سچر کمیٹی کی سفارشات کا نفاذ : جھوٹے دعوے ، جھوٹے وعدے، مسلمانوں کی حالت اور خراب

سچر کمیٹی کی تفتیش سے پتہ چلا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بینکوں سے جو قرض ملتا ہے یا پس ماندہ طبقات کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے جو پروگرام شروع کیے گئے ہیں، ان میں مسلمانوں کی حصہ داری بہت ہی محدود ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ وہ بینکوں سے قرض (Loan) لینے کے بعد اسے لوٹا سکیں، اس لیے وہ بینکوں سے کم رجوع کرتے ہیں۔ دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ بینکوں کی طرف سے کس کس قسم کے لون ملتے ہیں یا سرکار کی کون کون سی اسکیمیں ہیں، جن سے مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سچر کمیٹی کو بہت سی شکایات ایسی بھی ملیں کہ ہندوستان بھر میں جہاں جہاں مسلمانوں کی

Read more

!حکومتِ ہند کی پالیسی تو دیکھئے جناب

لندن دلی سرکار نے اور ظاہر ہے شیلا دکشت نے اردو کے نام پر مسلمانوں کو خوب بے وقوف بنایا ہے۔ سالوں سے دلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا خواب دکھا یا جاتا ہے۔ بظاہر اردو کے ادارے بھی خوب کام کر رہے ہیں بلکہ یوں کہئے خوب کما کھا رہے ہیں۔ دہلی جیسی مرکزی ریاست میں اردو کے نام پر سرکاری ا ور غیر سرکاری کئی ادارے چل رہے ہیں، جو دکھاتے تو یہ ہیں کہ بہت کام کر رہے ہیں مگر سچ جانئے تو اس سے اردو کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ہم نے پہلے بھی ایک بات کہی تھی کہ اردو کو اگر آگے بڑھانا ہے اور زبان کو عروج دینا ہے تو پہلے اسکول کی سطح پر کام کرنا ہوگا ۔ اردو میڈیم کی تو جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ نہ تو نصاب کی کتابیں نہ ہی اساتذہ ہیں۔ این سی ای

Read more

جامعہ ہمدرد : جہاں قانون کا بس نہیں چلتا

تعلیم گاہ کو ماں کی گود تصور کیا جاتا ہے۔ بچپن میں ماں اپنے بچوں کو جو کچھ سکھاتی ہے، آگے جاکر بچہ وہی کرتا ہے۔ یہی بات تعلیم گاہوں کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے۔ ملک کے مستقبل کو اگر روشن بنانا ہے، تو تعلیم گاہوں میں بچوں کی تعلیم صحیح طریقے سے ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے، یہ ذمہ داری جتنی درس و تدریس سے جڑے افراد کی ہے، اتنی ہی ذمہ داری ہماری سرکار کی بھی ہے۔ لیکن ہندوستان کی قومی راجدھانی دہلی میں جامعہ ہمدرد کے نام سے ایک ایسی یونیورسٹی ہے، جہاں نہ تو قانون کا زور چلتا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کا۔ یہاں کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام نبی قاضی نے اپنی ایک الگ سلطنت قائم کر رکھی ہے اور اپنا ایک الگ آئین بنا رکھا ہے۔ ان کے خلاف عدالتوں تک میں معاملے

Read more

راہل ، مایاوتی اتحاد: ہاتھی اور ہاتھ ساتھ ساتھ

آءندہ انتخابات کے پیش نظر بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی اور کانگریس ہائی کمان سونیا گاندھی کے درمیان بڑی خاموشی سے ملاقاتوں کے کئی دور مکمل ہو چکے ہیں۔ بی ایس پی اور کانگریس کا اتحاد بس کچھ ہی دنوں میں پروان چڑھنے والا ہے۔ ان دونوں ہی پارٹیوں کے درمیان ایک عام رضامندی بن چکی ہے۔ معاملہ بس ایک مسئلہ پر آ کر اٹک گیا ہے اور وہ ہے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں سیٹوں کے بٹوارے کا معاملہ۔ سونیا گاندھی نے مایاوتی سے یہ بات صاف طور پر کہہ دی ہے کہ ان کے بیچ یہ سیاسی رشتہ تبھی پختہ ہوگا، جب مایاوتی کانگریس کو اتر پردیش کی 80 پارلیمانی سیٹوں میں سے 35 پر لڑنے دینے کو راضی ہوں گی، ورنہ یہ نئی بنتی دوستی بکھر بھی سکتی ہے۔ دوسری طرف مایاوتی چاہتی

Read more

پھوٹ ڈالو راج کرو کی پالیسی پر کار بند یو پی کی سماجوادی سرکار

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آج کل اپنے والد کے ہی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو انگریزوں کی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی جس پالیسی پر عمل کرکے تین بار وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے تھے، آج کل ان کے صاحبزادے اکھلیش یادو بھی اسی کی نقل کر رہے ہیں۔ اپنے نام کے ساتھ مولانا لفظ جڑنے پر جس طرح ملائم سنگھ فخر محسوس کرتے تھے، اسی طرح اکھلیش یادو بھی مسلم ٹوپی اور لباس پہن کر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ پوچھنے پر وہ کہتے ہیں کہ میں تو کافی وقت سے مسلم ٹوپی پہنتا رہا ہوں۔ ان کے بیان ایسے ہوتے ہیں، گویا کسی خاص طبقہ کا ترجمان بول رہا ہو۔ بغیر کسی جانچ پڑتال کے وہ کسی کو کلین چٹ دے دیتے ہیں، تو کسی پر الزام بھی لگا دیتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے

Read more

وزارت اقلیت امور کو بند کر دینا چاہئے

آج کی دنیا میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کو خصوصی اہمیت و حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ بھی ان اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرانے پر ہر طرح سے زور دیتا ہے اور مختلف ممالک کے آئین میں بھی اس کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض ممالک میں مذہبی امور سے متعلق مخصوص وزارت بھی قائم ہے، جو کہ مختلف مذہبی کمیونٹیوں کے معاملات کو الگ الگ شعبوں کے تحت دیکھتے ہیں۔ اس تعلق سے سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں وزارتِ مذہبی امور کے تحت بدھسٹ اور مسلم امور کے الگ الگ شعبے قائم ہیں۔ جہاں تک

Read more

وزیر اعظم کے نام انا ہزارے کا تازہ خط

انا ہزارے نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے ہی انا جن لوک پال بل کی مانگ کو لے کر دہلی کے رام لیلا میدان میں انشن پر بیٹھیں گے۔ انا ہزارے نے ماضی میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر یہ آگاہ کردیا تھا کہ اگر ان کی حکومت مانسون اجلاس میں لوک پال بل کو پاس نہیں کرتی ہے تو وہ ایک بار پھر سے جن لوک پال بل

Read more

فسادات کے بعد تیزی سے ہوتا ہے ووٹوں کا پولرائزیشن

اجے کمار
اتر کے امن چین کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟ اس سوال کا جواب ہر ایک امن پسند شہری جاننا چاہتا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ڈیڑھ سال کے دورِ حکومت میں تقریباً 50 بار فرقہ واریت کی آگ میں اور متعدد بار مذہبی تناؤ میں ریاست کے عوام جھلس چکے ہیں۔ سینکڑوں لوگ موت کے منھ میں جا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ کاروبار کا نقصان الگ ہو رہا ہے۔ اتر پردیش کے بگڑے حالات کے سبب صنعت کار بھی یہاں پیسہ لگانے سے پرہیز کر رہے ہیں۔ کوئی اس بات کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے کہ آخر کیوں رہ رہ کر

Read more

شاملی ، مظفر نگر فساد : ندو ، مسلم اتحاد کو کس کی نظر لگ گئی؟

جمیلہ نے عیدگاہ میں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے۔ شاملی ضلع کی کاندھلہ تحصیل کی عیدگاہ میں، جب کہ اس کا گھر مظفر نگر ضلع کے لیساڑھ گاؤں میں ہے۔ دوسرے گاؤں میں اور وہ بھی عیدگاہ میں ایک بچے کی پیدائش چونکاتی ضرور ہے۔ اپنے گھر میں نہیں، عید گاہ میں! کیوں کہ گھر اپنا رہا ہی نہیں، فساد کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ فسادات سے پیدا ہوئی تباہی کے معنی کیا ہیں اور اس کا اثر کیا ہوگا، اس نوزائیدہ بچے کو نہیں معلوم۔ لیکن مغربی اتر پردیش کے دو ضلعوں مظفر نگر اور شاملی میں ہوئے فسادات نے ملک کے سماجی تانے بانے پر جو چوٹ پہنچائی ہے، جمیلہ کے بیٹے کا اس طرح جنم لینا موجودہ دور کی مثال ضرور بنے گا۔

Read more
Page 30 of 66« First...1020...2829303132...405060...Last »