اس نظام کی حفاظت کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے

اپنی بات کی شروعات میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کی المناک خبرسے شروع کرنا چاہتا ہوں۔وہ کشمیر کے ایک پرانے لیڈر تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جب دہلی میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے، تب انھوں نے مفتی محمد سعید کو ملک کا وزیر داخلہ مقررکیا۔ ان کے لےے اور ساتھ ہی کشمیر کے لےے یہ ایک بہت ہی اہم بات تھی، اہم حصولیابی تھی۔ ایک کشمیری کو پورے ملک کا وزیر داخلہ مقرر کیا جانا فخر کی بات تھی او ریہ کشمیری لوگوں کے لےے بہت اہم

Read more

جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔

سیاست کو قریب سے دیکھنے ،جاننے والے لوگوں نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا ، اسی کے مطابق پارلیمنٹ بغیر کوئی خاص کام کئے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔پارلیمنٹ کا وقت بغیر کوئی با مقصد کام کئے برباد ہوا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا پارلیمانی جمہوریت پر سے یقین کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ میرے خیال میں آج بھی اس ملک کے آئین اور موجودہ نظام میں سب کی حصہ داری ہے۔ کانگریس کو موجودہ صورت حال اور واقعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں (فرنٹ آرگنائزیشن ) کا اس نظام پر کبھی زیادہ یقین رہا ہی نہیں۔ ظاہر ہے ،وہ اسی آئین کے راستے اقتدار میں آئے ہیں، اس لئے انہیں یہ آئین مانناہے۔لیکن اقتدار میں آنے کی وجہ سے آئین کو ماننا اور سچ مچ آئین پر یقین رکھنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں یا کاموں سے کنفیوژن کی صورت بنتی ہے تو یہ ان کے ہی ہدف کو پورا کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں اور ممبران پارلیمنٹ جس طرح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ آخر کیا ہے؟یہ لوگ غیر متعلقہ ایشوز جیسے بیف اور منطقی لوگوں کے قتل وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو۔

Read more

صحافت کے موضوع پر سنتوش بھارتیہ کی کتاب ’پترکارتا‘ سے ایک ورق

ایس پی نے تو بمبئی میں ایک پوری پارٹی بنا لی تھی، جو ہر مہینے اپنی تنخواہ سے ایمرجنسی کے خلاف لڑائی میں مدد کرتی تھی۔ ان دنوں بمبئی سے آٹھ صفحہ کا پرچہ نکلتا تھا ’آواز‘، جس کی اشاعت میں لگنے والی رقم کا انتظام ایس پی

Read more

کارپوریٹ کے کندھوں پر سوار مودی لہر

پچھلے کچھ مہینوں میں پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں نریندر مودی کو خوب جگہ ملی ہے۔بہت سارے ٹی وی شائقین اور اخبار قارئین کے دل میں یہ سوال اٹھتا ہوگا کہ ہندوستانی سیاست میں اتنی سیاسی پارٹیوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے باوجود مودی کو ہی کیوں اس طرح سے دکھایا جارہا ہے۔ آخر نریندر مودی نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے کہ میڈیا، خاص طور پر ٹی وی چینلوں پر مودی ہی مودی نظر آتے ہیں؟ کیا نریندر مودی کے دور حکومت میں گجرات نے باوقار اور اطمینان بخش زندگی کے لئے وہ سب کچھ حاصل کرلیا ہے جو ایک کامیاب ریاست کا ہدف ہونا چاہئے؟کیا گجرات ملک کی باقی تمام ریاستوں سے الگ نکل چکا ہے؟ کیا سڑک ، بجلی اور کچھ کارپوریٹ کمپنیوں کی چمک دمک کا نام ہی ترقی ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب نہ میں ہی ہوںگے تو پھر نریندر مودی کی ایسی تعریف کیوں کی جاتی ہے

Read more

اوبامہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے

میگھنا دیسائی
امریکی صدر کا انتخاب ہو گیااور آخر میں یہ صاف ہو گیا کہ جیت کا فرق بہت کم نہیں رہا۔ الیکٹورل کالج کے لحاظ سے یہ فرق زیادہ کم نہیں رہا، لیکن پاپولر ووٹوں کے تعلق سے دیکھیں تویہ بڑا فرق نہیں تھا۔ امریکہ کے بانی جن لوگوں کی بات کر تے تھے، ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ان کے راستے میں بیریر کھڑے کر دیے گئے، جس کے سبب لوگوں کے پاس اپنا کوئی راستہ نہیں

Read more

ترمیم شدہ تحویل اراضی قانون ، عوام کے مفاد میں نہیں ہے

ششی شیکھر
لبرلائزیشن لکا دور شروع ہوتے ہی جب سوا سو سال پرانے تحویل اراضی قانون نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا، تب کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو یہ ایشو اپنی امیج بنانے کے موقع کے طور پر دکھائی دیا۔ نتیجتاً، اپنی طرف سے انہوں نے اس قانون میں جلد از جلد ترمیم کرانے کا اعلان کر دیا۔ اعلان چونکہ راہل گاندھی نے کیا تھا، اس لیے اس پر ترمیم کا کام بھی شروع ہوگیا۔ معاملہ

Read more

یو پی اے دوئم حکومت نے ناکامی کے تین سال پورے کئے

بچے جب اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں، تو اسکول کی طرف سے سال کے اخیر میں ان کا رپورٹ کارڈ تیار کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس بچے کو اگلی کلاس میں پروموٹ کرنا ہے یا نہیں۔ یو پی اے دوئم حکومت نے اپنے تین سال پورے کیے اور خود ہی اپنا رپورٹ کارڈ بھی تیار کر لیا۔ ظاہر ہے، جب خود سے رپورٹ کارڈ تیار کیا گیا ہے تو اس میں صرف اچھائیاں ہی

Read more

موجودہ اخلاقی بحران اور اردو صحافت

عبد الحمید حاکم
صحافت و ابلاغ بڑا ہی مبارک مشن اور ایک مسلسل ترقی پذیر معزز فن ہے۔ ساتھ ہی اس کا میدان عمل بشمول اپنی تمام تر وسعتوں کے نہایت ہی حساس ذمہ داریوں اور پیہم قربانیوں کا طالب ہوا کرتا ہے اور ایک کامیاب صحافی وہ ہوتا ہے جو نہایت جرأت مندی کے ساتھ کسی دبائو کو قبول کیے بغیر باطل کے خلاف سینہ سپر رہتا ہے۔ قوم و ملت کی ملکی اور سیاسی رہنمائی ہویا تہذیبی و اخلاقی محاذ، علمی و ادبی میدان ہو یا تعلیمی، ثقافتی و معاشی چیلنجز، غرض ہر زمان و مکان میں ایک کامیاب صحافی کا اشہب قلم گامہ فرسائی کرتا نظر آتا ہے۔
ان تمام پہلوئوں سے ماضی کی اردو صحافت کا جائزہ لینے پر بڑی ہی روشن تاریخ سامنے آتی ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے بے شمار اخبارات منصہ شہود پر آ ت

Read more

پاکستان میں صحافت

سہیل انجم
صحافت یوں تو متاع حیات کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کا نام ہے ۔ لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوں اوراس متاع حیات کے قدم قدم پر لٹنے کے خطرات موجود ہوں تو ان حالات میں صحافت کا چراغ جلائے رکھنا کوہکن کے جوئے شیر نکالنے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور مشکل ہے۔ لیکن آفریں ہے پاکستان کے ان صحافیوں کو جو کوچہ قاتل میں بھی شاہانہ انداز میں نقد جاں لے کرچلنے اور اپنے خون سے شمع مقتل کی لوکو تیز کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان جس قسم کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے اور جس نوعیت کی جنگوں میں ملوث ہے وہ نہ تو کسی تعمیری کاز کے لیے سازگار ہیں اور نہ ہی صحافتی فرائض کی ادائیگی کے لیے معاون۔ لیکن ا

Read more

ہند آسٹریلیائی تعلقات ،نازک موڑ پر

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دنوں آسٹریلیا اورہند وستان کے آپسی تعلقات ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ تعصب کی یہ حالت ہے کہ پہلے ہندوستانی ٹیکسی ڈرائیوروں پر حملے ہوئے اس کے بعد ہندوستانی طلبا پر حملے کئے گئے اور اب گرودواروں کو نشانہ بنانے جیسے معاملات سے صورت حال اور بھی سنگین ہو چکی ہے۔حالانکہ دونوں ہی ممالک نے اپنی جانب سے پوری کوشش کی ہے کہ ان حالات کا اثر دو طرفہ رشتوں پر نہ پڑے، لیکن بند دروازوں کے پیچھے کی حقیقت کا اگر جائزہ لیں تو حالات یقیناًحوصلہ افزاءنہیں ہیں۔

Read more
Page 12 of 12« First...89101112