کشمیر کے 6 حصے کو ملا کر بات چیت ہو

کشمیر کا ایک سب سے بڑا پینچ کشمیر کے بارے میں، کشمیر کے علاوہ ہندوستان کے لوگوں کو جانکاریاں بہت کم ہیں۔جو کشمیر جاتے ہیں، وہ شکارے میں بیٹھنے، کشمیر کے حسن کو دیکھنے، وہاں گھومنے، سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں۔ کشمیر میں کیاہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ کیسے جی رہے ہیں، کشمیر کے لیڈروں کی سچائی کیا ہے،یہ سب وہ نہیں جاننا چاہتے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ دوسری طرف، پورے ہندوستان میں کشمیر کو لے کر ایک عام رائے بنی ہوئی ہے کہ کشمیرمیں آرٹیکل 370 ختم ہونی چاہئے اورآرٹیکل 370 ختم ہوتے ہی کشمیر ہمارا لازمی حصہ بن جائے گا۔ آرٹیکل 370 کو وہ کشمیر کے آندولن کی وجہ مانتے ہیں۔

Read more

ناقابل فہم ہیں سماجوادی پارٹی میں ہورہے واقعات

ملک کی سیاست کے مستقبل کا دیدار تقریباً ہر ریاست میں ہورہا ہے۔ گجرات ، مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار میں ہورہا ہے اور اب اترپردیش ایک نئے طرح کی تاریخ کا چشم دید گواہ بننے جارہا ہے۔ ہم سنتے تھے کہ اقتدار، پیسہ، شہرت اور مستقبل میںسب کچھ اپنے ارد گرد رکھنے کی چاہ، اچھے اچھے رشتوں کو توڑ دیتی ہے۔ تاریخ میںایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں، جب بیٹے نے باپ کو قید میں ڈالا، بھائی نے بھائی کا قتل کیا، عمرقید کی سزادی، لیکن یہ دورسب سے اوپر ، بادشاہوں اورراجاؤں کے زمانے میںہوا کرتا تھا، لیکن یہ جمہوری نظام میں اسمضحکہ خیز ڈھنگ کے ساتھ دکھائی دے گا، ایسا اندازہ نہیں تھا۔

Read more

وزیر اعظم صاحب، آپ کو کشمیر جاکر کشمیریوں سے ملنا چاہئے

ہمارا ملک عظیم ملک ہے۔ اس ملک میں بڑی تعداد میں ہندو رہتے ہیں، پوجا پاٹ کرتے ہیں، پتھروںمیں بھگوان کا درشن کرتے ہیں، پیڑوں کو پانی دیتے ہیں، پودوں کی پوجا کرتے ہیں، چاند و سورج کو اردھیہ دیتے ہیں۔ ان سے اپنی خوشحال اور خوشگوار زندگی کی خواہش کرتے ہیں، لیکن انسانوں کو بھول جاتے ہیں۔ اس ملک کے 124 کروڑ لوگوں کو یاد نہیں آتا کہ ہمارے ہی بھائی گزشتہ 99 دنوں سے بغیر کام و کاج ، بغیر دوائی، بغیر علاج بے روزگار بیٹھے ہیں۔ ہمارے ہی ملک کے ایک بڑے حصے میں گزشتہ 99دنوں سے اسکول و کالج بند ہیں۔ پڑھائی ٹھپ ہے۔لیکن 124 کروڑ لوگ، جن کا مذہب میں پکا یقین ہے اور جو چیونٹی کو بھی مارنا گناہ سمجھتے ہیں ، وہ منہ سلے ہوئے، آنکھیں بند کئے ہوئے اس صورت حال کی اندیکھی کررہے ہیں۔ یہ کم سے کم ایک بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم 124کروڑ لوگوں نے ،’میں کشمیر کی 60لاکھ آبادی کو الگ کررہا ہوں اس لئے 124کروڑ لوگ کہتاہوں‘، کبھی بھی کشمیر کے لوگوں کو ہندوستان کا ناقابل تقسیم حصہ سمجھا ہی نہیں۔ ہم نے کبھی ان کا وہ درد محسوس نہیں کیا جو دردانہیں سسٹم سے ملتا رہا ہے۔ہم نے ان کے آنسوئوں کو اپنے آنسوئوں سے الگ رکھا۔ ہم نے ان کے اور اپنے درد کو ایک جیسا مانا ہی نہیں۔ ایسا لگا جیسا ہمارا خون لال ہے اور ان کا خون کسی اور رنگ کا ہے۔یہیں پر پوجا پاٹ ، مذہب، پیار و محبت ، عقیدہ، انسانیت ان سب کے اوپر شبہ پیدا ہوجاتا ہے۔

Read more

اس پہیلی کا ملک جواب جاننا چاہتا ہے

مجھے کسی دوست نے سوال بھیجے ہیں، سوال کیا، بلکہ پہیلی بھیجے ہیں۔ میں اس پہیلی کا جواب نہیں تلاش کر پارہا ہوں اور مجھے اس میں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ مدد اس لئے چاہئے تاکہ آپ اپنے دماغ کا استعمال کر کے میرے جیسے لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ اس کا کوئی جواب ہے بھی یا نہیں یا آپ کے دماغ کا وہ گوشہ جو کہ سویا ہوا ہے، اس کا جواب تلاش کر پاتاہے یا نہیں۔ پہیلی شروع ہوتی ہے اڑی حملے سے کہ کیا اڑی حملے کے پردے کے پیچھے ہندوستانی سرکار کے ایک قوی آدمی نے ایک صنعتکار کو اور بڑا صنعتکار بنانے کے لئے خزانہ کھول دیا ۔ 59 ہزار کروڑ روپے کا سودہ چپکے سے کس صنعتکار کی جھولی میں ڈال دیا گیا؟

Read more

گیلانی صاحب، آپ کا یہ بیان افسوسناک ہے

آج ایک عجیب سا سوال دماغ میں گھوم رہا ہے۔ کیا ہم اپنی مانگوںکی حمایت میں اتنی دور چلے جائیں کہ کب ہم نے سرحد کی حدیں پار کرلیں، یہ یاد ہی نہ رہے۔ کشمیر میں درد ہے، دکھ ہے، تکلیف ہے اور آزادی کے بعد یا کشمیر کے ہندوستان میں الحاق کے شرط نامے پر دستخط کے بعد سے جو غصہ ہے ، اس غصے کو ظاہر کرنے کے لئے جمہوری طریقے اپنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سرکار نہ سنے، اسے سنانے کے لئے بچوں کے ہاتھ میں پتھر ہو، اس سے بھی سمجھا جاسکتا ہے،لیکن یہ بات بالکل سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگر کوئی تکرار ہوتی ہے، اس تکرار میں اگر پاکستانی فوجیوں کی موت ہوتی ہے تو ان فوجیوں کے لئے نماز جنازہ پڑھنے کی اپیل کی جائے۔جموں و کشمیر میں حریت کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے یہ اپیل کر کے ان سبھی لوگوں کے سامنے ایک سوال کھڑا کر دیا، جو کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے سرکار یا عوام کے سامنے کشمیر کی صحیح صورت حال رکھنا چاہتے ہیں۔ تقریباً ایسی حالت بنی ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے ذرائع کا ایک سرا پاکستان میں نظر آتا ہے۔ ہمارے سپاہی شہید ہوتے ہیں، ان پر ایک عام سی تعزیت اور پاکستان کے سپاہی جب مارے جاتے ہیں تو ان کے لئے عوامی طور سے نماز جنازہ کی اپیل ،دل کو جھنجھور دیتی ہے۔

Read more

وزیر اعظم صاحب، کشمیر اور پاکستان دو الگ سوال ہیں

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنائو اپنی انتہا پر ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ جو فیس بک پر ہیں وہ تما م لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر فوراً حملہ کر دیا جائے اور اسے سبق سکھایا جائے۔ سبق سکھانے کا مطلب پاکستان کا بڑا زمینی حصہ جہاں سے دہشت گردانہ سرگرمیاں چل رہی ہیں اسے ہندوستانی سرحد میں ملانے کا فیصلہ لیا جائے، سرکار کے لئے بھی ایک فکر کی بات ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے انتخابی مہم کے دوران ملک سے یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ پاکستان سے کمزور سرکار کی وجہ سے ہمیشہ شکست ملتی رہتی ہے اور اگر مضبوط سرکار ہوگی یا جب وہ

Read more

میڈیا پاکستان کے لئے دانشورانہ دلالی کررہا ہے

آپ کے لئے سری نگر سے ایک تجربہ لے کر آیا ہوں۔ آپ میں سے بہت سارے لوگ سری نگر نہیں گئے ہوں گے اور جو گئے ہوں ،وہ 80 دن پہلے گئے ہوں گے۔ گزشتہ 80 دنوں سے کشمیر میں جو ہو رہا ہے، وہ ایک المناک ،خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔آپ اپنے گھر میں خود کو بند کر لیں اور چار دنوں تک گھر سے باہر نہ نکلیں، آپ کو کیسا لگے گا۔ چار دن میں لگنے لگے گا کہ آپ جیل میں بند ہیں اور آپ کو باہر کی ہوا کھانی ہے۔ اب آپ سوچئے کہ تقریباً60 لاکھ لوگ گزشتہ 80دنوں سے اپنے گھروں میں بند ہیں،انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔انہیں سامان خریدنے بازار جانا ہو، تو جان ہتھیلی پر لے کر جانا ہوتا ہے۔ انہیں اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو جان گنوانے کے ڈر کے ساتھ جانا پڑتا ہے اور ہم صرف چار دن اگر گھر میں بند رہ جائیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہوگیا۔

Read more

بارش سالانہ لوٹ کا بسنت تیوہار ہے

بارش کیا ہوئیپورے ملک کا ایک جیسا حال ہوگیا۔ سرکار چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو، کانگریس کی ہو، سماجوادی پارٹی کی ہو یا جنتا دل یونائیٹڈ کی، ایک سیکنڈ میںسب کے چہرے پر لگا ہوا رنگ دھل گیا اورسب ایک جیسے نظر آنے لگے۔ لاپرواہ، بے فکر، کمیشن کھانے والوں کے سرپرست، جو نام دینا چاہیں، آپ دے دیں۔دہلی کی بات کریں، تو یہاںمرکزی سرکار ہے۔ ملک کی راجدھانی ہے۔ یہاں ایک ریاستی سرکار بھی ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، دہلی تھم جاتی ہے۔یہی حال دیگر ریاستوںکی راجدھانیوں کا بھی ہے۔ دو گھنٹے کی بارش

Read more