دو ہزار سولہ وزیر اعظم کے لئے چیلنج بھرا ہے

2016 کئی معنی میں اہم ہے۔سیاسی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی ۔نئی سرکار آنے کے بعد سے کئی نئے تنازع بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج کل ایک عجیب طرح کا سیاسی ماحول بنتا جارہا ہے۔ کئی طرح کے تنازع سیاسی پارٹیوں میں دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بے وجہ ہیں۔ان تنازعات سے نہ تو ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ ملک کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی سماج کا۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے نیا سال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں آگے آکر مداخلت کرنی ہوگی، ایک حتمی گائڈ لائن دینی ہوگی، جس سے ایک تخلیقی سماج اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ہوسکے۔

Read more

مندر ۔ مسجد نہیں روزگار چاہئے

ایودھیا میںرام مندر کو لے کرپھر سے سرگرمی ہے۔ رام مندر کے لےے پتھرکاٹنے اور اس کے جواب میں بابری مسجد کے لےے بھی پتھر منگا کر کاٹنے کی تیاریوں اور چرچاو¿ں کے بیچ سیاسی فصل کاٹنے کی منشا پروان چڑھ رہی ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب ہونے میں ابھی ایک سال کی مدت باقی ہے، اس لےے ووٹ کاٹنے اور تراشنے کے لےے بی جے پی کو پتھر کاٹنا اور تراشنا ضروری لگ رہا ہے۔ جبکہ بہار اسمبلی انتخاب میں بری طرح ہارنے کے بعد اتر پردیش میں اس طرح سے زمین تیار کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے میچیور پالیسی ڈسیزن کا اشارہ نہیں ہے۔ سنگھ اور بی جے پی کے اندرونی سروے میں یہ تصویر سامنے آئی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی اور اتر پردیش میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی تیسرے نمبر پر چل رہی ہے۔ یہ بی جے پی کی بوکھلاہٹ تو نہیں ہے!

Read more

مراٹھواڑہ : موت کے دہانے پر کسان

ضلع ہیڈکوارٹر عثمان آباد سے پندر کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے روئی بھر۔ 11 دسمبر، 2014 کو بابا صاحب مانک جگتاپ نے اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ جگتاپ کو کانوں سے کم سنائی دیتا تھا۔ فیملی میں اس کی جسمانی طور پر معذور بیوی انیتا سمیت تین بیٹیاں، کاجل، اسنیہل اور جیوتسنا اور ایک بیٹا پرمود ہے۔ مانک جگتاپ کی بوڑھی ماں کیسر بائی اکثر بیمار رہتی ہے۔ اس فیملی کے پاس صرف سوا بیگھہ زمین ہے۔ بڑی بیٹی

Read more

بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے

سنتوش بھارتیہ
نام سنجے ونائک جوشی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر ہیں یا نہیں، پتہ نہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے جڑے ہوئے ہیں، یہ یقینی بات ہے۔ الزام ہے کہ ان سے بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے کارکن زیادہ ملنے آتے ہیں۔ ان کے اوپر یہ بھی الزام ہے کہ ان سے مرکزی حکومت کے وزیر، ریاستی حکومتوں کے وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی اکائیوں سے وابستہ بڑے نام اکثر ملنے آتے ہیں۔ آخری الزام یہ ہے کہ سنجے ونائک جوشی بھارتیہ جنتا پارٹی میں بہت چھوٹے، لیکن متوازی اقتدار کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

Read more

کوئلہ کانوں کی نیلامی ,سب کالا ہی کالا ہے

کوئلے کی سیاہی ہی ایسی ہے کہ لاکھ ہوشیاری برتیں، ایک دو دھبے لگ ہی جاتے ہیں۔ اس بار بھی کوئلے نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ کوئلے کی سیاہی نے یو پی اے سرکار کا تخت پلٹ دیا تھا۔ سی اے جی نے ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کی بات کہی تھی، لیکن ’چوتھی دنیا‘ شروع سے اس گھوٹالے کو 26 لاکھ کروڑ روپے کا بتاتا رہا ہے۔ بہرحال، سپریم کورٹ نے سارے الاٹمنٹ ردّ کر دیے تھے۔ اب پھر سے ان کوئلہ کانوں کی نیلامی شروع ہو گئی ہے۔ کول بلاک کے الاٹمنٹ سے لاکھوں کروڑ روپے ملنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ صحیح بھی ہے۔ کئی ساری کانوں کی نیلامی کامیابی کے ساتھ ہو چکی ہے، خوب سارا پیسہ بھی مل رہا ہے۔ لیکن کوئلہ تو آخر کوئلہ ہے، لہٰذا تنازع یہاں بھی پیدا ہو گیا ہے۔ معاملہ ’گارے پالما‘ کول بلاک کے الاٹمنٹ اور پھر اسے ردّ کرنے کا ہے۔ یہ الاٹمنٹ جندل پاور کو ہوا تھا۔ وجہ بولی کم لگانا ہے، لیکن یہ سرکاری دلیل ہے۔ اسے دوسرے نظریہ سے دیکھیں، تو کئی حقائق ایسے ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے سوال ہیں، جن کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے۔ اور، اگر جواب مل جائے، تو شاید بدعنوانی کے نئے طریقے اور نئے صفحات ایک بار پھر ملک کے عوام کے سامنے آئیں گے۔

Read more

بی جے پی کا متبادل جنتا پریوار ہے

آزادی سے پہلے اور آزادی کے 45 سالوں بعد تک ملک میں ایک ہی پارٹی کا غلبہ رہا۔ کانگریس اکیلی پارٹی تھی، جس کا دبدبہ ریاستوں اور مرکز میں رہا۔ استثنیٰ کے طور پر درمیان میں ایک بار 70 کی دہائی میں جنتا پارٹی اور پھر وی پی سنگھ کی قیادت والی نیشنل فرنٹ کی سرکار آئی، لیکن وہ اپنی مدتِ کار پوری نہیں کر سکی۔ سماجی ترقی اور خود مختاری حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد، ہندوستان کی سیاست بڑی مشکل سے ایک پارٹی کے غلبہ سے باہر نکلی۔ کسی ایک پارٹی کا غلبہ کسی بھی جمہوریت کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔

Read more

!ہاشم پورہ فیصلہ : یہ کیسا انصاف ہے

سنتوش بھارتیہ
بائس مئی، 1987 کی رات ہندوستان کی انسانی تاریخ کی سب سے سیاہ راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ رات سسٹم کے بد نما چہرے کو بھی دکھاتی ہے، لیکن سسٹم میں شامل کچھ لوگوں کے تئیں امید بھی پیدا کرتی ہے۔ انڈین سسٹم سے جڑے لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے والے ایک جز، پی اے سی نے جس سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہاشم پورہ اور ملیانہ سے لوگوں کو اٹھایا۔ انہیں لے کر غازی آباد کے پاس گنگ نہر کے کنارے لے کر آئے۔ انہیں لائن میں کھڑا کیا، گولی ماری اور لاشیں بہا دیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہی ہیڈنگ ’چوتھی دنیا‘ کے اُس

Read more

بہار اسمبلی الیکشن پر ’چوتھی دنیا‘ کا پہلا سروے: نتیش کمار سب سے آگے

بہار کا آئندہ اسمبلی الیکشن تاریخی ہونے والا ہے۔ یہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاست کا راستہ متعین کرنے والا ثابت ہوگا۔ فاتح کون ہوگا، یہ نتیجہ آنے کے بعد ہی پتہ چل پاتا ہے، لیکن سب یہی جاننے کے خواہش مند ہیں کہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ بہار میں پچھلے دو تین سالوں میں کافی سیاسی اٹھا پٹک ہوئی ہے۔ بی جے پی – جے ڈی یو کا اتحاد ٹوٹا۔ نتیش اور مودی کی سیاسی دشمنی ہوئی۔ لالو یادو کو جیل کی سزا ہو گئی اور وہ فی الحال انتخابی سیاست سے باہر ہو گئے۔

Read more

ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ

بجلی گھوٹالے میں پولس کی فائنل رپورٹ کا اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا کرنوٹس لینے اور تین سال تک اس رپورٹ کو دباکر رکھنے والے جج کے خلاف آلہ آباد ہائی کورٹ کے وجیلنس بیورو نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ مذکورہ جج کے خلاف شکایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف میں پرنسپل سکریٹری رہتے ہوئے حساس امور کو چھپا کر ایک متنازع سرکاری وکیل کے جج بننے میں مدد کی تھی۔ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی اتر پردیش کے پاور سیکٹر میں ہوئے اربوں کے گھوٹالے کی لیپا پوتی میں لگے ججوں، نوکر شاہوں اور محکمہ جاتی افسروں کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے بھی قانون کے شکنجے میں آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش کا بجلی گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہونے والا ہے، جس میں نہ صرف نیتا اور نوکر شاہ، بلکہ جج اور سی بی آئی کے افسر بھی ملوث ہیں۔ یہ دلچسپ اور مزاحیہ ہی ہے کہ اربوں کے بجلی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کا سرکاری فرمان جاری ہو جانے کے بعد بھی اسے عدالت میں دبائے رکھا گیا اور آخر کار سی بی آئی نے ہی جانچ کرنے سے منع کر دیا۔ بجلی گھوٹالے میں سی بی آئی بھی ملزم ہے۔

Read more
Page 10 of 35« First...89101112...2030...Last »