تیل کمپنیاں یا سرکار : ملک کون چلا رہا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
یہ کیسی سرکار ہے، جو عوام کے خرچ کو بڑھا رہی ہے اور معیارِ زندگی کو گرا رہی ہے۔ ویسے دعویٰ تو یہ ٹھیک اس کے برخلاف کرتی ہے۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کہتے ہیں کہ سرکار اپنی پالیسیوں کے ذریعہ شہریوں کی کاسٹ آف لیونگ کو گھٹانا اور معیارِ زندگی کو بلند کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ کون سی مجبوری ہے، جس کی وجہ سے پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔ وزیر برائے پٹرولیم جے پال ریڈی کہتے ہیں کہ وہ اقتصادیات اور شہرت کے درمیان پھنس گئے۔ ویسے یہ اچھا بہانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قیمتیں اس لیے بڑھائی گئی ہیں، کیوں کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک جھوٹ ہے۔ وہ اس لیے، کیوں

Read more

منموہن سنگھ صدر اور راہل گاندھی وزیراعظم بنیں گے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان کے ایک طاقتور وزیر نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو ملنے کے لیے بلایا۔ جب وہ ملنے آئے تو اس وزیر نے چائے منگوائی۔ جب چائے کا پہلا گھونٹ وزیر اور سی بی آئی ڈائریکٹر نے لے لیا تو وزیر نے کچھ کہنا چاہا۔ سی بی آئی ڈائریکٹر نے انہیں روکتے ہوئے بڑے ادب سے کہا کہ وزیر صاحب، آپ نے بلایا، میں پروٹوکول کے تحت آپ سے ملنے چلا آیا۔ پروٹوکول کہتا ہے کہ جب بھی کوئی مرکزی وزیر بلائے، مجھے جانا چاہیے۔ لیکن اب جو بھی آپ مجھے کہیں گے یا حکم دیں گ

Read more

اب لوک پال نہیں بنے گا

ڈاکٹر منیش کمار
جس بات کا ڈر تھا وہی سچ ہونے جا رہا ہے۔ ملک میں اب ایک سچا اور بدعنوانیوں سے نجات دلانے والا لوک پال نہیں بنے گا۔ اس کے لیے حکومت، کانگریس پارٹی ، اپوزیشن پارٹیاں اور انا ہزارے ذمہ دار ہیں۔ ان سب سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ ایسی غلطیاں جسے ملک کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ لوک پال کے نام پر ملک میں جو سیاسی ماحول بنا ہے وہ باکسنگ سے کم نہیں ہے، جسے جہاں موقع ملتا ہے پنچ مار دیتا ہے۔ کانگریس انا ہزارے کو کبھی آر ایس ایس کا ایجنٹ بتاتی ہے تو کبھی تانا شاہ۔ انا ہزارے اور ان کے معاون حکومت کو دھوکہ باز اور جھوٹا بتاتے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارتی اور کانگریس میں الگ تو تو میں میں چل رہی ہے ۔ ملک کے عوام بدعن

Read more

بابا رام دیو چوک گئے

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست بھی عجیب و غریب کھیل ہے، اسی لیے اسے ’گیم آف امپوسیبل‘ کہا گیا ہے۔ یہ ایسا کھیل ہے، جس میں بڑے بڑے کھلاڑی کو مات کھانے میں دیر نہیں لگتی، چھوٹے کھلاڑی بازی مار لے جاتے ہیں اور کبھی کبھی سب سے تجربہ کار کھلاڑی بھی کسی نو آموز کی طرح کھیل جاتا ہے۔ یہ کس نے سوچا تھا کہ بابا رام دیو کی مہم کا یہ انجام ہوگا۔ یہ کس نے سوچا تھا کہ منموہن سنگھ جیسے امن پسند لوگ رات کے ایک بجے سو رہی عورتوں اور بچوں پر لاٹھیاں برسا نے اور غیر مشتعل تحریک پر آنسو گیس کے گولے داغنے کا فرمان جاری کر دیں گے۔ بابا کی تحریک کا ایسا حشر کیوں ہوا اور سرکار نے اس تحریک کو طاقت سے کچلنے کا فی

Read more

مسلمانوں کی ترقی کے بغیر ، ہندوستان مضبوط نہیں ہو سکتا

ڈاکٹر منیش کمار
بہار میں حیرت انگیز کارنامے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے مسائل پر سیمینار ہو، مقررین سیاسی جماعتوں کے لیڈر اور سماجی کارکن ہوں اور کوئی آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کی بات نہ کرے، اگر کوئی سنگھ پریوار اور بجرنگ دل کو قصوروار اور مجرم نہ بتائے، اگر بابری مسجد کا ایشو نہ اٹھے، اگر کوئی جذباتی تقریر نہ کرے، اگر مولانا اور مولوی اسلام پر آنے والے خطرات کو چھوڑ کر، تعلیم اور نوکری کی باتیں کرنے لگیں، تو حیرانی ہوتی ہیہے اور ہونی بھی چاہیے۔ حیرت کی وجہ سنگھ پریوار کا نام نہ لیا جانا نہیں ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ اپنے تیسرے سیمینار میں ہی ای ٹی وی نے پوری دنیا کے سامنے مسلم سماج کی بدلتی تصویر کو بڑ

Read more

لائن میں کھڑا کیا گولی ماری اور لاشیں بہادیں

ڈاکٹر منیش کمار
اگر انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے محروم ہونا ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مئی 1987 میں میرٹھ میں ہونے والے فساد کو اب 25 سال پورے ہونے والے ہیں۔ اس فساد کی سب سے دردناک داستان ملیانہ گاؤں اور ہاشم پورہ میں لکھی گئی۔ خاکی وردی والوں کا جرم ہٹلر کی نازی فوج کی یاد دلاتا ہے۔ ملیانہ اور ہاشم پورہ کی سچائی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے نظامِ قانون پر یہ ایک ایسا سیاہ دھبّہ ہے جس پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہتے اور معصوموں پر گولی چلانے والے گنہگار آزاد گھوم رہے ہیں، اور جنھوں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو کھو دیا وہ در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ ملیانہ کے گنہگاروں کو سزا ملنا تو دور، ڈھنگ سے عدالتی کارروائی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ ملیانہ گاؤں کے لوگ بات کرتے ہی ہچکیاں لے کر رونا شروع

Read more

عوام سے دوری مایاوتی کو مہنگی پڑ سکتی ہے

اجے کمار
دو ہزار سات میں چوتھی بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والی مایاوتی کا آغاز جتنا اچھا تھا، انجام اتنا ہی خراب لگ رہا ہے۔ ان کی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور اگلے سال انتخابات ہونے ہیں، لیکن مایاوتی کے پاس ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے جس کے دم پر وہ عوام سے ووٹ کی اپیل کریںگی۔ ان چار سالوں میں مایاوتی عرش سے فرش پر آگئی ہیں، لیکن اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں مایاوتی سرکار کی اہمیت اس سے بہتر ہو، صرف ایک سال اورہے، اس کے بعد عوام خود تیار کریںگے مایاوتی سرکار کا رپورٹ کارڈ۔ عوام کی نظروں میں مایاوتی کی شبیہ ٹھیک ویسی ہی ہے، جیسی مخالف جماعتیں پروپیگنڈہ کر رہی ہیں یا پھر ان کے کام کاج سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ اس بات کا فیصلہ 2012 میں ہوجائے گا۔ بی ایس پی نے پانچ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا، اس ک

Read more

انتخابی نتائج: قومی پارٹیاں اپنی شناخت کھو رہی ہیں

سنتوش بھارتیہ
تاریخ کروٹ لینے جا رہی ہے، اور جب تاریخ کروٹ لینے والی ہوتی ہے تو اس کا اشارہ وہ پہلے سے ہی کر دیتی ہے۔ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جوکسی کی جیت یا کسی کی شکست سے بڑا اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم اس سے سبق لیں یا نہ لیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم اس سے سبق لینا چاہیں تو سبق بالکل صاف اور واضح ہے کہ تاریخ کروٹ لینے والی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پانڈیچیری کے لوگ شامل ہیں،نے فیصلہ کن نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں اور یہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایشوز جنھیں ہم نے مان لیا تھا کہ وہ اب ایشو نہیں ہیں، حقیقتاً وہ ایشو ہیں۔ ان انتخابات

Read more

…..ایک تھا اسامہ

ڈاکٹر منیش کمار
سیڑھیوںپر اپنی جان بچاتے دوڑتے، بھاگتے اور ہانپتے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے ممبران پارلیمنٹ۔ کوئی گر رہا ہے، کوئی دوسرے کو دھکا دے رہا ہے۔ سب جان بچا کر بھاگنے میں لگے ہیں۔ یہ آنکھوں پر بھروسہ کرنے والا نظارہ نہیں ہے۔ 9 ستمبر 2001 سے قبل یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کے ممبران پارلیمنٹ اپنے ہی پارلیمنٹ ہاؤس سے جان بچا کر اس طرح بھاگتے ہوئے نظر آئیںگے۔ ایک بار، دو بار نہیں، 2001 کے بعد ایسا نظارہ کئی بار دیکھا گیا۔ 31 جنوری 2007 کو تو حد ہی ہوگئی۔ امریکہ کے بوسٹن شہر میں کسی کمپنی کی تشہیر کے لیے کئی جگہوں پر ایل ای ڈی بورڈ لگا دئے۔ دور سے دیکھنے میں یہ بم کی طرح نظر آرہے تھے۔ خبر پھیلتے ہی شہر پر فوجی ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے۔ ٹی وی پر لائیو دکھایا جانے لگا۔ شہر کے لوگ گھروں میں دبک گئے۔ ایسا لگا کہ کسی سیریل بلاسٹ کی اسکیم ہے

Read more

انل امبانی جیل میں کیوں نہیں

ڈاکٹر منیش کمار
آج کے زمانے میں امر سنگھ جیسا دوست ملنا مشکل ہے، جن کے پاس امرسنگھ جیسے دوست ہوں، ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتاہے۔ کہاں ملتے ہیں ایسے لوگ جو دوست کے لیے پوری دنیا سے لڑ جائیں۔ امر سنگھ نے یہی کیا، سینہ ٹھونک کر کیا۔ یہ صرف امرسنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ جن لوک پال بل کے نام پر پورا ملک اناہزارے کا ساتھ دے رہا تھا۔ حکومت ڈری ہوئی تھی، سیاسی پارٹیاں خاموش تھیں، لیڈر میڈیا سے دور بھاگ رہے تھے۔ ایسے میںلہر کے خلاف امرسنگھ کی زبردست انٹری ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں پوری تحریک کی ہوا نکال دی۔ امرسنگھ کے الزامات سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ان کی ہمت کی داد تو دینی ہی پڑے

Read more
Page 32 of 39« First...1020...3031323334...Last »