اب تعلیم بھی غیر ملکیوں کے حوالے

سنسکرت میں ایک شلوک ہے ،اس شلوک کا مطلب ہے کہ علم سے تواضع،تواضع سے اہلیت،اہلیت سے دولت،دولت سے مذہب اور مذہب سے راحت ملتی ہے۔لیکن یہ ماضی کی بات تھی۔ اب جو تیاری چل رہی ہے، اس کے مطابق تعلیم اب صرف دولت کمانے کا ذریعہ ہی بنے گی۔تعلیم اب صرف ہنر دینے کا ہی ذریعہ بنے گی ۔جیسے آپ انگریزی بولنا تو سیکھ جائیں گے لیکن انگریزی ادب کو سمجھنا، پڑھنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ اعلیٰ تعلیم کے سیکٹر میں اگر ہندوستان ڈبلیو ٹی او سے کئے گئے اپنے کمٹمنٹ کو پورا کرتا ہے تو یقین مانئے ،اس ملک میں علم حاصل کرنے اور دان کرنے کی نہیں، کاروبار کی چیز بن کر رہ جائے گی۔

Read more

کشمیر درد سے چیخ رہا ہے

میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کشمیرمیں کیاہو رہا ہوگا؟میں اپنے دو صحافی دوستوں اشوک وانکھیڑے اور ابھے دوبے کے ساتھ جب 11سے 13 ستمبر کو سری نگر میں تھا تو سری نگر کی وہ تصویر سامنے آئی، جس کا دہلی میں بیٹھ کر احساس ہی نہیں ہوسکتا ، تب لگا کہ جو لکھنو، پٹنہ ، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو یا چنئی میں ہیں، وہ تو کشمیر کے آج کے حالات کا تصور ہی نہیں کرسکتے کہ کیوں دکانیں بند ہیں، کیوں لڑکے پتھر چلا رہے ہیں، کیوں لڑکے سڑک پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کر رہے ہیں اور کیوں اپنے آپ پتھر صاف کر کے سڑکیں کھول دیتے ہیں؟ کیوں دکاندار ٹھیک شام کے چھ بجے دکانیں کھول دیتے ہیں، سرکاری بینکوں نے کیوں اپنا وقت شام چھ بجے سے کر دیا ہے۔یہ سارے سوالات آندھی کی طرح دماغ میں اس لئے اڑنے لگے کہ ہمیں تو سری نگر جا کر ان سوالوں کا جواب مل گیا لیکن کیا ملک کے لوگ کبھی اس سچائی کو سمجھ پائیں گے؟پھر ایک اور سوال ابھرا کہ پورے ملک میں کہیں بھی ایک دن کا بازار بند کرانے کا نعرہ جب کوئی سیاسی پارٹی دیتی ہے، تو لوگ دکانیں نہیں بند کرتے ہیں، ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نوجوان کارکنان لاٹھی لے کر سڑک پر نکلتے ہیں، تب وہ ایک دن کے لئے دکانیں بند کرا پاتے ہیں۔ لیکن کشمیر 105دنوں سے بند تھا۔ صرف ایک کاغذ کا پرچہ کیلنڈر کی شکل میں نکلتا ہے اور لوگ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read more
Page 5 of 34« First...34567...102030...Last »