جوائنٹ وینچر کے نام پر ایک اور گھوٹالہ

آپ ایک دعوت دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ راشن کا سامان خرید کر لاتے ہیں۔ باورچی کو بلاتے ہیں۔ باورچی سے کھانا بنانے کو کہتے ہیں۔ اور، باورچی کھانا بنانے کے لیے آپ سے ایک طے رقم لیتا ہے۔ یہ ایک عام کہانی ہے۔ اب ایک خاص کہانی۔ مان لیجیے، آپ کا باورچی آپ سے بولے کہ وہ کھانا بنانے کا پیسہ تو لے گا ہی لے گا، ساتھ ہی وہ کھانا کا پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ظاہر ہے، آپ ایسی شرط کبھی نہیں مانیں گے۔ لیکن، ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کے کوئلہ گھوٹالے کے بعد بھی ایک اور کوئلہ گھوٹالے میں یہی شرطیں لاگو ہیں۔ نتیجتاً ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان کئی ریاستی سرکاریں جان بوجھ کر اٹھا رہی ہیں۔ ظاہر ہے، جان بوجھ کر، کیوں کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی باورچی کو کھانا بنانے کی قیمت تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پچاس فیصد کھانا نہیں بانٹ سکتا۔ لیکن ایسا ملک کی کئی ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔ جوائنٹ وینچر بناکر ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ بہرحال، اس پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے دو مثالیں لیتے

Read more

تاریخ پھر سے لکھی جانی چاہئے

ہندوستان دنیا کا شاید اکیلا ملک ہوگا، جہاں کی تاریخ کے آغاز میں ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ یہاں کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ ہندوستان کے رہنے والے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے ہیں ہی نہیں۔ یہ سب دوسرے ملک سے آئے۔ تاریخ نویسوں نے بتایا کہ ہم آریہ ہیں۔ ہم باہر سے آئے ہیں۔ کہاں سے آئے؟ اس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے، پھر بھی باہر سے آئے۔ آریہ کہاں سے آئے، اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کوئی تاریخ کے صفحات کو پلٹے، تو پتہ چلے گا کہ کوئی سنٹرل ایشیا کہتا ہے، تو کوئی سائبیریا، تو کوئی منگولیا، تو کوئی ٹرانس کو کیشیا، تو کسی نے آریوں کو اسکینڈے نیویا کا بتایا۔ آریہ کرۂ ارض کے کس حصے کے اصلی باشندے تھے، یہ تاریخ نویسوں کے لیے آج بھی ایک افسانہ ہے۔ مطلب یہ کہ کسی کے پاس آریوں کا ثبوت نہیں ہے، پھر بھی سائبیریا سے لے کر اسکینڈے نیویا تک، ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے آریوں کا پتہ بتا دیتا ہے۔ ہندوستان میں آریہ اگر باہر سے، تو کہاں سے آئے اور کب آئے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ ہندوستان کے لوگوں کی پہچان کا سوال ہے۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھے بڑے بڑے تاریخ نویسوں کو ان سوالوں کا جواب دینا ہے۔ سوال پوچھنے والے کی منشا پر سوال اٹھا کر تاریخ کے بنیادی سوالوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔

Read more

ایک سوشل ریفارمر کی تقریر

آخر کیا فرق پڑتا ہے، اگر آزادی کی 68 ویں سالگرہ پر ہم خوش نہیں ہیں۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ملک کے لیے شدت اور گہرائی سے سوچنے والے لوگ خوش نہیں ہیں۔ اور، اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جو امیدیں لگا رکھی تھیں، وہ مکمل طور پر پوری ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ خوش اس بات سے ہونا چاہیے کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ لال قلعہ سے کی گئی نریندر مودی کی تقریر سے خود کو کافی پرجوش محسوس کر رہا ہے، خود کو جذبے سے سرشار محسوس کر رہا ہے اور اسے لگتا ہے کہ ملک کے لیے ایک نئے راستے کی سمت نریندر مودی نے دکھا دی ہے۔ ہمیں بھی لوگوں کی اس خوشی میں شامل ہونا چاہیے اور ہم خود کو اس خوشی میں شامل کرنا ضروری مانتے ہیں۔

Read more

عراق کی آگ ہندوستان پہنچی

مولانا سلمان ندوی کے کارناموں سے ملک کی خفیہ ایجنسی میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا ندوی نے عراق میں قتل عام کرنے والے دہشت گرد البغدادی کو اسلامی دنیا کا خلیفہ مان لیا اور پانچ لاکھ جنگجوؤں کو عراق بھیجنے کی پیروی کرکے مذہبی اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات اور ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے مولانا ندوی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن کچھ لوگ غفلت میں آگئے۔ کچھ سنی نوجوان جذبات میں بہہ کر عراق جانے کے لیے تیار ہو گئے اور اس کے جواب میں کچھ شیعہ نوجوان بھی عراق جا کر البغدادی سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مولانا ندوی نے یہ متنازع بیان 7 جولائی کو دیا تھا، لیکن اب وہ اپنے بیان سے مکر گئے ہیں اور میڈیا پرالزام لگا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مولانا ندوی نے یہ مذمتی بیان پہلے کیوں نہیں جاری کیا؟ انہوں نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکنے کیوں دیا؟ مولانا سلمان ندوی کے متنازع بیان سے پیدا ہونے والے ہنگامہ اور خفیہ ایجنسی میں پھیلی سنسنی پر پیش ہے چوتھی دنیا کی یہ ایکس کلوسیو رپورٹ …

Read more

پناہ گزینوں کی آماجگاہ ہندوستان

ہندوستان کا مہاجرت سے گہرا رشتہ ہے۔ تقسیم وطن کے وقت اسے خود ایک سے دوسرے ملک کے شہریوں کی ہجرت کے بڑے بھیانک مسئلہ سے نمٹنا پڑا، جس کے اثرات ہندوستان کی معیشت، سیاست اور معاشرت پر آج بھی دیکھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان سے پاکستان گئی، تو پاکستان سے ہندوستان بہت سارے ہندو اور سکھ آئے۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کے سبب ہندوستان میں متعدد روایتی صنعتیں متاثر ہوئیں اور بند بھی ہوئیں۔ چونکہ ہندوستان نے خود اپنے لوگوں کی ایک ملک سے دوسرے ملک مہاجرت کو بھگتا ہے، اس لیے وہ اس درد سے خوب واقف ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تبت، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے افراد اپنے وطن میں زمین تنگ ہونے پر ہندوستان آئے، تو اس نے انسانی جذبہ سے سرشار ہو کر انہیں پناہ دی۔ تبتی رفیوجیوں کو تو سرکاری مدد تک ملی اور ابھی حال میں بنگلہ دیشی رفیوجیز کے لیے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے رلیکسڈ ویزا فراہم کرنے کی بات کی اور ریاست آسام کی حکومت نے انہیں شہریت دینے کا فیصلہ کیا، جس سے وہاں 85 لاکھ بنگلہ دیشی رفیوجیز امن و سکون کی سانس لیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سرکاری نظر کرم سری لنکائی تمل، افغانی اور میانمار کے روہنگیائی مہاجرین کے لیے آخر کیوں نہیں ہے؟ لہٰذا، اس سلسلے میں ضرور ت ہے یکساں رفیوجی پالیسی کی، تاکہ سبھی مہاجرین کی برابری کے ساتھ انسانی جذبہ کا بلا تفریق اظہار ہو سکے۔

Read more

فوج میں بدعنوانی کا بول بالا ، منھ کھولنے والا پاگل قرار دیا جائے گا

آسام میں سلچر کے پاس ماسم پور میں تعینات ہندوستانی برّی فوج کی 57 ماؤنٹین ڈویژن آرڈنینس یونٹ (ایم ڈی او یو) میں یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس یونٹ میں بالکل بغاوت کا عالم ہے۔ اوسط درجے کے افسروں اور عام فوجیوںمیں اپنے اعلیٰ افسروں کے بدعنوانی سے بھرے کارناموں اور ان کے ذریعے انتشار کا ماحول بنانے کے خلاف زبردست غصہ ہے۔ یہ ناراضگی کب کون سی مخالف شکل لے لے گی، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن، کچھ فوجی ہی دبی زبان سے یہ کہتے ہیں کہ ایسے ہی حالات میں آئے دن مختلف فوجی یونٹوں میں آپس میں گولیاں چلتی ہیں اور لوگ مارے جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں افسر بھی ہوتے ہیں اور عام فوجی بھی۔ حساس نارتھ ایسٹ میں تعینات فوج کی اکائیوں میں بن رہے ایسے غیر فوجی ماحول پر آرمی ہیڈ کوارٹر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے، جو کہ حیرانی کی بات ہے۔ آرمی آرڈنینس کور ہیڈکوارٹر میں بھی اس معاملے کو لے کر کسی طرح کی سرگرمی نہیں دکھائی دے رہی ہے، جب کہ شکایت آرڈنینس ہیڈ کوارٹر تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

سلمان خورشید کے ’’غریب حاجی‘‘ سشما کے لئے باعث کار ِ ثواب

ہر سال حج بیت اللہ شریف سے دو ڈھائی ماہ قبل عازمین حج کے مسائل پر غورو فکر کرنے اور ہندوستانی عازمین حج کو مزید سہولیات پہنچانے کی غرض سے قومی راجدھانی دہلی میں حج کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس کے دوران عموما ً مرکزی وزیر خارجہ کے ذریعہ کلیدی خطبہ دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومت ہند کے قانون حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے تحت قائم قانونی ادارہ اور نوڈل ایجنسی حج کمیٹی آف انڈیا کرتی ہے۔ یہ کانفرنس گزشتہ 29برسوں سے ہوتی آئی ہے۔ اس برس 30ویں آل انڈیا سالانہ حج کانفرنس 23جون 2014 کو پارلیمنٹ انیکسی میں ہوئی جبکہ گزشتہ برس 29ویںکانفرنس 27 جون کو وگیان بھون میں منعقد ہوئی تھی۔
اس بار کی حج کانفرنس نسبتاً بالکل الگ تھی۔ گزشتہ بار کی حج کانفرنس کے مہمان خصوصی اور اُس وقت کے مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے بالمقابل اِس بار حج کانفرنس کے مہمان ذی وقار اور موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے شرکاء کا دل موہ لیا اور کانفرنس کے دوران چند شرکاء و ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات دیے اور اسی روز شام کو عازمین حج کو درپیش مسائل پر اپنی رہائش گاہ پر گفتگو بھی کی۔

Read more

سہارا شری جیل میں کیوں ہیں؟

ہندوستان۔ بنگلہ دیش کرکٹ میچ کے دوران باؤنڈری پار کرتی بال کو دیکھتے ہی ایک سوال کوند گیا۔ باؤنڈری پر سہارا انڈیا لکھا تھا۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی ٹیمیں سہارا کپ جیتنے کے لیے کھیل رہی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ سہارا گروپ کے سپریمو سبرت رائے جیل میں ہیں۔ ملک میں چاہے کرکٹ ہو، بیڈمنٹن ہو، ہاکی ہو، فارمولہ وَن ہو یاپھر پولو، سبرت رائے نے کھیل کو فروغ دینے میں کافی مثبت تعاون دیا ہے، لیکن اس بار سہارا پریوار کے سپریمو کے ساتھ ہی کھیل ہو گیا۔ یہ سچ مچ حیرانی کی بات ہے کہ اس ملک میں گھوٹالے بازوں اور بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ جیل نہیں جاتے، انھیں پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔ شاید اس لیے ، کیونکہ ہم نے سنا تھا کہ ہندوستان کا قانون ایسا ہے کہ چاہے سو گنہگار چھوٹ جائیں، لیکن کسی بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ سہارا شری سبرت رائے نے ضرور کوئی ایسا جرم کیا ہوگا، جس کے لیے انھیں سزادی جارہی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ آخر سچ کیا ہے، معاملے کی پوری تحقیقات کی۔

Read more

ہندوستانی فوج ، ہتھیار مافیا اور سیاست

بیس دسمبر 2011کی رات کچھ لوگ ایک گھر کے اندر زبردستی گھس جاتے ہیں۔ یہ گھر پونا گوگوئی کا ہے۔ وہ جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں نہیں تھے۔ وہ گوہاٹی میں تھے۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازاے کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میں ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا، گھر میں سب سور رہے تھے۔اچانک ان لوگوں کو گھر کے اندر دیکھ کروہ ڈر گئے، رونے لگے۔ ان لوگوںنے سبھی کو بستر سے کھینچ کر باہر نکالا اور ان کے ہاتھ باندھ کر انھیں ٹی وی والے کمرے میں بند کردیا۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کو تلاش کر رہے تھے، لیکن وہ گھر کے اندر نہیں ملے۔ ان لوگوں نے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے پونا گوگوئی کا ٹھکانا نہیں بتایا، تو سبھی کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ان لوگوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔

Read more
Page 10 of 33« First...89101112...2030...Last »