کانگریس میٹھا زہر ہے

ڈاکٹر منیش کمار
کتاب لکھنا بڑے بڑے سیاسی لیڈروں اور نوکر شاہوں کا نیا شوق بن گیا ہے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی کتاب لکھتا ہے تو تنازعہ کھڑ اہوجاتا ہے۔ نوکر شاہ کئی راز کھولتے ہیں۔ نوکری میں رہتے ہوئے جن باتوں کو وہ نہیں بول پاتے ریٹائر ہونے کے بعد کتابوں میں لکھتے ہیں۔ جب سیاسی لیڈر کتاب لکھتے ہیں تو اس کا مطلب سیاست کی نئی اننگ کا اعلان ہوتا ہے۔ قلم اٹھاتے ہی سیاست داں نظریاتی سطح پر طوفان کھڑا کرتا ہے۔ جب کوئی بڑا لیڈر کتاب لکھتا ہے تو اس سے سیاست کے نئے اشارے ملتے ہیں۔ نئی سمت کا اشارہ ملتا ہے۔ زیادہ تر مواق

Read more

مسلمانوں کا جذباتی استحصال بند کرو

ڈاکٹر منیش کمار
ہندوستانی مسلمانوں کے چیلنجز کیا ہیں، اس موضوع پر جے پور میں ایک سمینار ہوا؟ اس میں ملک بھر کے لیڈر، صحافی، مولوی اور فلمی ہستیاں شامل ہوئیں۔ اس سمینار کو ای ٹی وی اردو نے منعقد کیا تھا، جسے ای ٹی کے سبھی چینلوں پر براہ راست نشر کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سمینار میں بی جے پی کے لیڈر بھی موجود تھے۔ انہیں سننے کے لئے راجستھان کے مسلم سماج کے جانے مانے لوگ بھی تھے۔ کچھ مسلم عوام بھی تھے۔ اس سمینار کی سب سے اچھیبات یہ رہی کہ سامعین نے بھی اس میں حصہ لیا۔ انہیں اسٹیج پر جگہ تو نہی

Read more

یہ گوجر نہیں کسان تحریک

ڈاکٹر منیش کمار
ہندوستانی جمہوریت کا یہ عجیب چہرہ ہے۔ ملک کے کسانوں کو جب بھی کوئی بات حکومت تک پہنچانی ہوتی ہے تو انہیں تحریک چلانی پڑتی ہے۔ وہیں ملک کے بڑے بڑے صنعت کار سیدھے وزارت جا کر قاعدے قانون بدل کر کروڑوں کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ جمہوریت سے ملنے والے مواقع اور فوائد سے ہندوستان کی کثیر آبادی اکثریت سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستان کسانوں کا ملک ہے۔ وہ غریب ہیں۔ حکومت کی اسکیموں اور پالیسیوں سے فائدہ ملنا تو دورالٹا انہیں نقصان ہو رہا ہے۔کسی بھی جمہوریت میں تحریک تب چلتی ہے جب

Read more

بی جے پی کا مضبوط ہونا ضروری

ڈاکٹر منیش کمار
جمہوریت میں اپوزیشن کا ایک کردار ہوتا ہے۔ ملک کے عوام اگر کسی جماعت کو یہ ذمہ داری دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ پانچ سالوں تک وہ پارٹی حکومت کے کام کاج اور پالیسیوں پر نظر رکھے۔ حکومت اگر کوئی غلطی کرتی ہے تو اسے عوام کے سامنے لائے اور پارلیمنٹ میں برسراقتدار پارٹی سے جواب طلب کرے۔ اگر اپوزیشن ہی کمزور ہو جائے تو حکومت کو بے لگام ہونے میں وقت نہیں لگتا ہے۔ملک میں یکے بعد دیگرے گھوٹالوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔ یہ گھوٹالے مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہے

Read more

آر ٹی آئی ترمیم : یہ عوام کو کمزور کرنے کی سازش ہے

ششی شیکھر
بات 2006کی ہے۔آر ٹی آئی کو نافذ ہوئے ابھی کچھ مہینے ہی ہوئے تھے۔بہار کے جھنجارپورم کا ایک رکشا پلرمظلوم اندرا آواس یوجنا کے تحت درخواست دیتا ہے۔اب بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر اس کی درخواست کو پاس کرنے کے لیے5ہزار ورپے کی رشوت مانگتا ہے۔ناخواندہ اور غریب مظلوم تین سال سے بی ڈی او کے دفتر میں دھکے کھا رہا تھا، کیو نکہ5ہزار روپے کی رشوت دینا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔اسی درمیان وہ ایک سماجی کارکن اشوک سنگھ سے ملا جس نے اسے آر ٹی آئی قانون کے تحت اطلاع مانگنے کی درخواست بنا ک

Read more

کانگریس راہ سے بھٹک گئی ہے

سنتوش بھارتیہ
فیس بک پر راہل گاندھی کو 2014میں وزیر اعظم بنانے کے لئے تشہیر ی مہم چل رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، ٹیلی ویژن کا زمانہ ہے، تشہیر کا زمانہ ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ کانگریس سوچ رہی ہو کہ اس کے لئے 2014بہت آسان ہوگا۔ آسان ہو بھی سکتا ہے لیکن کانگریس کارکنان متفکر ہیں۔ ان کے لئے بہار ایک ایسے تجربہ کی طرح ہے جسے وہ چاہ کر بھی نہیں بھلا پا رہے ہیں۔ ملک کے ہر حصے کے کانگریس کارکنان سے بات کرنے کے بعد ایک ہی بات سامنے آ رہی ہے کہ جس اتر پردیش میں راہل گاندھی کا مشن 2012اتنا دھندلا

Read more

سپریم کورٹ نے ملک کو خبر دار کیا

ڈاکٹر منیش کمار
ہردن ایک نہ ایک نیا گھوٹالہ عوام کے سامنے اجاگر ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب ایسے وزیر اعظم کی مدت کار میں ہو رہا ہے جو خود ایماندار اور شریف النفس شخص ہیں۔ جس طرح ہر دن ایک کے بعد ایک گھوٹالے روشنی میں آ رہے ہیں، سرکاری مشنری میں پھیلی بدعوانی کی اصلیت سامنے آ رہی ہے،دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر آج گاندھی زندہ ہوتے تو کیا کرتے؟شاید ستیہ گرہ یا پھر بھوک ہڑتال کی بجائے شرم سے خود کشی کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔ یہ صرف گاندھی کی ہی بات نہیں ہے

Read more

بہار کا تاریخ ساز ہیرو

سنتوش بھارتیہ
بہار میں نتیش کمار کی جیت ان کی اپنی ہے یا بہار کے عوام کی، یہ سوال بہت سے لوگوں کی زبان پر ہے۔اس کا جواب بہت صاف ہے، بہار میں عوام جیتی ہے اور اس نے نتیش کمار کی شکل میں ایک ایسا لیڈر منتخب کیا ہے جس پر بے شمار خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی ذمہ داری ہے۔بہار کے عوام نے وقتاً فوقتاً بڑے تاریخی فیصلے کئے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
یاد کریں تو مہاتما بدھ یاد آتے ہیں، تیرتھ کر مہاویر یاد آتے ہیں، چانکیہ یاد آتے ہیں، ویشالی گنتنتر یاد آتے ہیں، نالندہ یونیورسٹی یاد آتی ہے ،گاندھی جی کی تحریک کی شرو

Read more

آدرش سے بڑا فوج کی سینٹرل کمانڈ میں گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالہ کے تار لکھنؤ سے جڑے ہیں۔ ممبئی اور لکھنؤ کے اس لنک کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ممبئی کے آدرش سوسائٹی گھوٹالہ سے بڑاگھوٹالہ سینٹرل کمانڈ ہیڈ کوارٹر لکھنؤ میں کھلے گا۔ممبئی آدرش سوسائٹی گھوٹالے کو غور سے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ گھوٹالہ کرنے والے افسران کا لکھنؤ سے ممبئی ؍پنے میں رابطہ مسلسل رہا ہے۔ اسے قائم رکھنے میں ڈیفنس اسٹیٹ سروس کے ڈائریکٹر جنرل بال شرن سنگھ نے اہم کردار ادا کیا ۔ ابھی ریٹائرہونے سے قبل تک وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔پنے چھائونی کی اہم افسر ر

Read more