جو بھی جیتے، اسے ملک کے لئے کام کرنا چاہئے

دس اپریل کو دہلی اور مغربی اترپردیش کے انتخابات ہوئے۔ 6 سیٹوں پر بہار میں بھی ووٹ پڑے۔ کل ملا کر تقریباً 91 سیٹوں پر ووٹ پڑے۔ ووٹوں کا فیصد شاندار رہا۔ اس کی جڑ میں الیکشن کمیشن کا پرچار، اس کی کوشش کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں، تو تھی ہی اور گزشتہ چند انتخابات میں نوجوان ووٹرس میں ووٹ ڈالنے کا زیادہ جوش دکھائی دے رہا ہے۔ 18 سال سے 24 سال کے نوجوان اچانک الیکشن کو سب سے اہم ماننے لگے ہیں۔ پہلے انتخابات میں کارکن ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد پچھلے 10-15 برسوں میں کارکن کی جگہ روزانہ خرچے پر کام کرنے والے نوجوان الیکشن میں استعمال ہونے لگے۔ لیکن، دہلی اسمبلی کے پچھلے الیکشن کے بعد پورے ملک میں نئے سرے سے نوجوان کارکن پارٹیوں کو ملنے لگے اور لوک سبھا کے اس الیکشن میں تو نوجوان کارکنوں نے بھی اپنی اپنی پارٹیوں میں، الیکشن میں حصہ لیا۔ووٹروں کی نوجوان حصہ داری نے بڑھ چڑھ کر اپنا رول ادا کیا۔

Read more

مودی کے ساتھ عوام کا بھی امتحان

بات بھارتیہ جنتا پارٹی کی آج کی حالت کی کرنی چاہیے، نریندر مودی کی نہیں۔ آج ہندوستان میں 35 ریاستیں اور یونین علاقے ہیں۔ ان میں سے کچھ ریاستوں کے آج لوک سبھا میں کتنے ایم پی ہیں، اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ آندھرا پردیش سے 42، کیرالہ سے 20، اڑیسہ سے 21، تمل ناڈو سے 39، دہلی سے 7 اور جموں و کشمیر سے 6 لوک سبھا کے اراکین منتخب ہوتے ہیں۔ ان ساری ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی صفر ہے۔ اسے ایک بھی سیٹ اِن ریاستوں میں، موجودہ لوک سبھا میں، جو معطل ہو چکی ہے، نہیں مل پائی۔ جب کہ یہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیتنے کی اور اپنی موجودگی درج کرانے کی جی جان سے کوشش کی تھی۔

Read more

ایم جے اکبر کا بی جے پی میں جانا ایک اچھا اشارہ

آج میری شری ایم جے اکبر سے ملاقات ہوئی۔ ایم جے اکبر ابھی کچھ دن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے فوری طور پر انہیں اپنا ترجمان مقرر کر دیا۔ اکبر صاحب کا شمار صحافت کی مثالی شخصیات میں رہا ہے اور شاید وہ ان چند زندہ شخصیات میں سے ہیں، جنہیں دیکھ کر انگریزی اور کچھ ہندی کے صحافی بھی اپنا کریئر ویسا ہی بنانا چاہتے ہیں۔ میرے من میں سوال تھا کہ آخر ایم جے اکبر نے کیوں بھارتیہ جنتا پارٹی میں جانا پسند کیا۔ میں جن ایم جے اکبر کو جانتا ہوں، ان کے سکھائے ہوئے راستے پر میرے سمیت چلنے والے بہت سارے لوگ ہیں اور بہتوں کے من میں یہ سوال کھڑا ہوا کہ ایم جے اکبر کیا بھارتیہ جنتا پارٹی میں صرف راجیہ سبھا میں جانے کی لالچ میں شامل ہوئے، کیا وہ مودی سرکار میں وزیر بننا چاہتے ہیں، کیا ان کے من کی یہ دونوں خواہشیں دبی رہ گئیں، جن میں سے ایک خواہش راجیو گاندھی نے پوری نہیں کی اور اس کے بعد راجیو گاندھی کی جگہ سنبھالنے والے نرسمہا راؤ اور سونیا گاندھی نے ایم جے اکبر جیسی شخصیت کو بالکل کنارے کر دیا۔ ظاہر ہے، سوالات کبھی ختم نہیں ہوتے، لیکن جب ایم جے اکبر نے مجھے کافی پینے کے لیے مدعو کیا، تو میرے سامنے اس سچائی کو جاننے کا ایک موقع ہاتھ آ گیا۔

Read more

مسلمان اپنے حق کے لئے خود آگے آئیں

بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر مودی کو امیدوار بناکر جتنے بھی سماج کے حصے ہو سکتے ہیں، انھیں جیتنے کی کوشش میں لگی ہے، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس کام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کوئی کوشش خود کرتی نہیں دکھائی دے رہی ہے، یہ ساری کوششیں نریندر مودی کے لیے خود نریندر مودی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی سرکار کے سب سیبہترین دماغ کو انتخاب کے کام میں لگا دیا ہے اور جو بھی ممکن ہو سکتا ہے، اسے وہ انتخابی سمر میں مدد کے لیے تلاش بھی کر رہے ہیں اور پکار بھی رہے ہیں۔ اب کوئی کیا کرے، جب لوگوں کو نریندر مودی کے چہرے یا نریندر مودی کے جسم کی زبان میں ایک سخت اور مغرور شخص نظر آتا ہے۔ عام طور پر نریندر مودی کم مسکراتے ہیں اور اکیلے میں کھل کر زیادہ ہنستے ہیں۔

Read more

سیاست کا یہ نیا طریقہ خطرناک ہے

جن لوگوں سے جان پہچان ہو، ان کے بارے میں کچھ بھی لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن چونکہ کہی ہوئی باتیں اور کیے ہوئے کام سیاست میں ایک روایت قائم کر رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے۔ سیاست میں اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے کئی نئی باتوں کی شروعات کی ہے۔ جو باتیں دوسری سیاسی پارٹیاں پوشیدہ طور پر کرتی تھیں اور جن کی تنقید ہوتی تھی، آج وہ کام عام آدمی پارٹی کے ساتھی کرتے ہیں۔

Read more

آزادی کی جدوجہد چلتی رہے گی

اب لوک سبھا کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا، کیوں کہ لوک سبھا کا آخری اجلاس ختم ہو گیا اور اب نئی لوک سبھا کے الیکشن، یعنی 2014 کے عام انتخابات کی تیاریوں میں سبھی مصروف ہو گئے ہیں۔ اس عظیم لوک سبھا کے اوپر معمولی آدمی کوئی تبصرہ کر ہی نہیں سکتا، کیوں کہ اگر ہم تبصرہ کریں گے، تو یہ مانا جائے گا کہ ہم لوک سبھا کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ حالانکہ، یہی وہ لوک سبھا ہے، جس نے گھوٹالے اجاگر ہونے کا ریکارڈ بنایا اور کسی بھی گھوٹالے کی کوئی جانچ نہیں کی۔ اس جرم میں صرف سرکار نہیں شامل ہے، اس جرم میں پوری لوک سبھا شامل ہے، لوک سبھا میں بیٹھی ہر پارٹی شامل ہے۔

Read more

پارلیمانی جمہوریت کا سب سے شرمناک دن

تیرہ فروری تاریخ میں دو طرح سے یاد کیا جائے گا۔ 13 فروری کو انا ہزارے نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعلان کیا کہ وہ 16 ویں لوک سبھا کے انتخاب میں ممتا بنرجی کو وزیر اعظم بنائے جانے کی حمایت کریں گے اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کے حق میں چناؤ پرچار بھی کریں گے۔ لیکن 13 فروری کو ایک خطرناک کالے دن کے روپ میں بھی یاد کیا جائے گا۔ اسی دن لوک سبھا میں مرچوں کا اسپرے چلا، مارپیٹ ہوئی اور چاقو نکالا گیا۔

Read more

ہندوستانی سیاست ایک نئے دروازے پر کھڑی ہے

میں نے 30 جنوری کو دو ریلیاں دیکھیں۔ ایک ریلی 30 جنوری، 2013 کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہوئی تھی، جس میں انا ہزارے نے اپنا نظام میں تبدیلی کا رخ ملک کے سامنے رکھا تھا۔ اس ریلی میں تقریباً پونے دو لاکھ لوگ آئے تھے اور اس ریلی میں خرچ سات لاکھ روپے کے آس پاس ہوا تھا۔ دوسری ریلی میں نے 30 جنوری، 2014 کو کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں دیکھی۔ تقریباً 20 لاکھ لوگ پریڈ گراؤنڈ کے اندر، 10 لاکھ لوگ پریڈ گراؤنڈ کے آس پاس اور 3 لاکھ سے 4 لاکھ لوگ سڑکوں کے اوپر پریڈ گراؤنڈ کی طرف جھنڈ کے جھنڈ آتے ہوئے، لیکن راستہ نہ مل پانے کی وجہ سے کہیں، تو رینگ رہے تھے۔ یہ دونوں ریلیاں دو عوامی لیڈروں کی تھیں اور یہ ریلیاں بتاتی ہیں کہ لوگ کس طرح سے اپنی پریشانیوں کو لے کر چھٹپٹا رہے ہیں۔

Read more

اروند کیجریوال اپنی یادداشت اوروعدوں کو سنبھالیں

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار ایک امید لے کر آئی تھی، حالانکہ انا ہزارے اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے، ان کی رائے تھی کہ اگر الیکشن لڑنا ہے تو لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تاکہ نظام میں تبدیلی کی صحیح شروعات ہو سکے۔ ان کا ماننا تھا اور آج بھی ماننا ہے کہ پالیسیاں لوک سبھا بناتی ہے، اس لیے لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ لیکن اروِند کجریوال اس سے اختلاف رکھتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے طے کیا کہ وہ پہلے دہلی کا الیکشن لڑیں گے، دہلی اسمبلی میں وہ جیت گئے، تو ملک جیتنا ان کے لیے آسان ہوگا۔ انا ہزارے کا اس میں صرف اتنا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں غلطی ہوتی ہے، ایسے لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں، جو آئڈیالوجی کو نہیں سمجھتے ہیں یا خود اپنے قدموں میں کوئی تضاد ہو جاتا ہے، تو اس سے پورے ملک میں تحریک کو لے کر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا اور یہ مانا جائے گا کہ لوگ ملک میں نظام میں تبدیلی کے لائق نہیں ہیں۔

Read more

انّا کو ابھی بھی کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں

گزشتہ دنوں ایک حیران کن بات ہوئی۔ ایک تحریک سے وابستہ دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ انا ہزارے نے بھسما سُر پیدا کر دیا ہے۔ میں چونکا! میں نے ان سے پوچھا، بھسما سُر! کون؟ تو انہوں نے اروِند کجریوال کا نام لیا اور کہا کہ انا نے تحریک کی حصولیابی کے روپ میں اروِند کجریوال ملک کو دیا۔ میں نے پوچھا، اس میں بھسما سُر والی کیا بات ہوئی، تو انہوں نے جواب دیا کہ اروِند کجریوال اگر صرف انا سے اپنے راستے جدا ہونے کی بات کو سچ ثابت کرتے، تو کوئی بات نہیں تھی، کیوں کہ دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے، لیکن ہمارے راستے الگ ہیں۔ لیکن اروِند کجریوال تو انا کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Read more