دھرمیندر بالی ووڈکا نایاب اداکار

کمل دیوبندی
ہندی فلموں کی تاریخ میں اب تک نہ جانے کتنے فلمی ہیرو جلوہ افروز ہوئے اور جادوئی پردے کو الوداع کہہ گئے ان میں سے چند ہی ایسے ہیں جن پرقسمت کی دیوی کچھ یوں مہربان ہوئی کہ وقت بدلا، مزاج بدلا،فلم بینوں کافلم دیکھنے کار جحان بدلا مگر ان ستاروں کی چمک برقرار رہی ان ستاروں کی صف میں ایک بڑا نام ہندی فلموں کے پہلے او رآخری ہی مین(Heman

Read more

فلساز، ہدایتکار ، ہر تبدیلی اچھی نہیں ہوتی

آدتیہ پوجن
وقت کے ساتھ چلنا ہم سب کی مجبوری ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی جڑوں سے ہی دور ہوجائیں، لیکن ہندی فلم انڈسٹری کا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بالی ووڈ میں نئی نئی تکنیکیں آئیں، ناظرین کا نیاگروہ جڑا، نئے زمانے کے نوجوان پروڈیوسر-ڈائریکٹر آئے۔ ان کی مدد سے ہندی فلموں کی خوبیوں میں بے شک اضافہ ہوا، لیکن کنٹینٹ گم ہوکر رہ گیا۔ اب ایک فلم بنانے میں 100-200 کروڑ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ بڑے بڑے اسٹاروں کو لے کر شاندار سیٹ تیار کئے جاتے ہیں، دھماکے دار موسیقی ہوتی ہے، لیکن وہ کشش نہیں ہ

Read more

وقت کے ساتھ بدلا ہے بالی ووڈ

رتیکا سونالی
فلمیسازوںہدایتکاروں کے یکطرفہ راج سے بالی ووڈ آزاد ہو چکا ہے۔لبرل ازم کے دور کا گواہ بن کر بالی ووڈ اب اپنے آپ میں ایک طاقت بن کر ابھر چکا ہے۔اس بدلائو کے پیچھے انڈسٹری کی اقتصادی حالت کا بڑا تعاون ہے۔اس سے فلموں کے طور طریقوں میں بھی بے حد تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ بدلائو ضروری ہے۔ تبدیلی کے عمل میں کچھ مثبت اور منفی یعنی دونوں طرح کی چیزیں سامنے آتی ہیں۔ جو مثبت چیزیں سامنے آتی ہیں، انہیں سماج آئندہ ممکنہ تبدیلی تک تسلیم کر لیتا ہے، جبکہ تبدیلی کے دوران آئی منفی چیزیں تھوڑے وقت کے بعد خود سماج سے باہر ہو جاتی ہیں۔ بالی ووڈ میں تبدیلی کے دوران دونوں ہی فریق سامنے آئے۔بین الاقوامی فلمی کمپنیوں ، ملکی و غیر ملکوں کے صنعتی گھرانوں اور فنکاروں کے ذاتی پروڈکشن ہائوسیز کی فلمسازی اور کارکردگی کامعیار بھی پ

Read more

اداکار آگے، فلم ساز و ہدایتکار پیچھے

ششی شیکھر
کل کا فلمساز اور ہدایتکار ، جو کبھی اداکاروں کو اپنے اشاروں پر نچاتا تھا،آج انہیں کے اشاروں پر ناچنے کو مجبور ہے۔اسی ایشو پر ہم نے گزشتہ شمارے میں بھی لکھا تھا کہ بلیک منی اور تکنیک کی وجہ سے بھی فلمساز اور ہدایت کاروں کا کردار سمٹ گیا ہے اور اداکاروں کا کردار طویل ہوتا چلا گیا۔ دراصل یہاں معاملہ صرف بلیک منی اور فروغ یافتہ تکنیک کا نہیں ہے۔ 90 کی دہائی کو یاد کیجئے ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا آنا ابھی شروع ہی ہوا تھا۔اسی دور میں فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘آئی ۔بالی ووڈ کی پریم کہانی اچانک لندن پہنچ جاتی ہے۔اسی دور میں انڈیا میں مل ورلڈ کمپٹیشن کا انعقاد ہوتا ہے۔ اچانک یوروپ اور امریکہ کو ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا بازار نظر آنے لگتا ہے۔کیبل اور ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔فلموں کی اسکرپٹ نہ صرف ہندوستانیو

Read more

اداکار عرش پر فلمساز فرش پر

راجیش ایس کمار
امول گپتے ہدایتکاری کے مقصد سے فلم’’ تارے زمین پر‘‘ کی کہانی کو لے کر کسی فلمساز کے بجائے عامر خان جیسے اداکار کے پاس پہنچتے ہیں۔یہ کہانی عامر خان کو پسند آ جاتی ہے اور وہ اداکار کے ساتھ ساتھ بطور فلمساز اس فلم سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔پروڈکشن کے درمیان میں ہی عامر امول کو باہر کر کے خود ہدایت کار کی کیپ سنبھال کر منافع کے ساتھ ساتھ ایوارڈس سے بھی اپنی جھولی بھر لیتے ہیں۔یہ حالت ہے آج ہدایت کاروں کی۔کل تک جو اداکار رول مانگنے کے لئے ان کے آگے پیچھے گھومتے تھے، آج وہ خود کو فلمسازوں، ہدایت کاروں کا آقا سمجھ رہے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اسٹارڈم کا جو نشہ ان پر حاوی ہے، وہ ان ہی فلمسازوں، ہدایت کاروں ک

Read more