آزادی کی جدوجہد چلتی رہے گی

اب لوک سبھا کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا، کیوں کہ لوک سبھا کا آخری اجلاس ختم ہو گیا اور اب نئی لوک سبھا کے الیکشن، یعنی 2014 کے عام انتخابات کی تیاریوں میں سبھی مصروف ہو گئے ہیں۔ اس عظیم لوک سبھا کے اوپر معمولی آدمی کوئی تبصرہ کر ہی نہیں سکتا، کیوں کہ اگر ہم تبصرہ کریں گے، تو یہ مانا جائے گا کہ ہم لوک سبھا کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ حالانکہ، یہی وہ لوک سبھا ہے، جس نے گھوٹالے اجاگر ہونے کا ریکارڈ بنایا اور کسی بھی گھوٹالے کی کوئی جانچ نہیں کی۔ اس جرم میں صرف سرکار نہیں شامل ہے، اس جرم میں پوری لوک سبھا شامل ہے، لوک سبھا میں بیٹھی ہر پارٹی شامل ہے۔

Read more

پارلیمانی جمہوریت کا سب سے شرمناک دن

تیرہ فروری تاریخ میں دو طرح سے یاد کیا جائے گا۔ 13 فروری کو انا ہزارے نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعلان کیا کہ وہ 16 ویں لوک سبھا کے انتخاب میں ممتا بنرجی کو وزیر اعظم بنائے جانے کی حمایت کریں گے اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کے حق میں چناؤ پرچار بھی کریں گے۔ لیکن 13 فروری کو ایک خطرناک کالے دن کے روپ میں بھی یاد کیا جائے گا۔ اسی دن لوک سبھا میں مرچوں کا اسپرے چلا، مارپیٹ ہوئی اور چاقو نکالا گیا۔

Read more

ہندوستانی سیاست ایک نئے دروازے پر کھڑی ہے

میں نے 30 جنوری کو دو ریلیاں دیکھیں۔ ایک ریلی 30 جنوری، 2013 کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہوئی تھی، جس میں انا ہزارے نے اپنا نظام میں تبدیلی کا رخ ملک کے سامنے رکھا تھا۔ اس ریلی میں تقریباً پونے دو لاکھ لوگ آئے تھے اور اس ریلی میں خرچ سات لاکھ روپے کے آس پاس ہوا تھا۔ دوسری ریلی میں نے 30 جنوری، 2014 کو کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں دیکھی۔ تقریباً 20 لاکھ لوگ پریڈ گراؤنڈ کے اندر، 10 لاکھ لوگ پریڈ گراؤنڈ کے آس پاس اور 3 لاکھ سے 4 لاکھ لوگ سڑکوں کے اوپر پریڈ گراؤنڈ کی طرف جھنڈ کے جھنڈ آتے ہوئے، لیکن راستہ نہ مل پانے کی وجہ سے کہیں، تو رینگ رہے تھے۔ یہ دونوں ریلیاں دو عوامی لیڈروں کی تھیں اور یہ ریلیاں بتاتی ہیں کہ لوگ کس طرح سے اپنی پریشانیوں کو لے کر چھٹپٹا رہے ہیں۔

Read more

اروند کیجریوال اپنی یادداشت اوروعدوں کو سنبھالیں

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار ایک امید لے کر آئی تھی، حالانکہ انا ہزارے اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے، ان کی رائے تھی کہ اگر الیکشن لڑنا ہے تو لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تاکہ نظام میں تبدیلی کی صحیح شروعات ہو سکے۔ ان کا ماننا تھا اور آج بھی ماننا ہے کہ پالیسیاں لوک سبھا بناتی ہے، اس لیے لوک سبھا کا الیکشن لڑنا چاہیے۔ لیکن اروِند کجریوال اس سے اختلاف رکھتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے طے کیا کہ وہ پہلے دہلی کا الیکشن لڑیں گے، دہلی اسمبلی میں وہ جیت گئے، تو ملک جیتنا ان کے لیے آسان ہوگا۔ انا ہزارے کا اس میں صرف اتنا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں غلطی ہوتی ہے، ایسے لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں، جو آئڈیالوجی کو نہیں سمجھتے ہیں یا خود اپنے قدموں میں کوئی تضاد ہو جاتا ہے، تو اس سے پورے ملک میں تحریک کو لے کر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا اور یہ مانا جائے گا کہ لوگ ملک میں نظام میں تبدیلی کے لائق نہیں ہیں۔

Read more

انّا کو ابھی بھی کجریوال جیسے پانچ سو افراد پیدا کرنے ہیں

گزشتہ دنوں ایک حیران کن بات ہوئی۔ ایک تحریک سے وابستہ دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ انا ہزارے نے بھسما سُر پیدا کر دیا ہے۔ میں چونکا! میں نے ان سے پوچھا، بھسما سُر! کون؟ تو انہوں نے اروِند کجریوال کا نام لیا اور کہا کہ انا نے تحریک کی حصولیابی کے روپ میں اروِند کجریوال ملک کو دیا۔ میں نے پوچھا، اس میں بھسما سُر والی کیا بات ہوئی، تو انہوں نے جواب دیا کہ اروِند کجریوال اگر صرف انا سے اپنے راستے جدا ہونے کی بات کو سچ ثابت کرتے، تو کوئی بات نہیں تھی، کیوں کہ دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ ہماری منزل ایک ہے، لیکن ہمارے راستے الگ ہیں۔ لیکن اروِند کجریوال تو انا کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Read more

بہار نئے محاذ کی جانب بڑھ رہا ہے

بہار میں ایک نیا سیاسی محاذ بن رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے رام وِلاس پاسوان اور لالو پرساد یادو کی پارٹی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی تھی اور ان کا اتحاد تھا۔ لالو یادو کے جیل جانے کے بعد بھی رام وِلاس پاسوان لالو یادو کے ساتھ کھڑے رہے۔ جیل سے جو بھی لوگ لالو یادو سے مل کر لوٹتے تھے، وہ یہ بتاتے تھے کہ لالو یادو رام ولاس پاسوان کو لے کر بہت مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں یہ لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس کی سیٹوں کے بارے میں شاید پھر سوچنا پڑ سکتا ہے۔ دراصل، گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی تھی، لیکن اس کے امیدواروں نے کچھ جگہوں پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

Read more

اس دور میں محتاط رہنا ضروری ہے

اب اسٹنگ آپریشن کے نئے کرداروں کے بارے میں جانئے۔ میرے پاس ایک فون آتا ہے۔ فون کرنے والا آدمی خود کو اڑیسہ کا انڈسٹری منسٹر بدری پاترا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آدمی کہتا ہے کہ آپ نے انا ہزارے جی کا بہت ساتھ دیا اور انا جی کے انشن کے بعد جس طرح سے لوک پال بل پاس ہوا اور اس میں آپ نے جو رول ادا کیا، اسے لے کر ہم سب آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اس نے پھر دوہرایا کہ نوین جی آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، لوک پال بل تو ممبرانِ پارلیمنٹ کے ذریعے پاس ہوا، اس میں پارلیمنٹ کا رول ہے، میرا کیا رول ہے؟ میں نے کہا، رہی بات نوین پٹنائک جی سے بات کرنے کی، تو اس میں

Read more

انا کے ساتھیوں نے انہیں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

دو ہزار تیرہ گزر گیا۔ 2013 واقعات کا سال رہا اور اس پورے سال میں بدعنوانی کو لے کر نئے نئے معاملے سامنے آئے۔ بدعنوانی کو دبانے کی کوششیں ہوئیں۔ عوام کا جوش ختم ہوا اور اس کی جڑ میں جو لوگ تھے، انہوں نے اس کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔
میں سال کے واقعات کے تاریخ وار تجزیہ میں نہیں جانا چاہتا، کیوں کہ اس کا تجزیہ سارے اخبار کریں گے۔ میں صرف 2013 کی شروعات میں 30 جنوری کو پٹنہ میں ہوئی انا ہزارے کی ریلی کی طرف جانا چاہتا ہوں۔ 2011 میں انا ہزارے نے اگست میں اَنشن کیا اور وہ اَنشن کے بعد رالے گن سدھی واپس آ گئے۔ اُس اَنشن کے بعد انا ہزارے کے ساتھیوں کی کئی میٹنگیں ہوئیں اور انا کو لگا کہ ان کے ساتھیوں کا ارادہ کچھ اور ہے۔ ان کے ساتھی شروع سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے ہماچل میں ایک سروے کرایا گیا اور

Read more

انا کا قد میڈیا سے بہت بڑا ہے

شاید میڈیا کے لیے انا ہزارے اب فروخت ہونے والی چیز نہیں رہے۔ انا ہزارے سے زیادہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں فروخت ہونے والی چیز ہیں۔ میڈیا یہ مانتا ہے کہ آسا رام باپو اور نارائن سائیں کی سیکس کہانیاں لوگ زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی بیچ میں ترون تیج پال آگئے اور میڈیا کے لوگوں کو ان کی سیکس کہانیاں دکھانے اور لکھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا۔ اب کوئی سوال پوچھے، تو کیسے پوچھے کہ ایک لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی وجہ سے کیا ان کی ساری صحافت خارج کر دی جائے؟ میڈیا کے ہمارے ساتھی بھی کھیل کرتے ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں جنسی چھیڑ چھاڑ، عصمت دری اور ریپ کے ایک معنی ہیں۔ لفظی چھیڑ چھاڑ، بدسلوکی اور جسمانی چھیڑ چھاڑ کے ایک اور معنی ہیں۔ لیکن پورے میڈیا نے

Read more

ہم سوئیں گے یا ایک نئی صبح کا آغاز کریں گے؟

شاید یہی الیکشن کا جادو ہے۔ ہمارے ملک کے لوگ کسی بھی الیکشن میں، چاہے وہ کارپوریشن کا الیکشن ہو، اسمبلی کا الیکشن ہو یا ملک کا الیکشن ہو، تماشہ دیکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ عجوبہ کی طرح لیڈروں کی تقریر سنتے ہیں اور تقریریں سن کر کوئی سوال نہیں اٹھاتے ہیں۔ وہ یہ بھی دھیان نہیں دیتے کہ جو سوال کارپوریشن کے الیکشن میں اٹھانے چاہئیں، وہ اسمبلیوں میں کیوں اٹھاتے ہیں، ان کے وعدے اسمبلیوں میں کیسے ہوتے ہیں؟ اور جن سوالوں کوپارلیمنٹ کے انتخابات میں اٹھانا چاہیے، ان سوالوں کو اسمبلیوں کے ذریعے کیسے حل کیا

Read more