کشمیر درد سے چیخ رہا ہے

میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کشمیرمیں کیاہو رہا ہوگا؟میں اپنے دو صحافی دوستوں اشوک وانکھیڑے اور ابھے دوبے کے ساتھ جب 11سے 13 ستمبر کو سری نگر میں تھا تو سری نگر کی وہ تصویر سامنے آئی، جس کا دہلی میں بیٹھ کر احساس ہی نہیں ہوسکتا ، تب لگا کہ جو لکھنو، پٹنہ ، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو یا چنئی میں ہیں، وہ تو کشمیر کے آج کے حالات کا تصور ہی نہیں کرسکتے کہ کیوں دکانیں بند ہیں، کیوں لڑکے پتھر چلا رہے ہیں، کیوں لڑکے سڑک پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کر رہے ہیں اور کیوں اپنے آپ پتھر صاف کر کے سڑکیں کھول دیتے ہیں؟ کیوں دکاندار ٹھیک شام کے چھ بجے دکانیں کھول دیتے ہیں، سرکاری بینکوں نے کیوں اپنا وقت شام چھ بجے سے کر دیا ہے۔یہ سارے سوالات آندھی کی طرح دماغ میں اس لئے اڑنے لگے کہ ہمیں تو سری نگر جا کر ان سوالوں کا جواب مل گیا لیکن کیا ملک کے لوگ کبھی اس سچائی کو سمجھ پائیں گے؟پھر ایک اور سوال ابھرا کہ پورے ملک میں کہیں بھی ایک دن کا بازار بند کرانے کا نعرہ جب کوئی سیاسی پارٹی دیتی ہے، تو لوگ دکانیں نہیں بند کرتے ہیں، ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نوجوان کارکنان لاٹھی لے کر سڑک پر نکلتے ہیں، تب وہ ایک دن کے لئے دکانیں بند کرا پاتے ہیں۔ لیکن کشمیر 105دنوں سے بند تھا۔ صرف ایک کاغذ کا پرچہ کیلنڈر کی شکل میں نکلتا ہے اور لوگ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read more

میر واعظ مولوی عمر فاروق سے خاص بات چیت: یہ نا انصافی بند کیجئے

دیکھئے ابھی حالات تو یہ ہیں کہ ابھی ہم ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ جموں و کشمیر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہ کشمیر کا ایک حصہ ہے اور یہاں کے عوام نے سو دن کا جو ایک ان پریسڈنٹیڈ جذبہ دکھایا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔لوگوں نے ایک بہت بڑی مورال ویکٹوری دکھا دی ہے، یہاں کے ٹریڈر نے، ٹرانسپورٹرز، ملازمین، ریٹری پٹری والے ،سب نے یہ پیغام دیا ہے کہ میں اپنی روزی روٹی کو بند کردوں گا لیکن ظلم و جبر کو برداشت نہیں کروں گا۔میںسمجھتا ہوں کہ یہ حکومت ہند کو ایک واضح میسیج گیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستانی حکومت کیا کرتی ہے اور کیا نہیں کرتی ہے۔لیکن ہمارا میسیج تو چلا گیا اور یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ یہ ایک مرحلہ ہے اور اس مرحلے سے ہمیں گزرنا ہی ہے،اور ہماری تحریک چلتی رہے گی اور ہماری آواز اٹھتی رہے گی جب تک ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر ہندوستان اس پر سنجیدہ ہے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تو ہم سے بات کرے، پاکستان سے بات کرے،ہم اس کا ضرور مثبت جواب دیں گے۔

Read more

یکساں سول کوڈ ایک بار پھرموضوع بحث

آزادی کے بعد مرکز میں مختلف حکومتوں کے وقت یکساں سول کوڈ کا ایشو اٹھتا رہا ہے اور دبتا بھی رہا ہے۔جب بھی یہ ایشو گرم ہوا ہے،ہر ایک حکومت کی طرف سے اسے یہ کہہ کر ٹھنڈا کردیا گیا ہے کہ یہ تمام فریقین کے اتفاق رائے اور انہیں اعتماد میں لے کر ہی نافذ ہوگا۔ اس بار بھی جب یہ ایشو اٹھا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ بالآخر اس ایشو سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ اس تجزیئے میں انہی باتوںکوسمیٹا گیاہے

Read more

انّوسینس نیٹ ورک کی پہلی عوامی عدالت بے گناہوں کا درد

اب عمومی گفتگو میںاس بات کا اعتراف کیا جانے لگا ہے کہ جھوٹے دہشت گردانہ معاملوں میںلوگوں کو محض اپنی مذہبی شناخت کی بنیاد پر ملوث کیا جاسکتا ہے۔ اس کا اندازہ مالیگاؤں اور مکہ مسجد بلاسٹوں کے معاملوںمیںتحقیق کے دوران ہوتا ہے۔ لہٰذا انّوسینس نیٹ ورک نے حال میںدہلی میںاپنی پہلی عوامی عدالت بلائی جس میںعدالتوںکے ذریعہ بری کیے گئے 11 بے گناہ افراد نے اپنا اپنا معاملہ 9 رکنی جیوری کے سامنے پیش کیا۔ جیوری عنقریب اپنا فیصلہ سنائے گی تاکہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کا سلسلہ رکے اور جو لوگ جیل سے باہر آئے ہیں، انھیں معاوضہ دیا جائے او ر ان کی مکمل آباد کاری ہو۔ نیز ہمارا ملک جس نے انٹر نیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پالیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) پر 168 ممالک کے ساتھ دستخط کر رکھا ہے ، جلد اس سلسلے میں متعلقہ قوانین بنائے۔ نمونے کے طور پر اس پہلی عوامی عدالت کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں۔

Read more

شولا پور میں پہلی اسلامی بینک کاری سروس مضبوط ہوگی جمہوریت

سودپر مبنی قرض کے بوجھ تلے ڈوبی دنیا میں گزشتہ دنوں ریاست مہاراشٹر کے شولاپور میں کوآپریٹو ، مارکیٹنگ اور صنعت کے وزیر سبھاش دیشمکھ کے لوک منگل کوآپریٹو بینک کی باشری شاخ میںحکومت کی منظور شدہ پہلی اسلامی بینک کاری سروس شروع ہونے کی خبر آئی تو ملک بھر میںبلا تفریق مذہب و ملت اس کا خیر مقدم کیا گیا کیونکہ یہاںسے قرض لینے والے کسی بھی شخص کو نہیں دیناہوگا سود۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ سود پر مبنی قرض کا نظام کیا قہر ڈھارہا ہے اور بی جے پی رہنما کے ذریعہ لی گئی اس پیش رفت کے اس ملک میںآگے بڑھنے کے کیا امکانات ہیں۔

Read more