موجودہ عراق کی تصویر: کبھی خوشحال تھا عراق

’’ یہ شیعہ سنی کی لڑائی نہیں ہے۔یہ داعش کے خلاف عراق کی جنگ ہے ۔دنیا میں یہ تشہیر کی جارہی ہے کہ صدام کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سنیوں پر ظلم ہورہے تھے،اسی لئے داعش وجود میں آئی جبکہ یہ بالکل غلط پروپیگنڈہ ہے ۔داعش سنیوں کو بھی مار رہے ہیں، ان کی بستیوں کو بھی اجاڑ رہے ہیں‘‘

Read more

وزیر خزانہ صاحب، کچھ تو گڑ بڑ ہے

کچھ ہی دنوں میں عام بجٹ پیش ہونے والا ہے۔وزیر خزانہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔وزیر خزانہ اب تک دو بجٹ پیش کر چکے ہیں، جن کو لے کر بازار نے مثبت رائے نہیں دی ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ،یو پی اے 3 سرکار ہے۔ دراصل ارون شوری نے اسے یو پی اے 3 پلس کاؤ( گائے) کہا ہے۔ان کا یہ کہنا سچائی سے بہت الگ بھی نہیں ہے،کیونکہ موجودہ سرکار نے نہ تو کانگریس کی پالیسیوں کو پوری طرح بدلا ہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نئی پالیسی پیش کی ہے۔

Read more

اڑیسہ: کسانوں کے لئے نیا قبرستان

فصل برباد ہونے کی وجہ سے اڑیسہ کے نوپاڈہ ضلع کے جولی بندھا گاؤں کے رہنے والے 22 سالہ کسان اوم پرکاش پٹیل نے خود کشی کرلی۔ اوم پرکاش کے پاس قابل زراعت سات ایکڑ زمین تھی۔ جولی بندھا ، اڑیسہ سے راجیہ سبھا ممبر اے وی سوامی کا گود لیا ہوا آدرش گاؤں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ صرف بارش ہی کسانوں کے درد و الم کاسبب ہو، بلکہ سرکار کی پالیسیاں اور ان کے طریقہ کار بھی کسانوں کی خود کشی جیسے المناک حادثوں کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ مانس

Read more

اتر پردیش: ترقی کے نام پر گھوٹالہ اور بد عنوانی کا بازار گرم

آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو کمپنی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو ،اسے پانچ پانچ پروجیکٹوں کے ٹھیکے دے دیئے جائیں؟ لیکن ایسے لا جواب کارنامے اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی حکومت کے طاقتور وزیر اور این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم بابو سنگھ کشواہا کی سرپرستی میں کانکنی کا دھندہ کرنے والوں نے ایک کمپنی کے نام پر پانچ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے پہلے حاصل کر لئے، بعد میں کمپنی بنائی ۔ کمپنی کا ایک ڈائریکٹر کانکنی کا شہنشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کا سرگرم لیڈر بھی ہے۔ پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، لیکن ان کے لئے ملنے والے آسان لون اور سبسڈی کا فائدہ مل گیا۔ پروجیکٹ کا کام شروع نہیں ہوا ،تو اتر پردیش کو سستی بجلی نہیں مل پائی، جس سے ہر سال کروڑوں کا نقصان الگ سے ہو رہاہے ۔گتھی یہ بھی الجھی ہوئی ہے کہ کانکنی کا پیسہ پروجیکٹوں میں لگنے والا تھا یا پھر کانکنی کا دھندہ کرنے والے طاقتور لوگوں کو عوام کا پیسہ سمیٹنے کا ایک اور ذریعہ دے دیا گیا۔ جانچ (غیر جانبدار)ہو تو پتہ چلے۔

Read more

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ طالبان کی درندگی ، معصوم طلباء نشانے پر

پاکستان کے خیبر پختونخوا ہ علاقے میں 20جنوری کی صبح کافی کہرہ تھا۔ کہرہ بھی ایسا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس صوبے کی راجدھانی پشاور ہے۔ وہی پشاور جہاں 16دسمبر 2014کو دہشت گردوں نے 150اسکولی بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ معصوم بچوں کے بہیمانہ قتل سے پوری دنیا لرز اٹھی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستان میں سیکوریٹی انتظامات چا ق و چوبند کر دیئے گئے تھے۔ کسی کو بھنک تک بھی نہیں تھی کہ پشاور سے 40 کلو میٹر کی دور چار سدہ شہر دہشت گردانہ حملے کا شکار ہونے والا ہے اور تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے نشانے پر اس بار باچا خان یونیورسٹی تھی۔ اس علاقے کو لو گ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کو باچا خان بولتے ہیں۔ انہی کے نام پر یہ یونیورسٹی ہے جوپشاور سے چالیس کلو میٹر دور چارسدہ میں واقع ہے۔یہ یونیورسٹی شہر سے کچھ دوری پر غیر رہائشی علاقے میں واقع ہے۔ 20جنوری کو باچا خان کی یوم وفات تھی۔ اس موقع پر یونیورسٹی میں ایک پشتو مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طالب علموں کے علاوہ تقریباً600باہری لوگ بھی موجود تھے۔

Read more

یہ مندر بنانے کی نہیں فساد پھیلانے کی سازش ہے

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ رام مندر کا ایشو ایک بار پھر سے ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ایسے ایسے بیان سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ملک کے عوام اور خاص طور پر نوجوان مندر مسجد کے ایشو سے کافی آگے نکل گئے ہیں۔وہ ہندوستان کو ماڈرن اور اقتصادی طور پر بڑی طاقت بنانے اور پوری دنیا میں ہندوستان کا لوہا منوانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔لیکن سیاست اور رام مندر کے علمبردار ہندوستان کو پیچھے دھکیلنے پر آمادہ ہیں۔ رام مندر ایک اہم ایشو ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام اس کا پُر امن حل چاہتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں امن سے رام مندر بن جائے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ رام مندر کے نام پر زور زبردستی ہو اور انہیں چڑھایا جائے،حال میں جس طرح سے رام مندر ایشو کو اچھالا گیاہے وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ ملک کے سپریم کورٹ، قانون اور مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی ایک شرمناک کوشش بھی ہے۔

Read more

پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی حقیقت

نارکو پولٹکس اور نارکو ٹیرورزم نے پنجاب کے سرحدی علاقوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔کچھ ہی ماہ قبل گرداس پور کے دینا نگر میں اور اب پٹھان کوٹ میں ہوا دہشت گردانہ حملہ اسی سانٹھ گانٹھ کی منادی ہے۔ واردات کے محض دو دن قبل گرداس پور کے ایس پی کے عہدے سے ہٹایا گیا سلوندر سنگھ اس نکسس کا محض ایک مہرہ ہے ۔پٹھان کوٹ حملے کی گہرائی سے جانچ کر رہی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اس سمت میں بھی ٹھوس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے کہ سلوندر سنگھ جیسے مہروں ک

Read more

دو ہزار سولہ وزیر اعظم کے لئے چیلنج بھرا ہے

2016 کئی معنی میں اہم ہے۔سیاسی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی ۔نئی سرکار آنے کے بعد سے کئی نئے تنازع بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج کل ایک عجیب طرح کا سیاسی ماحول بنتا جارہا ہے۔ کئی طرح کے تنازع سیاسی پارٹیوں میں دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بے وجہ ہیں۔ان تنازعات سے نہ تو ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ ملک کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی سماج کا۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے نیا سال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں آگے آکر مداخلت کرنی ہوگی، ایک حتمی گائڈ لائن دینی ہوگی، جس سے ایک تخلیقی سماج اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ہوسکے۔

Read more

مندر ۔ مسجد نہیں روزگار چاہئے

ایودھیا میںرام مندر کو لے کرپھر سے سرگرمی ہے۔ رام مندر کے لےے پتھرکاٹنے اور اس کے جواب میں بابری مسجد کے لےے بھی پتھر منگا کر کاٹنے کی تیاریوں اور چرچاو¿ں کے بیچ سیاسی فصل کاٹنے کی منشا پروان چڑھ رہی ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب ہونے میں ابھی ایک سال کی مدت باقی ہے، اس لےے ووٹ کاٹنے اور تراشنے کے لےے بی جے پی کو پتھر کاٹنا اور تراشنا ضروری لگ رہا ہے۔ جبکہ بہار اسمبلی انتخاب میں بری طرح ہارنے کے بعد اتر پردیش میں اس طرح سے زمین تیار کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے میچیور پالیسی ڈسیزن کا اشارہ نہیں ہے۔ سنگھ اور بی جے پی کے اندرونی سروے میں یہ تصویر سامنے آئی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی اور اتر پردیش میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی تیسرے نمبر پر چل رہی ہے۔ یہ بی جے پی کی بوکھلاہٹ تو نہیں ہے!

Read more

مراٹھواڑہ : موت کے دہانے پر کسان

ضلع ہیڈکوارٹر عثمان آباد سے پندر کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے روئی بھر۔ 11 دسمبر، 2014 کو بابا صاحب مانک جگتاپ نے اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ جگتاپ کو کانوں سے کم سنائی دیتا تھا۔ فیملی میں اس کی جسمانی طور پر معذور بیوی انیتا سمیت تین بیٹیاں، کاجل، اسنیہل اور جیوتسنا اور ایک بیٹا پرمود ہے۔ مانک جگتاپ کی بوڑھی ماں کیسر بائی اکثر بیمار رہتی ہے۔ اس فیملی کے پاس صرف سوا بیگھہ زمین ہے۔ بڑی بیٹی

Read more
Page 9 of 35« First...7891011...2030...Last »