انا کی قربانی کا نتیجہ ہے لوک پال بل

رالے گن سدھی میں انا ہزارے نے 9 دنوں تک اَنشن کیا۔ اس انشن کے ساتھ ساتھ جن تنتر مورچہ کے کارکن ملک کے کئی شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرہ اور انشن کرتے رہے۔ نیشنل میڈیا میں انہیں دکھایا نہیں گیا، لیکن علاقائی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے مقامی تحریکوں کو جم کر دکھایا۔ ایک اندازہ کے مطابق، ملک بھر میں دو سو سے زیادہ جگہوں پر انا کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر اترے۔ سرکار کو لگاتار یہ جانکاری مل رہی تھی کہ 2011 کی طرح اگر میڈیا نے الگ الگ شہروں کے بارے میں خبریں دکھانی شروع کیں، تو اس بار کی تحریک پچھلی بار سے زیادہ بڑی بن سکتی ہے۔ اس بار انا نے انشن کا صحیح وقت چْنا تھا۔ چار ریاستوں میں کانگریس پارٹی ہار چکی تھی۔ ان انتخابات میں مرکزی حکومت کی

Read more

انا کی تحریک کا اثر نظر آنے لگا ہے

پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات سے پہلے ملک کے دانشور طبقہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی کہ یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں، کیوں کہ ملک بیداری کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انتخابات کے نتائج آئے اور ان نتائج میں لیڈر نہیں جیتے، عوام کی جیت ہوئی۔ وہ عوام جنہوں نے اپنے اوپر اِن الزامات کی چادر اوڑھ لی تھی کہ وہ ووٹ دینے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ ذات پات کی سوچ کے ساتھ پولنگ بوتھ تک آتے ہیں۔ وہ عوام جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ علاقائیت کے دائرے میں قید ہیں۔ یہ عوام کے ذریعے چوطرفہ پیدا کیے گئے دباؤ کی ہی جیت ہے کہ سرکار جن لوک پال جیسے عوامی مفاد کے موضوعات پر بحث کرنے کے لیے مجبور ہوئی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر عوام کو جو سب سے بڑی جیت ملی، وہ ہے پاور ٹو دی پیوپل۔

Read more

جھوٹے وعدے ، جھوٹے دعوے: جمہوریت کو بچانے کے لئے پھر سے انشن ضروری

ہندوستان کو جمہوریہ بنے ہوئے 64 برس ہو گئے، لیکن جمہوریت کہاں ہے؟ مجھے تو دکھائی نہیں دیتی۔ اتنے برسوں میں ملک کے لوگوں کو ہم صاف پانی تک نہیں دے پائے ہیں۔ طبی خدمات فراہم نہیں کر سکے۔ تعلیم نہیں دے سکے۔ گھر نہیں، روزی روٹی نہیں۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی ہمارا نوجوانوں کا ملک ہے۔ لیکن ان نوجوانوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے؟ یہ بے روزگار رہیں گے، تو کیا کریں گے؟ یہ سوچ کر تشویش ہوتی ہے۔ ہم نے ایسے معاشرہ کی تعمیر کی ہے، جس میں ایک طرف بے تحاشہ امیری ہے اور دوسری طرف جہنم کی طرح غریبی ہے۔ ہندوستان آج بھی گاؤں کا ملک ہے اور گاؤں ہی پچھڑ رہے ہیں۔ جو شہر میں ہیں اور امیر ہیں، ان

Read more

انا ہزارے پھر لڑیں گے جن لوک پال کی لڑائی

ایسا لگتا ہے کہ ملک پھر دو سال پہلے کے واقعات کا گواہ بننے والا ہے۔ 2011 کے اگست میں جب رام لیلا میدان میں انا ہزارے نے غیر میعادی اَنشن شروع کیا تھا، تب ان کی حمایت میں پورا ملک کھڑا ہو گیا تھا۔ سرکار نے اَنشن کے لیے جگہ دینے سے منع کر دیا تھا اور انا ہزارے کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ ملک بھر میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے دہلی میں تہاڑ جیل کو گھیر لیا۔ اس کے بعد سرکار کو انا ہزارے کو بلا شرط جیل سے رہا کرنا پڑا۔ انا کے جیل سے چھوٹنے کی بھی ایک کہانی ہے۔ مجسٹریٹ نے انا ہزارے سے کہا کہ آپ

Read more

رائٹ ٹو رجیکٹ پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے

گزشتہ ماہ جب سپریم کورٹ کے حکم پر ملک کے عوام کو امیدواروں کو ناپسند کرنے کا حق حاصل ہوا تو یکبارگی ایسا محسوس ہوا کہ سپریم کورٹ کا یہ فرمان سیاسی جماعتوں کو اب آئینی اور پارلیمانی اصولوں کی راہ دکھائے گا۔ ساتھ ہی ملک کے عوام کو بھی یہ اختیار حاصل ہوا کہ جو جمہوری عمل کے تحت وہ نہ صرف اپنی پسند کے امیدواروں کو منتخب کرے بلکہ اس بات سے بھی آگاہ کر سکے کہ اسے کوئی امیدوار پسند نہیں ہے۔ یہ معاملہ 2001سے ہی وزارت قانون کے پاس اٹکا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں جب سماجی کارکن انا ہزارے جی نے رائٹ ٹو رجیکٹ اور رائٹ ٹو ری کال کو اپنے 25نکاتی پروگرام میں شامل کیا تو ملک میں اس مطالبہ کو لے کر ایک نیا ماحول بننا شروع ہوا۔ سپریم کورٹ نے جب اس سلسلہ میں

Read more

ان نوجوان طلبا کے لئے کون سوچے گا؟

سماجی کارکن انا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی اپنی مہم میں نوجوانوں کے جوش اور جذبے کو مضبوطی دیتے ہوئے کئی بار یہ کہا ہے کہ نوجوان طاقت ہی قومی طاقت ہے، لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کے لئے انہیں اپنے حق میں اس طرح کر لیا کہ طلبا کی سیاست اور ان کے مدعے انہیں پارٹیوں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ طلبا خود کو جتنی جلدی اس بدنظمی سے باہر نکالیں گے اور سیاست میں پھیلی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائیں گے،اتنی ہی جلدی صحیح معنوں میں ملک آزاد ہو پائے گا۔

Read more

یہ تیسرا مورچہ نہیں ہے

جب 14 پارٹیوں کے 17 لیڈروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اٹھاکر یہ تصویر کھنچوائی، تو وی پی سنگھ کے راشٹریہ مورچہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ ایسی ہی تصویریں اُن دنوں اخباروں میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ آج کا دور الگ ہے۔ وی پی سنگھ کئی سیاسی پارٹیوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بدعنوانی کے خلاف کامیاب تحریک کی تھی اور کانگریس مخالف لہر پیدا کی تھی۔ وہ تیسرے مورچہ کی کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔ کانگریس ہاری اور وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے۔ اس تصویر میں لیڈر تو ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، لیکن ان میں نہ کوئی قوتِ ارادی ہے، نہ دور اندیشی ہے، نہ پلاننگ ہے اور نہ ہی اتحاد ہے۔ یہ تصویر اپنے آپ میں کئی تضادات لیے ہوئے ہے، اس لیے تیسرا مورچہ بننے سے پہلے ہی ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

Read more

انتخابی سروے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہیں

عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ دہلی میں سرکار بنائے گی۔ اس دعوے کی بنیاد عام آدمی پارٹی کے ذریعہ کیا گیا سروے ہے۔ اگر سروے ہی انتخاب کا معیار ہوتے تو صرف ہندوستان ہی کیوں، دنیا کے کسی بھی ملک میں لوگ انتخاب کے نتیجہ کا انتظار ہی نہیں کرتے۔ اروند کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ عام آدمی پارٹی کو 32فیصد ووٹ ملیں گے ا ور 70میں سے 46سیٹ پر ان کی پارٹی کے امیدوار جیت درج کرائیں گے۔ ویسے اس طرح کا دعویٰ کرنا سیاسی لحاظ سے غلط نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی دن، ایک ہی علاقے میں اگر دس سروے ایک ساتھ ہوتے ہیں، تو یہ مان کر چلئے کہ ان سبھی کے نتائج مختلف ہوں گے۔ تاہم سروے کی بنیا دپر خود کو فاتح قرار دینا افواہیں پھیلانے کی کوشش ہے۔ ہندوستان میں پہلی بار

Read more

عام آدمی پارٹی کو انا ہزارے کی حمایت حاصل نہیں ہے

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی سب سے بڑی پریشانی انّا ہزارے بنے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹی انّا ہزارے کی تحریک سے الگ ہو کر بنی ہے۔ اس پارٹی کی بنیاد انّا ہزارے کی معتبریت،مقبولیت، ان کے اصول اورقربانی ہے۔ لیکن انّا ہزارے کا صاف صاف حکم یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی ان کے نام، ان کی تصویر، ان کی ٹوپی اور ان کی کسی بھی چیز کو استعمال نہیں کر سکتی ہے۔ انّا کے بغیر پارٹی کی معتبریت پر سوال اٹھتا ہے اور انّا کا نام لینے سے انّا ناراض ہو جاتے ہیںجب کہ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار انّا کا نام

Read more