فسادات شروع ہو چکے ہیں

مغربی اتر پردیش کا شاملی اور مظفر نگر ضلع فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے اب تک سینکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں فیملی اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ جگہوں کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اس علاقہ کے زیادہ تر لوگ عام طور سے کسان ہیں۔ ہندو مسلم بھائی چارے کی زندگی جیتے چلے آئے ہیں۔ اس علاقے میں کبھی فسادات نہیں ہوئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ یہا فرقہ وارانہ تناؤ بڑھا اور فسادات نے اتنی خطرناک صورت اختیار کر لی۔ میڈیا کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ایک برادری کی لڑکی کے ساتھ دوسری برادری کے لڑکے کا عشق اور پھر اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے تین لڑکوں کا قتل ہو جانا ہی فساد کی اصل وجہ بنا۔ اسی کو بہانہ

Read more

آئی بی ، سی بی آئی تنازعہ: ملک کے اتحاد و سا لمیت کے لئے خطرہ

حکومت خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے اس قدر بے چین ہے کہ اس نے حکومت کے لیے کام کرنے والی سی بی آئی کو ذریعہ بنا کر ملک کے لیے کام کرنے والی آئی بی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ آئی بی افسران حکومت کے تئیں بے حد مشتعل ہیں۔ فی الحال آئی بی وزارت داخلہ یا ریاستی حکومتوں سے اندرونی سلامتی سے متعلق اطلاعات راست طور پر شیئر نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی دہشت گردی سے متعلق کسی آپریشن میں وہ ریاستی حکومتوں سے کوئی تعاون کر رہی ہے۔ آئی بی کے چیف آصف ابراہیم نے اس سلسلہ میں وزیر

Read more

منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں

کوئلہ گھوٹالے سے جڑی فائلیں غائب ہو گئیں۔ یہ فائلیں کہاں گئیں؟ کیا اِن فائلوں کو زمین کھا گئی یا کوئی بھوت لے کر غائب ہو گیا؟ یہ فائلیں کب غائب ہوئیں؟ کہاں سے غائب ہوئیں؟ اِن فائلوں میں کیا تھا؟ کیا ہندوستانی سرکار کے دفتر چوروں کا اڈّہ بن چکے ہیں؟ یا پھر اِن فائلوں کو غائب کرکے کسی کو بچایا جا رہا ہے؟ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ کوئلہ گھوٹالہ اُس وقت ہوا، جب منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے۔ کوئلہ کی کانوں کے ہر متنازع الاٹمنٹ پر منموہن سنگھ کے دستخط ہیں۔ ایک طرف سرکار ہے، جو سچ کو چھپانا چاہ رہی ہے، سی بی آئی

Read more

سچر رپورٹ کا نفاذ: کتنا سچ، کتنا جھوٹ

ڈاکٹر قمر تبریز

ہندوستان مختلف مذہبوں، تہذیبوں اور افکار و نظریات کا ملک ہے۔ آئین ہند میں بھی اس کی اس حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور سیکولر ازم کی مخصوص تشریح کے تحت سبھی کو اپنے اپنے عقیدہ و سوچ کے مطابق نجی و اجتماعی زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی ہے۔ جہاں تک ساتویں صدی عیسوی میں اس ملک میں متعارف ہونے والے اسلام کے حاملین کا سوال ہے، تو یہ یہاں انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی اور ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی ہیں۔ 2001 کی مردم شماری کے مطابق یہ ملک کی کل آبادی

Read more

دوسری آزادی کی لڑائی

اگر صحیح معنوں میں جمہوریت لانی ہے، تو عوام کو اپنی حصہ داری بڑھانی ہوگی۔ کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا عزم کرنا ہوگا۔ عوام خود اپنا امیدوار کھڑا کریں گے، اس میں پارٹی کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ ایسے میں پارٹی تنتر، جو کہ دراصل بھرشٹ تنتر ہے، اپنے آپ نیست و نابود ہو جائے گا۔ اس ذہنی تبدیلی میں وقت لگے گا، لیکن جتنی جلد لوگ اِس صورتِ حال سے باہر نکل کر، بدعنوانی سے لڑنے کے لیے باہر آئیں گے، اتنی ہی جلد ملک صحیح معنوں میں آزاد ہوگا اور یہی ہوگی ہماری دوسری آزادی۔

Read more

ملک کا اصل مالک کون، سیاسی پارٹیاں یا عوام ؟

انّا ہزارے نے یہ سوال صحیح اٹھایا ہے کہ ملک کا اصل مالک کون ہے — سیاسی پارٹیاں یا عوام؟ یہ سوال اہم اور بنیادی ہے، کیوں کہ آئین ہند میں عوام کی نمائندگی کی بات ہے اور سیاسی پارٹی کا کہیں بھی ذکر ہی نہیں ہے۔

Read more

کیا ملک میں تیسرا مورچہ بن پائے گا

یوں تو تیسرا مورچہ بنانے کی نورا کشتی ہندوستان کی سیاست میں گزشتہ 25 برسوں سے چل رہی ہے، لیکن اس قواعد میں لگے نیتاؤں کی، میں بھی وزیر اعظم – میں بھی وزیر اعظم والی حسرتوں نے اسے ٹھوس شکل اختیار کرنے ہی نہیں دیا۔ آئندہ لوک سبھاانتخابات کے مد نظر تیسرے مورچہ کی تشکیل کے لیے ایک بار پھر سیاسی ہلچل شروع ہو گئی ہے، لیکن اس میں شامل ہونے والے موقع پرست اور شاطر لیڈر جھوٹی شان کی وجہ سے اپنی جماعت تیار ہی نہیں کر پا رہے ہیں۔ نتیجتاً، اس کی آڑ میں چوتھا مورچہ تو تشکیل پاتا نظر آ رہا ہے، لیکن تیسرے مورچہ کا تصور ایک بار پھر ہوا ہوائی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

Read more

ہندوراشٹر، مسلم راشٹر : کیا ہندوستان سیکولر ملک رہ پائے گا

ڈاکٹر قمر تبریز
اگلے لوک سبھا الیکشن کی آمد آمد ہے۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی کمر کس لی ہے۔ لوک سبھا کی سب سے زیادہ، یعنی 80 سیٹیں اتر پردیش سے آتی ہیں۔ اس لیے سخت گیر ہندوؤں اور سخت گیر مسلمانوں، دونوں نے ہی ملک کے اقتدار پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اتر پردیش کو اپنی سیاسی لڑائی کا میدان بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس ملک میں فرقہ واریت کے علم بردار نریندر مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو یو پی میں بھیج کر ہندوؤں کی ذہن سازی کے کام میں لگا دیا ہے، وہیں دوسری طرف ندوۃ العلماء کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی ایک بار پھر مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ مودی کے کام میں جہاں ایک طرف ملک کا پورا قومی میڈیا اپنا تعاون پیش

Read more
Page 20 of 38« First...10...1819202122...30...Last »