حساس اطلاعات فراہم کرنے میں حکومت ناکام ’را‘ ہوا فیل، حکومت بدنام

کل بھوشن جادھو، ڈالکن عیسیٰ ویزا معاملہ، چینی ویٹو، نیپال، پٹھان کوٹ کسی میںبھی صحیح اطلاع نہیں دے پائی ’پرائم‘خفیہ ایجنسی گھنگور بد نظمی میںپھنسے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کو دھو ڈالنے پر آمادہ پی ایم مودی اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ڈوبھال

Read more

وزیر اعظم جی، آپ کی ترجیحات میں کیا ہے؟ کام یا تشہیر

عجیب صورت حال ہے۔ ایک دن پہلے سرکار اسکیموں کا اعلان کرتی ہے اور اگلے ہی دن انہیں کامیاب بتا دیتی ہے۔ عام طور پر اسکیموں کے عملدرآمد ہونے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسکیمیں کامیاب ہوئیں یا ناکام ۔ لیکن مودی سرکار عملدر آمدہو ئے بغیر ہی اسکیموں کو کامیاب اعلان کرنے پر آمادہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کئے ہی بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ اسکیموں کی کامیابی کا ڈھول پیٹنے لگیں۔ نریندر مودی سرکار کے دو سال پورے ہونے والے ہیں۔ اگلے انتخاب میں

Read more

بدعنوانی کی اڑان پناما سے اٹلی تک

کالے دھن کی جانچ کرنے اور نگرانی رکھنے کے لےے بنی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کو پناما معاملے کی بھنک کیوں نہیں لگ پائی؟ اخباروں کی سرخیاں بننے کے بعد ہی پی ایم او کو اس بارے میںجانکاری ہوئی اور جانچ کا حکم جاری ہوا۔ پی ایم او نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی کہ آخر ایس آئی ٹی کیا کررہی تھی؟ یہ سوال اہم ہے، لیکن اسے پوچھنے اور اس کی وجہ جاننے کے بجائے پورا ملک بے معنی کی بحث میں لگا ہے۔ ملک کے کالے دھن معاملے کی جانچ کتنے صحیح طریقے سے چل رہی ہوگی، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کا اس پر دھیان نہیںجا رہا کہ کتنے شاطرانہ طریقے سے پانی کی قلت اور کسانوں کی تباہی کے مسئلے کو بحث کے مرکز سے کھسکا کر پناما ہوتے ہوئے اٹلی لے جایا گیا۔

Read more

لاتور کے ذریعہ ملک کا مستقبل دیکھئے

ایسا کئی سالوں سے کہا جارہاہے کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے لئے ہوگی۔ یہ عالمی جنگ کب ہوگی، کیسے ہوگی، یہ تو ابھی معلوم نہیں، لیکن ہمارے اپنے ملک میں پانی کو لے کر لڑائیاں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے لاتور شہر میں دفعہ 144 لگائی گئی۔ مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ میں ایک تالاب کے پانی کی سیکورٹی کے لئے بندوق بردار گارڈ تعینات کئے گئے۔ یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ فی الحال ملک کے 12 صوبوں کے تقریباً 35 فیصد اضلاع بھیانک سوکھے کی زدمیں ہیں۔ کھیتی باڑی تو چھوڑیئے، پینے کے لئے پانی ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ لاتور میں ٹرین سے پانی پہنچایا جارہا ہے۔ تاکہ لوگوں کو پینے کے لئے پانی مل سکے۔

Read more

نتیش کمار کے سامنے چیلنجز

بہت پرانا شعر ہے اور آپ کو ضرور یاد ہوگا ’یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے، ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘۔ سارے ملک میں اور جو سیاست میں ہیں ان میں یہ صرف نتیش کمار کے اوپر، جس لمحہ ہم اور آپ بات کر رہے ہیں، لاگو ہوتا ہے۔ نتیش کمار کے کئی خواب ہیں۔ ایک خواب ملک کے لوگوں کو جے پرکاش نارائن کی طرح سسٹم بدلنے کے لئے تیار کرنا، بہار کو ملک کا بہترین صوبہ بنانا اور تیسرا سماج میں پھیلے ہوئے ان اقدار کی مخالفت کرنا، جن کی عام طور پر مخالفت کرنے کی ہمت لوگ خود نہیں کر پاتے۔

Read more

موجودہ عراق کی تصویر: کبھی خوشحال تھا عراق

’’ یہ شیعہ سنی کی لڑائی نہیں ہے۔یہ داعش کے خلاف عراق کی جنگ ہے ۔دنیا میں یہ تشہیر کی جارہی ہے کہ صدام کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سنیوں پر ظلم ہورہے تھے،اسی لئے داعش وجود میں آئی جبکہ یہ بالکل غلط پروپیگنڈہ ہے ۔داعش سنیوں کو بھی مار رہے ہیں، ان کی بستیوں کو بھی اجاڑ رہے ہیں‘‘

Read more

وزیر خزانہ صاحب، کچھ تو گڑ بڑ ہے

کچھ ہی دنوں میں عام بجٹ پیش ہونے والا ہے۔وزیر خزانہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔وزیر خزانہ اب تک دو بجٹ پیش کر چکے ہیں، جن کو لے کر بازار نے مثبت رائے نہیں دی ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ،یو پی اے 3 سرکار ہے۔ دراصل ارون شوری نے اسے یو پی اے 3 پلس کاؤ( گائے) کہا ہے۔ان کا یہ کہنا سچائی سے بہت الگ بھی نہیں ہے،کیونکہ موجودہ سرکار نے نہ تو کانگریس کی پالیسیوں کو پوری طرح بدلا ہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نئی پالیسی پیش کی ہے۔

Read more

اڑیسہ: کسانوں کے لئے نیا قبرستان

فصل برباد ہونے کی وجہ سے اڑیسہ کے نوپاڈہ ضلع کے جولی بندھا گاؤں کے رہنے والے 22 سالہ کسان اوم پرکاش پٹیل نے خود کشی کرلی۔ اوم پرکاش کے پاس قابل زراعت سات ایکڑ زمین تھی۔ جولی بندھا ، اڑیسہ سے راجیہ سبھا ممبر اے وی سوامی کا گود لیا ہوا آدرش گاؤں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ صرف بارش ہی کسانوں کے درد و الم کاسبب ہو، بلکہ سرکار کی پالیسیاں اور ان کے طریقہ کار بھی کسانوں کی خود کشی جیسے المناک حادثوں کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ مانس

Read more

اتر پردیش: ترقی کے نام پر گھوٹالہ اور بد عنوانی کا بازار گرم

آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو کمپنی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو ،اسے پانچ پانچ پروجیکٹوں کے ٹھیکے دے دیئے جائیں؟ لیکن ایسے لا جواب کارنامے اتر پردیش میں ہوتے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی حکومت کے طاقتور وزیر اور این آر ایچ ایم گھوٹالے کے اہم ملزم بابو سنگھ کشواہا کی سرپرستی میں کانکنی کا دھندہ کرنے والوں نے ایک کمپنی کے نام پر پانچ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے پہلے حاصل کر لئے، بعد میں کمپنی بنائی ۔ کمپنی کا ایک ڈائریکٹر کانکنی کا شہنشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کا سرگرم لیڈر بھی ہے۔ پروجیکٹ شروع نہیں ہوا، لیکن ان کے لئے ملنے والے آسان لون اور سبسڈی کا فائدہ مل گیا۔ پروجیکٹ کا کام شروع نہیں ہوا ،تو اتر پردیش کو سستی بجلی نہیں مل پائی، جس سے ہر سال کروڑوں کا نقصان الگ سے ہو رہاہے ۔گتھی یہ بھی الجھی ہوئی ہے کہ کانکنی کا پیسہ پروجیکٹوں میں لگنے والا تھا یا پھر کانکنی کا دھندہ کرنے والے طاقتور لوگوں کو عوام کا پیسہ سمیٹنے کا ایک اور ذریعہ دے دیا گیا۔ جانچ (غیر جانبدار)ہو تو پتہ چلے۔

Read more

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ طالبان کی درندگی ، معصوم طلباء نشانے پر

پاکستان کے خیبر پختونخوا ہ علاقے میں 20جنوری کی صبح کافی کہرہ تھا۔ کہرہ بھی ایسا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس صوبے کی راجدھانی پشاور ہے۔ وہی پشاور جہاں 16دسمبر 2014کو دہشت گردوں نے 150اسکولی بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ معصوم بچوں کے بہیمانہ قتل سے پوری دنیا لرز اٹھی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستان میں سیکوریٹی انتظامات چا ق و چوبند کر دیئے گئے تھے۔ کسی کو بھنک تک بھی نہیں تھی کہ پشاور سے 40 کلو میٹر کی دور چار سدہ شہر دہشت گردانہ حملے کا شکار ہونے والا ہے اور تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے نشانے پر اس بار باچا خان یونیورسٹی تھی۔ اس علاقے کو لو گ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کو باچا خان بولتے ہیں۔ انہی کے نام پر یہ یونیورسٹی ہے جوپشاور سے چالیس کلو میٹر دور چارسدہ میں واقع ہے۔یہ یونیورسٹی شہر سے کچھ دوری پر غیر رہائشی علاقے میں واقع ہے۔ 20جنوری کو باچا خان کی یوم وفات تھی۔ اس موقع پر یونیورسٹی میں ایک پشتو مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طالب علموں کے علاوہ تقریباً600باہری لوگ بھی موجود تھے۔

Read more
Page 12 of 38« First...1011121314...2030...Last »