انصاف کا نظام ناانصافی کا نظام بن گیا ہے

سپریم کورٹ کی شبیہ ملک میںسب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ انصاف پسند اور عوام کے حقوق کے واحد آخری محافظ کے طور پر بن گئی ہے۔ ہندوستان کے وہ لوگ جو دولت، ڈنڈے اور دماغ سے قوت والے ہیں، ان کے لیے سپریم کورٹ ان کے مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان دونوں شبیہوں کو دیکھنے کے بعد جب سپریم کورٹ کی اصلی تصویر پر نظر جاتی ہے، تو جی گھبرا جاتا ہے۔ کیونکہ وہاںسپریم کورٹ کا سپریم جج سرکار کے سامنے گڑگڑاتا ہے، سرکار سے انکساری، لیکن سخت الفاظ میں اپنا درد بیان کرتا ہے اور سرکار اس کا نوٹس ہی نہیں لیتی، اس پر کوئی ردعمل ہی نہیں دیتی۔ ہم اپنا درد اس لیے بیان کررہے ہیں کہ تاکہ سپریم کورٹ کو بھی سمجھ میںآئے کہ اس سے بھی کہیں اگر چوک ہوتی ہے، تب اس کے مہلک اثرات سب سے زیادہ اس ملک کے عام لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اب بھی آخری امید کے طور پرسپریم کورٹ کی طرف ٹکٹکی لگاکر دیکھتے ہیں، ویسے ہی جیسے سورج کی طرف کوئی ننگی آنکھوں سے دیکھے۔ کم سے کم سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ سورج کی طرح اس کی طرف ننگی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو اندھا کرنے کا کام نہ کرے۔ سورج کی طرح سپریم کورٹ میںبھی جلال ہے، لیکن سپریم کورٹ کا جلال ہندوستان کے عوام کی تاریکی دور کرنے کے کام آسکتا ہے۔

Read more

کچھ صحافی ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں

کچھ اخبار اور کچھ لوگ ملک کے خلاف سازش کرنے والی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کی مدد بھی کررہے ہیں۔ انوسٹی گیٹیو جرنلزم کا جنہیں ’’اے ‘‘ بھی نہیں آتا، وہ ملک مخالف طاقتوں یا ہتھیاروں کے دلالوں سے اطلاعات لے کر اپنے کو کھوجی صحافی کہلا رہے ہیں۔

Read more

اتر پردیش :نفرت کی تجربہ گاہ

اترپردیش کا اانتخاب مستقبل میں کس طر ح کی تجربہ گاہ بنے گا، اسے لے کر فکر ہورہی ہے۔ اتر پردیش میںملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے۔ ماناجاتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو بنیادی طور پر ڈاکٹرلوہیا کے آدرشوں میںیقین رکھتے ہیں۔ وہاں کی دوسری بڑی پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی مکھیا مایا وتی ڈاکٹر امبیڈکر کے اصولوں میں یقین رکھتی ہیں ۔ ان دونوں کے نظریات میںبنیادی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن اختلاف اتنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو رسمی طور پر’ نمسکار ‘ بھی نہیںکرتے اور آنکھیں بھی نہیں ملاتے۔

Read more

خاموشی میں چھپی چیخ سن سکیں گے وزیر اعظم

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کئی معلومات دے گیا۔پتہ چلا کہ حکمراں پارٹی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اتناگہرا سناٹا کہ سیاسی ماہرین کواب بے چینی ہونے لگی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میںجتنے بھی بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ سے بات چیت ہوئی،وہ سبھی خاموش نظر آئے۔جتنے وزیروںسے ملاقات ہوئی، وہ سبھی خاموش دکھائی دیے۔ اس خاموشی کی وجہ جاننے کے لیے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے غیر پارلیمانی لیڈروں سے بات چیت ہوئی، تووہ بھی خاموش ملے اور ایک طنزیہ مسکراہٹ پھینکتے دکھائی دیے۔

Read more

ہمیں کشمیر یوں کی بات دردمندی اور دھیان سے سننی چاہئے

مارے ملک کی سیاست یا تو کنفیوژ ہو گئی ہے یا پھر غیر حساس ہو گئی ہے۔ کشمیر میں لوگ غیر مطمئن ہیں،سڑکوں پر ہیں، کرفیو لگا ہوا ہے۔ عام لوگوں کے گھروں میں راشن کی، دودھ کی، پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے،لیکن ہندوستانی سیاست کی زمین کا کوئی بھی آدمی کشمیر جانے کی ہمت نہیں دکھا پارہا ہے یا کشمیر نہیں جانا چاہتا ہے۔ کشمیر کے علاوہ سارے ملک میں ایسی نفسیات پیدا ہو گئی ہے گویا کہ پورے سری نگر میں رہنے والے لوگ ، دوسرے معنی میں کشمیر میں رہنے والے لوگ ہند مخالف ہیں، اور ان سے کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے صرف بات فوج کے

Read more

اندھی قوم پرستی سے بڑھ رہا ہے جمہوریت کے لیے خطرہ

چاہے کوئی بھی موضوع ہو، ملک کا ایک چھوٹا لیکن خطرناک طبقہ فیس بک کا سہارا لے کر نفرت پھیلانے کا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ ہر چیز مصنوعی قوم پرستی(سوڈو نیشنلزم ) سے جوڑی جارہی ہے اور ملک کے لوگوں میں ہندو مسلمان کے بیچ بٹوارہ کرنے ، نفرت پھیلانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ چھوٹا گروپ اندھ راشٹرواد (اندھی قوم پرستی) کے حق میں ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ویسے ہی مسلم برادری کا ایک چھوٹا طبقہ ٹھیک ویسی ہی حرکتیں کر رہا ہے۔ نہ ہندو اور نہ مسلم سماج ان واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور نہ فکرمند ہورہا ہے، لیکن ملک ایک خطرناک دہانے کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Read more

کشمیریوں کو بھی اپنا سمجھئے

کشمیر کے بارے میں کچھ بھی کہنا حب الوطنی یا وطن سے غداری کا موضوع بن جاتا ہے۔ کشمیر میں اگر بد امنی یا اس سے جڑی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تو انہیں فوری طور پر اسپانسرڈ سرگرمیاں مان لیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ صاف ماننا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اگر ہم کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں، تب ہمیں کشمیر کے لوگوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے، جیسا ہم پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور بہار کے لوگوں سے کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ سال میں ملک کے دماغ میں کچھ لوگوں نے یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو صرف بندوق کے بل پر اپنے قبضے میں کیا جاسکتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بندوق کے بل پر ہی ملک کے باشندوں پر راج کرنا ہے، تو کیا ہم جمہوریت، نظریہ، بات چیت اور افہام و تفہیم کا صرف ڈرامہ کررہے ہیں؟

Read more

پنجاب انتخاب نشے کے خلاف عوام کا اعلان جنگ ہے

ملک ان دنوں مزیدار حالات سے گزر رہا ہے۔ دلی کے وزیر اعلیٰ اروندکجریوال کے چیف سیکریٹری راجندر کمار کو سی بی آئی نے گرفتارکر لیا ہے۔ جب شیلا دکشت دلی کی وزیراعلیٰ تھیں، تب ان کے خلاف شکایت درج ہوئی تھی، جس پر اب جا کر سی بی آئی نے کارروائی کی ہے۔ دلی حکومت کا سارا کام مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر چاہیں، تب بھی کسی عہدیدار کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک جوائنٹ سکریٹری ،جو وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتا ہے ،وہ دلی کے وزیر اعلیٰ کے سبھی فیصلوں کو بدل سکتا ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ اگر مرکزی

Read more

اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

اتر پردیش میں سیاسی ہلچل کافی تیز ہے ۔سماج وادی پارٹی میں گھر کا جھگڑا سڑک پر آگیا ہے۔ ایسے میں اکھلیش یادو کو نظمیں یاد آنے لگی ہیں۔اسی بیچ انہوں نے عام اسٹیج سے مہدی حسن کی غزل کی ایک لائن بھی سنا ڈالی کہ محبت میں جدائی کا بھی بہت مقام ہے۔کس سے جدائی کا؟شاید اپنے سگے چچا شیو پال سنگھ یاددو سے جدائی کا۔گھریلو تنائو بھی ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں، جن کی مثال دیتے ہوئے من ہچکچاتا ہے۔اکھلیش یادو کا بچپن اور جوانی کے ابتدائی دن جب وہ پڑھائی کررہے تھے، شیو پال سنگھ یاد وکے گھر پر ہی زیادہ گزرا۔ ان کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ شیو پال سنگھ یادو کے گھر پر خاص کر ان کی بیوی اور بچوں سے اکھلیش یادو کا بہت زیادہ اپنا پن تھا،لیکن وزیر اعلیٰ بننے کے بعد دونوں کے گھروں کی دوری ،جو سو گز کے آس پاس رہی ہوگی، بڑھتے بڑھتے سو کلو میٹر میں تبدیل ہو گئی۔

Read more

چونکانے والاہوگا اتر پردیش کاانتخاب

اتر پردیش اسمبلی کے انتخاب سر پرہیں۔ دسمبر میں انتخاب ہونے کی امید ہے۔ اتر پردیش میں اندازے کے خلاف سیاسی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں اس طرح کی ہلچل ہوگی، جو لوگوں کو چونکا دے گی۔

Read more