ایک بار پھر خطرے میں دہلی کی 123 وقف املاک

تقریباً ایک برس قبل 2 مارچ، 2014 کو دہلی کی 123 وقف املاک کی ملکیت دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں، 22 مئی کو وشو ہندو پریشد نے دہلی ہائی کورٹ میں یو پی اے حکومت کے مذکورہ بالا آرڈر کو چیلنج کر دیا۔ عدالت نے موجودہ این ڈی اے حکومت کی وزارتِ شہری ترقیات کو ہدایت دی کہ وہ تمام فریقین بشمول دہلی وقف بورڈ، وشو ہندو پریشد، دیگر تنظیموں اور سرکاری باڈیز کے نمائندوں کی میٹنگ بلائے اور پھر ان کی تفصیلات اسے پیش کرے۔ مذکورہ میٹنگ تو ابھی ہونی ہے۔ دریں اثنا یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ حکومت نے یہ جاننے کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے کہ کہیں دہلی وقف بورڈ کو سابقہ مرکزی حکومت کے ذریعے ان املاک کو غیر قانونی طور پر تو ٹرانسفر نہیں کیا گیا ہے؟ اس طرح 123 وقف املاک کا معاملہ حل ہونے کے بعد بھی مزید الجھتا ہی جا رہا ہے اور یہ املاک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور غیر قانونی قبضہ کا شکار ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس نے 2 مارچ، 2014 کو ڈی نوٹیفکیشن سے پونے دو ماہ قبل (27 جنوری، 2014 کے اپنے شمارہ میں) اس تعلق سے 123 وقف املاک کی مکمل فہرست کے ساتھ انکشافاتی رپورٹ پیش کی تھی اور پھر اپنے 17 مارچ کے شمارہ میں اس تاریخی فیصلہ کو کور کیا تھا۔ اب یہ جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا ہے نیا واویلا اور اس کا پس منظر؟

Read more

دہلی اسمبلی انتخابات: یہاں مدعے نہیں شخصیت کی لڑائی ہے

دہلی اسمبلی الیکشن میں تیزی سے تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ سبھی پارٹیاں حملہ آور نظر آ رہی ہیں۔ تشہیر و تبلیغ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سبھی پارٹیاں پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہیں۔ لیکن، افسوس اس بات کا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن مدعے سے خالی ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی دہلی کے عوام سے جڑے مدعوں پر انتخاب نہیں لڑ رہی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں مدعوں کو چھوڑ کر چہرے کے بھروسے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ ان کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مقابلہ آرائی چل رہی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگا کر بحث جیتنے کی ہوڑ لگی ہے۔ عوام کا دل جیتنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کر رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں نے الیکشن کو مدعوں سے بھٹکا کر شخصیت کی لڑائی بنا دیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کی الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ پارٹیوں کو مخالفین سے زیادہ اپنے ہی لیڈروں کے بیانوں سے نقصان ہو رہا ہے۔

Read more

دہلی اسمبلی الیکشن: بی جے پی اور ’آپ‘ کا وقار دائو پر

دہلی اسمبلی انتخابات کا ہائی وولٹیج ڈرامہ جاری ہے۔ یہ الیکشن ایک سسپنس تھریلر سنیما کی طرح بن گیا ہے۔ الیکشن کون جیتے گا، سرکار کون بنائے گا، اس بارے میں ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ اس الیکشن میں ہر پارٹی کا رول ہے، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، عام آدمی پارٹی ہو، کانگریس ہو، بہوجن سماج پارٹی ہو یا پھر آزاد امیدوار ہی کیوں نہ ہوں، ان سبھی کا انتخابی نتائج میں دخل ہوگا، کیوں کہ ان میں سے کوئی جیتے گا، کوئی جتائے گا، تو کوئی کسی کی لٹیا ڈبوئے گا۔ مطلب یہ کہ ہر سیٹ پر کانٹے کی ٹکر ہونے والی ہے۔

Read more

اڑیسہ میں جندل کا میگا مائننگ گھوٹالہ

ہندوستان میں سب سے زیادہ اسٹیل پیدا کرنے والوں میں سے ایک، جندل گروپ اڑیسہ کے ایک بڑے مائننگ گھوٹالے میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں شاردا مائنس پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ایم پی ایل) کے ذریعے مائننگ کے قوانین کی خلاف ورزی اور غلط استعمال کے کئی معاملوں کا ذکر کیا ہے۔ جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ (جے ایس پی ایل) اورایس ایم پی ایل کے درمیان تجارتی معاہدہ ہے، جس کے تحت جندل اسٹیل اپنی اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں واقع اسٹیل اکائیوں کے لیے ایس ایم پی ایل سے کچا لوہا خریدتا ہے۔

Read more

پشاور میں مر گئی انسایت

پاکستان کے پشاور میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے ایک اسکول پر حملہ کرکے بچوں سمیت تقریباً 150 لوگوں کو قتل کر دیا، ساتھ ہی اس حملے میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اب تک پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں صرف ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں، لیکن اس بار پاکستان کے پشاور میں دہشت گردی کا ایسا کھیل کھیلا گیا، جس سے انسانیت مر گئی۔ تمام میڈیا رپورٹس، اخباروں اور چشم دیدوں نے اسکول کے اندر کی جو کہانی بیان کی، اس سے ہر انسان کا دل دہل اٹھتا ہے۔ پیش ہے، پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہوئے حملے کی پوری کہانی …

Read more

دہلی اسمبلی الیکشن: کیجریوال کے وجود کا سوال ہے

دہلی میں آج ہر جگہ کجریوال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ریڈیو پر کجریوال، میٹرو میں کجریوال، آٹو پر کجریوال، ہورڈِنگ میں کجریوال، ہر جگہ کجریوال نظر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی میں ہونے والا اسمبلی انتخاب عام آدمی پارٹی کے لیے وجود کا سوال ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے پاس کجریوال کے چہرے کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے۔ پارٹی کارکن مایوس ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر مستقبل کو لے کر فکرمند ہے۔ کئی پرانے ساتھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ممبرانِ اسمبلی اور سینئر کارکنوں کا پارٹی چھوڑنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ سب سے خطرے کی بات یہ کہ پارٹی کو لے کر عوام بھی مایوس ہیں۔ پارٹی لیڈروں کو لگتا ہے کہ پارٹی ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں الیکشن میں لگا ایک جھٹکا پارٹی کو تاریخ بنا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی پارٹی ’وَن ٹائم ونڈر‘ یا ایک بار کرشمہ دکھانے والی پارٹی بن کر رہ جائے گی یا اس بار بھی اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب رہے گی؟

Read more

مودی کا رتھ روکیں گے نتیش کمار

کہتے ہیں سیاست اور سانپ سیڑھی کا کھیل ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ دونوں کھیل کے طریقے بھلے ہی الگ الگ ہوں، لیکن دونوں ہی کھیلوں میں نقصان کا اندیشہ اور فائدے کے امکانات بے شمار ہوتے ہیں۔ اسے کھیلنے والا کھلاڑی اپنی ایک صحیح چال سے فرش سے عرش تک جا سکتا ہے اور ایک غلط چال اسے عرش سے لاکر فرش پر پٹک سکتی ہے۔ صحیح چال سیڑھی تک لے جاتی ہے اور غلط چال سانپ کے منھ میں۔ 2005 میں بہار کی سیاست میں سپر ہیرو کے طور پر ابھرے نتیش کمار کا 2014 تک کا سیاسی سفر کئی سانپ و سیڑھیوں سے گزرتے گزرتے آج سمپرک یاترا کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم لوگ سمپرک یاترا کی کہانی شروع کریں، یہ جان لینا بے حد ضروری ہے کہ آخر ایسے کون سے سیاسی حالات ریاست بہار میں پیدا ہو گئے کہ دو تہائی اکثریت سے اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر

Read more

اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کا جائزہ ، کچھ ہی میں دم باقی سب بے دم

سماجوادی پارٹی کے اکتوبر ماہ میں لکھنؤ میں منعقدہ تین روزہ قومی اجلاس میں اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کے طور طریقے، ان کی بدعنوانی اور ان کے عوام مخالف رویے پر ہی بحث مرکوز رہی۔ ایسا اس لیے ہوا، کیوں کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر ملائم سنگھ پہلے بھی بولتے رہے ہیں اور اب بھی بول رہے ہیں۔ حالانکہ، ملائم کی اس تشویش میں پارٹی کے غداروں کے مسئلہ کو شامل کرکے اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی، اس کے باوجود ملائم کی باتیں عوام کے دلوں میں تیر کی طرح پیوست ہو گئیں۔ اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ اکھلیش سرکار کے وزیروں کی کارکردگی پر ہی 2017 کا اسمبلی الیکشن لڑا جائے گا۔ اس اجلاس کے پلیٹ فارم سے پارٹی کے سینئر لیڈر نریش اگروال نے یہ کہا بھی تھا کہ اکھلیش یادو کے سوا کسی بھی وزیر کے پاس کہنے کے لیے اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے، کیوں کہ اگر کچھ خاص سینئر وزیروں کو چھوڑ دیا جائے، تو کام کے نقطہ نظر سے اکھلیش کے کام کے علاوہ، کسی کے پاس بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

Read more

کشمیر کا سیلاب مودی کے لئے سوغات ہے

کشمیر میں آئے سیلاب نے وادی میں کافی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس سیلاب نے تباہی تو خوب مچائی ، جس کا اثر آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ کشمیر میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، وہ ہے سوچ کی۔ اس سیلاب میں مشکلوں کا سامنا کر کے باہر نکلے مقامی لوگوں کی سوچ میں دو طرح کی اہم تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پہلی ، لوگوں کے فوج مخالف نظریہ میں تبدیلی ہوئی ہے اور دوسری لوگ سیاسی پارٹی کے طور پر بی جے پی کو ترجیح دینے پر غور کرنے لگے ہیں۔عام لوگوں میں یہ اعتماد دیکھا جا رہا ہے کہ ترقی کی بات کرنے والے نریندر مودی سیلاب کے بعد بدصورت ہوئی ریاست کی تصویر کو بدلنے کے اہل ہیں۔ کشمیر یعنی دنیا کی جنت کے مختلف علاقوں کے دورے کے بعد تیار ہوئی یہ خصوصی رپورٹ آپ کو کشمیر کی تازہ اور حقیقی صورتحال سے روشناس کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Read more

مودی کے لئے نئی چنوتی جنتا پریوار

چھ نومبر’گرو پَرو‘ (گرونانک جینتی) کا دن تھا اور اسی دن سماجوادی لیڈر اتر پردیش کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے اور مرکزی حکومت میں وزیر رہے ملائم سنگھ یادو نے اپنے گھر پر اپنے پریوار کے لوگوں کی میٹنگ بلائی۔ ملائم سنگھ کے پریوار کا مطلب جنتا پریوار سے ہے۔ ایک زمانے میں جنتا پریوار نے ملک میں راج کیا۔ چار وزرائے اعظم شری وشو ناتھ پرتاپ سنگھ، شری چندر شیکھر، شری ایچ ڈی دیوے گوڑا اور شری اندر کمار گجرال دیے۔ کئی ریاستوں میں سالوں سال جنتا پریوار کے لوگوں کی سرکار رہی، لیکن ایک مرض گھُن کی طرح جنتا پریوار میں لگ گیا۔ آپس میں نظریات کو سامنے رکھ، نظریات کی ڈھال بنا، ذاتی مفادات کا ایک ایسا گھن، جس نے آپس میں سب کو توڑ دیا۔ ٹوٹتے ٹوٹتے اب سب آخری شکل میں ٹوٹنے کا خطرہ دیکھنے لگے۔ تقریباً تین گھنٹے چلی میٹنگ میں، جس میں خود شری ملائم سنگھ یادو، ملک کے سابق وزیر اعظم شری دیوے گوڑا، بہار کے دو سابق وزرائے اعلیٰ رہے شری نتیش کمار اور لالو پرساد یادو، شری رام گوپال یادو، شری شو پال یادو، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کے پوتے اور رکن پارلیمنٹ دُشینت چوٹالہ اور مرکز میں وزیر رہے اور سماجوادی جنتا پارٹی کے صدر شری کمل مرارکا شامل تھے۔ تین گھنٹے چلی بات چیت میں بغیر کسی بحث کے سب نے تقریباً ایک ہی نقطہ نظر سے باتیں رکھیں اور وہ باتیں تھیں کہ ہمیں اتحاد کی سمت میں بڑھنا چاہیے۔

Read more