دہلی اسمبلی الیکشن: کیجریوال کے وجود کا سوال ہے

دہلی میں آج ہر جگہ کجریوال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ریڈیو پر کجریوال، میٹرو میں کجریوال، آٹو پر کجریوال، ہورڈِنگ میں کجریوال، ہر جگہ کجریوال نظر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی میں ہونے والا اسمبلی انتخاب عام آدمی پارٹی کے لیے وجود کا سوال ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے پاس کجریوال کے چہرے کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے۔ پارٹی کارکن مایوس ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر پارٹی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر مستقبل کو لے کر فکرمند ہے۔ کئی پرانے ساتھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ممبرانِ اسمبلی اور سینئر کارکنوں کا پارٹی چھوڑنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ سب سے خطرے کی بات یہ کہ پارٹی کو لے کر عوام بھی مایوس ہیں۔ پارٹی لیڈروں کو لگتا ہے کہ پارٹی ایسے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں الیکشن میں لگا ایک جھٹکا پارٹی کو تاریخ بنا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی پارٹی ’وَن ٹائم ونڈر‘ یا ایک بار کرشمہ دکھانے والی پارٹی بن کر رہ جائے گی یا اس بار بھی اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب رہے گی؟

Read more

مودی کا رتھ روکیں گے نتیش کمار

کہتے ہیں سیاست اور سانپ سیڑھی کا کھیل ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ دونوں کھیل کے طریقے بھلے ہی الگ الگ ہوں، لیکن دونوں ہی کھیلوں میں نقصان کا اندیشہ اور فائدے کے امکانات بے شمار ہوتے ہیں۔ اسے کھیلنے والا کھلاڑی اپنی ایک صحیح چال سے فرش سے عرش تک جا سکتا ہے اور ایک غلط چال اسے عرش سے لاکر فرش پر پٹک سکتی ہے۔ صحیح چال سیڑھی تک لے جاتی ہے اور غلط چال سانپ کے منھ میں۔ 2005 میں بہار کی سیاست میں سپر ہیرو کے طور پر ابھرے نتیش کمار کا 2014 تک کا سیاسی سفر کئی سانپ و سیڑھیوں سے گزرتے گزرتے آج سمپرک یاترا کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم لوگ سمپرک یاترا کی کہانی شروع کریں، یہ جان لینا بے حد ضروری ہے کہ آخر ایسے کون سے سیاسی حالات ریاست بہار میں پیدا ہو گئے کہ دو تہائی اکثریت سے اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر

Read more

اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کا جائزہ ، کچھ ہی میں دم باقی سب بے دم

سماجوادی پارٹی کے اکتوبر ماہ میں لکھنؤ میں منعقدہ تین روزہ قومی اجلاس میں اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کے طور طریقے، ان کی بدعنوانی اور ان کے عوام مخالف رویے پر ہی بحث مرکوز رہی۔ ایسا اس لیے ہوا، کیوں کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر ملائم سنگھ پہلے بھی بولتے رہے ہیں اور اب بھی بول رہے ہیں۔ حالانکہ، ملائم کی اس تشویش میں پارٹی کے غداروں کے مسئلہ کو شامل کرکے اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی، اس کے باوجود ملائم کی باتیں عوام کے دلوں میں تیر کی طرح پیوست ہو گئیں۔ اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ اکھلیش سرکار کے وزیروں کی کارکردگی پر ہی 2017 کا اسمبلی الیکشن لڑا جائے گا۔ اس اجلاس کے پلیٹ فارم سے پارٹی کے سینئر لیڈر نریش اگروال نے یہ کہا بھی تھا کہ اکھلیش یادو کے سوا کسی بھی وزیر کے پاس کہنے کے لیے اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے، کیوں کہ اگر کچھ خاص سینئر وزیروں کو چھوڑ دیا جائے، تو کام کے نقطہ نظر سے اکھلیش کے کام کے علاوہ، کسی کے پاس بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

Read more

کشمیر کا سیلاب مودی کے لئے سوغات ہے

کشمیر میں آئے سیلاب نے وادی میں کافی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس سیلاب نے تباہی تو خوب مچائی ، جس کا اثر آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ کشمیر میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، وہ ہے سوچ کی۔ اس سیلاب میں مشکلوں کا سامنا کر کے باہر نکلے مقامی لوگوں کی سوچ میں دو طرح کی اہم تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پہلی ، لوگوں کے فوج مخالف نظریہ میں تبدیلی ہوئی ہے اور دوسری لوگ سیاسی پارٹی کے طور پر بی جے پی کو ترجیح دینے پر غور کرنے لگے ہیں۔عام لوگوں میں یہ اعتماد دیکھا جا رہا ہے کہ ترقی کی بات کرنے والے نریندر مودی سیلاب کے بعد بدصورت ہوئی ریاست کی تصویر کو بدلنے کے اہل ہیں۔ کشمیر یعنی دنیا کی جنت کے مختلف علاقوں کے دورے کے بعد تیار ہوئی یہ خصوصی رپورٹ آپ کو کشمیر کی تازہ اور حقیقی صورتحال سے روشناس کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Read more

مودی کے لئے نئی چنوتی جنتا پریوار

چھ نومبر’گرو پَرو‘ (گرونانک جینتی) کا دن تھا اور اسی دن سماجوادی لیڈر اتر پردیش کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے اور مرکزی حکومت میں وزیر رہے ملائم سنگھ یادو نے اپنے گھر پر اپنے پریوار کے لوگوں کی میٹنگ بلائی۔ ملائم سنگھ کے پریوار کا مطلب جنتا پریوار سے ہے۔ ایک زمانے میں جنتا پریوار نے ملک میں راج کیا۔ چار وزرائے اعظم شری وشو ناتھ پرتاپ سنگھ، شری چندر شیکھر، شری ایچ ڈی دیوے گوڑا اور شری اندر کمار گجرال دیے۔ کئی ریاستوں میں سالوں سال جنتا پریوار کے لوگوں کی سرکار رہی، لیکن ایک مرض گھُن کی طرح جنتا پریوار میں لگ گیا۔ آپس میں نظریات کو سامنے رکھ، نظریات کی ڈھال بنا، ذاتی مفادات کا ایک ایسا گھن، جس نے آپس میں سب کو توڑ دیا۔ ٹوٹتے ٹوٹتے اب سب آخری شکل میں ٹوٹنے کا خطرہ دیکھنے لگے۔ تقریباً تین گھنٹے چلی میٹنگ میں، جس میں خود شری ملائم سنگھ یادو، ملک کے سابق وزیر اعظم شری دیوے گوڑا، بہار کے دو سابق وزرائے اعلیٰ رہے شری نتیش کمار اور لالو پرساد یادو، شری رام گوپال یادو، شری شو پال یادو، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کے پوتے اور رکن پارلیمنٹ دُشینت چوٹالہ اور مرکز میں وزیر رہے اور سماجوادی جنتا پارٹی کے صدر شری کمل مرارکا شامل تھے۔ تین گھنٹے چلی بات چیت میں بغیر کسی بحث کے سب نے تقریباً ایک ہی نقطہ نظر سے باتیں رکھیں اور وہ باتیں تھیں کہ ہمیں اتحاد کی سمت میں بڑھنا چاہیے۔

Read more

سرکاری جانچ کا سب سے شرمناک باب ہے میرٹھ فساد

سرکار جس طرح سے میرٹھ فسادکے متاثرین کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے، وہ نہ صرف شرمناک ہے، بلکہ فساد متاثرین کے رشتہ داروں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے۔ سرکار نے ہاشم پورہ فساد میں سی آئی ڈی کی جو جانچ بیٹھائی، اس نے اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا۔ سچائی یہ ہے کہ جانچ کے نام پر ہی یہ ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ جانچ کس نے کی، جانچ صحیح ڈھنگ سے کیوں نہیں ہو پائی، جانچ کا نتیجہ کیا نکلا اور کیوں بڑے بڑے مجرم چھوٹ گئے، اس کے بارے میں جاننے سے پہلے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اس منحوس تاریخ، یعنی 22 مئی، 1987 کو ہاشم پورہ میں کیا ہوا تھا۔

Read more

سماجوادی پارٹی کا قومی اجلاس، ملائم پھر بنے صدر، کھل کر سامنے آیا آپسی اختلاف

سماجوادی پارٹی میں سرکار اور قیادت کے درمیان تناؤ اور اختلافات کے کھلے اظہار کے ساتھ ایس پی کا تین روزہ قومی اجلاس ختم ہوا۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ابھی حال ہی میں بنے جنیشور مشر پارک میں منعقد ہوا عظیم الشان قومی اجلاس کئی معنوں میں تاریخی ثابت ہوا۔ ملائم اس سے پہلے کے آٹھ اجلاس میں بھی قومی صدر منتخب کیے گئے تھے اور اس نویں اجلاس میں بھی وہ اتفاقِ رائے سے قومی صدر چن لیے گئے۔ لیکن پہلے کے قومی صدر اور اس بار کے قومی صدر میں صاف صاف فرق دکھائی دیا۔ ملائم کی شخصیت پر سماجوادی پارٹی کا وجود ٹکا ہوا ہے، یہ پہلے بھی دکھائی دیتا تھا اور اب بھی دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن ملائم کی پکڑ

Read more

اتر پردیش ضمنی انتخابات: بی جے پی بھاری پڑی سماجوادی پارٹی

اتر پردیش میں ہوئے ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی نے اپنے کمیونل ایجنڈے کو حاشیہ پر رکھ دیا، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اسی میں پھنسی رہ گئی۔ نتیجہ ملک کے سامنے ہے کہ سماجوادی پارٹی نے 11 میں سے 8 اسمبلی سیٹیں بی جے پی سے چھین لیں۔ ملائم سنگھ یادو کے ذریعے چھوڑی گئی لوک سبھا کی مین پوری سیٹ تو ایس پی کی جھولی میں آنی ہی تھی۔ ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش میں اناپ شناپ کمیونل لائن لینے والے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کو پارٹی نے اس انتخاب میں ایک کونے میں کر دیا تھا، لیکن بی جے پی نے ایسے عناصر کے ذریعے ماحول کو پراگندہ کرنے کی پرزور کوششیں کیں۔ ایسے میں اتر پردیش کے ووٹروں نے واضح لائن پکڑی اور یہ دکھایا کہ کمیونل کارڈ کھیلنے اور مہرہ بننے میں عام لوگوں کی قطعی دلچسپی نہیں ہے۔
اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی جیت پر پارٹی سے جڑے لوگ کہتے ہیں کہ ملائم سنگھ کے مشورے اور ان کی ہدایت، شو پال کی پختہ حکمت عملی اور اکھلیش کی

Read more

جوائنٹ وینچر کے نام پر ایک اور گھوٹالہ

آپ ایک دعوت دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ راشن کا سامان خرید کر لاتے ہیں۔ باورچی کو بلاتے ہیں۔ باورچی سے کھانا بنانے کو کہتے ہیں۔ اور، باورچی کھانا بنانے کے لیے آپ سے ایک طے رقم لیتا ہے۔ یہ ایک عام کہانی ہے۔ اب ایک خاص کہانی۔ مان لیجیے، آپ کا باورچی آپ سے بولے کہ وہ کھانا بنانے کا پیسہ تو لے گا ہی لے گا، ساتھ ہی وہ کھانا کا پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ظاہر ہے، آپ ایسی شرط کبھی نہیں مانیں گے۔ لیکن، ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کے کوئلہ گھوٹالے کے بعد بھی ایک اور کوئلہ گھوٹالے میں یہی شرطیں لاگو ہیں۔ نتیجتاً ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان کئی ریاستی سرکاریں جان بوجھ کر اٹھا رہی ہیں۔ ظاہر ہے، جان بوجھ کر، کیوں کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی باورچی کو کھانا بنانے کی قیمت تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پچاس فیصد کھانا نہیں بانٹ سکتا۔ لیکن ایسا ملک کی کئی ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔ جوائنٹ وینچر بناکر ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ بہرحال، اس پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے دو مثالیں لیتے

Read more

تاریخ پھر سے لکھی جانی چاہئے

ہندوستان دنیا کا شاید اکیلا ملک ہوگا، جہاں کی تاریخ کے آغاز میں ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ یہاں کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ ہندوستان کے رہنے والے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے ہیں ہی نہیں۔ یہ سب دوسرے ملک سے آئے۔ تاریخ نویسوں نے بتایا کہ ہم آریہ ہیں۔ ہم باہر سے آئے ہیں۔ کہاں سے آئے؟ اس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے، پھر بھی باہر سے آئے۔ آریہ کہاں سے آئے، اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے کوئی تاریخ کے صفحات کو پلٹے، تو پتہ چلے گا کہ کوئی سنٹرل ایشیا کہتا ہے، تو کوئی سائبیریا، تو کوئی منگولیا، تو کوئی ٹرانس کو کیشیا، تو کسی نے آریوں کو اسکینڈے نیویا کا بتایا۔ آریہ کرۂ ارض کے کس حصے کے اصلی باشندے تھے، یہ تاریخ نویسوں کے لیے آج بھی ایک افسانہ ہے۔ مطلب یہ کہ کسی کے پاس آریوں کا ثبوت نہیں ہے، پھر بھی سائبیریا سے لے کر اسکینڈے نیویا تک، ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے آریوں کا پتہ بتا دیتا ہے۔ ہندوستان میں آریہ اگر باہر سے، تو کہاں سے آئے اور کب آئے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ ہندوستان کے لوگوں کی پہچان کا سوال ہے۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھے بڑے بڑے تاریخ نویسوں کو ان سوالوں کا جواب دینا ہے۔ سوال پوچھنے والے کی منشا پر سوال اٹھا کر تاریخ کے بنیادی سوالوں پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔

Read more
Page 10 of 33« First...89101112...2030...Last »