منموہن سنگھ پوسٹر بوائے بن گئے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
وزیر اعظم منموہن سنگھ ایماندار ہیں، سادگی پسند ہیں، با اخلاق ہیں، میٹھی زبان بولتے ہیں اور دانشور ہیں۔ ان کی شخصیت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن کیا ان کی یہ خصوصیات کسی وزیر اعظم کے لیے کافی ہیں؟ اگر کافی بھی ہیں، تو ان کی ان خصوصیات کا عکس سرکار پر دکھائی دینا چاہیے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ منموہن سنگھ کی ساری خاصیت سرکار کے کام کاج میں دکھائی نہیں دیتی۔ ویسے، ہندوستان میں وزیر اعظم سب سے طاقتور ہوتا ہے۔ وہ ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہوتا ہے۔ آئ

Read more

کمزور پڑیں سونیا: بڑھی کانگریس کی مصیبت

وی صندل
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یو پی اے سرکار اپنی سمت کھو چکی ہے۔ تاہم، یہ بیان اہم سوالات کو اجاگر کرتا ہے، سیاسی اور قومی دونوں سطحوں پر۔ کیا اس وقت ہم ہندوستانی سیاست پر نہرو – گاندھی خاندان کے اثرات کے خاتمہ کی شروعات کو دیکھ رہے ہیں۔ کیا لوگوں کا وہ بڑا طاقتور طبقہ، جو بغیر کوئی سوال کیے ہمیشہ گاندھی خاندان کا فرمانبردار رہا، اب اس سے دور ہوتا جا رہا ہے اور اسے کسی نئے متبادل کی تلاش ہے؟ یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اپنا جو دبدبہ بنایا تھا، اس میں کمی آئی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ گاندھی فیملی کو امیٹھی اور رائے بریلی جیسے اپنے خاندانی حلقے میں

Read more

راشٹر پتی بھون میں پہلا سیاستداں

پرنب مکھرجی وزیر خزانہ بنے اور دوسرا سلو ڈاؤن (مندی) اُن کے دور میں آیا۔ پرنب مکھرجی نے یہ تاثر دیا کہ چونکہ عالمی اقتصادیات میں سلو ڈاؤن آیا ہے، جس کا اثر ہندوستانی اقتصادیات پر پڑا ہے اور اسی کی وجہ سے ہمارے یہاں پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ سب سے خراب مندی کا دور 2008 میں آیا تھا۔ اس وقت نہ وزیر خزانہ نے کہا اور نہ کسی ماہر اقتصادیات نے کہا کہ اس سے ہندوستان کی اقتصادیات متاثر ہوگی۔ لیکن آج سلو ڈاؤن آیا اور سلو ڈاؤن کے آتے ہی یہ بیان آیا کہ ہماری اقتصادیات ڈگمگا سکتی ہے۔

Read more

اف! اتنی شرائط : مسلم طلبہ کو اسکالرشپ ملے تو کیسے؟

وسم احمد
ہندوستان میں آج بھی 41 فیصد سے زائد آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور خواندگی کی صورت حال بھی ابتر ہے ۔ مردوں میں 82.14 اور خواتین میں 65.46 فیصدکا اوسط ہے ۔کسی بھی ملک میں اس طرح کی صورت حال جہالت اور بچہ مزدوری جیسے حالات پیدا کرتی ہے۔ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تعلیمی اسکالر شپ ایک ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیمی اسکالر

Read more

غلط راہ پر نکلے رام دیو

بابا رام دیو کوئی سیاسی آدمی نہیں ہیں۔ وہ ایک یوگی ہیں۔ پچھلی بار کی رام لیلا میدان کی تحریک ناکام رہی۔ اس ناکامی سے بابا رام دیو نے سبق نہیں لیا۔ وہ پھر اسی راہ پر چل رہے ہیں، ایسے لوگوں سے مل رہے ہیں جن کی فطرت ہی دھوکہ دینے کی ہے۔ پچھلی بار کی تحریک میں سب سے بڑا جھٹکا تب لگا، جب کانگریس نے خفیہ سمجھوتے کی بات عام کردی۔ لوگوں کو یقین نہیں ہوا کہ بابا ایک طرف سرکار کے خلاف اَنشن کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ سرکار کے نمائندوں کے ساتھ سمجھوتہ بھی کر رہے تھے۔ حالانکہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چھوٹی یا بڑی، زیادہ تر تحریک میں لوگ اس قسم کی حکمت عملی بنا کر چلتے ہیں، تاکہ اَنشن یا تحریک کو ختم کرنے کا راستہ بنا رہے۔ لیکن بابا رام دیو نے جس طرح سے سرکار کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور جس طرح سے بات چیت پٹری سے اتر گئی، اس سے یہی ثابت ہوا کہ بابا رام دیو سیاسی فیصلے نہیں لے سکتے اور نہ ہی وہ سیاست دانوں سے نمٹنا جانتے ہیں۔

Read more

بی جے پی میں گینگ وار

سنتوش بھارتیہ
سنجے جوشی سے استعفیٰ لینے کے پیچھے ایک مزیدار کہانی ہے۔ ممبئی ایگزیکٹیو کے وقت جب فیصلہ لینے کا موقع آیا تو اس میٹنگ میں لال کرشن اڈوانی اور ارون جیٹلی نہیں تھے، نتن گڈکری خاموش تھے۔ تمام ممبران نے کہا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، سنجے جوشی سے استعفیٰ نہیں مانگنا چاہیے۔ جب یہ معاملہ سریش سونی کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا کہ سنجے جوشی ایگزیکٹیو میں رہیں یا نہ رہیں، لیکن نریندر مودی کا رہنا ضروری ہے، کیوں کہ نریندر مودی نہ صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں، بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا والے

Read more

مسلم ریزرویشن: جو حکومت دینا نہیں چاہتی

ایسا لگتا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو بیوقوف سمجھتی ہے اور اسے اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اس قوم میں چونکہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور یہ قوم تعلیمی و اقتصادی لحاظ سے پسماندہ ہے اس لئے اس کے ساتھ کھلواڑ کی جا سکتی ہے۔الیکشن کے موقع پر سلمان خورشید نے مسلم ووٹ بینک کے لئے 9.5 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہہ ڈالی مگر حقیقت یہ ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی ۔اگر وہ مسلمانوں کی پسماندگی پر سنجیدہ ہوتی تو رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی سفارشات پر ضرور عمل کرتی۔

Read more

ممبئی: مہاراشٹر حکومت کی آرام نگر کو بیچنے کی سازش

سے ممبئی آئے۔ سارا بھائی کمپنی میں نوکری ملی اور کمپنی کی ہی سفارش سے آرام نگر کے اس بیرک میں رہنے کو ایک چھوٹا سا گھر ملا۔ بچپن سے جوانی تک اور اب بڑھاپا اسی علاقہ، اسی گھر میں گزر رہا ہے، لیکن اب ان کے آشیانے کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ اسی طرح للتا پاٹنکر کے والد مدھوکر سدا شیو پاٹنکر مجاہد آزادی تھے۔ 1946 میں مرارجی بھائی دیسائی کے بھائی سی آر دیسائی کی سفارش پر انہیں آرام نگر کے بیرک میں مکان نمبر 50 رہنے کو ملا۔ لیکن اب للتا پاٹنکر کے سر سے کبھی بھی چھت غائب ہو

Read more