بی جے پی ترقی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی

خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر نے ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ پہلے بھی سرجیکل اسٹرائک ہوئے ہیں،لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جب سرکار نے عوامی طور پر اس کا خلاصہ کیا ہے۔دراصل یہی صحیح طریقہ ہے۔ پارلیمانی سوالوں کا جواب دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے اور پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دینے میں سچائی برتی جانی چاہئے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ یہ روایت جاری ہے اور خارجہ سکریٹری (جو کہ بھلے ہی موجودہ سرکار کو رپورٹ کررہے ہیں )جرأت کے ساتھ وہی بات کہی جو سچائی ہے۔ سیاسی پارٹیاں جو کہناچاہتی ہیں وہ کہنے کے لئے آزاد ہیں، آخر کار انہیں سیاست کرنی ہے۔یہاں تک کہ برسراقتدار پارٹی بھی اپنی بات کہنے کے لئے آزاد ہے۔جیسے پہلی بار کوئی وزارت قائم کی گئی ہے وغیرہ وغیرہ ۔لیکن اس سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ سسٹم کام کررہا ہے۔

Read more

اقتصادی نقطہ نظر سے اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں

حالانکہ وزیر اعظم کہتے رہتے ہیںکہ آئین ایک مقدس کتاب ہے، سبھی مذاہب ایک برابر ہیں،لیکن ان کے کام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ۔ کشمیر اس کی مثال ہے۔ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ سرکار بنائی، جس کی وجہ سے پی ڈی پی نے بھی اپنا اعتماد کھو دیا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی آرٹیکل 370 ختم کرنا چاہتی ہے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ آپ ایسا کریں گے تو باقی مسلمان کیا سوچیں گے کہ کشمیریوں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہے اور الحاق کا دستاویز موجود ہے، تو یہاں ہماری سیکورٹی کا کیا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ان کے اندر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے

Read more

سرجیکل اسٹرائک پر عوامی چرچا بند ہونی چاہئے

ہندوستان کے لوگوں نے ہندوستانی فوجیوں کے ذریعہ سرجیکل اسٹرائک کئے جانے کی خبر کو خوشی خوشی لیا۔یہ ایک اچھی خبر ہے۔لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے جب فوج نے ایسا کام کیا ہو۔ یہ ایک باقاعدہ کام ہے ۔فوج کا اپنا ایک طریقہ ہوتاہے اور ہندوستانی فوج بہت زیادہ پیشہ ور، بہت زیادہ باصلاحیت اور بہت ہی زیادہ نظم وضبط والی فوج ہے۔ لیڈروں کا رویہ ہی اس معاملے کی بدقسمتی ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے کچھ لیڈر اس طرح سے شور مچا رہے ہیں گویا کہ پہلی بار کوئی راکٹ سائنس کا کام کیا گیا ہو۔ دوسری طرف، اپوزیشن پارٹی شک و شبہ کی حالت میں ہے۔ کچھ بھروسہ کررہے ہیں،کچھ نہیں کررہے ہیں۔لیکن کل ملا کر سبھی سیاسی پارٹیاں مل کر فوج کو سیاست میں کھینچ رہی ہیں۔ برائے کرم سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ہندوستانی فوج اپنا کام جانتی ہے،

Read more

شملہ سمجھوتہ کشمیر تنازعہ کے حل کے لیے کافی ہے

ندوستانی فوج کے ذریعے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں کچھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ملک میں جشن کا ماحول ہے۔ جب آپ یہ اعلان کریں کہ آپ نے دشمن کے طمانچہ مارا ہے تو لوگوں کا خوش ہونا فطری ہے۔ بہرحال اس بارے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ فوج اپنیمعمول کے آپریشن میںایسی کارروائی کرتی ہے، لیکن یہ اعلان کرنے اور بحث کرنے والی بات نہیںہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حالیہ دنوں میںہمیں پٹھان کوٹ اور اڑی میں دو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے یہ بات صحیح ہے کہ دونوں حملوں کے لیے پاکستان قصوروار تھا۔ لیکن ہماری طرف سے بھی چوک ہوئی ہے۔ اڑی میں (جو ابھی کا

Read more

آرٹیکل 370 کو سختی سے نافذ کیا جائے

کشمیر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محاذوں پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ وہاں زمینی سطح پر جو ہورہا ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ پہلے تو انہوں نے پٹھان کوٹ کا حادثہ انجام دیا اور اب اڑی میں حملہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے ہمارے فوجی کیمپوں پر حملوں سے ہماری کمزور سیکورٹی تیاریوں کا پتہ چلتا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ حوصلہ پست ہے یا اصل مسئلے کو لے کر قیادت سے چوک ہورہی ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ منوہر پاریکر ایک بہت ہی ناتجربہ کار وزیر دفاع ثابت ہوئے ہیں۔

Read more

شملہ سمجھوتہ اور اندرا- شیخ سمجھوتہ ہی کشمیر مسئلے کا حل ہے

کشمیر نے گزشتہ کچھ ہفتوں سے لگاتار ملک کا دھیان اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔کل 72لوگ مارے جا چکے ہیں اور بد امنی ابھی بھی برقرار ہے۔جو سوال ہر آدمی پوچھ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر مسئلے کا حل کیا ہے؟لیکن اس سوال سے پہلے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ کشمیر مسئلہ آخر ہے کیا؟کشمیر مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا، پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے پر 1947 سے زبردستی اور غیر قانونی ڈھنگ سے قبضہ کر رکھا ہے۔ 1947 کے بعد سے وہاں جنگ بندی نافذ ہے۔یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کو آپس میں سلجھانا ہے۔ اس معاملے پر اتنا کہنا کافی ہے کہ اقوام متحدہ کی تجاویز ، جن میں عوامی ریفرنڈم ،پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان فوج کی واپسی وغیرہ شامل ہیں، کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ ایک تو پاکستان نے تین مہینے کے اندر اپنی فواج واپس نہیں بلایا اور دوسرا یہ کہ ریفرنڈم وقت کی آبادی کے حساب سے ہونا تھا، اب یہ نا ممکن ہے۔ لہٰذا یہ خیال بحث سے خارج ہے۔

Read more

ہندوستانی میڈیا کا بحران

دنیا کے دیگر شہروں کی طرح ہندوستان میںبھی صحافت سال در سال تبدیل ہوئی ہے۔ اگر ہم 1947 میںملک کو ملی آزادی کے بعد گزشتہ 70 سالوںکی بات کریں، تو صحافت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔1995 کے وسط میں سیٹیلائٹ ٹی وی ہمارے ملک میںآیا۔ اس کے بعد سے 24 گھنٹے چلائے جانے والے نیوز چینلوں نے اپنا ایک برانڈ بنایا ہے، جس میں ایک ہی خبر بار بار دکھائی جاتی ہے۔ یہی نہیں، ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ الگ الگ نیوز چینل الگ الگ خبریں دوہراتے رہتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کے آجانے سے اخبارات پر ان کا اثر پڑا ہے۔اخبارات بہت زیادہ خبریں نہیں دے پاتے ہیں، کیونکہ ایک دن پہلے ہی ہم ٹیلی ویژن پر خبر دیکھ لیتے ہیں، لیکن اخبارات کی اہمیت اس بات کے لیے ہے کہ ہم ان میںنہ صرف روزمرہ کی خبریں پاتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کسی مدعے پر مختلف لوگوں کے خیالات بھی ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اخبارات میں جو روز کی خبریںدی جاتی ہیں، انھیںغلط طریقے سے پیش نہیںکیا جا سکتا، کیونکہ وہ خبر لوگ ٹی وی پر پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں۔

Read more

فسطائیوں کی پناہ گاہ ہے نیشنلزم

کشمیر کے حالات آج ایسے ہوگئے ہیں جوکہ 1980 کے اواخر کے بعد کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ حالانکہ طالب علموں نے 2010میں بھی سنگ باری کی تھی، لیکن اس کے بعد چیزیں قابو میں آگئی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر متاثرہ لوگوںسے وقت رہتے بات چیت نہیں کی گئی تو مسئلہ اور بڑھ جائے گا اور اگر وہاں کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی، جن کے ساتھ ہم خود کو نہیں جو ڑ پائے، تو پھر بات چیت کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یہاں میں ایک دلیل دینا چاہوں گا۔ آپ گیلانی کو کنارے لگانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیوں! گیلانی ایک نظریہ کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ علیحدگی پسند ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے نظریہ سے اتفاق نہ رکھتے ہوں، لیکن پھر بھی وہ ایک نظرئے کی نمائندگی تو کرتے ہیں۔ ایسے میں انہیں بات چیت سے الگ رکھنے

Read more

آزادی کے 70سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں

کمل مرارکا
ایک بار پھر ملک نے یوم آزادی منایا۔حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟یہ ہم سبھی کو ،پھر چاہے وہ لیڈر ہوں،دوسرے لوگ ہوں، صنعتی گھرانوں کے سربراہ ہوںیا سول سوسائٹی کے لوگ، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہئے۔ کیا ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں جیسا کہ آئین میں خاکہ پیش کئے گئے ہیں یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے بگاڑ رہے ہیں۔ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے لئے آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے۔سرکار کا کردار کیا ہو، یہ بھی صاف ہے کہ منتخب کی ہوئی سرکار پالیسیاں بنائے ،وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی ،لیکن ان کا نفاذانتظامیہ کے آفیسر کے ذریعہ سے ہونا چاہئے، ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز اور دوسری سروسز کے آفیسر شامل ہیں ،جو ایک سخت سرگرمی کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ان سروسز کے لئے مسابقتی امتحان کے ذریعہ تجربہ کار لوگوں کے انتخاب ہوتے ہیں۔اس لئے ان پالسیوں کے نفاذ کے لئے یہ آفیسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں،لیکن کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟

Read more