انتخابی نتائج: قومی پارٹیاں اپنی شناخت کھو رہی ہیں

سنتوش بھارتیہ
تاریخ کروٹ لینے جا رہی ہے، اور جب تاریخ کروٹ لینے والی ہوتی ہے تو اس کا اشارہ وہ پہلے سے ہی کر دیتی ہے۔ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جوکسی کی جیت یا کسی کی شکست سے بڑا اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم اس سے سبق لیں یا نہ لیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم اس سے سبق لینا چاہیں تو سبق بالکل صاف اور واضح ہے کہ تاریخ کروٹ لینے والی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پانڈیچیری کے لوگ شامل ہیں،نے فیصلہ کن نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں اور یہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایشوز جنھیں ہم نے مان لیا تھا کہ وہ اب ایشو نہیں ہیں، حقیقتاً وہ ایشو ہیں۔ ان انتخابات

Read more

…..ایک تھا اسامہ

ڈاکٹر منیش کمار
سیڑھیوںپر اپنی جان بچاتے دوڑتے، بھاگتے اور ہانپتے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے ممبران پارلیمنٹ۔ کوئی گر رہا ہے، کوئی دوسرے کو دھکا دے رہا ہے۔ سب جان بچا کر بھاگنے میں لگے ہیں۔ یہ آنکھوں پر بھروسہ کرنے والا نظارہ نہیں ہے۔ 9 ستمبر 2001 سے قبل یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کے ممبران پارلیمنٹ اپنے ہی پارلیمنٹ ہاؤس سے جان بچا کر اس طرح بھاگتے ہوئے نظر آئیںگے۔ ایک بار، دو بار نہیں، 2001 کے بعد ایسا نظارہ کئی بار دیکھا گیا۔ 31 جنوری 2007 کو تو حد ہی ہوگئی۔ امریکہ کے بوسٹن شہر میں کسی کمپنی کی تشہیر کے لیے کئی جگہوں پر ایل ای ڈی بورڈ لگا دئے۔ دور سے دیکھنے میں یہ بم کی طرح نظر آرہے تھے۔ خبر پھیلتے ہی شہر پر فوجی ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے۔ ٹی وی پر لائیو دکھایا جانے لگا۔ شہر کے لوگ گھروں میں دبک گئے۔ ایسا لگا کہ کسی سیریل بلاسٹ کی اسکیم ہے

Read more

انل امبانی جیل میں کیوں نہیں

ڈاکٹر منیش کمار
آج کے زمانے میں امر سنگھ جیسا دوست ملنا مشکل ہے، جن کے پاس امرسنگھ جیسے دوست ہوں، ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتاہے۔ کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ جو دوست کے لیے پوری دنیا سے لڑ جائیں۔ امر سنگھ نے یہی کیا، سینہ ٹھونک کر کیا۔ یہ صرف امرسنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ جن لوک پال بل کے نام پر پورا ملک اناہزارے کا ساتھ دے رہا تھا۔ حکومت ڈری ہوئی تھی، سیاسی پارٹیاں خاموش تھیں، لیڈر میڈیا سے دور بھاگ رہے تھے۔ ایسے میںلہر کے خلاف امرسنگھ کی زبردست انٹری ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں پوری تحریک کی ہوا نکال دی۔ امرسنگھ کے الزامات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ان کی ہمت کی داد تو دینی ہی پڑے

Read more

!ویلفیئر پارٹی آف انڈیا : مسلمانوں کی توقعات پر کتنی کھری اترے گی

فردوس خان
ایک نئی پارٹی بنی ہے۔ اس پارٹی کی افتتاحی تقریب میں ایک عیسائی پادری نے گائتری منتر پڑھا تو تعجب ہوا، کیوں کہ اس پارٹی کیبنیاد میں جماعت اسلامی ہے، جس کے بارے میں لوگ یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک کٹر مسلم تنظیم ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں سوچتی ہے، صرف نعرے ہی دیتی ہے۔ ہندوستانی سیاست میں موقع پرستی کے درمیان یہ مسلمانوں کی ضرورت بن گئی تھی کہ ایک ایسی سیاسی جماعت ہو جو مسلمانوں کے درد سمجھے

Read more

چھبیس لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ

سدھارتھ رائے
اگر 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ملک کے سبھی گھوٹالوں کی ماں ہے توآج جس گھوٹالے کا چوتھی دنیا پردہ فاش کر رہا ہے، وہ ملک میں ہوئے اب تک کے سبھی گھوٹالوں کا باپ ہے۔چوتھی دنیا آپ کو اب تک کے سب سے بڑے گھوٹالے سے رو برو کرا رہا ہے۔ ملک میں کوئلہ الاٹمنٹ کے نام پر تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی ہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ یہ گھوٹالہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورہ اقتدار میں ہی نہیں انہی کی وزارت میں ہوا ہے۔ یہ ہے کوئلہ گھوٹالہ۔ کوئلے کو کال

Read more

بدعنوان نظام کو اڑا لے جائے گی انا کی آندھی

ڈاکٹر منیش کمار
ملک بھر میں انا ہزار ے کی جے جے کار ، بدعنوانی کے خلاف تحریک کی گونج،شہری نوجوانوں کا سڑکوں پر اترنا، کینڈل مارچ کرنا،یہ تمام باتیںایک نئی سیاست کے آغاز کا اشارہ ہیں۔ ہندوستان کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جس نے بر سر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے معنی ہی بدل دئے ہیں۔ کانگریس پارٹی، بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوںکے ساتھ نوکر شاہی ہے اور اس کی مخالفت میں ملک کے عوام کھڑے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ایک جانب ملک چلانے والے لوگ ہیں اور دوسری جانب ملک کے عوام ہیں۔ آج دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ملک چلانے والوں نے سرکاری مشینری کو اتنا مضر بنا دیا ہے کہ لوگوں کا اعتماد منتشر ہونے لگا ہے۔سیاسی جماعتوں کی ساکھ دائو پر ہے۔ ایک

Read more

مسلمانوں کے سیاسی رجحانات

شبیہ احمد
ہندوستانی الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق مئی 2011 میں ہندوستان کے چار اہم صوبوں یعنی مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو اور کیرالہ میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے جارہے ہیں اور ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریںگے کہ آنے والا ہندوستان سیاسی طور پر کس طرف جائے گا؟ آیا یوپی اے اور اس کی ہمنوا پارٹیوں کا دبدبہ آسام و تمل ناڈو میں برقرار رہتا ہے یا وہاں کانگریس اور ڈی ایم کے محاذ کو بالترتیب باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کیرالہ اور م

Read more

نقلی نوٹ، ریزروبینک اور حکومت

ڈاکٹر منیش کمار

ملک کے ریزروبینک کے والٹ پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا۔ اسے وہاں 500 اور 1000 روپے کے نقلی نوٹ ملے۔ اعلیٰ افسران سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی۔ دراصل سی بی آئی نے نیپال، ہندبارڈر کے60 سے70 مختلف بینکوں کی برانچوں پرچھاپہ ماراتھا، جہاں سے نقلی نوٹوںکا کاروبار چل رہاتھا۔ ان بینکوں کے افسران نے کہا کہ انہیں یہ نقلی نوٹ ہندوستان کے ریزروبینک سے مل رہے ہیں۔ اس پورے واقعہ کو حکومت ہند نے ملک سے اور ملک کی پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھا۔ یا شاید سی بی آئی نے حکومت ہند کو واقعہ کے بارے میں کچھ بتایاہی نہیں۔ ملک اندھیرے میں اور ملک کو تباہ کرنے والے روشنی میں۔ آئیے آپ کو آزاد ہند کی سب سے بڑی مجرمانہ سازش کے بارے میں بتاتے ہیں ،جسے ہم نے پانچ مہینے

Read more

لگتا ہے کانگریس پر رام دیو کے الزامات صحیح ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست اور روحانیت میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ روحانیت انسان کو خاموش کردیتی ہے، جبکہ سیاست میں خاموشی سب سے بڑا گناہ ثابت ہوتا ہے۔بابارام دیو کے حملے کے بعد کانگریس پارٹی روحانیت کی طرف چلی گئی ہے۔اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔یہ خاموشی کسی منصوبہ یا حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے بلکہ خوف کا نتیجہ ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے حامیوں نے بلیک منی کی آڑ میں گاندھی کنبہ پر حملے کیے۔ ان لوگوں نے الزام لگا یا کہ راہل گاندھی کو روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے پیسے ملتے ہیں۔راجیو گاندھی نے سوئس بینک میں بلیک منی جمع کی۔کانگریس حکومت نے قطروچی کے بیٹے کو انڈمان نکوبار میں تیل کی کھدائی کا ٹھیکہ دیا۔بلیک منی جمع کرانے والوں میںمرکزی وزیر ولاس راؤ

Read more