دہلی کے 123وقف املاک کی ملکیت کا متوقع فیصلہ: جمعیت علماء ہند کے مرکزی دفاتر خطرے میں؟

اس کمیٹی نے ایسی 250 املاک کی شناخت کی جو وقف کی املاک تھیں، ان پر عمل درآمد کے لیے میر نصر اللہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئی، جس نے ان 250 املاک میں سے 123 ایسے املاک کا خلاصہ کیا، جنہیں وقف بورڈ کو ٹرانسفر کیا جاسکتا تھا۔ حکومت نے اوائل 1984 میں فیصلہ کیا کہ ان 123 املاک کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو واپس کر دیا جائے اور اس سلسلے میں 27 مارچ، 1984 کو ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، مگر اس وقت دو غلط واقعات ہوئے۔ نوٹی فکیشن شائع ہونے سے دو دنوں قبل یہ بات میڈیا تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے نوٹی فکیشن سے ایک روز قبل اس خبر کو اس طرح شائع کیا گیا کہ حکومت ان املاک کو ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے لیز پر دے رہی ہے۔ پھر دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ نوٹی فکیشن میں ان املاک کو وقف املاک کے طور پر دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے بجائے ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے اسی بورڈ کو لیز پر دینے کی بات کہی گئی، جو کہ کھلے طور پر ناجائز تھی اور حکومت کے فیصلہ اور منشا کے برعکس بھی تھی۔ اس وقت محترمہ محسنہ قدوائی مرکزی وزیر برائے ورکس اینڈ ہاؤسنگ تھیں۔ راتوں رات ایک تنظیم اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے نام سے بن گئی، جس نے نوٹی فکیشن جاری ہوتے ہی دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی اور نوٹی فکیشن پر اسٹے لے لیا۔ یہ اسٹے ایک چوتھائی صدی تک برقرار رہا۔ پھر 2008 کے شروع میں دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ججوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وقف املاک اللہ کے نام پر فلاحِ عام کے لیے بنائے جاتے ہیں، لہٰذا حکومت ہند اس طرح کے املاک کی مالک نہیں بن سکتی ہے۔ اس لیے اگر وہ انہیں وقف املاک مانتی ہے، تو اسے انہیں دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر یا حوالے کر دینا چاہیے اور یہ کام پر پیچوئل لیز ہولڈ بیسس پر نہیں ہونا چاہیے۔ ریکارڈ سے یہ بات صاف تھی کہ لیز کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کرتے وقت وقف املاک کا مالکانہ حق قائم رکھنے میں ایک رائے نہیں تھی۔ عدالت کو اس پر حیرت تھی، تبھی تو اس نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے مشورہ لیں اور پھر حکومت کی رائے سے عدالت کو واقف کرائیں۔

Read more

یو پی اے سرکار نے ملک کو خانہ جنگی کے دہانے پرلا کھڑا کیا ہے

دو ہزار چودہ کی شروعات ہے۔ تین مہینے کے بعد ملک میں لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ لوک سبھا میں کون پارٹی جیتے گی یا کون اتحاد جیتے گا، ابھی تک صاف نہیں ہو پایا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کانگریس پارٹی کی قیادت میں یو پی اے اقتدار میں آ جائے۔ ہوسکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں این ڈی اے اقتدار میں آ جائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی ساری پارٹیوں کا اتحاد تیسرے مورچہ کے نام پر آئے، جس میں کئی پارٹیاں باہر رہیں اور وہ اتحاد کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے حکومت بنا لے۔ اس میں یہ بھی ایک امکان ہے کہ اس میں ایک مورچہ کانگریس کے ساتھ مل کر ح

Read more

اگلا الیکشن ملک کی تقدیر بلے گا

اروند کجریوال نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ جیت لیا اور اعتماد کا ووٹ بھی اس انداز میں جیتا کہ کانگریس کے سامنے حمایت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا اور بھارتیہ جنتا پارٹی ٹُکُر ٹُکُر اروِند کجریوال کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بے بس سی دیکھتی رہی۔ دراصل، بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ مان لیا تھا کہ کانگریس کی پالیسیوں کے خلاف ملک میں غصہ ہے، نریندر مودی کا ساتھ ہے، پندرہ سال کا اُن کا وَن واس ہے، جو 2013 میں ختم ہو جائے گا اور ڈاکٹر ہرش وَردھن دہلی کے نئے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اتنی زیادہ

Read more

کون کر رہا ہے مودی کی جے جے

آیئے ہم بھی نریندر مودی کی جے جے کار کریں، کیوں کہ پورے ملک میں نریندر مودی کی ریلیاں ہو رہی ہیں، بھیڑ آ رہی ہے اور یہ مانا جا رہا ہے کہ نریندر مودی ہی اگلے وزیر اعظم بنیں گے۔ نریندر مودی کی تاج پوشی میں اس وقت سب سے زیادہ اگر کوئی ان کی شبیہ چمکا رہا ہے، تو وہ ہندوستان کا میڈیا ہے۔ جب ہم میڈیا کہتے ہیں، تو اس میں ٹیلی ویژن نیوز چینل پہلے ہوتے ہیں اور پرنٹ کے کچھ اخبار بعد میں آتے ہیں۔ یہ نریندر مودی کی ہوشیاری تھی کہ انہوں نے تین سال پہلے سے خود کو ملک میں وزیر اعظم کے طور پر قائم کرنے کی

Read more

انا کی قربانی کا نتیجہ ہے لوک پال بل

رالے گن سدھی میں انا ہزارے نے 9 دنوں تک اَنشن کیا۔ اس انشن کے ساتھ ساتھ جن تنتر مورچہ کے کارکن ملک کے کئی شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرہ اور انشن کرتے رہے۔ نیشنل میڈیا میں انہیں دکھایا نہیں گیا، لیکن علاقائی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے مقامی تحریکوں کو جم کر دکھایا۔ ایک اندازہ کے مطابق، ملک بھر میں دو سو سے زیادہ جگہوں پر انا کی حمایت میں لوگ سڑکوں پر اترے۔ سرکار کو لگاتار یہ جانکاری مل رہی تھی کہ 2011 کی طرح اگر میڈیا نے الگ الگ شہروں کے بارے میں خبریں دکھانی شروع کیں، تو اس بار کی تحریک پچھلی بار سے زیادہ بڑی بن سکتی ہے۔ اس بار انا نے انشن کا صحیح وقت چْنا تھا۔ چار ریاستوں میں کانگریس پارٹی ہار چکی تھی۔ ان انتخابات میں مرکزی حکومت کی

Read more

انا کی تحریک کا اثر نظر آنے لگا ہے

پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات سے پہلے ملک کے دانشور طبقہ کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی کہ یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں، کیوں کہ ملک بیداری کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انتخابات کے نتائج آئے اور ان نتائج میں لیڈر نہیں جیتے، عوام کی جیت ہوئی۔ وہ عوام جنہوں نے اپنے اوپر اِن الزامات کی چادر اوڑھ لی تھی کہ وہ ووٹ دینے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ ذات پات کی سوچ کے ساتھ پولنگ بوتھ تک آتے ہیں۔ وہ عوام جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ علاقائیت کے دائرے میں قید ہیں۔ یہ عوام کے ذریعے چوطرفہ پیدا کیے گئے دباؤ کی ہی جیت ہے کہ سرکار جن لوک پال جیسے عوامی مفاد کے موضوعات پر بحث کرنے کے لیے مجبور ہوئی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر عوام کو جو سب سے بڑی جیت ملی، وہ ہے پاور ٹو دی پیوپل۔

Read more

جھوٹے وعدے ، جھوٹے دعوے: جمہوریت کو بچانے کے لئے پھر سے انشن ضروری

ہندوستان کو جمہوریہ بنے ہوئے 64 برس ہو گئے، لیکن جمہوریت کہاں ہے؟ مجھے تو دکھائی نہیں دیتی۔ اتنے برسوں میں ملک کے لوگوں کو ہم صاف پانی تک نہیں دے پائے ہیں۔ طبی خدمات فراہم نہیں کر سکے۔ تعلیم نہیں دے سکے۔ گھر نہیں، روزی روٹی نہیں۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی ہمارا نوجوانوں کا ملک ہے۔ لیکن ان نوجوانوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے؟ یہ بے روزگار رہیں گے، تو کیا کریں گے؟ یہ سوچ کر تشویش ہوتی ہے۔ ہم نے ایسے معاشرہ کی تعمیر کی ہے، جس میں ایک طرف بے تحاشہ امیری ہے اور دوسری طرف جہنم کی طرح غریبی ہے۔ ہندوستان آج بھی گاؤں کا ملک ہے اور گاؤں ہی پچھڑ رہے ہیں۔ جو شہر میں ہیں اور امیر ہیں، ان

Read more

انا ہزارے پھر لڑیں گے جن لوک پال کی لڑائی

ایسا لگتا ہے کہ ملک پھر دو سال پہلے کے واقعات کا گواہ بننے والا ہے۔ 2011 کے اگست میں جب رام لیلا میدان میں انا ہزارے نے غیر میعادی اَنشن شروع کیا تھا، تب ان کی حمایت میں پورا ملک کھڑا ہو گیا تھا۔ سرکار نے اَنشن کے لیے جگہ دینے سے منع کر دیا تھا اور انا ہزارے کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ ملک بھر میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے دہلی میں تہاڑ جیل کو گھیر لیا۔ اس کے بعد سرکار کو انا ہزارے کو بلا شرط جیل سے رہا کرنا پڑا۔ انا کے جیل سے چھوٹنے کی بھی ایک کہانی ہے۔ مجسٹریٹ نے انا ہزارے سے کہا کہ آپ

Read more

رائٹ ٹو رجیکٹ پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے

گزشتہ ماہ جب سپریم کورٹ کے حکم پر ملک کے عوام کو امیدواروں کو ناپسند کرنے کا حق حاصل ہوا تو یکبارگی ایسا محسوس ہوا کہ سپریم کورٹ کا یہ فرمان سیاسی جماعتوں کو اب آئینی اور پارلیمانی اصولوں کی راہ دکھائے گا۔ ساتھ ہی ملک کے عوام کو بھی یہ اختیار حاصل ہوا کہ جو جمہوری عمل کے تحت وہ نہ صرف اپنی پسند کے امیدواروں کو منتخب کرے بلکہ اس بات سے بھی آگاہ کر سکے کہ اسے کوئی امیدوار پسند نہیں ہے۔ یہ معاملہ 2001سے ہی وزارت قانون کے پاس اٹکا ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں جب سماجی کارکن انا ہزارے جی نے رائٹ ٹو رجیکٹ اور رائٹ ٹو ری کال کو اپنے 25نکاتی پروگرام میں شامل کیا تو ملک میں اس مطالبہ کو لے کر ایک نیا ماحول بننا شروع ہوا۔ سپریم کورٹ نے جب اس سلسلہ میں

Read more
Page 19 of 39« First...10...1718192021...30...Last »