انّا ، میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور عوام

خصوصی نامہ نگار
انا ہزارے کے آرام کے دن اب ختم ہو گئے ہیں۔ 2011 کا اگست ان کے لیے نعمت کا مہینہ تھا۔ انا ہزارے نے دہلی کے رام لیلا میدان میں بدعنوانی کے خلاف اَنشن شروع کیا اور پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ ایسا لگا، گویا سارا ہندوستان ان کی جان بچانا چاہتا ہے۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے اَنشن بھی کر رہے تھے اور جلوس بھی نکال رہے تھے۔

Read more

کانگریس کا وقار بچائیں گے راہل گاندھی ؟

پورے ملک کی نظریں کانگریس پر ہیں، لیکن خود کانگریس کی سرکردہ قیادت پارٹی کی لگاتار بگڑتی حالت کے تئیں قطعی فکرمند نہیں ہے۔ ایماندار زمینی کارکنوں، تجربہ کار لیڈروں کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ پارٹی کی تنظیم کی باگ ڈور ایسے چند لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی ہے، جو نہ صرف عمر، سمجھ اور تجربہ میں کچے ہیں، بلکہ وہ پبلک فیگر بھی نہیں ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جن لوگوں پر پارٹی آنکھ موند کر بھروسہ کر رہی ہے، کیا وہ اس کے لیے واقعی مسیحاثابت ہوں گے یا پھر خطرۂ جاں؟

Read more

نریندر مودی کے خلاف کون ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی نے جتنی سیٹیں آنے کا دعویٰ کیا تھا، ان کی اس سے کم سیٹیں آئیں۔ ایسے میں اگر نریندر مودی کے ذریعے قائم کیے گئے اصولوں اور طے کیے گئے پیمانوں پر انہیں ناپیں، تو ہم دیکھیں گے کہ وہ اپنی اس ناپ میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے اگر کوئی چیز سو پیسے میں آتی ہے اور آپ کے پاس 85 پیسے ہیں، تو آپ وہ چیز نہیں خرید سکتے۔ اسی طرح نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے جن پیمانوں کا استعمال کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، ان پیمانوں کو وہ نہیں پکڑ پائے، لیکن اس کے باوجود ملک کے میڈیا نے پہلے انہیں گجرات کی آخری سچائی بتایا اور اب وہی میڈیا انہیں ملک کی آخری سچائی بتانے کی قواعد میں لگا ہوا ہے۔

Read more

!سنجے دت کو سزا کیوں نہیں جناب

ڈاکٹر منیش کمار
سنجے دت کو سزا کیا ملی گویا ملک میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ اس کی سزا معاف ہو جانی چاہئے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا میں ایک مہم سی چھڑ گئی۔ گورنر اور صدر جمہوریہ کو لوگ خط لکھنے لگے۔ وفد بنا کر لیڈر گورنر سے ملنے لگ گئے۔ فلم انڈسٹری کے لوگوں نے گویا اتحاد کا ایسا پاٹھ پڑھ لیا کہ صحیح غلط کا ہوش ہی کھو بیٹھے۔ویسے ہوش کھو نے والوں میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے ساتھ ساتھ کئی وزیر اور لیڈر بھی شامل ہو گئے۔ یہ لوگ طرح طرح کی عجیب وغریب دلیلیں دینے

Read more

سٹیزن چارٹر: دیر سے ملنے انصاف کا کوئی مطلب

ششی شیکھر
عام آدمی کی بات کرنے والی موجودہ مرکزی حکومت نے جس طریقے سے شہری اشیاء و خدمات کی متعینہ مدت میں فراہمی اور شکایت نمٹارہ حق بل، 2011، یعنی سٹیزن چارٹر بل کے التزامات بنائے ہیں، وہ کہیں سے بھی عام آدمی کا بھلا کرپانے میں اہل ثابت نہیں ہونے جا رہے ہیں۔ الٹے، یہ نیا انتظام عام آدمی کو نیم عدالتی کارروائی میں الجھانے والا ثابت ہوگا۔ ایک راشن کارڈ بنوانے کے لیے آج ایک غریب آدمی کو جتنی مشکل ہوتی ہے، اتنی ہی مشکل اس بل کے وجود میں آنے کے بعد بھی ہوگی۔ ہمارے ملک میں ضلع

Read more

غریب کسان خودکشی نہ کریں تو کیا کریں

وسیم راشد
فروری2008 میں یو پی اے حکومت نے کسانوں کے قرضوں کی معافی کا اعلان کیا تھا۔ اس اسکیم نے کسانوں کو جیسے نئی زندگی دے دی تھی اور ظاہر ہے، اس فیصلہ سے کسانوں کو پہلی بار بڑی راحت ملنے والی تھی۔ اس اسکیم کا فائدہ ان کسانوں کو ہونا تھا، جنھوں نے بینکوں سے کھیتی کے لیے قرض لیے تھے۔ 52000 کروڑ سے بڑھا کر یہ رقم 60416 کروڑ روپے کر دی گئی تھی۔ یہ اسکیم صرف 30 دن کے لیے تھی۔ 30 جون، 2008 تک یہ اسکی

Read more

یہ بجٹ گمراہ کرنے والا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
ایک مہینہ پہلے چوتھی دنیا نے یہ شائع کیا تھا کہ کس طرح ملک کی سرکار کارپوریٹ دنیا کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ ہم نے بتایا تھا کہ کس طرح کارپوریٹ دنیا کو یو پی اے سرکار لگاتار ٹیکس میں چھوٹ دے رہی ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ کارپوریٹ دنیا کو 5.73 لاکھ کروڑ روپے کی چھوٹ ٹیکس میں دی گئی ہے۔ اس میں کارپوریٹ ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔ یو پی اے سرکار نے کارپوریٹ دنیا کو چھوٹ

Read more

(یہ کارڈ خطرناک ہے (قسط 3

ڈاکٹر منیش کمار
بے سمتی جب حد سے گزر جائے، تو اسے بیوقوفی ہی کہا جاتا ہے۔ یو آئی ڈی، یعنی آدھار کارڈ کے معاملے میں یو پی اے سرکار نے بے سمتی کی ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ آدھار کارڈ پر ہزاروں کروڑ روپے سرکار نے خرچ کر دیے۔ کانگریس پارٹی نے ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر کی اسکیم اس کارڈ سے جوڑنے کا اعلان کر دیا۔ وہ کئی جھوٹے وعدے کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے میں بھی پ

Read more

نتیش کمار اپنی ساکھ کھو رہے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
پٹنہ کے چانکیہ ہوٹل کے پاس آر بلاک کا گیٹ ہے۔ یہاں پر ہفتہ میں تین چار احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ بہار سرکار کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے لیے یہ آخری پڑاؤ ہے۔ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ گیٹ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ بھاری تعداد میں پولس ہوتی ہے، واٹر کینن ہوتا ہے۔ مظاہرین اگر مشتعل ہونے کی ذرا سی بھی کوشش کرتے ہیں، تو یہ علاقہ فوراً میدانِ جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر کیا، مظاہرین کی پیٹھ ہوتی ہے اور پولس کا ڈنڈا۔ پٹنہ میں احتجاجی مظاہرے اور ان پر لاٹھی چارج کا واقعہ عام بات ہے۔ پٹنہ

Read more