ہندوراشٹر، مسلم راشٹر : کیا ہندوستان سیکولر ملک رہ پائے گا

ڈاکٹر قمر تبریز
اگلے لوک سبھا الیکشن کی آمد آمد ہے۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی کمر کس لی ہے۔ لوک سبھا کی سب سے زیادہ، یعنی 80 سیٹیں اتر پردیش سے آتی ہیں۔ اس لیے سخت گیر ہندوؤں اور سخت گیر مسلمانوں، دونوں نے ہی ملک کے اقتدار پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اتر پردیش کو اپنی سیاسی لڑائی کا میدان بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس ملک میں فرقہ واریت کے علم بردار نریندر مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو یو پی میں بھیج کر ہندوؤں کی ذہن سازی کے کام میں لگا دیا ہے، وہیں دوسری طرف ندوۃ العلماء کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی ایک بار پھر مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ مودی کے کام میں جہاں ایک طرف ملک کا پورا قومی میڈیا اپنا تعاون پیش

Read more

ہندوستان کا اسرائیل پر انحصار: قومی سلامتی کے لئے خطرناک

اے یو آصف
آج مملکت اسرائیل ایک ایسی حقیقت ہے، جسے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، مگر اسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ اس نے سخت ناموافق حالات میں اپنی ذہانت، محنت اور مہارت سے دنیا کے بعض ممالک میں زبردست اثرات قائم کر لیے ہیں۔ اس کے یہ اثرات ان ممالک کی معیشت، تعلیم، زراعت، انٹیلی جنس اور دفاع جیسے اہم شعبوں میں کھلے طور پرمحسوس کیے جاتے ہیں اور کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔ اس کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے افراد امریکی معیشت پر حاوی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں کے انتخابات پر بھی اس کا اثر لازمی ط

Read more

فسادات ہونے ہی والے ہیں

ملک میں جس طرح کا سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ فسادات ہونے ہی والے ہیں۔ ملک کا میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈران اس ملک میں فسادات کرانے پر آمادہ ہیں۔ فسادات کرانے والوں میں فرقہ وارانہ طاقتوں کے ساتھ ساتھ وہ نام نہاد سیکولر طاقتیں بھی ہیں، جن کی نگاہ اس 19 فیصد ووٹوں پر ہے، جنہیں وہ بڑی بے شرمی سے مسلم ووٹ بینک کہتی ہیں۔ کوئی چہرہ دکھا کر مسلمانوں کو ڈرا رہا ہے، تو کوئی ہمدرد ہونے کا دکھاوا کرکے۔ حیرانی اِس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کے لیے تو سب لڑ رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے لڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مسائل ختم کرنے کے لیے نہ تو کسی کے پاس ٹھوس پالیسی ہے اور ن ہی ارادہ۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی واحد حکمت عملی ہے، مسلمانوں کے ساتھ فریب کرنا۔ سیاست کے ایسے پر فریب ماحول میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟

Read more

ہوشیار! امریکہ آپ کی جاسوسی کر رہا ہے

اے یو آصف
ان دنوں جو ایشو ہندوستان سمیت پوری دنیا میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکہ 6 برسوں سے حکومت ہند اور اس کے شہریوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پرائیویسی اور رازداری، دونوں کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس کا اندازہ ابھی حال میں سابق سی آئی اے افسر ایڈورڈ اسنوڈین، جو کہ ان دنوں ہانگ کانگ میں پناہ لیے ہوئے ہیں، کے ذریعے کیے گئے انکشافات سے ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان ایسا پانچواں ملک ہے، جو امریکہ کے نشانے پر ہے۔ دیگر چار ممالک میں پہلا ایران، دوسرا پاکستان، تیسرا اُردن اور چوتھا مصر ہے، جن پر ہندوستان کے ساتھ نظر ہی نہیں رکھی جا رہی ہے، بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک اور ٹیلی فون و موبائل ڈاٹا کے ذریعے اربوں کھربوں مواد کو اپنی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ برطانوی روزنامہ گارجین کے مطابق، صرف مارچ 2013 میں ایران سے 14 بلین، پاکستان سے 13.5 بلین، اُردن سے 12.7 بلین، مصر سے 7.6 بلین اور ہندوستان سے

Read more

اڈوانی کی چال کا راز

سنتوش بھارتیہ
گوا میں نریندر مودی کی جے جے کار کیا ہوئی کہ ہندوستان کی سیاست میں نئی اتھل پتھل شروع ہو گئی۔ نتیش کمار، ممتا بنرجی اور نوین پٹنائک کا اتحاد سامنے آگیا۔ ان کے ساتھ آنے کی شروعات بھی لال کرشن اڈوانی اور نتیش کمار کی بات چیت کے بعد ہوئی۔ ہندوستانی سیاست کے سب سے چالاک کھلاڑیوں میں سے ایک، لال کرشن اڈوانی نے آخر وہ کون سی صلاح نتیش کمار کو دی کہ جس کے بعد تیزی سے تیسرے مورچہ کی تشکیل کی بات شروع ہو گئی۔ ان کے بارے میں جانکاری تھوڑی دیر کے بعد آپ کو دیتے ہیں، پہلے آپ کو یہ بتاتے ہیں

Read more

کانگریس سے زیادہ کرپٹ ہے بی جے پی

سنتوش بھارتیہ
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر لوگوں سے بات چیت کرکے اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں لکھا جائے، تو وہ بہت اچھا شاید نہ ہو، کیوں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اثر دار لوگوں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ سنگھ کے لوگ اپنی اندیکھی سے غم زدہ ہیں اور اپنے اصولوں کا گلا گھونٹنے والے لیڈروں سے ناراض بھی ہیں۔ وہ دراصل، اب اس ذہنی حالت میں پہنچ گئے ہیں، جہاں بوڑھا شیر شکار کو سامنے سے جاتے ہوئے دیکھ کر بھی اس پر حملہ نہیں کر پاتا۔ اس کی بے بسی ضرورہوتی ہے، لیکن وہ اس کا ایک راستہ نکالتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ وہ بچے سے جوان ہوتے ہوئے شیروں کو نئے سرے سے شکار کے لیے ٹریننگ دیتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پار

Read more

یو پی اے 2کے چار سال: مسلمانوں کے ہاتھ اب بھی خالی

ڈاکٹر قمر تبریز
یو پی اے سرکار کے تازہ رپورٹ کارڈ کے صفحہ نمبر 13-14 پر اقلیتوں کا ذکر ہے۔ اقلیتوں کی مجموعی ترقی کے بارے میں ایک جگہ لکھا گیا ہے کہ ’’20 ریاستوں اور مرکز کے زیر حکومت صوبوں کے 90 نشان زد اقلیتوں کی کثیر آبادی والے ضلعوں میں سال (2012-13) کے دوران ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ ان اسکیموں کے لیے 1,109 کروڑ روپے منظور کیے گئے اور 646 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ ان اسکیموں میں اندرا آواس یوجنا کے تحت 3.15 لاکھ مکانوں؛ 2,838 طبی مراکز؛ 29,480 آنگن واڑی مراکز؛ 15,609 اضافی کلاس روم؛ 698 ا

Read more

خالد مجاہد کا قتل: اور کتنے بے گناہ بھینٹ چڑھیں گے

وسیم راشد
تیئس ومبر2007 میں لکھنؤ، وارانسی اور فیض آباد میں صرف 25 منٹ کے وقفے میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں 15 افراد سے زیادہ ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔ ریاست اترپردیش میں ہونے والے ان سیریل بم دھماکوں نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا تھا اور پھر اس کے بعد وہی ہوا، جو ہر دھماکے کے بعد ہوتا ہے، یعنی مسلمانوں کی دھر پکڑ اور بم دھماکے کا مجرم بنا کر جیلوں میں بند کیے جانے کا سلسلہ۔ اس سیریل بم دھماکے کے الزام میں پولس نے اعظم گڑھ سے طارق قاسمی اور جونپور سے خالد مجاہد کو گرفتار کر لیا۔ 14 مارچ، 2008 کو اترپردیش کے اس وقت

Read more

ہندوستانی جمہوریت آلودہ ہو چکی ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سیاسی پارٹیوں کا دبدبہ اتنا مضبوط ہے کہ ملک کا جمہوری نظام پوری طرح سے پارٹی سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ الیکشن محض خانہ پری بن کر رہ گئے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے بنیادی نظریہ فکر سے ہٹ کر کسی بھی طرح اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ دراصل، ہندوستانی جمہوریت پراگندہ ہو چکی ہے اور یہی اس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

Read more

یو پی کی بساط: مسلم ووٹوں کا کھیل

(اجے کمار (لکھنؤ
اتر پردیش میں چناؤکوئی سے بھی ہوں، اقلیتی فیکٹر ہمیشہ اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اس کو لبھانے کے لئے سماجوادی پارٹی ، بی ایس پی اور کانگریس میں دوڑ لگی رہتی ہے۔ مختلف جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان مسلمانوں کو رجھانے کے لئے گلا کاٹ مقابلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی بہبودکے لئے بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں، لیکن مسلم دانشور آج بھی اس بات سے ناراض نظر آتے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے مسلمانوں کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ، مسلمانوں کوووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور جب ووٹ کا موسم چلا جاتا ہے ، تو انھیں ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لیڈر اور سرکاریںاپنے آپ کو مسلمانوں کا سب سے

Read more