سلمان خورشید کے ’’غریب حاجی‘‘ سشما کے لئے باعث کار ِ ثواب

ہر سال حج بیت اللہ شریف سے دو ڈھائی ماہ قبل عازمین حج کے مسائل پر غورو فکر کرنے اور ہندوستانی عازمین حج کو مزید سہولیات پہنچانے کی غرض سے قومی راجدھانی دہلی میں حج کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس کے دوران عموما ً مرکزی وزیر خارجہ کے ذریعہ کلیدی خطبہ دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومت ہند کے قانون حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے تحت قائم قانونی ادارہ اور نوڈل ایجنسی حج کمیٹی آف انڈیا کرتی ہے۔ یہ کانفرنس گزشتہ 29برسوں سے ہوتی آئی ہے۔ اس برس 30ویں آل انڈیا سالانہ حج کانفرنس 23جون 2014 کو پارلیمنٹ انیکسی میں ہوئی جبکہ گزشتہ برس 29ویںکانفرنس 27 جون کو وگیان بھون میں منعقد ہوئی تھی۔
اس بار کی حج کانفرنس نسبتاً بالکل الگ تھی۔ گزشتہ بار کی حج کانفرنس کے مہمان خصوصی اور اُس وقت کے مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے بالمقابل اِس بار حج کانفرنس کے مہمان ذی وقار اور موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے شرکاء کا دل موہ لیا اور کانفرنس کے دوران چند شرکاء و ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات دیے اور اسی روز شام کو عازمین حج کو درپیش مسائل پر اپنی رہائش گاہ پر گفتگو بھی کی۔

Read more

سہارا شری جیل میں کیوں ہیں؟

ہندوستان۔ بنگلہ دیش کرکٹ میچ کے دوران باؤنڈری پار کرتی بال کو دیکھتے ہی ایک سوال کوند گیا۔ باؤنڈری پر سہارا انڈیا لکھا تھا۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی ٹیمیں سہارا کپ جیتنے کے لیے کھیل رہی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ سہارا گروپ کے سپریمو سبرت رائے جیل میں ہیں۔ ملک میں چاہے کرکٹ ہو، بیڈمنٹن ہو، ہاکی ہو، فارمولہ وَن ہو یاپھر پولو، سبرت رائے نے کھیل کو فروغ دینے میں کافی مثبت تعاون دیا ہے، لیکن اس بار سہارا پریوار کے سپریمو کے ساتھ ہی کھیل ہو گیا۔ یہ سچ مچ حیرانی کی بات ہے کہ اس ملک میں گھوٹالے بازوں اور بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ جیل نہیں جاتے، انھیں پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔ شاید اس لیے ، کیونکہ ہم نے سنا تھا کہ ہندوستان کا قانون ایسا ہے کہ چاہے سو گنہگار چھوٹ جائیں، لیکن کسی بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ سہارا شری سبرت رائے نے ضرور کوئی ایسا جرم کیا ہوگا، جس کے لیے انھیں سزادی جارہی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ آخر سچ کیا ہے، معاملے کی پوری تحقیقات کی۔

Read more

ہندوستانی فوج ، ہتھیار مافیا اور سیاست

بیس دسمبر 2011کی رات کچھ لوگ ایک گھر کے اندر زبردستی گھس جاتے ہیں۔ یہ گھر پونا گوگوئی کا ہے۔ وہ جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں نہیں تھے۔ وہ گوہاٹی میں تھے۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازاے کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میں ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا، گھر میں سب سور رہے تھے۔اچانک ان لوگوں کو گھر کے اندر دیکھ کروہ ڈر گئے، رونے لگے۔ ان لوگوںنے سبھی کو بستر سے کھینچ کر باہر نکالا اور ان کے ہاتھ باندھ کر انھیں ٹی وی والے کمرے میں بند کردیا۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کو تلاش کر رہے تھے، لیکن وہ گھر کے اندر نہیں ملے۔ ان لوگوں نے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے پونا گوگوئی کا ٹھکانا نہیں بتایا، تو سبھی کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ان لوگوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔

Read more

حکومت اور اپوزیشن : ایک نئی شروعات کی ضرورت

چھبیس مئی کو نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر 45 وزراء کی شروعاتی کابینہ کے ساتھ حلف لیا۔ راشٹرپتی بھون کی پریس ریلیز سے وزراء کی وزارتوں کی جانکاری دی گئی۔ اس سے پہلے ہی تبصرہ کیا جانے لگا کہ کابینہ کی ٹیم لائق ہے یا نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ نامناسب ہے۔ عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ہے اور ان انتخابات میں لوگوں نے نہ صرف بی جے پی کو، بلکہ نریندر مودی کو ذاتی طور پر ووٹ دیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اسے پسند کریں یا نہیں، لیکن یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ نریندر مودی کام کریں گے اور اسی بنیاد پر انہیں دیکھا جانا چاہیے۔ جہاں تک کابینہ کا سوال ہے، تو انہوں نے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے سینئر کیبنٹ ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے، لیکن انہیں محدود ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایسا ان کی سینئرٹی اور عمر وغیرہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Read more

سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

لوک سبھا کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور عوام کا فیصلہ آ چکا ہے۔ عوام کا یہ فیصلہ ہم جیسے کئی لوگوں کے لیے حیران کن، تو بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کے لیے اطمینان بخش ہے۔ عوام کے اس فیصلہ کا ایک مطلب ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک ملک میں ایک مستحکم سرکار ہوگی، کیوں کہ بی جے پی نے اپنے دَم پر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی اور کیا وہ ان پالیسیوں کو نافذ کر پانے کے قابل ہوگی؟ مینی فیسٹو کی اپنی پالیسیاں ہیں۔ اس میں اطمینان بخش بات یہ ہے کہ انتخابی منشور میں رام مندر اور آرٹیکل 370 جیسے مدعوں کو اندرونی صفحات پر رکھا گیا ہے اور بنیادی مدعے ڈیولپمنٹ اور روزگار پر مرکوز ہیں۔ اب مان لیتے ہیں کہ یہ سرکار اپنے وعدوں کے تئیں ایماندار رہے گی، لیکن وہ اسے کیسے پورا کریں گے؟ سرمایہ کاری کا ایشو بے حد آسان ہے، کیوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔

Read more

نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

نریندر مودی کو ایشور نے، اللہ نے، گاڈ نے، واہے گرو نے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو، وقت نے تاریخ کا سب سے اہم موقع فراہم کیا ہے۔ نریندر مودی کے سامنے گزشتہ 64 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات ہیں۔ کس پارٹی نے یا کس وزیر اعظم نے لوگوں کے لیے کیا کیا، کیا نہیں کیا، اس کی فہرست ہے اور آج نریندر مودی کے سامنے یہ ملک مواقع کی ایک کھلی کتاب بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس موقع کے پیچھے ملک کے عوام کی مثبت حمایت ہے اور یہ مثبت حمایت ان کے حق میں جب بن رہی تھی، تو اس کو ملک کا کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی سروے کرنے والا کسی بھی طرح سمجھ نہیں پایا۔ شاید اس بنتی حمایت کو نریندر مودی بھی سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں ایشور کو یا وقت کو مبارکباد دے رہے ہوں گے اور اس بے پناہ حمایت کو سلام کر رہے ہوں گے۔
اس بے پناہ حمایت کی تعمیر جن اسباب سے ہوئی، ان اسباب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر شخص کو جاننا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ضرور جاننا چاہیے۔ وجہ، غصہ اور اس سے نکلی ہوئی حمایت دراصل ایک شیر ہے، جس کے اوپر آج نریندر مودی سوار ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے سامنے مسائل کا پہاڑ تھا۔ وہ مسائل دو وجہوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلا مسئلہ، آزادی کے بعد ملک کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو ترجیح نہ ملنا۔ اس وجہ سے لوگ ترقی کے دائرے سے دھیرے دھیرے باہر ہونے لگے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ خود کو اقتدار سے محروم سمجھنے لگا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی بھی ہو سکتی تھی۔

Read more

پیسے کی نمو نمو ہے ایشوز کہاں ہیں؟

اکثر راہ چلتے آپ نے سڑک کنارے کسی ٹارچ بیچنے والے کو دیکھا ہوگا۔ ٹارچ بیچنے والا زور زور سے بولتا ہے کہ رات میں آپ کو سانپ نہ کاٹ لے، اس لیے اپنے پاس ٹارچ رکھئے۔ اب آپ کو اندھیرے میںسانپ کاٹے یا نہ کاٹے، لیکن ایک بار آپ اس کے بارے میں سوچیں گے ضرور۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ٹارچ خرید بھی لیں۔ بس یہیں پر ٹارچ بیچنے والے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی آج ہندوستانی سیاست میں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہاہے کہ پارٹی میں اکیلے ایک آدمی کو پارٹی اور تنظیم سے بڑا بنا دیا گیا ہے۔ پہلی بار عام

Read more

انتخابی دور میں کتابوں کی سیاست

اس انتخابی دورمیں جہاں میڈیا پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ مودی کی حمایت میں متحد نظر آر ہا ہے، وہیں دوسری طرف اب یو پی اے سرکار کے رکن رہے بعض اعلیٰ پایے کے افسران بھی کتابوں کی شکل میں بہت سے چونکانے والے انکشافات کر رہے ہیں۔ اس کی شروعات سب سے پہلے کوبرا پوسٹ کی طرف سے ’آپریشن جنم بھومی‘ نامی سی ڈی عوام کے سامنے پیش کرکے کی گئی تھی۔ اس میں کوبرا پوسٹ نے اپنے مختلف اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایک منظم سازش کی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی، جسے اس منظم سازش کا پردہ فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے۔

Read more

مسلم ووٹوں کی تقسیم کے درمیان سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور

سولہویں لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ملک کا مسلمان ذہن بنا چکا ہے کہ وہ یا تو عام آدمی پارٹی کو ووٹ ڈالے گا یا پھر کانگریس کو۔ علاقائی سطح پر مسلمانوں کے ووٹ بی ایس پی، ایس پی، ٹی ایم سی، آئی یو ایم ایل، یو ڈی ایف، ایم آئی ایم، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اور ایس ڈی پی آئی وغیرہ کو بھی ملنے کی امید ہے۔ لیکن مجموعی طور پر مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ہونے کی وجہ سے اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند نام نہاد مسلم رہنما مسلمانوں سے کسی مخصوص پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کرکے خود تو تنقید کا نشانہ بن ہی رہے ہیں، ساتھ ساتھ پوری

Read more

کمال کا کھیل ہے 2014 کا الیکشن

مان لینا چاہیے کہ نریندر مودی ملک کے اگلے وزیر اعظم بنیں گے۔ جس طرح ان کی ریلیوں میں بھیڑ جمع ہو رہی ہے اور جس طرح کا ان کا پرچار چل رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ سارا ملک ان کے ساتھ ہے، بس تھوڑی سی کسر سروے رپورٹس بتا رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکیلے 170 سے 180 سیٹیں اور حلیفوں کے ساتھ این ڈی اے کی کل سیٹیں 220 سے 230۔ کوئی بھی سروے 230 سے آگے نریندر مودی کے این ڈی اے کو نہیں لے جا پا رہا ہے۔ دراصل، یہ این ڈی اے بی جے پی کا نہیں ہے، یہ نریندر مودی کا این ڈی اے ہے اور این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد بڑھتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ جو پارٹیاں این ڈی اے کے ساتھ جڑی ہیں، ان میں شو سینا اور اکالی دَل کو چھوڑ دیں، تو ایک یا دو سیٹیں بھی شاید ہی انہیں مل پائیں۔

Read more