وسیم احمد ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو گزشتہ چند برسوں میں بہتر ہوئی ہے،مگر اس کے زیادہ فائدے غریبوں سے زیادہ تر سرمایا دراوں کوملے ہیں۔اس کا منفی اثر یہ ہورہا ہے کہ غریبوں اور امیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔یہ صورت حال کسی بھی ملک کی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لئے اچھی [...]
ڈاکٹر منیش کمار ہندوستان کے مسلمان ملک کے سب سے پسماندہ اور استحصال زدہ طبقے کا حصہ بن چکے ہیں۔سیاست میں مسلمان حاشیہ پر ہیں۔ انتظامیہ، فوج اور پولس میں مسلمانوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے، عدلیہ میں مسلمانوں کی موجودگی بہت کم ہے اور رہی سہی کسر لبرل ازم، نجکاری اور گلوبلائزیشن [...]
چونسٹھ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے کے بعد بھی بڑی شان سے وزیر مواصلات اے راجا اپنے عہدہ پرکیا اس لئے فائز ہیں کہ سونیا گاندھی سے ان کے قریبی رشتے ہیں؟جنتا دل کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی الزام لگاتے ہیں کہ2-جی اسپیکٹرم سودے میں سونیا گاندھی کے کے مین آئی لینڈ میں واقع [...]
مدھیہ پردیش کی صنعتی ترقی اور ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع کیلئے حکومت ملک وبیرون ملک سے سرمایہ کاری کیلئے گذشتہ پانچ سالوں سے مسلسل کوشش کررہی ہے۔وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کی وزارت کے اعلیٰ افسران ملک و بیرون ملک کے متعدد دورے بھی کرچکے ہیں ۔
اسد مفتی،ایمسٹرڈیم, ہالینڈ
1886میں امریکہ کے مزدوروں نے اپنے لہو سے یوم مئی کی تحریک کا آغاز کیا تھا، وہ ایک نئے ولولے کے ساتھ ایک نئے سفر پر نکلے تھے۔ ان دنوں ان کے لیے اس نوع کے مطالبات بھی نہایت عجیب اور انوکھے قرار دیے جاتے تھے۔ مثلاً مزدوروں سے جانوروں کی مانند بلکہ ان سے بھی بدتر طریقہ و حالات میں کام نہ لیا جائے۔
انہیں اتنی اجرت دی ج
میں پاکستان نے ترقی کی رفتار کو جس سطح پر بنائے رکھا ہے، وہ دیگر ترقی پذیر ملکوں کے لئے نفرت کا سبب ہو سکتا ہے،جبکہ اس دوران اسے کئی مشکلوںکا سامنا کرنا پڑا۔ملک کی تقسیم ، جنگ، قومیت اور فوجی اقتدار کے کئی دور ، جس کے سبب ہر بار عوامی مسائل سے نمٹنے
شاعر دھمل کی یہ نظم بیان کرتی ہے کہ آزادی کے اتنے سال بعدبھی محنت کرنے والے آج بھی ہراساں،کمزور اور لاچار ہیں۔ ہندوستان کی خود مختاری کے 100سال مکمل ہونے کے موقع پر گاندھی کو یاد کرنے میں تو ملک کے تمام لوگ لگے ہوئے ہیں لیکن کم
پر کم سے کم ان کی خواتین اور داسیاں اپنے مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلتی ہے۔حالانکہ ابتدا میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ ساتھ چلنے پر انہیں بہت کچھ کہا جاتا ہے، انہیں روکا جاتا ہے، پھر بھی ایک مقررہ مقام پر پہنچ کر سماج یہ محسوس کرتا ہے کہ اب عورت اپنی ترقی نہیں کر سکتی اور مرد کو اپنی ترق
مدھیہ پردیش میں ہر سال 30ہزار بچے اپنا پہلا جنم دن منانے سے پہلے ہی بے موت مر جاتے ہیں۔ یہ وہ بدقسمت بچے ہیں، جو جنم سے ہی غریبی ،فاقہ کشی کا شکار ہوتے ہیں ولادت کے وقت سے ہی یہ بے حد کمزور
لبوں کی شان نوابوں کی آن اور ہندوستانی تمدن کی پہچان بنے بندیلی پان کی کھیتی اترپردیش کے للت پور، جھانسی اور مہوبہ اور مدھیہ پردیش کے ساگر، چھتر پور اور ٹیکم گڑھ وغیرہ اضلاع میں ہوتی ہے۔