سنتوش بھارتی
چوتھی دنیا کو جب ہم نے اردو میں نکالنے کا فیصلہ کیا تو ہمارے ذہن میں تھوڑی ہچکچاہٹ تھی۔ اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ اردو کا اخبار اردو جاننے والے لوگ نکالیں۔ ہم نے کئی لوگوں سے بات کی اور جب لوگوں نے ہم سے یہ کہا کہ آپ اردو کا اخبار کیوں نکالیںگے، آپ اردو کا اخبار نکالنے کے بارے میں کیوں سوچ رہے ہیں تو ہم تھوڑے پریشان ہو گئے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کیا زبان پر بھی فرقہ واریت کا رنگ چڑھے گا۔ ہندوستان میں اردو جاننے والوں میں س
سنتوش بھارتیہ
جسم کے اعضا جب کمزور ہو جائیں تو انہیں باہر سے وٹامن کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی کبھی جب کوئی عضو بالکل ہی کام نہیں کرتا تو اسے سب سے ضروری باہری شے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے ہم لائف سیونگ ڈرگس کہتے ہیں۔ اگر ہارٹ سینک کرنے لگے تو کورامین دیتے ہیں، بائی پاس سرجری ہوتی ہے۔ اگر ذیابیطس ہو اور پین کریاز بالکل ہی ختم ہو جائے تو انسولن لینی پڑتی ہے۔ شاید یہی حالت ہمارے ملک کی ہو رہی ہے۔ ہم خود کچھ نہیں کر پاتے۔ ہ
سنتوش بھارتیہ
یہ مہینہ ہلچل کا مہینہ رہاہے۔ مجھ سے بہت سارے لوگوں نے سوال پوچھے، بہت سارے لوگوں نے جانکاریاں لیں۔ لیکن جس جانکاری بھرے سوال نے مجھے پریشان کیا، وہ سوال صحافت کے ایک طالب علم نے کیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہندی اور انگریزی صحافت الگ الگ ہیں؟میں نے پہلے اس سے سوال کیا کہ آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سوال میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اکثر میں دیکھتاہوں کہ انگریز ی میں لو
سنتوش بھارتیہ
پچھلے ہفتہ میں نے چوتھی دنیا کی رپورٹ میں انڈین ایکسپریس اور شیکھر گپتا کی صحافت پر کئی سوال اٹھائے۔ ان سوالوں کو اٹھاتے ہوئے مجھے ہمیشہ یاد رہا کہ گزشتہ برسوں میں انڈین ایکسپریس نے کیسی صحافت کی اور شیکھر گپتا نے آج اپنا مقام کتنی محنت سے بنایا ہے۔ لیکن سوال تو سوال ہے اور کبھی یہ سوال اتنی بڑ
سنتوش بھارتیہ
فوج کا یہ پورا قصہ گزشتہ تین ماہ سے چل رہا ہے اور لگاتار الگ الگ طرح کے الزام، چاہے میڈیا ہو یا پارلیمنٹ کے اراکین ہوں، لگاتے آ رہے ہیں۔ وہ الزامات ہیں جنرل وی کے سنگھ پر۔ الزام یہ ہے کہ ہر چیز جنرل وی کے سنگھ نے ایک حکمت عملی کے تحت کی۔ خلاصے بھی انہوں نے کیے، خطوط بھی انہوں نے لکھے، دہلی پر
سنتوش بھارتیہ
پارلیمنٹ سپریم ہے۔پارلیمنٹ مقدس ہے۔ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے اور ہندوستان میں پارلیمنٹ آج عام آدمی کے سُکھ،تحفظ اور جمہوریت کی گارنٹی ہے۔ اسی پارلیمنٹ نے 1950 میں ایک آئین بنایا تھا۔ 1950 کے بعد پارلیمنٹ کا یہ دھرم تھا کہ وہ آئین کے اصل جذبے کی حفاظت کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ نے 1950 میں بنے آئین کی روح کی، آئین کیجذبے کی حفاظت کی۔ اس سوال کا جواب ملک کے عوام تلاش کر رہے ہیں اور آج پارلیم
سنتوش بھارتیہ
سولہ مارچ کو پرنب مکھرجی لوک سبھا میں تقریر کر رہے تھے۔ یہ عام تقریر نہیں تھی، بلکہ بجٹ 2012-13 سے متعلق تقریر تھی۔ پورا ملک اس تقریر کو غور سے سن رہا تھا۔ ہم بھی اس تقریر کو سن رہے تھے۔ اس تقریر کو جب ہم نے سننا شروع کیا تو ہمیں بہت امید تھی کہ پرنب مکھرجی اس ملک کے سامنے آنے والی تکلیفوں کو دھیان میں رکھ کر اپنی یہ بجٹ تقریر ملک کے سامنے رکھیں گے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پرنب مکھرجی کی تقریر
سنتوش بھارتیہ
ہندوستانی فوج ملک کی شان ہے اور شان اس لیے ہے، کیوں کہ ملک کا نوجوان موت کو چنتا ہے۔ جو بھی فوج میں جاتا ہے، اس کے جانے کی ایک ہی قیمت ہے کہ جب بھی جنگ ہو یا ملک میں کہیں پر بھی بد امنی ہو تو فوج کا جوان وہاں ہتھیار لیے ہوئے مستعد رہے۔ اس پروفیشن کی صرف یہی ایک شرط ہے۔ اس کا سیدھا مطلب اپنی خوشی
سنتوش بھارتیہ
ستائیس فروری کو بنگلور میں ای ٹی وی اردو اور ای ٹی وی کنڑ نے ایک سمینار منعقد کیا۔ سمینار کا موضوع تھا ’فیوچر آف کارپوریٹس اِن انڈیا‘ یعنی ہندوستان میں کارپوریٹ گھرانوں کا مستقبل۔ اس سمینار کے سب سے اہم مقرر، کمپنی افیئرس کے مرکزی وزیر شری ویرپا موئلی تھے اور مہمانِ خصوصی کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدانند گوڑا تھے۔ سمینار میں جعفر شریف، ایم وی راج شیکھر اور ضمیر پاشا بھی شامل تھے، جو کرناٹک کی بڑی ہستیاں ہیں۔ ویرپا موئلی ا
سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش اسمبلی چنائو میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور ہیلتھ سسٹم کی بد حالی اور بدعنوانی وغیرہ مدعے صاف دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کے ساتھ ایک اور اہم مدعا دکھائی دیتا ہے ، وہ ہے جرم۔جرم براہ راست اور جرم بالواسطہ، لیکن براہ راست اور بالواسطہ جرم سے بھی زیادہ اہم ہے سیاست میں جرم کا شامل ہونا یا مجرموں کا سیاست میں بے خوف داخلہ۔ یہ سارے سوال صرف اتر پردیش کے نہیں ہیں،بلکہ پورے ملک کے ہیں۔ ملک کے عوام ان سوالوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں جواب نہیں مل رہا ہے