ڈی وائی پاٹل گروپ کی حقیقت: مہاراشٹر میں تعلیم کا مافیا راج

آلوک مشرا
ہندوستانی تہذیب میں گرو کو ’گووِند‘ یعنی بھگوان سے بھی اونچا درجہ حاصل ہے اور تعلیمی درس گاہوں کی اہمیت کسی مندر سے زیادہ ہے، لیکن بازار واد کے دور میں جب تعلیم کے اسی مندر کو دکان بنا کر گرو خود دکاندار بن جائے اور پھر اخلاقیات کی بات کرے، تو اسے کیا کہیں گے؟ کچھ ایسا ہی معاملہ مہاراشٹر کے ڈی وائی پاٹل گروپ اور اس کے ذریعہ چلائے جا رہے متعدد پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ہے، جو ہزاروں بچوں اور ان کے ماں باپ کو تابناک مستقبل کا خواب دکھاتے ہیں، جب کہ خوابوں کے اِن سوداگروں کے

Read more

اڈوانی جی کی رتھ یاترا کی اصلی کہانی

سنتوش بھارتیہ
آخر جناب لال کرشن اڈوانی نے اپنی یاترا، دوسری رتھ یاترا کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر کیوں کیا، وہ بھی سنگھ اور پارٹی سے بات کیے بغیر، یہ راز ہے۔ جب اِس راز کے پیچھے کا راز تلاش کرنے ہم نکلے تو ہمیں وہ ملا، جو عجیب اور حیران کن تو تھا ہی، ابہام سے بھی بھرا ہوا تھا۔ آج کے لوگ اڈوانی جی سے اپنا اسکور سیٹل کرنے میں لگے ہیں۔ وہ بھرم پھیلا رہے ہیں۔ شاید کسی کو

Read more

بہار سرکار کی گڈ گورننس

سروج سنگھ
نتیش کی پہلی سرکار کو کافی اچھے نمبر ملے، لیکن اب پیمانہ بدل رہا ہے۔ این ڈی اے کے لاکھ چاہنے کے باوجود ریاستی عوام نتیش سرکار کی دوسری پاری کا موازنہ لالو رابڑی کے دور اقتدار سے نہیں کررہے ہیں،بلکہ اس سرکار کی پہلی پاری سے کر رہے ہیں۔ خاص طور سے نظم ونسق اور سڑک کے معاملے میں پیچھے دکھائی دینے والی سرکار کو لوگ توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ بہار سرکار کے خود کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جرائم کے واقعات بڑھے ہیں، زراعت، آبپاشی اور ص

Read more

رائٹ ٹوری کال اور رائٹ ریجیکٹ کے بغیر، یہ جمہوریت ادھوری ہے

ڈاکٹر منیش کمار
انا ہزارے بنیادی باتیں کہتے ہیں، اس لیے بڑے بڑے دانشور اُن سے بحث نہیں کر سکتے۔ ممبران پارلیمنٹ خادم ہیں اور ملک کے عوام مالک ہیں۔ اگر خادم مالک کی بات نہ مانے تو مالک کو یہ حق ہے کہ وہ اسے باہر کر دے۔ یہی دلیل انّا ہزارے کی ہے۔ ملک کو بدعنوان ممبران پارلیمنٹ سے چھٹکارہ دلانے کے لیے رائٹ ٹو ری کال اور رائٹ ٹو رِجیکٹ کے مطالبہ کو لے کر انا ہزارے اور ان کی ٹیم مہم چلانے والی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کو وقت سے پہلے برخاست اور انتخاب میں امیدواروں کو خارج کرنے کے حق کے ل

Read more

ایسے ختم ہوئی انا کی بھوک ہڑتال

سیاست بڑی پیچیدہ چیز ہے اور اس سے بھی پیچیدہ ہیں ہمارے سیاستداں۔ یہ جو سوچتے ہیں، وہ بولتے نہیں ہیں اور جو بولتے ہیں، وہ کبھی کرتے نہیں ہیں۔ حکومت نے جن لوک پال بل کو پھر سے الجھا دیا ہے۔ میز تھپ تھپا کر ممبران پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے بتا دیا کہ جمہوریت میں رائے عامہ کی کو

Read more

اے خاک نشینو! اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
ایک کہاوت ہے، پیاز بھی کھائی اور جوتے بھی کھائے۔ زیادہ تر لوگ اس کہاوت کو جانتے ہیں، لیکن بہت کم لوگوں کو ہی پتہ ہے کہ اس کے پیچھے کی کہانی کیا ہے۔ایک مرتبہ کسی مجرم کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بادشاہ نے سزا سنائی کہ غلطی کرنے والا یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے۔ سزا منتخب کرنے کا موقع اس نے غلطی کرنے والے کو دیا۔ گلطی کرنے والے شخص نے سوچا ہ پیاز کھانا زیادہ آسان ہے، اس لئے اس نے سو پیاز کھانے کی سزا چنی۔اس نے جیسے ہی دس پیاز کھائے،

Read more

کامن ویلتھ پر سی اے جی رپورٹ: گھوٹالہ بازوں کو جیل بھیجنے کے لئے کافی ہے

سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ آئی تو سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت حزب اختلاف کے نشانے پر آ گئیں۔ رپورٹ سے ملک کے عوام کو پتہ چلا کہ دولت مشترکہ کھیل دراصل لیڈروں اور حکام کے لیے لوٹنے کا تیوہار بن گیا۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے دلیل دی گئی کہ سی اے جی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے، اس لیے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں فیصلہ ہوگا۔ اگر اب کوئی کانگریس پر یہ الزام لگائے کہ یہ سی اے جی کی معتبریت کو نقصان پہنچا رہی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ویسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کانگریس پارٹی نے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں پہلے ہی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے

Read more

لوک پال بل: یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے

ڈاکٹر منیش کمار
حکومت نے لوک پال بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس مسودہ کی ایک دلچسپ جانکاری یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی افسر کے خلاف شکایت کرتا ہے اور اگروہ جھوٹی نکلتی ہے تو اسے 2سال کی سزا اور اگر صحیح ثابت ہوتی ہے تو بدعنوان افسر کو صرف 6مہینہ کی سزا۔ مطلب یہ کہ بدعنوانی کرنے والوں کی سزا کم اور اسے اجاگر کرنے والے کی سزا زیادہ۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کے ملزم افسران کو مقدمہ لڑنے کے لیے مفت سرکاری وکیل ملے گا، جبکہ اسے بدعنوان اور خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیے شکایت کنندہ کو اپنے ہی خرچ پر مقدمہ لڑنا ہوگا۔ یہ حکومت کا بدعنوانی سے لڑنے کا نایاب طریقہ ہے۔ حکومت نے اپنی پالیسیاں، ذہنیت اور نظریات واضح کر دیے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے ایشو پرکتنی سنجیدہ ہے۔ ایک شرمناک بیان ملک

Read more

یہ کارڈ خطرناک ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سال 1991 میںہندوستانی سرکار کے وزیر خزانہ نے ایسا ہی کچھ بھرم پھیلایا تھا کہ نجکاری اور لبرل ازم سے 2010 تک ملک کی اقتصادی صورت حال بہتر ہو جائے گی، بے روزگاری ختم ہو جائے گی، بنیادی سہولیات سے متعلق سارے مسائل ختم ہو جائیں گے اور ملک ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ وزیر خزانہ اب وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ 20 سال بعد سرکار کی طرف سے بھرم پھیلا یا جارہا ہے، رپورٹس لکھوائی جا رہی ہیں، عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آدھار کارڈ بنتے ہی ملک میں سرکاری کام آسان ہو جائے گا، ساری اسکیمیں کامیاب ہونے لگیں گی، جو اسکیم غریبوں تک نہیں پہنچ پاتی وہ پہنچنے لگے گی اور صحیح لوگوں کو بیج اور کھاد کی سبسڈی ملنے لگے گی۔ لیکن اگر یہ سب نہیں ہوا تو اس کے لیے کسے ذمہ دار مانا جائے

Read more
Page 30 of 38« First...1020...2829303132...Last »