سونیا منموہن آمنے سامنے

سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ اس وقت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ پالیسیوں کے مسئلے میں، طریق کار کے مسئلے میں اور وِژن کے مسئلے میں بھی۔ منموہن سنگھ، چدمبرم اور پرنب مکھرجی، یہ ایک ٹیم ہے۔ اس ٹیم میں سلمان خورشید اور کپل سبل بھی شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جنہیں راہل گاندھی یا سونیا گاندھی پس

Read more

این آئی اے کی حقیقت

روبی ارون
وزیر داخلہ پی چدمبرم نے نارتھ بلاک میں بیٹھے بابوؤں اور نوکر شاہوں کو ذریعہ بناکر ملک کی داخلہ سیکورٹی کو بھی سیاست کا کھیل بنا دیا ہے۔ آپ اس کی تازہ مثال دیکھنا چاہیں تو این آئی اے یعنی قومی تفتیشی ایجنسی پر نظر ڈالیں۔ ملک کی سیکورٹی، اتحاد و سالمیت کو دہشت گردوں سے بچائے بنائے رکھنے کے لیے تشکیل دی گئی قومی تفتیشی ایجنسی کا وجود وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سیاسی داؤ پیچ اور ملک کی اندرونی سلامتی کے تئیں لاپرواہ نظریے کا شکار بن چکا ہے۔ تشکیل کے تین سالوں بعد بھی این آئی اے کے پاس نہ ت

Read more

ٹوجی گھوٹالہ میں رابرٹ وڈیرا اگلا نشانہ : سبرامنیم سوامی

بدعنوانی آج سب سے بڑا مدعا ہے۔ رام دیو بدعنوانی کو عوامی بیداری کے ذریعے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انّا کہتے ہیں کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے ایک مضبوط لوک پال کی ضرورت ہے۔ لوک پال کے بغیر بدعنوانی سے لڑا نہیں جاسکتا ہے۔ سبرامنیم سوامی ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مو

Read more

اٹارنی جنرل کا اصلی چہرہ

اڈوانی ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وتی سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ ان کے قانونی مشوروں کو شک و شبہات کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ملک کے اعلیٰ قانونی عہدے پر فائز واہن وتی کے مشکوک کردار سے حکومت کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے اٹارنی جنرل غلام ای واہن وَتی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا ٹو جی ا

Read more

ٹاٹا اسٹیل اور جھارکھنڈ سرکار کی لوٹ

ششی شیکھر
سرکاری بابو رشوت لیتے پکڑا جائے تو نوکری جائے گی، عام آدمی قانون توڑے تو جیل جائے گا، بڑے آفیسر کبھی کبھار قانون کے ہتھے چڑھ جائیں تو شاید انہیں بھی سزا مل جائے، لیکن اَرب پتی صنعت کاروں کا ہر گناہ معاف! کیا فرق پڑتا ہے، وہ کھلے عام قانون کا مذاق اڑائیں، سرکاری قاعدہ قانون توڑیں۔ کیا مجال کہ کوئی اُن پر ہاتھ ڈال دے، کیوں کہ سرکار اُن کی جیب میں ہوتی ہے۔ اب

Read more

شرد اور سپریا کا شاہد سے رشتہ

شاہدبلوا۔ ایک ایسا نام، جو اَنڈر ورلڈ سرغنہ داؤد ابراہیم کے غنڈے کے طور پر سی بی آئی کی فائلوں میں درج ہے، جس کا ذکر امریکی رسالہ فوربس میں ہندوستان کے 66 ویں سب سے امیر شخص کے طور پر ہے اور جو ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے اہم ملزم کے طورپر تہاڑ جیل میں قید ہے۔ شاہد بلوا کے رشتے ملک کے قد آور سیاست دانوں سے ہیں۔ شاہد بلوا کا نام مراٹھا سردار کہے جانے والے ملک کے وزیر زراعت شرد پوار سے جوڑا جاتا ہے، لیکن شرد پوار نے ہمیش

Read more

ڈی وائی پاٹل گروپ کی حقیقت: مہاراشٹر میں تعلیم کا مافیا راج

آلوک مشرا
ہندوستانی تہذیب میں گرو کو ’گووِند‘ یعنی بھگوان سے بھی اونچا درجہ حاصل ہے اور تعلیمی درس گاہوں کی اہمیت کسی مندر سے زیادہ ہے، لیکن بازار واد کے دور میں جب تعلیم کے اسی مندر کو دکان بنا کر گرو خود دکاندار بن جائے اور پھر اخلاقیات کی بات کرے، تو اسے کیا کہیں گے؟ کچھ ایسا ہی معاملہ مہاراشٹر کے ڈی وائی پاٹل گروپ اور اس کے ذریعہ چلائے جا رہے متعدد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ہے، جو ہزاروں بچوں اور ان کے ماں باپ کو تابناک مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں، جب کہ خوابوں کے اِن سوداگروں کے

Read more

اڈوانی جی کی رتھ یاترا کی اصلی کہانی

سنتوش بھارتیہ
آخر جناب لال کرشن اڈوانی نے اپنی یاترا، دوسری رتھ یاترا کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر کیوں کیا، وہ بھی سنگھ اور پارٹی سے بات کیے بغیر، یہ راز ہے۔ جب اِس راز کے پیچھے کا راز تلاش کرنے ہم نکلے تو ہمیں وہ ملا، جو عجیب اور حیران کن تو تھا ہی، ابہام سے بھی بھرا ہوا تھا۔ آج کے لوگ اڈوانی جی سے اپنا اسکور سیٹل کرنے میں لگے ہیں۔ وہ بھرم پھیلا رہے ہیں۔ شاید کسی کو

Read more

بہار سرکار کی گڈ گورننس

سروج سنگھ
نتیش کی پہلی سرکار کو کافی اچھے نمبر ملے، لیکن اب پیمانہ بدل رہا ہے۔ این ڈی اے کے لاکھ چاہنے کے باوجود ریاستی عوام نتیش سرکار کی دوسری پاری کا موازنہ لالو رابڑی کے دور اقتدار سے نہیں کررہے ہیں،بلکہ اس سرکار کی پہلی پاری سے کر رہے ہیں۔ خاص طور سے نظم ونسق اور سڑک کے معاملے میں پیچھے دکھائی دینے والی سرکار کو لوگ توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ بہار سرکار کے خود کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جرائم کے واقعات بڑھے ہیں، زراعت، آبپاشی اور ص

Read more

رائٹ ٹوری کال اور رائٹ ریجیکٹ کے بغیر، یہ جمہوریت ادھوری ہے

ڈاکٹر منیش کمار
انا ہزارے بنیادی باتیں کہتے ہیں، اس لیے بڑے بڑے دانشور اُن سے بحث نہیں کر سکتے۔ ممبران پارلیمنٹ خادم ہیں اور ملک کے عوام مالک ہیں۔ اگر خادم مالک کی بات نہ مانے تو مالک کو یہ حق ہے کہ وہ اسے باہر کر دے۔ یہی دلیل انّا ہزارے کی ہے۔ ملک کو بدعنوان ممبران پارلیمنٹ سے چھٹکارہ دلانے کے لیے رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کے مطالبہ کو لے کر انا ہزارے اور ان کی ٹیم مہم چلانے والی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کو وقت سے پہلے برخاست اور انتخاب میں امیدواروں کو خارج کرنے کے حق کے ل

Read more