اس دور میں محتاط رہنا ضروری ہے

اب اسٹنگ آپریشن کے نئے کرداروں کے بارے میں جانئے۔ میرے پاس ایک فون آتا ہے۔ فون کرنے والا آدمی خود کو اڑیسہ کا انڈسٹری منسٹر بدری پاترا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آدمی کہتا ہے کہ آپ نے انا ہزارے جی کا بہت ساتھ دیا اور انا جی کے انشن کے بعد جس طرح سے لوک پال بل پاس ہوا اور اس میں آپ نے جو رول ادا کیا، اسے لے کر ہم سب آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اس نے پھر دوہرایا کہ نوین جی آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، لوک پال بل تو ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس ہوا، اس میں پارلیمنٹ کا رول ہے، میرا کیا رول ہے؟ میں نے کہا، رہی بات نوین پٹنائک جی سے بات کرنے کی، تو اس میں

Read more

انا کے ساتھیوں نے انہیں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

دو ہزار تیرہ گزر گیا۔ 2013 واقعات کا سال رہا اور اس پورے سال میں بدعنوانی کو لے کر نئے نئے معاملے سامنے آئے۔ بدعنوانی کو دبانے کی کوششیں ہوئیں۔ عوام کا جوش ختم ہوا اور اس کی جڑ میں جو لوگ تھے، انہوں نے اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔
میں سال کے واقعات کے تاریخ وار تجزیہ میں نہیں جانا چاہتا، کیوں کہ اس کا تجزیہ سارے اخبار کریں گے۔ میں صرف 2013 کی شروعات میں 30 جنوری کو پٹنہ میں ہوئی انا ہزارے کی ریلی کی طرف جانا چاہتا ہوں۔ 2011 میں انا ہزارے نے اگست میں اَنشن کیا اور وہ اَنشن کے بعد رالے گن سدھی واپس آ گئے۔ اُس اَنشن کے بعد انا ہزارے کے ساتھیوں کی کئی میٹنگیں ہوئیں اور انا کو لگا کہ ان کے ساتھیوں کا ارادہ کچھ اور ہے۔ ان کے ساتھی شروع سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے ہماچل میں ایک سروے کرایا گیا اور

Read more

انا کا قد میڈیا سے بہت بڑا ہے

شاید میڈیا کے لیے انا ہزارے اب فروخت ہونے والی چیز نہیں رہے۔ انا ہزارے سے زیادہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں فروخت ہونے والی چیز ہیں۔ میڈیا یہ مانتا ہے کہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں کی سیکس کہانیاں لوگ زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بیچ میں ترون تیج پال آگئے اور میڈیا کے لوگوں کو ان کی سیکس کہانیاں دکھانے اور لکھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا۔ اب کوئی سوال پوچھے، تو کیسے پوچھے کہ ایک لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی وجہ سے کیا ان کی ساری صحافت خارج کر دی جائے؟ میڈیا کے ہمارے ساتھی بھی کھیل کرتے ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں جنسی چھیڑ چھاڑ، عصمت دری اور ریپ کے ایک معنی ہیں۔ لفظی چھیڑ چھاڑ، بدسلوکی اور جسمانی چھیڑ چھاڑ کے ایک اور معنی ہیں۔ لیکن پورے میڈیا نے

Read more

ہم سوئیں گے یا ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے؟

شاید یہی الیکشن کا جادو ہے۔ ہمارے ملک کے لوگ کسی بھی الیکشن میں، چاہے وہ کارپوریشن کا الیکشن ہو، اسمبلی کا الیکشن ہو یا ملک کا الیکشن ہو، تماشہ دیکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ عجوبہ کی طرح لیڈروں کی تقریر سنتے ہیں اور تقریریں سن کر کوئی سوال نہیں اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی دھیان نہیں دیتے کہ جو سوال کارپوریشن کے الیکشن میں اٹھانے چاہئیں، وہ اسمبلیوں میں کیوں اٹھاتے ہیں، ان کے وعدے اسمبلیوں میں کیسے ہوتے ہیں؟ اور جن سوالوں کوپارلیمنٹ کے انتخابات میں اٹھانا چاہیے، ان سوالوں کو اسمبلیوں کے ذریعے کیسے حل کیا

Read more

انا جیسے آدمی کے راستے رکا نہیں کرتے

اس وقت اروِند کجریوال کا نام سرخیوں میں ہے۔ کئی طرح کے سوال ان سے پوچھے جا رہے ہیں اور وہ لوگوں سے پوچھ رہے ہیں۔ اس تنازع کی شروعات تب ہوئی، جب انا ہزارے نے اروِند کجریوال کو ایک خط لکھا۔ حالانکہ خط ذاتی تھا، لیکن اس کا جواب اروِند کجریوال نے ایک پریس کانفرنس بلا کر دینا چاہا۔ وہ شاید یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ انا جی نے جو خط لکھا ہے، وہ کوئی خاص معنی نہیں رکھتا، بلکہ اروِند جو جواب دیں گے، اس کا خاص مطلب ہے، لیکن پانسہ الٹا پڑ گیا اور گٹھری کھلی، تو اس میں سے بہت ساری چیزیں باہر آ گئیں۔

Read more

فرقہ واریت کی سیاست

فرقہ واریت کی مخالفت صرف اس لئے کرنا کیونکہ نریندر مودی فرقہ پرست ہیں یا نریندر مودی کی پارٹی فرقہ پرست ہے یا پھر کانگریس کی مخالفت اس لئے کرنا کیونکہ کانگریس فرقہ واریت کی مخالفت کر رہی ہے اور جو فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہیں انہیں کانگریس کو ووٹ دینا چاہئے۔ یہ ایسی دلیل ہے ، جن دلیلوں پر اگر فیصلے لئے جائیں تو فیصلے نہایت غلط ہوں گے۔فرقہ واریت ایک ایسا لفظ ہے جس لفظ کی توضیح آج تک ہرایک نے اپنی اپنی طرح سے کی ہے، لیکن فرقہ واریت کا رشتہ جب ایک بڑے طبقے سے ہو یعنی ہندوستان کے 80 فیصد یا 90 فیصد عوام سے ہو، تب فرقہ واریت کا مطلب سمجھنے میں نہ صرف احتیاط برتنی چاہئے، بلکہ اس کا وہی مطلب سمجھنا چاہئے ، جس مطلب کا رشتہ 80 فیصد

Read more

عوام کے سامنے کئی بڑے خطرے پیدا ہو رہے ہیں

آئندہ چنائو میں عوام یا تو فٹبال بننے جا رہی ہے یا تو تماشبین ۔ سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر کوئی بھی آدمی کچھ بھی بیچنے کی کوشش کرے، ڈمرو بجانے لگے،ڈولی عجیب حلیہ بنا لے، تو اسے کچھ ہی دیر میں 500یا ایک ہزار تماشبین مل ہی جاتے ہیں۔ ٹھیک ویسا ہی کام سیاسی جماعتیں اپنے ملک کے عوام کے ساتھ کرنے جا رہی ہیں۔ اب تو خواب بھی نہیں بیچتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو خواب بیچ کر بے وقوف بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں پر لوگ مرغے کی لڑائی دکھا کربھی بے وقوف بنائے جا سکتے ہیں۔ دہلی کی

Read more

فرقہ واریت کی مخالفت کیسے کی جائے یہ سوچنا ضروری ہے

ایک بڑا ہی مشہور شعر ہے ’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا‘۔ کچھ ایسا ہی ماحول بنا، جب 29 اکتوبر کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں فرقہ واریت کے خلاف 14 سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں بار بار کہا گیا کہ 17 سیاسی پارٹیاں ہیں اور وہیں پر یہ اعلان ہوا کہ 14 سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں۔ تین پارٹیوں کا فرق اور وہ بھی منتظمین کے منھ سے ہی بار بار اس تضاد کا ظاہر ہونا آخر تک نہیں سمجھ پایا کہ اس میٹنگ میں 14 پارٹیاں تھیں یا 17 پارٹیاں تھیں۔ میٹنگ کا بنیادی ایشو فرقہ واریت تھا۔ فرقہ واریت کی مخالفت کرنے کا عہد وہاں موجود سب نے لیا، لیکن یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آج فرقہ واریت کی شکل کیسی ہے۔ میٹنگ میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے

Read more

راہل گاندھی اور عقل مندی میں ابھی فاصلہ

ریندر مودی اور راہل گاندھی، دو شخصیتیں ہیں، جن کے بارے میں پرچار ہو رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک وزیر اعظم بنے گا۔ نریندر مودی کی پارٹی چھ ماہ قبل تک مہنگائی، بدعنوانی، بے روزگاری جیسے سوال گاہے بگاہے اٹھاتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی مہنگائی کو لے کر انہوں نے احتجاج و مظاہرے بھی کیے، لیکن اچانک یہ سوال بی جے پی نے اٹھانے بند کر دیے۔ کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، ناکارہ پن، اِن فائٹنگ کے الزام لگاتی رہتی تھی، لیکن اس نے بھی یہ الزام لگانے بند کر دیے۔ دونوں پارٹیوں میں ایک چھپا ہوا سمجھوتہ ہوگیا۔ سمجھوتے کے پیچھے کی وجہ صرف ایک تھی کہ ان مسائل کے بڑھنے میں دونوں ہی پارٹیوں کا تھوڑا اور زیادہ رول رہا ہے۔ اس لیے شاید دونوں پارٹیوں نے طے کیا کہ ہم

Read more

کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا

کہاوتیں اکثر سچ ثابت ہوتی ہیں۔ کیونکہ کہاوت ہزاروں سال کے تجربے کے بعد دو یا تین لائنوں میں نظریے کی شکل میں نکل کر آتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہاو ت پھر صحیح ثابت ہونے جا رہی ہے ۔کہاوت ہے ’’ کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا‘‘ جو کوئلہ بیچتا ہے اس کے بارے میں کہاوت کہیں نہیں بنی۔ کہاوت ہے جو کوئلے کی دلالی کرتا ہے۔
اب تک سپریم کورٹ جانچ کی بات کرتا رہا اور جانچ کا رخ کہیں نہ کہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے گھر کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا،لیکن صاف طور پر یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ رخ

Read more