فرقہ واریت کی مخالفت کیسے کی جائے یہ سوچنا ضروری ہے

ایک بڑا ہی مشہور شعر ہے ’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا‘۔ کچھ ایسا ہی ماحول بنا، جب 29 اکتوبر کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں فرقہ واریت کے خلاف 14 سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں بار بار کہا گیا کہ 17 سیاسی پارٹیاں ہیں اور وہیں پر یہ اعلان ہوا کہ 14 سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں۔ تین پارٹیوں کا فرق اور وہ بھی منتظمین کے منھ سے ہی بار بار اس تضاد کا ظاہر ہونا آخر تک نہیں سمجھ پایا کہ اس میٹنگ میں 14 پارٹیاں تھیں یا 17 پارٹیاں تھیں۔ میٹنگ کا بنیادی ایشو فرقہ واریت تھا۔ فرقہ واریت کی مخالفت کرنے کا عہد وہاں موجود سب نے لیا، لیکن یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آج فرقہ واریت کی شکل کیسی ہے۔ میٹنگ میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے

Read more

راہل گاندھی اور عقل مندی میں ابھی فاصلہ

ریندر مودی اور راہل گاندھی، دو شخصیتیں ہیں، جن کے بارے میں پرچار ہو رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک وزیر اعظم بنے گا۔ نریندر مودی کی پارٹی چھ ماہ قبل تک مہنگائی، بدعنوانی، بے روزگاری جیسے سوال گاہے بگاہے اٹھاتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی مہنگائی کو لے کر انہوں نے احتجاج و مظاہرے بھی کیے، لیکن اچانک یہ سوال بی جے پی نے اٹھانے بند کر دیے۔ کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، ناکارہ پن، اِن فائٹنگ کے الزام لگاتی رہتی تھی، لیکن اس نے بھی یہ الزام لگانے بند کر دیے۔ دونوں پارٹیوں میں ایک چھپا ہوا سمجھوتہ ہوگیا۔ سمجھوتے کے پیچھے کی وجہ صرف ایک تھی کہ ان مسائل کے بڑھنے میں دونوں ہی پارٹیوں کا تھوڑا اور زیادہ رول رہا ہے۔ اس لیے شاید دونوں پارٹیوں نے طے کیا کہ ہم

Read more

کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا

کہاوتیں اکثر سچ ثابت ہوتی ہیں۔ کیونکہ کہاوت ہزاروں سال کے تجربے کے بعد دو یا تین لائنوں میں نظریے کی شکل میں نکل کر آتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہاو ت پھر صحیح ثابت ہونے جا رہی ہے ۔کہاوت ہے ’’ کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا‘‘ جو کوئلہ بیچتا ہے اس کے بارے میں کہاوت کہیں نہیں بنی۔ کہاوت ہے جو کوئلے کی دلالی کرتا ہے۔
اب تک سپریم کورٹ جانچ کی بات کرتا رہا اور جانچ کا رخ کہیں نہ کہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے گھر کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا،لیکن صاف طور پر یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ رخ

Read more

یہ پہل جمہوریت کو مضبوط کرے گی

کیا سپریم کورٹ یہ بھی طے کرے گا کہ اگر نالی بنانی ہے، تو نالی کا سائز کیا ہوگا؟ اینٹیں کہاں سے آئیں گی؟ سیمنٹ کہاں سے آئے گا؟ یا پھر سپریم کورٹ یہ کرتا ہے کہ نالی یہاں پر بننی چاہیے، تو اس پر عمل کرنے کا کام ان کا ہوگا، جن کے اوپر اس کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ کو صرف اصولی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانے کا کام سرکار کا یا جس سے متعلق وہ فیصلہ ہوتا ہے، اس ادارہ کا ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہی نہیں ہو رہا ہے۔
شری انا ہزارے نے سارے ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے مہم چلائی، جس میں انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ اختیار ملنا چاہیے کہ وہ ان امیدواروں کو خارج کردے، جو امیدوار لوک

Read more

گاندھی کے خوابوں کا ہندوستان کہاں گیا

دو اکتوبر بھی گزر گیا۔ یہ 2 اکتوبر ہندوستان کے درد، تکلیف، پریشانی اور مایوسی کا 2 اکتوبر ہے۔ 2 اکتوبر اس انسان کا یومِ پیدائش ہے، جس انسان نے نہ صرف ملک کو آزادی دلائی، بلکہ آزادی کے بعد کا ملک کیسا ہوگا، اس کا خواب بھی دیکھا۔ مہاتما گاندھی ایک مکمل انسان تھے، اس لیے انہوں نے ایک مکمل خواب دیکھا۔ گاندھی کیسا سماج چاہتے تھے، کیسی سرکار چاہتے تھے، کیسا نظام چاہتے تھے، اس کا انہوں نے صاف طور پر ذکر کیا ہے۔ گاندھی گاؤوں کو اقتصادیات کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ فیصلوں کا مرکز بھی وہ گاؤوں کو بنانا چاہتے تھے۔ لیکن یہ دو اکتوبر گاندھی کے خوابوں کی راکھ کے ڈھیر پر آیا ہوا دو اکتوبر ہے۔ آنے والا دو اکتوبر 2014 ہمیں پھر سے یاد دلائے گا کہ ہم گاندھی کے خوابوں سے کتنی

Read more

صحافیوں کو آواز بلند کرنی چاہئے

ہم اپنی کچھ رپورٹوں کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں، جن میں سب سے پہلی رپورٹ کوئلہ گھوٹالے کو لے کر تھی۔ ہم نے اسے ملک میں سب سے پہلے شائع کیا۔ اس سے پہلے ہم نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ اپنے اخبار میں شائع کی تھی اور چنوتی دی تھی کہ سرکار کہے کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے۔ اس رپورٹ کو لے کر راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا۔ آخر کار لوک سبھا کی تاریخ میں پہلی بار 45 سے 50 ممبرانِ پارلیمنٹ چوتھی دنیا اخبار لے کر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس کے اوپر جواب دیں۔ وزیر اعظم کو رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ کی میز پر رکھنے کی یقین دہانی کرانی پڑی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ملک کے سامنے آئی۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکار نے

Read more

یہ ہمارے لئے امتحان کی گھڑی ہے

مظفر نگر کے گاؤوں میں فسادات کی تحقیق کے بعد جو چیزیں سامنے آتی ہیں، وہ یہ ہے کہ یہ پورا علاقہ دو طرح کے باہم مخالف کرداروں سے بھرا ہوا ہے۔ اس پورے علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کم، لیکن آریہ سماج کا زیادہ اثر ہے۔ یہاں آریہ سماج کب سخت گیر ہندوتوا میں بدل گیا، یہ خود آریہ سماج کے لوگوں کو بھی نہیں معلوم۔ گزشتہ تین مہینے میں ایسے مسلمان جو اونچا پائجامہ پہنتے ہیں، بڑی داڑھی رکھتے ہیں اور ٹوپی لگاتے ہیں، ایسے لوگوں کو چن چن کر فقرہ بازیوں اور کچھ جگہوں پر لوگوں کے حملوں کا بھی شکار ہونا پڑا۔ ٹرین میں یا اسٹیشنوں پر زبردستی داڑھی ٹوپی والے مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوششیں کافی بڑھ گئی تھیں۔ یہ ساری جانکاری ضلع انتظامیہ کو تھی۔ ضلع انتظامیہ نے ریاستی سطح پر

Read more

یہ سیاسی فیصلوں کی گھڑی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی میں قیادت کا جھگڑا اِن معنوں میں اہم ہے کہ 75 سال کے اوپر کے لوگوں کے لیے سیاسی پھانسی کا حکم نامہ سنگھ کے ذریعے لکھا جا چکا ہے۔ اس پر عمل نریندر مودی کو کرنا ہے۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ہم نریندر مودی کو جلاد کہہ رہے ہیں۔ ہم صرف سیاست کے اُس المیہ کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں، جو کرسی کی بے مروت لڑائی سے پیدا ہوتی ہے۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کی مانگ سیاست سے باہر وہ لوگ کر رہے ہیں، جو ملک کو مغرب کا غلام بنانا چاہتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر وہ لوگ کر رہے ہیں، جو لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی جیسے لوگوں کی سمجھداری کا ماضی میں شکار ہو چکے ہیں۔ خود نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے لیے بے چین نہیں دکھائی

Read more

اس امید میں امکان بھی دکھائی دیتا ہے

امریکی کی سڑکوں پر 18 اگست کو ایک عجیب و غریب نظارہ دکھائی دیا۔ عام طور پر یہاں کی سڑکوں پر ایک لاکھ کے آس پاس لوگ ہوتے ہیں، لیکن 18 اگست کو یہاں کی سڑکوں پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ اکٹھا تھے۔ دونوں طرف ٹھیک ویسی ہی بھیڑ تھی، جیسی دہلی میں انڈیا گیٹ پر 26 جنوری کی پریڈ کے دوران دکھائی دیتی ہے۔ لوگ جوش و خروش سے لبریز تھے۔ جھنڈے لہرا رہے تھے۔ موقع تھا نیویارک میں ہندوستانی یومِ آزادی کو منانے کا۔ ہمارے ملک میں یومِ آزادی 15 اگست کو منایا جاتا ہے، نیویارک میں امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی اسے اتوار کے دن مناتے ہیں، تاکہ دور دور سے لوگ آسانی سے اس پروگرام میں شامل ہو سکیں۔ اور سڑکیں سچ مچ بھری ہوئی تھیں، دور دراز سے لوگ آئے ہوئے تھے۔

Read more

مہا بھارت کے آثار نظر آ رہے ہیں

پارلیمانی نظام کی جیسی شکل ہمارے ملک میں ہے، اس کا استعمال ہوشیار لوگ اپنے حق میں جس طرح کرتے ہیں، وہ مطالعہ کے قابل ہے۔ کلاسیکی انداز سے دیکھیں، تو پارلیمانی نظام کا استعمال عوام کے دکھ درد کے ازالہ کے لیے ہونا چاہیے اور ملک میں پھیلے ہوئے کسی بھی طرح کے مسئلے کا حل پارلیمنٹ سے نکلنا چاہیے، لیکن ہماری پارلیمنٹ اس صورتحال سے میلوں دور ہے۔

Read more
Page 19 of 35« First...10...1718192021...30...Last »