میڈیا پاکستان کے لئے دانشورانہ دلالی کررہا ہے

آپ کے لئے سری نگر سے ایک تجربہ لے کر آیا ہوں۔ آپ میں سے بہت سارے لوگ سری نگر نہیں گئے ہوں گے اور جو گئے ہوں ،وہ 80 دن پہلے گئے ہوں گے۔ گزشتہ 80 دنوں سے کشمیر میں جو ہو رہا ہے، وہ ایک المناک ،خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔آپ اپنے گھر میں خود کو بند کر لیں اور چار دنوں تک گھر سے باہر نہ نکلیں، آپ کو کیسا لگے گا۔ چار دن میں لگنے لگے گا کہ آپ جیل میں بند ہیں اور آپ کو باہر کی ہوا کھانی ہے۔ اب آپ سوچئے کہ تقریباً60 لاکھ لوگ گزشتہ 80دنوں سے اپنے گھروں میں بند ہیں،انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔انہیں سامان خریدنے بازار جانا ہو، تو جان ہتھیلی پر لے کر جانا ہوتا ہے۔ انہیں اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو جان گنوانے کے ڈر کے ساتھ جانا پڑتا ہے اور ہم صرف چار دن اگر گھر میں بند رہ جائیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہوگیا۔

Read more

بارش سالانہ لوٹ کا بسنت تیوہار ہے

بارش کیا ہوئیپورے ملک کا ایک جیسا حال ہوگیا۔ سرکار چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو، کانگریس کی ہو، سماجوادی پارٹی کی ہو یا جنتا دل یونائیٹڈ کی، ایک سیکنڈ میںسب کے چہرے پر لگا ہوا رنگ دھل گیا اورسب ایک جیسے نظر آنے لگے۔ لاپرواہ، بے فکر، کمیشن کھانے والوں کے سرپرست، جو نام دینا چاہیں، آپ دے دیں۔دہلی کی بات کریں، تو یہاںمرکزی سرکار ہے۔ ملک کی راجدھانی ہے۔ یہاں ایک ریاستی سرکار بھی ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، دہلی تھم جاتی ہے۔یہی حال دیگر ریاستوںکی راجدھانیوں کا بھی ہے۔ دو گھنٹے کی بارش

Read more

انصاف کا نظام ناانصافی کا نظام بن گیا ہے

سپریم کورٹ کی شبیہ ملک میںسب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ انصاف پسند اور عوام کے حقوق کے واحد آخری محافظ کے طور پر بن گئی ہے۔ ہندوستان کے وہ لوگ جو دولت، ڈنڈے اور دماغ سے قوت والے ہیں، ان کے لیے سپریم کورٹ ان کے مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان دونوں شبیہوں کو دیکھنے کے بعد جب سپریم کورٹ کی اصلی تصویر پر نظر جاتی ہے، تو جی گھبرا جاتا ہے۔ کیونکہ وہاںسپریم کورٹ کا سپریم جج سرکار کے سامنے گڑگڑاتا ہے، سرکار سے انکساری، لیکن سخت الفاظ میں اپنا درد بیان کرتا ہے اور سرکار اس کا نوٹس ہی نہیں لیتی، اس پر کوئی ردعمل ہی نہیں دیتی۔ ہم اپنا درد اس لیے بیان کررہے ہیں کہ تاکہ سپریم کورٹ کو بھی سمجھ میںآئے کہ اس سے بھی کہیں اگر چوک ہوتی ہے، تب اس کے مہلک اثرات سب سے زیادہ اس ملک کے عام لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اب بھی آخری امید کے طور پرسپریم کورٹ کی طرف ٹکٹکی لگاکر دیکھتے ہیں، ویسے ہی جیسے سورج کی طرف کوئی ننگی آنکھوں سے دیکھے۔ کم سے کم سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ سورج کی طرح اس کی طرف ننگی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو اندھا کرنے کا کام نہ کرے۔ سورج کی طرح سپریم کورٹ میںبھی جلال ہے، لیکن سپریم کورٹ کا جلال ہندوستان کے عوام کی تاریکی دور کرنے کے کام آسکتا ہے۔

Read more

کچھ صحافی ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں

کچھ اخبار اور کچھ لوگ ملک کے خلاف سازش کرنے والی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کی مدد بھی کررہے ہیں۔ انوسٹی گیٹیو جرنلزم کا جنہیں ’’اے ‘‘ بھی نہیں آتا، وہ ملک مخالف طاقتوں یا ہتھیاروں کے دلالوں سے اطلاعات لے کر اپنے کو کھوجی صحافی کہلا رہے ہیں۔

Read more

اتر پردیش :نفرت کی تجربہ گاہ

اترپردیش کا اانتخاب مستقبل میں کس طر ح کی تجربہ گاہ بنے گا، اسے لے کر فکر ہورہی ہے۔ اتر پردیش میںملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے۔ ماناجاتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو بنیادی طور پر ڈاکٹرلوہیا کے آدرشوں میںیقین رکھتے ہیں۔ وہاں کی دوسری بڑی پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی مکھیا مایا وتی ڈاکٹر امبیڈکر کے اصولوں میں یقین رکھتی ہیں ۔ ان دونوں کے نظریات میںبنیادی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن اختلاف اتنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو رسمی طور پر’ نمسکار ‘ بھی نہیںکرتے اور آنکھیں بھی نہیں ملاتے۔

Read more

خاموشی میں چھپی چیخ سن سکیں گے وزیر اعظم

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کئی معلومات دے گیا۔پتہ چلا کہ حکمراں پارٹی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اتناگہرا سناٹا کہ سیاسی ماہرین کواب بے چینی ہونے لگی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میںجتنے بھی بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ سے بات چیت ہوئی،وہ سبھی خاموش نظر آئے۔جتنے وزیروںسے ملاقات ہوئی، وہ سبھی خاموش دکھائی دیے۔ اس خاموشی کی وجہ جاننے کے لیے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے غیر پارلیمانی لیڈروں سے بات چیت ہوئی، تووہ بھی خاموش ملے اور ایک طنزیہ مسکراہٹ پھینکتے دکھائی دیے۔

Read more

ہمیں کشمیر یوں کی بات دردمندی اور دھیان سے سننی چاہئے

مارے ملک کی سیاست یا تو کنفیوژ ہو گئی ہے یا پھر غیر حساس ہو گئی ہے۔ کشمیر میں لوگ غیر مطمئن ہیں،سڑکوں پر ہیں، کرفیو لگا ہوا ہے۔ عام لوگوں کے گھروں میں راشن کی، دودھ کی، پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے،لیکن ہندوستانی سیاست کی زمین کا کوئی بھی آدمی کشمیر جانے کی ہمت نہیں دکھا پارہا ہے یا کشمیر نہیں جانا چاہتا ہے۔ کشمیر کے علاوہ سارے ملک میں ایسی نفسیات پیدا ہو گئی ہے گویا کہ پورے سری نگر میں رہنے والے لوگ ، دوسرے معنی میں کشمیر میں رہنے والے لوگ ہند مخالف ہیں، اور ان سے کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے صرف بات فوج کے

Read more

اندھی قوم پرستی سے بڑھ رہا ہے جمہوریت کے لیے خطرہ

چاہے کوئی بھی موضوع ہو، ملک کا ایک چھوٹا لیکن خطرناک طبقہ فیس بک کا سہارا لے کر نفرت پھیلانے کا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ ہر چیز مصنوعی قوم پرستی(سوڈو نیشنلزم ) سے جوڑی جارہی ہے اور ملک کے لوگوں میں ہندو مسلمان کے بیچ بٹوارہ کرنے ، نفرت پھیلانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ چھوٹا گروپ اندھ راشٹرواد (اندھی قوم پرستی) کے حق میں ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ویسے ہی مسلم برادری کا ایک چھوٹا طبقہ ٹھیک ویسی ہی حرکتیں کر رہا ہے۔ نہ ہندو اور نہ مسلم سماج ان واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور نہ فکرمند ہورہا ہے، لیکن ملک ایک خطرناک دہانے کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Read more

کشمیریوں کو بھی اپنا سمجھئے

کشمیر کے بارے میں کچھ بھی کہنا حب الوطنی یا وطن سے غداری کا موضوع بن جاتا ہے۔ کشمیر میں اگر بد امنی یا اس سے جڑی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تو انہیں فوری طور پر اسپانسرڈ سرگرمیاں مان لیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ صاف ماننا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اگر ہم کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں، تب ہمیں کشمیر کے لوگوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے، جیسا ہم پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور بہار کے لوگوں سے کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ سال میں ملک کے دماغ میں کچھ لوگوں نے یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو صرف بندوق کے بل پر اپنے قبضے میں کیا جاسکتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بندوق کے بل پر ہی ملک کے باشندوں پر راج کرنا ہے، تو کیا ہم جمہوریت، نظریہ، بات چیت اور افہام و تفہیم کا صرف ڈرامہ کررہے ہیں؟

Read more

پنجاب انتخاب نشے کے خلاف عوام کا اعلان جنگ ہے

ملک ان دنوں مزیدار حالات سے گزر رہا ہے۔ دلی کے وزیر اعلیٰ اروندکجریوال کے چیف سیکریٹری راجندر کمار کو سی بی آئی نے گرفتارکر لیا ہے۔ جب شیلا دکشت دلی کی وزیراعلیٰ تھیں، تب ان کے خلاف شکایت درج ہوئی تھی، جس پر اب جا کر سی بی آئی نے کارروائی کی ہے۔ دلی حکومت کا سارا کام مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر چاہیں، تب بھی کسی عہدیدار کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک جوائنٹ سکریٹری ،جو وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتا ہے ،وہ دلی کے وزیر اعلیٰ کے سبھی فیصلوں کو بدل سکتا ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ اگر مرکزی

Read more