نقلی نوٹ، ریزروبینک اور حکومت

ڈاکٹر منیش کمار

ملک کے ریزروبینک کے والٹ پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا۔ اسے وہاں 500 اور 1000 روپے کے نقلی نوٹ ملے۔ اعلیٰ افسران سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی۔ دراصل سی بی آئی نے نیپال، ہندبارڈر کے60 سے70 مختلف بینکوں کی برانچوں پرچھاپہ ماراتھا، جہاں سے نقلی نوٹوںکا کاروبار چل رہاتھا۔ ان بینکوں کے افسران نے کہا کہ انہیں یہ نقلی نوٹ ہندوستان کے ریزروبینک سے مل رہے ہیں۔ اس پورے واقعہ کو حکومت ہند نے ملک سے اور ملک کی پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھا۔ یا شاید سی بی آئی نے حکومت ہند کو واقعہ کے بارے میں کچھ بتایاہی نہیں۔ ملک اندھیرے میں اور ملک کو تباہ کرنے والے روشنی میں۔ آئیے آپ کو آزاد ہند کی سب سے بڑی مجرمانہ سازش کے بارے میں بتاتے ہیں ،جسے ہم نے پانچ مہینے

Read more

لگتا ہے کانگریس پر رام دیو کے الزامات صحیح ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست اور روحانیت میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ روحانیت انسان کو خاموش کردیتی ہے، جبکہ سیاست میں خاموشی سب سے بڑا گناہ ثابت ہوتا ہے۔بابارام دیو کے حملے کے بعد کانگریس پارٹی روحانیت کی طرف چلی گئی ہے۔اس نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔یہ خاموشی کسی منصوبہ یا حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے بلکہ خوف کا نتیجہ ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے حامیوں نے بلیک منی کی آڑ میں گاندھی کنبہ پر حملے کیے۔ ان لوگوں نے الزام لگا یا کہ راہل گاندھی کو روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے پیسے ملتے ہیں۔راجیو گاندھی نے سوئس بینک میں بلیک منی جمع کی۔کانگریس حکومت نے قطروچی کے بیٹے کو انڈمان نکوبار میں تیل کی کھدائی کا ٹھیکہ دیا۔بلیک منی جمع کرانے والوں میںمرکزی وزیر ولاس راؤ

Read more

مایوس نوجوانوں کے سہارے کی ضرورت

بمل رائے
گرد کے غبار میں آگ کی تصاویر دھندلی نظر آتی ہیں، لیکن وہ آگ اگر کسی انسان کے بدن میں لگی ہو تو کسی بھی دیکھنے والے کے جذبات کو جھلسانے کے لیے کافی ہے۔بنگال میں اس وقت انتخابی گرد کا کہرا ہے اور پرسون دتا جیسے بے روزگار نوجوان کی خود کشی کی کوشش ، اور وہ بھی بنگال کی امید ممتا بنرجی کے گھر کے سامنے ، ایک قومی ایشو بنتا ہے۔انتخابی موسم میں ویسے تو بہت سارے ایشو ایک ساتھ تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن پرسون کا معاملہ کئی معاملوں میں الگ ہے۔ریاست میں الیکشن کرانے کے اعلان کے بعد 6مارچ کو مایوس بے رو زگار نو جوان پرسون دتا ممتا کے کالی گھاٹ والے گھر آتا ہے۔ آفس کے ملازمین سے پہلے وہ اپنی دیدی کے بارے میں پوچھتا ہے۔جب اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ دہلی می

Read more

!گودھرا انصاف پر سوال

وصی احمد نعمانی
گودھرا حادثہ سے متعلق عدالتی فیصلہ نے صاحب عقل و شعور، فہم و ذکاء کو بے چین کردیا ہے۔ عدالتیں بہرحال اس بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں کہ اس کے سامنے کس طرح کے گواہان اور شہادتیں پیش کی گئی ہیں، انہیں کو بنیاد مان کر عدالتیں اپنے فیصلے کے رخوں کو موڑتی ہیں۔ اس کے باوجود بہت سی موشگافیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوت و دلائل کے ساتھ عدالت کے فیصلے کے طرز اور ’’مواد‘‘ کو سراہنے اور انہیں ماننے کی وجوہ پر اپنی نگاہیں کھلی رکھ کر، پھر فیصلہ کی تعریف، تنقید کرتی ہیں۔ احمدآباد کی فاسٹ ٹریک عدالت کے موجودہ فیصلہ کو قانون

Read more

!بابا رام دیو سنت نہیں ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست کاجل کی کالی کوٹھری ہے۔ ایسے بہت کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کالی کوٹھری میں گھس جائیں۔ بابا رام دیو سیاست کی اس کالی کوٹھری میں گھسے ہی نہیںکہ ان کے دامن پر داغ لگنے لگے ہیں۔پہلے کانگریس پارٹی کے دگوجے سنگھ نے بابا کو ملنے والی بلیک منی کی جانچ کا مطالبہ کیا۔اب بابا رام دیو سنت سماج کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب سیاست کا سامنا سنتوں سے ہوا سیاست ہاری ہے سنت ہمیشہ جیتے ہیں۔دگوجے سنگھ کے بیان کے بعد بابا رام دیو نے ہنکار بھری اور یہ بول گئے کہ وہ آج ہزاروں کروڑ کے برانڈ بن چکے ہیں۔کیا سنت برانڈ بن سکتے ہیں؟ کیا دھرم کا دھندا کیا جا سکتا ہے؟کیا یوگ کی مارکیٹنگ ہندو دھرم کی روایت کے مطابق ہے؟ملک اور دھرم سے جڑے انہی

Read more

!نتیش صاحب: بہار کی سیاست میں یو ٹرن نہیں ہوتا

ڈاکٹر منیش کمار
بہار کے عوام نے تاریخی اور ناقابل یقین مینڈیٹ دیا۔ انتخابی نتائج سے بہار کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پورے ملک میں بہار ان نتائج کی وجہ سے موضوع بحث بنا رہا ۔ چاروں طرف نتیش کمار اور بہار کے عوام کے قصیدے پڑھے گئے۔ نتیش کمار کو بہار کے عوام نے وزیراعلیٰ سے وزیراعظم کا دعویدار بنا دیا۔ بہار کے عوام کو جو کرنا تھا، وہ تو کردیا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس رائے عامہ کا نتیش کمار نے کس طرح استعمال کیا۔ وزیراعلیٰ نے عوامی رائے سے کیا سبق لیا۔ بہار کو بہتر بنانے کے لیے نتیش کمار نے کی

Read more

بی جے پی میں خانہ جنگی عوام کے لئے مصیبت

ڈاکٹر منیش کمار
بی جے پی کے سینئر لیڈران کی فوج میں خاموش خانہ جنگی چل رہی ہے۔ہر لیڈر دوسرے لیڈر کو پیچھے چھوڑ کر آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بننا چاہتا ہے۔دہلی میں رہ کر میڈیا میں بیان دینے والے لیڈران کے درمیان سرد جنگ چل رہی ہے۔ پارٹی میں حاشیہ پر گئے ،عوام میں مقبول لیڈر لڑ رہے ہیں ،جو لوگ پارٹی سے باہر گئے ہیں وہ گرو ہ بندی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ کچھ لیڈر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ساتھ مل کراپنے حساب سے اس ریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔بی جے پی کی خانہ جنگی کا سب سے بڑا نقصان ملک کے عوام کو ہو رہا ہے۔ ملک میں مہنگائی ہے ، بدعنوانی ہے ، بے روزگاری ہے، گھوٹالے پر گھوٹالے ہو رہے ہیں اور بی جے پی خانہ پری کے لئے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کر رہی ہے۔عوام کی پری

Read more

مغربی ایشیا میں انقلاب: جمہوریت کیلئے لڑ رہا مسلمان

ڈاکٹر منیش کمار
جب بھی کسی ملک میں لوگ سڑکوں پر بے روزگاری، مہنگائی، غریبی یا کسی مطالبہ کو لے کر حکومت کے خلاف کمربستہ ہوتے ہیں تو اسے تحریک کہا جاتا ہے۔لیکن جب کوئی تحریک بغاوت کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، جب کسی تحریک کا مقصد اقتدار بدلنا ہوتا ہے تو اسے انقلاب کہتے ہیں۔ مصر میں جو ہو رہا ہے وہ محض کوئی عوامی اشتعال نہیں، کوئی معمولی تحریک نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو صرف مصر تک محدود رہنے والا نہیں ہے بلکہ پورے مغربی ایشیا میں اقتدار بدلنے کا ذری

Read more

گھوٹالوں کی عظیم الشان کہانی

سدھارتھ رائے
کسی بھی جمہوریت کی صحت اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ ا س کے تینوں ستون مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے درمیان کیسے رشتے ہیں اور ان تینوں میں جواب دہی باقی ہے یا نہیں؟ آج ہندوستان کی حالت بھی انہی دو اسباب کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ گزشتہ سال ہندوستان میں بدعنوانی اور گھوٹالوں کا بول بالا رہا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہندوستان میں گھوٹالے نہیں گھوٹالوں میں ہندوستان ہے۔ عوام جہاں مہنگائی سے بدحال ہوئے جارہے ہیں، وہیں ہمارے لیڈر اور سرکاری افسر قوانین کو طاق پر رکھ کر بے شرمی سے عوام کا پیسہ دبا ر

Read more

!خدا گنجے کو بھی ناخون دیتا ہے

سنتوش بھارتیہ
مرکزی کابینہ میں توسیع کا شور ایک سال سے مچ رہا تھا۔ مانا جارہا تھا کہ بڑا پھیر بدل ہوگا اور وہ وزراء نہیں رہیںگے جن کے کام کا کوئی اثر نہیں نظر آرہا تھا ۔اور وہ بھی نہیں رہیںگے جن کے خلاف سنگین الزامات لگے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ یہی راز ہے اور اس راز کے پیچھے ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ کئی لوگوں کی آئی بی کلیئرنس لے لی گئی، لیکن انہیں کابینہ میں نہیں لیا گیا اور جنہیں لیا گیا ان کے بارے میں کانگریس پارٹی میں بحثیں جاری ہیں۔ ان سب باتوں کی جڑ میں منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ہیں۔ کابین

Read more