اندھی قوم پرستی سے بڑھ رہا ہے جمہوریت کے لیے خطرہ

چاہے کوئی بھی موضوع ہو، ملک کا ایک چھوٹا لیکن خطرناک طبقہ فیس بک کا سہارا لے کر نفرت پھیلانے کا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ ہر چیز مصنوعی قوم پرستی(سوڈو نیشنلزم ) سے جوڑی جارہی ہے اور ملک کے لوگوں میں ہندو مسلمان کے بیچ بٹوارہ کرنے ، نفرت پھیلانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ چھوٹا گروپ اندھ راشٹرواد (اندھی قوم پرستی) کے حق میں ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ویسے ہی مسلم برادری کا ایک چھوٹا طبقہ ٹھیک ویسی ہی حرکتیں کر رہا ہے۔ نہ ہندو اور نہ مسلم سماج ان واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور نہ فکرمند ہورہا ہے، لیکن ملک ایک خطرناک دہانے کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Read more

کشمیریوں کو بھی اپنا سمجھئے

کشمیر کے بارے میں کچھ بھی کہنا حب الوطنی یا وطن سے غداری کا موضوع بن جاتا ہے۔ کشمیر میں اگر بد امنی یا اس سے جڑی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تو انہیں فوری طور پر اسپانسرڈ سرگرمیاں مان لیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ صاف ماننا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اگر ہم کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں، تب ہمیں کشمیر کے لوگوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے، جیسا ہم پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور بہار کے لوگوں سے کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ سال میں ملک کے دماغ میں کچھ لوگوں نے یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو صرف بندوق کے بل پر اپنے قبضے میں کیا جاسکتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بندوق کے بل پر ہی ملک کے باشندوں پر راج کرنا ہے، تو کیا ہم جمہوریت، نظریہ، بات چیت اور افہام و تفہیم کا صرف ڈرامہ کررہے ہیں؟

Read more

پنجاب انتخاب نشے کے خلاف عوام کا اعلان جنگ ہے

ملک ان دنوں مزیدار حالات سے گزر رہا ہے۔ دلی کے وزیر اعلیٰ اروندکجریوال کے چیف سیکریٹری راجندر کمار کو سی بی آئی نے گرفتارکر لیا ہے۔ جب شیلا دکشت دلی کی وزیراعلیٰ تھیں، تب ان کے خلاف شکایت درج ہوئی تھی، جس پر اب جا کر سی بی آئی نے کارروائی کی ہے۔ دلی حکومت کا سارا کام مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر چاہیں، تب بھی کسی عہدیدار کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک جوائنٹ سکریٹری ،جو وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتا ہے ،وہ دلی کے وزیر اعلیٰ کے سبھی فیصلوں کو بدل سکتا ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ اگر مرکزی

Read more

اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

اتر پردیش میں سیاسی ہلچل کافی تیز ہے ۔سماج وادی پارٹی میں گھر کا جھگڑا سڑک پر آگیا ہے۔ ایسے میں اکھلیش یادو کو نظمیں یاد آنے لگی ہیں۔اسی بیچ انہوں نے عام اسٹیج سے مہدی حسن کی غزل کی ایک لائن بھی سنا ڈالی کہ محبت میں جدائی کا بھی بہت مقام ہے۔کس سے جدائی کا؟شاید اپنے سگے چچا شیو پال سنگھ یاددو سے جدائی کا۔گھریلو تنائو بھی ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں، جن کی مثال دیتے ہوئے من ہچکچاتا ہے۔اکھلیش یادو کا بچپن اور جوانی کے ابتدائی دن جب وہ پڑھائی کررہے تھے، شیو پال سنگھ یاد وکے گھر پر ہی زیادہ گزرا۔ ان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ شیو پال سنگھ یادو کے گھر پر خاص کر ان کی بیوی اور بچوں سے اکھلیش یادو کا بہت زیادہ اپنا پن تھا،لیکن وزیر اعلیٰ بننے کے بعد دونوں کے گھروں کی دوری ،جو سو گز کے آس پاس رہی ہوگی، بڑھتے بڑھتے سو کلو میٹر میں تبدیل ہو گئی۔

Read more

چونکانے والاہوگا اتر پردیش کاانتخاب

اتر پردیش اسمبلی کے انتخاب سر پرہیں۔ دسمبر میں انتخاب ہونے کی امید ہے۔ اتر پردیش میں اندازے کے خلاف سیاسی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں اس طرح کی ہلچل ہوگی، جو لوگوں کو چونکا دے گی۔

Read more

کانگریس کے لئے کرو یا مرو کی حالت ہے

کانگریس ملک میں مضبوط اپوزیشن کا کردار نبھا سکتی ہے، لیکن پتہ نہیں وہ کون سا کمزور نقطہ ہے یا کمزور نس ہے،جس کی وجہ سے کانگریس مضبوط اپوزیشن پارٹی کا کردار نہیں نبھا نا چاہتی۔ راہل گاندھی پر کانگریس کی قیادت کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ ان دنوں پھر ملک سے باہر ہیں۔کہا جارہا ہے کہ وہ چھٹی منانے کے لئے باہر گئے ہیں۔وہ کام پر کب ہوتے ہیں، اس سوال کا کبھی جواب نہیں ملتا۔ کام پر ہونے کا مطلب کانگریس پارٹی کو تنظیمی طور پر مضبوط کرنا،کارکنوں میں جذبہ پیدا کرنا اور انتخاب جیتنے کے لئے جس جنون کی ضرورت ہوتی ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ کم سے کم راہل گاندھی اس کام پر لگے تو نہیں دکھائی دیتے ہیں۔

Read more

راجیہ سبھا کواس کے پرانے روپ میں لوٹانا ضروری ہے

راجیہ سبھا کے انتخاب اختتام پذیر ہوگئے، لیکن راجیہ سبھا کے انتخابات کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ راجیہ سبھا زیادہ تر ان لوگوں کا بسیرا بن گئی ہے، جو سرکار سے کام نکلوانے میں ماہر ہیں۔ ان لوگوں کے لےے بھی اڈّا بن گئی ہے، جن کے پاس بے پناہ کالا دھن ہے اور جو اپنے لےے ’سمّان‘ خریدنا، راجیہ سبھا کے ممبرکا سماّن، بہت بڑی بات مانتے ہیں۔ راجیہ سبھا کی سیٹیں ، سنتے ہیں کہ کافی دولت لے کر لوگوں کو دی جاتی ہےں۔ پہلے یہ دولت پارٹی کے کھاتے میںجاتی تھی، اب یہ دولت پارٹی کے لیڈروں کے ذاتی کھاتوں میںجاتی ہے۔

Read more

پرچار نہیں عوام کے سپنے پورے کیجئے

مودی سرکار کے دو سال پورے ہو گئے ہیں۔ دو سال پورے ہونے پر جشن منانے کی ایک روایت بھی ہے اور مرکز میں پہلی بار مودی کی قیادت میں بنی حکومت کا جوش بھی ہے۔ ہم بھی اس جشن میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ شاید ملک کا ہر شخص اس جشن میں شامل ہونا چاہتا ہے، لیکن جشن میں شامل ہونے کے حالات موافق نہیں دکھائی دے رہے ہیں اور یہ حالات ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں۔

Read more

اپوزیشن کا کمزور ہونا جمہوریت کے لیے تشویشناک

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج ہمارے سامنے ہیں اور اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور تمام ٹی وی چینل یہ کہتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت فائدہ ہوا ہے اور آنے والے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی بہت بہتر نتیجے دکھائے گی۔

Read more

وزیر اعظم جی، اپنی اسکیموں کا تجزیہ کیجئے

اعظم جی سے کیسے گزارش کی جائے تاکہ انہیں یہ سمجھ میں آئے کہ وہ 125 کروڑ لوگوں کے وزیر اعظم ہیں۔ میں ابھی یہ سوال نہیں اٹھانا چاہتا،کیونکہ یہ سوال اپنے آپ میں اتنا بڑا ہے کہ انہیں شاید خود سیکھ دے گا کہ وہ جتنی اسکیموں کا اعلان کررہے ہیں، ان اسکیموں کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے۔ بغیر مکمل سوچ کے، بغیر اس کے منطقی تجزیہ کے 50 سے زیادہ اسکیمیں گزشتہ دو سالوں میں شروع کی گئیں۔ ان کا انجام کیا ہوا؟ یہ جانکاری سرکار کے سامنے اگر سرکاری آفیسر نہیں رکھ رہے ہیں یا وزیر اعظم کے سامنے ان کے سکریٹری نہیں رکھ رہے ہیں، تو پھر اس میں کس کا قصور ہے۔ زمین پر کہیں پر بھی ان اسکیموں کا نتیجہ نکلتا نہیں

Read more