First International Urdu Weekly
سپریم کورٹ کا فیصلہ : غیر امداد یافتہ مسلم مائنارٹی اسکولوں کو من مانی کرنے کا لائسنس
سپریم کورٹ کا فیصلہ : غیر امداد یافتہ مسلم مائنارٹی اسکولوں کو من مانی کرنے کا لائسنس
صرف چہرہ بدلا ہے حکومت کی تصویر نہیں
صرف چہرہ بدلا ہے حکومت کی تصویر نہیں
جرمنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی راہ ورسم
جرمنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی راہ ورسم
امن عالم کے لئے خطرہ کون : ایران یا اسرائیل
امن عالم کے لئے خطرہ کون : ایران یا اسرائیل
Archive for the ‘ٓاداریہ’ Category
چوتھی دنیا آپ کا اپنا اخبار ہے، اسے اپنا پلیٹ فارم سمجھ کر استعمال کیجئے  

سنتوش بھارتی
چوتھی دنیا کو جب ہم نے اردو میں نکالنے کا فیصلہ کیا تو ہمارے ذہن میں تھوڑی ہچکچاہٹ تھی۔ اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ اردو کا اخبار اردو جاننے والے لوگ نکالیں۔ ہم نے کئی لوگوں سے بات کی اور جب لوگوں نے ہم سے یہ کہا کہ آپ اردو کا اخبار کیوں نکالیںگے، آپ اردو کا اخبار نکالنے کے بارے میں کیوں سوچ رہے ہیں تو ہم تھوڑے پریشان ہو گئے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ کیا زبان پر بھی فرقہ واریت کا رنگ چڑھے گا۔ ہندوستان میں اردو جاننے والوں میں س

دماغ کی کھڑکیاں، دروازے کھولیے، وقت بہت کم ہے  

سنتوش بھارتیہ
جسم کے اعضا جب کمزور ہو جائیں تو انہیں باہر سے وٹامن کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی کبھی جب کوئی عضو بالکل ہی کام نہیں کرتا تو اسے سب سے ضروری باہری شے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے ہم لائف سیونگ ڈرگس کہتے ہیں۔ اگر ہارٹ سینک کرنے لگے تو کورامین دیتے ہیں، بائی پاس سرجری ہوتی ہے۔ اگر ذیابیطس ہو اور پین کریاز بالکل ہی ختم ہو جائے تو انسولن لینی پڑتی ہے۔ شاید یہی حالت ہمارے ملک کی ہو رہی ہے۔ ہم خود کچھ نہیں کر پاتے۔ ہ

ہندی صحافت اپنی ذمہ داری سمجھے  

سنتوش بھارتیہ
یہ مہینہ ہلچل کا مہینہ رہاہے۔ مجھ سے بہت سارے لوگوں نے سوال پوچھے، بہت سارے لوگوں نے جانکاریاں لیں۔ لیکن جس جانکاری بھرے سوال نے مجھے پریشان کیا، وہ سوال صحافت کے ایک طالب علم نے کیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہندی اور انگریزی صحافت الگ الگ ہیں؟میں نے پہلے اس سے سوال کیا کہ آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سوال میں اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اکثر میں دیکھتاہوں کہ انگریز ی میں لو

ہمیں اپنے ملک کا اعتماد برقرار رکھنا ہے  

سنتوش بھارتیہ
پچھلے ہفتہ میں نے چوتھی دنیا کی رپورٹ میں انڈین ایکسپریس اور شیکھر گپتا کی صحافت پر کئی سوال اٹھائے۔ ان سوالوں کو اٹھاتے ہوئے مجھے ہمیشہ یاد رہا کہ گزشتہ برسوں میں انڈین ایکسپریس نے کیسی صحافت کی اور شیکھر گپتا نے آج اپنا مقام کتنی محنت سے بنایا ہے۔ لیکن سوال تو سوال ہے اور کبھی یہ سوال اتنی بڑ

ملک کے غداروں کے چہرے سے نقاب ہٹایئے  

سنتوش بھارتیہ
فوج کا یہ پورا قصہ گزشتہ تین ماہ سے چل رہا ہے اور لگاتار الگ الگ طرح کے الزام، چاہے میڈیا ہو یا پارلیمنٹ کے اراکین ہوں، لگاتے آ رہے ہیں۔ وہ الزامات ہیں جنرل وی کے سنگھ پر۔ الزام یہ ہے کہ ہر چیز جنرل وی کے سنگھ نے ایک حکمت عملی کے تحت کی۔ خلاصے بھی انہوں نے کیے، خطوط بھی انہوں نے لکھے، دہلی پر

عوام سے ٹکرانے کی کوشش مت کیجئے  

سنتوش بھارتیہ
پارلیمنٹ سپریم ہے۔پارلیمنٹ مقدس ہے۔ پارلیمنٹ جمہوریت کا مندر ہے اور ہندوستان میں پارلیمنٹ آج عام آدمی کے سُکھ،تحفظ اور جمہوریت کی گارنٹی ہے۔ اسی پارلیمنٹ نے 1950 میں ایک آئین بنایا تھا۔ 1950 کے بعد پارلیمنٹ کا یہ دھرم تھا کہ وہ آئین کے اصل جذبے کی حفاظت کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ نے 1950 میں بنے آئین کی روح کی، آئین کیجذبے کی حفاظت کی۔ اس سوال کا جواب ملک کے عوام تلاش کر رہے ہیں اور آج پارلیم

یہ بجٹ خطرناک ہے  

سنتوش بھارتیہ
سولہ مارچ کو پرنب مکھرجی لوک سبھا میں تقریر کر رہے تھے۔ یہ عام تقریر نہیں تھی، بلکہ بجٹ 2012-13 سے متعلق تقریر تھی۔ پورا ملک اس تقریر کو غور سے سن رہا تھا۔ ہم بھی اس تقریر کو سن رہے تھے۔ اس تقریر کو جب ہم نے سننا شروع کیا تو ہمیں بہت امید تھی کہ پرنب مکھرجی اس ملک کے سامنے آنے والی تکلیفوں کو دھیان میں رکھ کر اپنی یہ بجٹ تقریر ملک کے سامنے رکھیں گے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پرنب مکھرجی کی تقریر

فوج کے لئے ایک سنہرا موقع ہے  

سنتوش بھارتیہ
ہندوستانی فوج ملک کی شان ہے اور شان اس لیے ہے، کیوں کہ ملک کا نوجوان موت کو چنتا ہے۔ جو بھی فوج میں جاتا ہے، اس کے جانے کی ایک ہی قیمت ہے کہ جب بھی جنگ ہو یا ملک میں کہیں پر بھی بد امنی ہو تو فوج کا جوان وہاں ہتھیار لیے ہوئے مستعد رہے۔ اس پروفیشن کی صرف یہی ایک شرط ہے۔ اس کا سیدھا مطلب اپنی خوشی

کارپوریٹ سیکٹر اپنی سماجی ذمہ داری کو سمجھے  

سنتوش بھارتیہ
ستائیس فروری کو بنگلور میں ای ٹی وی اردو اور ای ٹی وی کنڑ نے ایک سمینار منعقد کیا۔ سمینار کا موضوع تھا ’فیوچر آف کارپوریٹس اِن انڈیا‘ یعنی ہندوستان میں کارپوریٹ گھرانوں کا مستقبل۔ اس سمینار کے سب سے اہم مقرر، کمپنی افیئرس کے مرکزی وزیر شری ویرپا موئلی تھے اور مہمانِ خصوصی کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدانند گوڑا تھے۔ سمینار میں جعفر شریف، ایم وی راج شیکھر اور ضمیر پاشا بھی شامل تھے، جو کرناٹک کی بڑی ہستیاں ہیں۔ ویرپا موئلی ا

عوام کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے  

سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش اسمبلی چنائو میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور ہیلتھ سسٹم کی بد حالی اور بدعنوانی وغیرہ مدعے صاف دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کے ساتھ ایک اور اہم مدعا دکھائی دیتا ہے ، وہ ہے جرم۔جرم براہ راست اور جرم بالواسطہ، لیکن براہ راست اور بالواسطہ جرم سے بھی زیادہ اہم ہے سیاست میں جرم کا شامل ہونا یا مجرموں کا سیاست میں بے خوف داخلہ۔ یہ سارے سوال صرف اتر پردیش کے نہیں ہیں،بلکہ پورے ملک کے ہیں۔ ملک کے عوام ان سوالوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں جواب نہیں مل رہا ہے

Page 1 of 1112345»10...Last »

« Older Entries

چوتھی دنیا آپ کا اپنا اخبار ہے، اسے اپنا پلیٹ فارم سمجھ کر استعمال کیجئے
ہم نے ایماندارانہ کوشش کی کہ حق صحافت ادا کر سکیں
India's First Internet TV
تلاش کریں  
موضوع کے مطابق پڑھیں  
مہینہ کے مطابق پڑھیں  
رائٹر کے مطابق  
  • Recent Posts  
    • ہم نے ایماندارانہ کوشش کی کہ حق صحافت ادا کر سکیں
    • چوتھی دنیا آپ کا اپنا اخبار ہے، اسے اپنا پلیٹ فارم سمجھ کر استعمال کیجئے
    • مسلم صدر کا انتخاب ایک نیا چھلاوا
    • کاش مسلم مائنارٹی فنڈ کا صحیح استعمال ہو پاتا
    • دماغ کی کھڑکیاں، دروازے کھولیے، وقت بہت کم ہے
    • ایسے مارا گاندھی کو سرکار نے
    • تو بچا بچا کر نہ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔
    • سیل کا کھیل: مزدوروں کی زندگی سے کھلواڑ
    • وزارت خارجہ کا نیا اعلان: عازمین حج کی مشکلوں میں اضافہ
    • ہریندر کے بعد کون

اردو چوتھی دنیا کی اسٹوری اپنے میل پر حاصل کرنے کے لئے اپنا ای میل درج کریں

Chauthiduniya On Facebook Chauthiduniya On Orkut Chauthiduniya On Youtube Chauthiduniya On Youtube
Designed and Developed by ManuInfoSolutions