دو سال بعد سماج کا ہر طبقہ مایوس

مرکز میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے دو سال گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ امید کی جارہی تھی،وہ اس موقعہپر ایکعظیم الشان تقریب منارہے ہیں۔ لیکن آیئے اس مسئلے پر ایک غیر جانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں۔ ایک غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ظاہر کرے گا کہ انتظامیہ کی کارکردگی اوسط ہے۔ اسے دس میں سے پانچ نمبردئے جا سکتے ہیں۔ اس حکومت کی پریشانی یہ ہے کہ اس نے الیکشن کے دوران لوگوں کی امیدیں بڑھا دی تھیں۔ لوگوں نے بھی اسے بھاری اکثریت سے اقتدار کی کرسی پر بٹھادیا۔لیکن معاشرے کے کسی بھی طبقہ کی بات کر لیجیے اب مایوس ہے ۔

Read more

دو ہزار انیس میں مودی کو پہلے سے زیادہ محنت کرنی ہوگی

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج آگئے ہیں۔ یہ نتائج ویسے ہی ہیں، جیسی کہ امید کی گئی تھی۔ کیرل میں ہمیشہ سرکار بدلتی رہی ہے۔ ایک بار’ ایل ڈی ایف‘ تو دوسری بار’ یو ڈی ایف‘۔اسی روایت کے تحت یہاں کا انتخابی نتیجہ آیا ہے۔ اس لئے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ تمل ناڈو میں بھی عام طور پر’ اے آئی اے ڈی ایم کے‘ اور’ ڈی ایم کے‘ کے درمیان اقتدار بدلتا رہا ہے، لیکن اس بار ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ دوبارہ بر سراقتدار آئی ہے۔ اس سے پرانی روایت ٹوٹ گئی ہے کہ کوئی ایک پارٹی دوبارہ تمل ناڈو میں

Read more

اگسٹاکا سچ کوئی نہیں جاننا چاہتا

کاسیشن چل رہاہے۔فائننس بل پاس ہونا ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ ملتوی ہوجائے گی۔ وزیر خزانہ کو دو اوربل پاس کرانے ہیں۔بینکرپسی کوڈ اور جی ایس ٹی بل،جس کے لےے کانگریس کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔پارلیمنٹ میںاگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید میںبے ضابطگیوںکو لے کر ایک بحث ہوئی۔ اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اپنی بات رکھی۔ ایک تفصیلی جواب دیا۔ سارے واقعہ اور حقائق کو پارلیمنٹ میں رکھا اور کہا کہ موجودہ سرکار کو اس معاملے کی پوری جانچ کرانی چاہےے اور ایک حتمی نتیجہ تک پہنچنا چاہےے۔ ظاہر ہے ، پارلیمنٹ میںکسی کوبھی سچ کا پتہ لگانے میں دلچسپی نہیںہے، بلکہ وہ اس سے سیاسی فائدہ پانا چاہتے ہیں۔

Read more

سرکار کو مالی معاملات میں سمجھداری دکھانی چاہئے

کی جار ہی ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا دور ثمر آور ثابت ہوگا۔ مرکزی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت اس سیشن میں بینکرپسی (دیوالیہ) بل پیش کر نے کی کوشش کررہی ہے۔ ا س کے ساتھ ہی وہ گڈس اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی) بل کو بھی پارلیمنٹ سے پاس کرانے کی کوشش کرے گی۔ لیکن سیاسی واقعات اکثر نئے حالات پیدا کر دیتے ہیں، اس دفعہ بھی ایسا ہی ہو ا ہے ۔ جب تک کانگریس تعاون نہیں کرے گی،تب تک بی جی پی کو راجیہ سبھا سے کوئی بل پاس کروانا مشکل ہوگا ۔ یا پھر جب تک

Read more

آئین کا صحیح نفاذ ہونا چاہیے

اتراکھنڈ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل ہی صدر راج نافذکرنے کے معاملے کی سنوائی اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے ہوتی ہوئی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ اس معاملے کی نوعیت سیاسی ہے۔ اس میں عدالت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کو اس سلسلے میں صحت مند معیار قائم کرنے چاہئیں۔ دل بدل قانون جس مقصد کے لیے نافذ

Read more

بی جے پی وَن مین شو بن گئی ہے

آخر کار این ڈی اے اور بی جے پی نے اس طرح کی سیاست کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا جسے ہم ہندوستان میں دیکھتے آئے ہیں۔ فی الحال انہوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے مخالف خیمے کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کا کھیل شروع کر دیا ہے۔ یہ کھیل اروناچل پردیش میں کامیابی کے ساتھ کھیلا گیا۔ اب اتراکھنڈ پر نظر ہے۔ دراصل، اس میں دو مسئلے ہیں۔ پہلا، اگر بی جے پی نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے کام کرنے کا یہی طریقہ ہے، تو اس نے دلی میں ایسا کیوں نہیں کیا؟ جبکہ وہاں اس کے پاس 31ایم ایل اے تھے اور حکومت سازی کے لئے صرف پانچ ایم ایل اے کی ضرورت تھی۔ اگر بی جے پی دلی میں ایسا کرکے سرکار بنا لی ہوتی، تو کجریوال کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے کے بجائے اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ہم سب سے الگ (اچھی) پارٹی ہیں۔ ہم کسی دوسری پارٹی میں توڑ پھوڑ نہیں کریںگے۔ ہم چنائو لڑیں گے۔ دراصل انہوں نے اعلیٰ مثال پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کجریوال نے ان کا صفایا کر دیا۔ بہار میں بیشک چنائو اپنے وقت پر ہورہے تھے، جو ٹھیک ہے۔

Read more

اہم ایشو پیچھے چھوٹ رہا ہے

ارونا چل پردیش ایک ایسی ریاست بن گئی ہے،جہاں آرٹیکل 356 کا استعمال بنا کسی ٹھوس سبب کیہوا۔حالانکہ ایسے معاملے میں پہلے بھی گورنر، مرکز کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ۔لیکن اس بار گورنر نے ساری حدیں پھلانگ دیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت نہیں تھی یا اکثریت تھی، لیکن ان کے کچھ ارکان اسمبلی باغی ہوگئے تھے۔ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے گورنر کو وزیر اعلیٰ سے اسمبلی کاسیشن بلانے

Read more

مندر داخلہ تنازع میں سرکار کی مداخلت غیر مناسب

گزشتہ دنوں میڈیا میں ایک خبر اہمیت کے ساتھ چھائی رہی۔ یہ خبر تھی مختلف خواتین تنظیموں کے ذریعہ سبری مالا مندر میں داخلہ کولے کر کیے جارہے آندولنوں کے بارے میں۔ ا س مندر میں 10 سے 60 سال کی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ پونے کے نزدیک شنی مندر کے گربھ گرہ میں بھی عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔ ایک سیکولر سماج میں کسی سرکار کے لیے قطعی غیر مناسب ہے کہ وہ مذہبی رواجوں اور عمل پر تبصرہ یا مداخلت کرے، جیسا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے خواتین تنظیموں کو حمایت دینے کی بات کہی ہے۔حمایت یا مخالفت کرنا ان کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک خطرناک ٹرینڈ شروع ہوا ہے،جس میں سرکار اگر ایک دھرم کے معاملوں میں مداخلت کرے گی، تو دوسرے مذہبوں کے معاملوں میں بھی مداخلت کرنے سے اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔ یہ ایک خطرناک شروعات ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

Read more

اس نظام کی حفاظت کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے

اپنی بات کی شروعات میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کی المناک خبرسے شروع کرنا چاہتا ہوں۔وہ کشمیر کے ایک پرانے لیڈر تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جب دہلی میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے، تب انھوں نے مفتی محمد سعید کو ملک کا وزیر داخلہ مقررکیا۔ ان کے لےے اور ساتھ ہی کشمیر کے لےے یہ ایک بہت ہی اہم بات تھی، اہم حصولیابی تھی۔ ایک کشمیری کو پورے ملک کا وزیر داخلہ مقرر کیا جانا فخر کی بات تھی او ریہ کشمیری لوگوں کے لےے بہت اہم

Read more

جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔

سیاست کو قریب سے دیکھنے ،جاننے والے لوگوں نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا ، اسی کے مطابق پارلیمنٹ بغیر کوئی خاص کام کئے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔پارلیمنٹ کا وقت بغیر کوئی با مقصد کام کئے برباد ہوا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا پارلیمانی جمہوریت پر سے یقین کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ میرے خیال میں آج بھی اس ملک کے آئین اور موجودہ نظام میں سب کی حصہ داری ہے۔ کانگریس کو موجودہ صورت حال اور واقعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں (فرنٹ آرگنائزیشن ) کا اس نظام پر کبھی زیادہ یقین رہا ہی نہیں۔ ظاہر ہے ،وہ اسی آئین کے راستے اقتدار میں آئے ہیں، اس لئے انہیں یہ آئین مانناہے۔لیکن اقتدار میں آنے کی وجہ سے آئین کو ماننا اور سچ مچ آئین پر یقین رکھنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں یا کاموں سے کنفیوژن کی صورت بنتی ہے تو یہ ان کے ہی ہدف کو پورا کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں اور ممبران پارلیمنٹ جس طرح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ آخر کیا ہے؟یہ لوگ غیر متعلقہ ایشوز جیسے بیف اور منطقی لوگوں کے قتل وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو۔

Read more
Page 12 of 13« First...910111213