لائن میں کھڑا کیا گولی ماری اور لاشیں بہادیں

ڈاکٹر منیش کمار
اگر انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے محروم ہونا ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مئی 1987 میں میرٹھ میں ہونے والے فساد کو اب 25 سال پورے ہونے والے ہیں۔ اس فساد کی سب سے دردناک داستان ملیانہ گاؤں اور ہاشم پورہ میں لکھی گئی۔ خاکی وردی والوں کا جرم ہٹلر کی نازی فوج کی یاد دلاتا ہے۔ ملیانہ اور ہاشم پورہ کی سچائی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے نظامِ قانون پر یہ ایک ایسا سیاہ دھبّہ ہے جس پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہتے اور معصوموں پر گولی چلانے والے گنہگار آزاد گھوم رہے ہیں، اور جنھوں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو کھو دیا وہ در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ ملیانہ کے گنہگاروں کو سزا ملنا تو دور، ڈھنگ سے عدالتی کارروائی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ ملیانہ گاؤں کے لوگ بات کرتے ہی ہچکیاں لے کر رونا شروع

Read more

عوام سے دوری مایاوتی کو مہنگی پڑ سکتی ہے

اجے کمار
دو ہزار سات میں چوتھی بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والی مایاوتی کا آغاز جتنا اچھا تھا، انجام اتنا ہی خراب لگ رہا ہے۔ ان کی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور اگلے سال انتخابات ہونے ہیں، لیکن مایاوتی کے پاس ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے جس کے دم پر وہ عوام سے ووٹ کی اپیل کریںگی۔ ان چار سالوں میں مایاوتی عرش سے فرش پر آگئی ہیں، لیکن اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں مایاوتی سرکار کی اہمیت اس سے بہتر ہو، صرف ایک سال اورہے، اس کے بعد عوام خود تیار کریںگے مایاوتی سرکار کا رپورٹ کارڈ۔ عوام کی نظروں میں مایاوتی کی شبیہ ٹھیک ویسی ہی ہے، جیسی مخالف جماعتیں پروپیگنڈہ کر رہی ہیں یا پھر ان کے کام کاج سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ اس بات کا فیصلہ 2012 میں ہوجائے گا۔ بی ایس پی نے پانچ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا، اس ک

Read more

انتخابی نتائج: قومی پارٹیاں اپنی شناخت کھو رہی ہیں

سنتوش بھارتیہ
تاریخ کروٹ لینے جا رہی ہے، اور جب تاریخ کروٹ لینے والی ہوتی ہے تو اس کا اشارہ وہ پہلے سے ہی کر دیتی ہے۔ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جوکسی کی جیت یا کسی کی شکست سے بڑا اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم اس سے سبق لیں یا نہ لیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم اس سے سبق لینا چاہیں تو سبق بالکل صاف اور واضح ہے کہ تاریخ کروٹ لینے والی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پانڈیچیری کے لوگ شامل ہیں،نے فیصلہ کن نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں اور یہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایشوز جنھیں ہم نے مان لیا تھا کہ وہ اب ایشو نہیں ہیں، حقیقتاً وہ ایشو ہیں۔ ان انتخابات

Read more

…..ایک تھا اسامہ

ڈاکٹر منیش کمار
سیڑھیوںپر اپنی جان بچاتے دوڑتے، بھاگتے اور ہانپتے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے ممبران پارلیمنٹ۔ کوئی گر رہا ہے، کوئی دوسرے کو دھکا دے رہا ہے۔ سب جان بچا کر بھاگنے میں لگے ہیں۔ یہ آنکھوں پر بھروسہ کرنے والا نظارہ نہیں ہے۔ 9 ستمبر 2001 سے قبل یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کے ممبران پارلیمنٹ اپنے ہی پارلیمنٹ ہاؤس سے جان بچا کر اس طرح بھاگتے ہوئے نظر آئیںگے۔ ایک بار، دو بار نہیں، 2001 کے بعد ایسا نظارہ کئی بار دیکھا گیا۔ 31 جنوری 2007 کو تو حد ہی ہوگئی۔ امریکہ کے بوسٹن شہر میں کسی کمپنی کی تشہیر کے لیے کئی جگہوں پر ایل ای ڈی بورڈ لگا دئے۔ دور سے دیکھنے میں یہ بم کی طرح نظر آرہے تھے۔ خبر پھیلتے ہی شہر پر فوجی ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے۔ ٹی وی پر لائیو دکھایا جانے لگا۔ شہر کے لوگ گھروں میں دبک گئے۔ ایسا لگا کہ کسی سیریل بلاسٹ کی اسکیم ہے

Read more

انل امبانی جیل میں کیوں نہیں

ڈاکٹر منیش کمار
آج کے زمانے میں امر سنگھ جیسا دوست ملنا مشکل ہے، جن کے پاس امرسنگھ جیسے دوست ہوں، ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتاہے۔ کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ جو دوست کے لیے پوری دنیا سے لڑ جائیں۔ امر سنگھ نے یہی کیا، سینہ ٹھونک کر کیا۔ یہ صرف امرسنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ جن لوک پال بل کے نام پر پورا ملک اناہزارے کا ساتھ دے رہا تھا۔ حکومت ڈری ہوئی تھی، سیاسی پارٹیاں خاموش تھیں، لیڈر میڈیا سے دور بھاگ رہے تھے۔ ایسے میںلہر کے خلاف امرسنگھ کی زبردست انٹری ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں پوری تحریک کی ہوا نکال دی۔ امرسنگھ کے الزامات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ان کی ہمت کی داد تو دینی ہی پڑے

Read more

!ویلفیئر پارٹی آف انڈیا : مسلمانوں کی توقعات پر کتنی کھری اترے گی

فردوس خان
ایک نئی پارٹی بنی ہے۔ اس پارٹی کی افتتاحی تقریب میں ایک عیسائی پادری نے گائتری منتر پڑھا تو تعجب ہوا، کیوں کہ اس پارٹی کیبنیاد میں جماعت اسلامی ہے، جس کے بارے میں لوگ یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک کٹر مسلم تنظیم ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں سوچتی ہے، صرف نعرے ہی دیتی ہے۔ ہندوستانی سیاست میں موقع پرستی کے درمیان یہ مسلمانوں کی ضرورت بن گئی تھی کہ ایک ایسی سیاسی جماعت ہو جو مسلمانوں کے درد سمجھے

Read more

چھبیس لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ

سدھارتھ رائے
اگر 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ملک کے سبھی گھوٹالوں کی ماں ہے توآج جس گھوٹالے کا چوتھی دنیا پردہ فاش کر رہا ہے، وہ ملک میں ہوئے اب تک کے سبھی گھوٹالوں کا باپ ہے۔چوتھی دنیا آپ کو اب تک کے سب سے بڑے گھوٹالے سے رو برو کرا رہا ہے۔ ملک میں کوئلہ الاٹمنٹ کے نام پر تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی ہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ یہ گھوٹالہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورہ اقتدار میں ہی نہیں انہی کی وزارت میں ہوا ہے۔ یہ ہے کوئلہ گھوٹالہ۔ کوئلے کو کال

Read more

بدعنوان نظام کو اڑا لے جائے گی انا کی آندھی

ڈاکٹر منیش کمار
ملک بھر میں انا ہزار ے کی جے جے کار ، بدعنوانی کے خلاف تحریک کی گونج،شہری نوجوانوں کا سڑکوں پر اترنا، کینڈل مارچ کرنا،یہ تمام باتیںایک نئی سیاست کے آغاز کا اشارہ ہیں۔ ہندوستان کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جس نے بر سر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے معنی ہی بدل دئے ہیں۔ کانگریس پارٹی، بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوںکے ساتھ نوکر شاہی ہے اور اس کی مخالفت میں ملک کے عوام کھڑے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ایک جانب ملک چلانے والے لوگ ہیں اور دوسری جانب ملک کے عوام ہیں۔ آج دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ملک چلانے والوں نے سرکاری مشینری کو اتنا مضر بنا دیا ہے کہ لوگوں کا اعتماد منتشر ہونے لگا ہے۔سیاسی جماعتوں کی ساکھ دائو پر ہے۔ ایک

Read more

مسلمانوں کے سیاسی رجحانات

شبیہ احمد
ہندوستانی الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق مئی 2011 میں ہندوستان کے چار اہم صوبوں یعنی مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو اور کیرالہ میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے جارہے ہیں اور ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریںگے کہ آنے والا ہندوستان سیاسی طور پر کس طرف جائے گا؟ آیا یوپی اے اور اس کی ہمنوا پارٹیوں کا دبدبہ آسام و تمل ناڈو میں برقرار رہتا ہے یا وہاں کانگریس اور ڈی ایم کے محاذ کو بالترتیب باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کیرالہ اور م

Read more