گیلانی صاحب، آپ کا یہ بیان افسوسناک ہے

آج ایک عجیب سا سوال دماغ میں گھوم رہا ہے۔ کیا ہم اپنی مانگوںکی حمایت میں اتنی دور چلے جائیں کہ کب ہم نے سرحد کی حدیں پار کرلیں، یہ یاد ہی نہ رہے۔ کشمیر میں درد ہے، دکھ ہے، تکلیف ہے اور آزادی کے بعد یا کشمیر کے ہندوستان میں الحاق کے شرط نامے پر دستخط کے بعد سے جو غصہ ہے ، اس غصے کو ظاہر کرنے کے لئے جمہوری طریقے اپنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سرکار نہ سنے، اسے سنانے کے لئے بچوں کے ہاتھ میں پتھر ہو، اس سے بھی سمجھا جاسکتا ہے،لیکن یہ بات بالکل سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگر کوئی تکرار ہوتی ہے، اس تکرار میں اگر پاکستانی فوجیوں کی موت ہوتی ہے تو ان فوجیوں کے لئے نماز جنازہ پڑھنے کی اپیل کی جائے۔جموں و کشمیر میں حریت کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے یہ اپیل کر کے ان سبھی لوگوں کے سامنے ایک سوال کھڑا کر دیا، جو کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے سرکار یا عوام کے سامنے کشمیر کی صحیح صورت حال رکھنا چاہتے ہیں۔ تقریباً ایسی حالت بنی ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے ذرائع کا ایک سرا پاکستان میں نظر آتا ہے۔ ہمارے سپاہی شہید ہوتے ہیں، ان پر ایک عام سی تعزیت اور پاکستان کے سپاہی جب مارے جاتے ہیں تو ان کے لئے عوامی طور سے نماز جنازہ کی اپیل ،دل کو جھنجھور دیتی ہے۔

Read more

وزیر اعظم صاحب، کشمیر اور پاکستان دو الگ سوال ہیں

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنائو اپنی انتہا پر ہے۔ زیادہ تر وہ لوگ جو فیس بک پر ہیں وہ تما م لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اوپر فوراً حملہ کر دیا جائے اور اسے سبق سکھایا جائے۔ سبق سکھانے کا مطلب پاکستان کا بڑا زمینی حصہ جہاں سے دہشت گردانہ سرگرمیاں چل رہی ہیں اسے ہندوستانی سرحد میں ملانے کا فیصلہ لیا جائے، سرکار کے لئے بھی ایک فکر کی بات ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے انتخابی مہم کے دوران ملک سے یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ پاکستان سے کمزور سرکار کی وجہ سے ہمیشہ شکست ملتی رہتی ہے اور اگر مضبوط سرکار ہوگی یا جب وہ

Read more

میڈیا پاکستان کے لئے دانشورانہ دلالی کررہا ہے

آپ کے لئے سری نگر سے ایک تجربہ لے کر آیا ہوں۔ آپ میں سے بہت سارے لوگ سری نگر نہیں گئے ہوں گے اور جو گئے ہوں ،وہ 80 دن پہلے گئے ہوں گے۔ گزشتہ 80 دنوں سے کشمیر میں جو ہو رہا ہے، وہ ایک المناک ،خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔آپ اپنے گھر میں خود کو بند کر لیں اور چار دنوں تک گھر سے باہر نہ نکلیں، آپ کو کیسا لگے گا۔ چار دن میں لگنے لگے گا کہ آپ جیل میں بند ہیں اور آپ کو باہر کی ہوا کھانی ہے۔ اب آپ سوچئے کہ تقریباً60 لاکھ لوگ گزشتہ 80دنوں سے اپنے گھروں میں بند ہیں،انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔انہیں سامان خریدنے بازار جانا ہو، تو جان ہتھیلی پر لے کر جانا ہوتا ہے۔ انہیں اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو جان گنوانے کے ڈر کے ساتھ جانا پڑتا ہے اور ہم صرف چار دن اگر گھر میں بند رہ جائیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہوگیا۔

Read more

بارش سالانہ لوٹ کا بسنت تیوہار ہے

بارش کیا ہوئیپورے ملک کا ایک جیسا حال ہوگیا۔ سرکار چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو، کانگریس کی ہو، سماجوادی پارٹی کی ہو یا جنتا دل یونائیٹڈ کی، ایک سیکنڈ میںسب کے چہرے پر لگا ہوا رنگ دھل گیا اورسب ایک جیسے نظر آنے لگے۔ لاپرواہ، بے فکر، کمیشن کھانے والوں کے سرپرست، جو نام دینا چاہیں، آپ دے دیں۔دہلی کی بات کریں، تو یہاںمرکزی سرکار ہے۔ ملک کی راجدھانی ہے۔ یہاں ایک ریاستی سرکار بھی ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، دہلی تھم جاتی ہے۔یہی حال دیگر ریاستوںکی راجدھانیوں کا بھی ہے۔ دو گھنٹے کی بارش

Read more

انصاف کا نظام ناانصافی کا نظام بن گیا ہے

سپریم کورٹ کی شبیہ ملک میںسب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ انصاف پسند اور عوام کے حقوق کے واحد آخری محافظ کے طور پر بن گئی ہے۔ ہندوستان کے وہ لوگ جو دولت، ڈنڈے اور دماغ سے قوت والے ہیں، ان کے لیے سپریم کورٹ ان کے مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان دونوں شبیہوں کو دیکھنے کے بعد جب سپریم کورٹ کی اصلی تصویر پر نظر جاتی ہے، تو جی گھبرا جاتا ہے۔ کیونکہ وہاںسپریم کورٹ کا سپریم جج سرکار کے سامنے گڑگڑاتا ہے، سرکار سے انکساری، لیکن سخت الفاظ میں اپنا درد بیان کرتا ہے اور سرکار اس کا نوٹس ہی نہیں لیتی، اس پر کوئی ردعمل ہی نہیں دیتی۔ ہم اپنا درد اس لیے بیان کررہے ہیں کہ تاکہ سپریم کورٹ کو بھی سمجھ میںآئے کہ اس سے بھی کہیں اگر چوک ہوتی ہے، تب اس کے مہلک اثرات سب سے زیادہ اس ملک کے عام لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اب بھی آخری امید کے طور پرسپریم کورٹ کی طرف ٹکٹکی لگاکر دیکھتے ہیں، ویسے ہی جیسے سورج کی طرف کوئی ننگی آنکھوں سے دیکھے۔ کم سے کم سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ سورج کی طرح اس کی طرف ننگی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو اندھا کرنے کا کام نہ کرے۔ سورج کی طرح سپریم کورٹ میںبھی جلال ہے، لیکن سپریم کورٹ کا جلال ہندوستان کے عوام کی تاریکی دور کرنے کے کام آسکتا ہے۔

Read more

کچھ صحافی ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں

کچھ اخبار اور کچھ لوگ ملک کے خلاف سازش کرنے والی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کی مدد بھی کررہے ہیں۔ انوسٹی گیٹیو جرنلزم کا جنہیں ’’اے ‘‘ بھی نہیں آتا، وہ ملک مخالف طاقتوں یا ہتھیاروں کے دلالوں سے اطلاعات لے کر اپنے کو کھوجی صحافی کہلا رہے ہیں۔

Read more

اتر پردیش :نفرت کی تجربہ گاہ

اترپردیش کا اانتخاب مستقبل میں کس طر ح کی تجربہ گاہ بنے گا، اسے لے کر فکر ہورہی ہے۔ اتر پردیش میںملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کی حکومت ہے۔ ماناجاتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو بنیادی طور پر ڈاکٹرلوہیا کے آدرشوں میںیقین رکھتے ہیں۔ وہاں کی دوسری بڑی پارٹی بہوجن سماج پارٹی کی مکھیا مایا وتی ڈاکٹر امبیڈکر کے اصولوں میں یقین رکھتی ہیں ۔ ان دونوں کے نظریات میںبنیادی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن اختلاف اتنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو رسمی طور پر’ نمسکار ‘ بھی نہیںکرتے اور آنکھیں بھی نہیں ملاتے۔

Read more

خاموشی میں چھپی چیخ سن سکیں گے وزیر اعظم

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کئی معلومات دے گیا۔پتہ چلا کہ حکمراں پارٹی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اتناگہرا سناٹا کہ سیاسی ماہرین کواب بے چینی ہونے لگی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میںجتنے بھی بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ سے بات چیت ہوئی،وہ سبھی خاموش نظر آئے۔جتنے وزیروںسے ملاقات ہوئی، وہ سبھی خاموش دکھائی دیے۔ اس خاموشی کی وجہ جاننے کے لیے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے غیر پارلیمانی لیڈروں سے بات چیت ہوئی، تووہ بھی خاموش ملے اور ایک طنزیہ مسکراہٹ پھینکتے دکھائی دیے۔

Read more

ہمیں کشمیر یوں کی بات دردمندی اور دھیان سے سننی چاہئے

مارے ملک کی سیاست یا تو کنفیوژ ہو گئی ہے یا پھر غیر حساس ہو گئی ہے۔ کشمیر میں لوگ غیر مطمئن ہیں،سڑکوں پر ہیں، کرفیو لگا ہوا ہے۔ عام لوگوں کے گھروں میں راشن کی، دودھ کی، پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے،لیکن ہندوستانی سیاست کی زمین کا کوئی بھی آدمی کشمیر جانے کی ہمت نہیں دکھا پارہا ہے یا کشمیر نہیں جانا چاہتا ہے۔ کشمیر کے علاوہ سارے ملک میں ایسی نفسیات پیدا ہو گئی ہے گویا کہ پورے سری نگر میں رہنے والے لوگ ، دوسرے معنی میں کشمیر میں رہنے والے لوگ ہند مخالف ہیں، اور ان سے کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے صرف بات فوج کے

Read more

اندھی قوم پرستی سے بڑھ رہا ہے جمہوریت کے لیے خطرہ

چاہے کوئی بھی موضوع ہو، ملک کا ایک چھوٹا لیکن خطرناک طبقہ فیس بک کا سہارا لے کر نفرت پھیلانے کا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ ہر چیز مصنوعی قوم پرستی(سوڈو نیشنلزم ) سے جوڑی جارہی ہے اور ملک کے لوگوں میں ہندو مسلمان کے بیچ بٹوارہ کرنے ، نفرت پھیلانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ چھوٹا گروپ اندھ راشٹرواد (اندھی قوم پرستی) کے حق میں ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ویسے ہی مسلم برادری کا ایک چھوٹا طبقہ ٹھیک ویسی ہی حرکتیں کر رہا ہے۔ نہ ہندو اور نہ مسلم سماج ان واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور نہ فکرمند ہورہا ہے، لیکن ملک ایک خطرناک دہانے کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Read more
Page 10 of 35« First...89101112...2030...Last »