فرقہ واریت کی مخالفت کرنے کا عہد وہاں موجود سب نے لیا، لیکن یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آج فرقہ واریت کی شکل کیسی ہے۔ میٹنگ میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے

Read more