سماجوادی پارٹی کی سرکار سے پوچھے جارہے سوال مسلمان مذاق ہیں کیا

سماج وادی پارٹی کی سرکار نے اتر پردیش میں مسلمانوں کا مذاق بنا کر رکھ دیاہے۔ ساڑھے چار سال کے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اقلیتوں کی بہبود کے لئے کچھ نہیں کیا۔ مسلمانوں کو فرضی بیانوں،جھوٹے اشتہارات اور کھوکھلے لالچ دے کر بہلایا جاتا رہا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سماج وادی پارٹی کی سرکار نے مسلمانوں کی بہبود کے لئے جن اسکیموں اور پروگراموں کا اعلان کیا،وہ سب ان ساڑھے چار برسوں میں بے معنی ثابت ہوئے۔ جس منشور کے ذریعہ سماج وادی پارٹی انتخاب جیت کر آئی،اس میں اقلیتوں کی بہبود کے لئے جو وعدے کئے

Read more

مودی جی!لوگوں کے اعتماد کے ساتھ حکومت کیجئے نیت صحیح، پالیسی بدلیں

کمل مرارکا
وزیر اعظم نے حال ہی میںکہا ہے کہ میڈیا کاایک خاص طبقہ انھیںاقتدار میںنہیںآنے دینا چاہتا تھایا کہہ سکتے ہیںکہ میڈیا کو یہ امید نہیںتھی کہ وہ اقتدار میں آسکتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی چنوتی یہی ہے کہ وہ میڈیا کے اُس طبقے کا ابھی تک دل نہیںجیت سکے ہیں۔ وزیر اعظم کے ذریعہ دیا گیایہ ایک بہت اہم بیان ہے۔ میںانھیںایک تجویزدینا چاہتا ہوں۔ حالانکہ، میںان کے گروپ سے نہیں جڑا ہوں، ا س لیے امیدہے کہ میری تجویز کو صحیح معنی میں نہیںلیا جائے گا۔

Read more

میں آرہا ہوں

شراب بندی جیسے مسئلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے۔ اس مہم کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ رفتہ رفتہ ملک بھر کی خواتین اس سے جڑ رہی ہیں اور جو اس مہم میں سرگرمی کے ساتھ شامل نہیںہوپارہی ہیں، وہ بھی خود کو اس سے جڑا ہوا محسوس کررہی ہیں۔ خواتین تنظیموں کے ساتھ، سماجی، دانشور، اقتصادی اور غیر سرکاری اداروں کا اس مہم سے جڑنا نشاندہی کرنے کے لائق ہے۔ یہاں تک کہ یوگ اور قدرتی علاج کا بھی اس کے ساتھ جڑنا مجھے دلی خوشی عطا کر رہا ہے۔

Read more

اکھلیش جی! سات ہزار کروڑ کہاں ہیں؟

اترپردیش کے سرکاری خزانے کے سات ہزار کروڑ روپے روپے غائب ہیں۔ سات ہزار کروڑ روپے کا حساب ہی نہیں مل رہا ہے۔ اترپردیش پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن اوریوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے ٹاپ پر بیٹھے بدعنوان افسروں نے سازباز کرکے توانائی (انرجی) کے مد کی اتنی بڑی رقم کو خورد برد کردیا ہے۔ اس گھوٹالے سے اترپردیش سرکار کو 450کروڑ روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ نقصان کی رقم گھوٹالے کی رقم سے الگ ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے والے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے جنرل منیجر آر این یادو کو کامیابی کے ساتھ بدعنوانی کرنے کے لیے سرکار نے انعام دیا اور انھیںاترپردیش پاور کارپوریشن کے ’یوجنا‘ محکمہ کا ڈائریکٹر بنا دیاگیا۔ آراین یادو کی ’اسپلشلائزیشن‘ کی ساکھ یہ ہے کہ سرکار نے

Read more

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دلتوں اور پچھڑوں کوکیوں نہیں دیا جارہا ریزرویشن انتخابی بساط پر بی جے پی کا دائو

اتر پردیش کی اکادمک راجدھانی الٰہ آباد میں ہوئی بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ سے زیادہ اہم وہ میٹنگ تھی جو قومی صدر امیت شاہ کے دعوت پر 18جون کو دلی میں بلائی گئی تھی، جس میں اتر پردیش کے سارے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے موجود تھے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی مذکورہ میٹنگ کے اصل منتظم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے نظریہ کے حامل لوگ تھے۔ اس میٹنگ کی جانکاری کو عام نہیں کیا گیا، لیکن اس میٹنگ میں اتر پردیش کے سبھی بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اور سبھی بی جے پی ایم ایل ایز لازمی طور سے شامل ہوئے۔ نیشنل ایگزیکٹیو میں انتخابی پالیسی پر کوئی چرچا نہیں ہوا تھا اور جو تجاویز پیش ہوئی تھیں، ان میں بھی اتر پردیش یا دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو لے کر کوئی قابل

Read more

ہندوستان ترقی پذیر نہیں کم سے اوسط آمدنی والا ملک ہے

حال ہی میں عالمی بینک نے ہندوستان کو ترقی پذیر ملک کی جگہ کم سے اوسط آمدنی والے ملکوں کے گروپ میں رکھا ہے۔ اس گروپ میں پاکستان ، گھانا، جیسے ملکوں کے ساتھ ہندوستان بھی کھڑا ہے۔ آخراس درجہ بندی کا مطلب کیا ہے؟ اس کا ہندوستان پر کیا اثر پڑے گا؟ ان سوالوں کاجواب جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ان سے بھرم کی حالت پیدا ہوتی نظر آتی ہے۔ ان سوالوں کا جواب اسی وقت ممکن ہے جب ہم عالمی بینک کے طریقہ کار اور درجہ بندی کے طریقے کو سمجھیں۔ اس لیے اس اسٹوری کے ذریعہ ہم ایسے ہی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی بینک نے دنیا کی معیشتوں کی درجہ بندی میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ کے اپنے تصور کو ختم کر دیا ہے۔ عالمی بینک نے اس کی جگہ فی کس آمدنی کی بنیاد پر درجہ بندی کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا ہے۔ یہ نیا طریقہ کار کیا ہے؟ سب سے پہلے اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔

Read more

تباہی کی راہ پر واٹر فُٹ پرنٹ

ملک کی 33 فیصد آبادی پانی کی کمی سے پریشان ہے۔ اکیلے مہاراشٹر کے قریب 20 ہزار گاو¿ں خشک سالی کی زد میں ہیں۔ بندیل کھنڈ سے لوگوںکی نقل مکانی صرف پانی کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ملک کے کئی حصوںمیںبندوق بردار پانی پر پہرا دے رہے ہیں۔ مانسون کے کمزور ہونے سے ملک کے 91 اہم آبی ذخائر میںمحض 25 فیصد پانی ہی بچا رہ گیا ہے۔ ایسے میں پانی پر سوائے ’من کی بات‘ کے اور کوئی تذکرہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ من کی بات بھی ایسی جس میںکسی مکمل حل پر گفتگو کی جگہ پا

Read more

کسان منچ کی لکھنؤ سبھا میں نتیش کمار کی منادی اب یو پی میں بھی شراب بندی لاگو ہو

بہا رکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اکھلیش سرکار کو اترپردیش میں شراب پرر وک لگانے کی چنوتی دی ہے۔ کسان منچ کی سرپرستی میں اترپردیش کی خواتین کے ذریعہ نتیش کو بلاکر یوپی میںبھی شراب بندی آندولن کا بگل بجانے کا پیغام یہی ہے کہ شراب بندی کا مسئلہ اب سماجی آندولن کی شکل میںملک گیر ہورہا ہے۔ لکھنو¿ میں واقع رویندرالےہ آڈیٹوریم اور رویندرالےہ کیمپس میں کھچا کھچ بھری بھیڑ کے بیچ جب نتیش کمار نے کہا کہ اکھلیش جی ڈرےے نہیں، یوپی میں بھی شراب بندی لاگو کیجئے، تو لوگوں کی خوشی بھری آواز نے وسیع سماجی آندولن کی منادی دی۔ ہال میں مردوں کی سیٹ گھیر کر بیٹھنے کی وجہ سے خواتین کو کوریڈور، برآمدے اور رویندرالےہ کیمپس میں اِدھر اُدھر سایہ تلاش کر کے بیٹھنے کو مجبور ہونا پڑا۔ اس پر تقریباً

Read more

حساس اطلاعات فراہم کرنے میں حکومت ناکام ’را‘ ہوا فیل، حکومت بدنام

کل بھوشن جادھو، ڈالکن عیسیٰ ویزا معاملہ، چینی ویٹو، نیپال، پٹھان کوٹ کسی میںبھی صحیح اطلاع نہیں دے پائی ’پرائم‘خفیہ ایجنسی گھنگور بد نظمی میںپھنسے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کو دھو ڈالنے پر آمادہ پی ایم مودی اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ڈوبھال

Read more

وزیر اعظم جی، آپ کی ترجیحات میں کیا ہے؟ کام یا تشہیر

عجیب صورت حال ہے۔ ایک دن پہلے سرکار اسکیموں کا اعلان کرتی ہے اور اگلے ہی دن انہیں کامیاب بتا دیتی ہے۔ عام طور پر اسکیموں کے عملدرآمد ہونے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسکیمیں کامیاب ہوئیں یا ناکام ۔ لیکن مودی سرکار عملدر آمدہو ئے بغیر ہی اسکیموں کو کامیاب اعلان کرنے پر آمادہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کئے ہی بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ اسکیموں کی کامیابی کا ڈھول پیٹنے لگیں۔ نریندر مودی سرکار کے دو سال پورے ہونے والے ہیں۔ اگلے انتخاب میں

Read more
Page 12 of 39« First...1011121314...2030...Last »