انصاف کے ہنوز منتظر ہیں ہاشم پورہ متاثرین

اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ تقریبا 30 برس بعد ہاشم پورہ معاملہ ابھی تک انصاف کا متقاضی ہے۔ وہ بد نصیب 42 افراد جنہیں پی اے سی کے جوانوں نے 22مئی 1987 کودن دھاڑے گھروں سے نکال کر میرٹھ میں ہاشم پورہ محلہ کے باہر گل مرگ سنیما کے سامنے جمع کیا اور پھر ٹرک میں بیٹھا کر مراد نگر ؍غازی آباد کے گنگ نہر اور ہنڈن ندی کے پاس لائے اور پانی میں گولیوں سے مار کر پھینک دیا۔ان میں سے بچے ہوئے چند افراد اور مقولین کے اعزہ و اقارب ہنوز معاوضہ سے محروم ہیں۔ یہ معاملہ غازی آباد کی عدالت سے چکر کاٹتا ہوا جلد مقدمہ نمٹانے کے لئے دہلی کی تیس ہزاری عدالت لایا گیا اور وہاں 21مارچ 2015 کو ثبوت کی عدم فراہمی کے سبب قاتل کا پتہ نہ لگ سکنے پر نتیجہ یہ نکلا کہ پی اے سی کے 16 ملزم جوان بری الذمہ قرار دیئے گئے۔

Read more

بچوں کی اموات میں ہندوستان کا سرفہرست ہونا تشویشناک

پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح میں 1990 اور 2015 کے درمیان تین فیصد کی کمی ہوئی۔اس کاصاف مطلب یہ ہوا کہ میلنیئم ڈیولپمنٹ گول ( ایم ڈی جی ) کی شرح 4.4 فیصد سے ہندوستان 1.4 فیصد ابھی پیچھے ہے۔ اگر ہندوستان اس ہدف کو پورا کرلیتا تو یقینا 14ملین بچے بچ جاتے ۔دراصل یہ اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان بچوں کے تعلق سے کتنا کم توجہ دے پارہا ہے۔یہ اموات دیہی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہیں جہاں میڈیکل سہولیات کا بہت فقدان ہے۔ان دیہی علاقوں میں جہاں مسلم آبادی قابل ذکر ہے، وہاں تو حالت اور بھی زیادہ خراب ہے

Read more

صاف ستھرے بھارت کا مشن ہدف اور مسلم علاقوں سے دور

یاد آتا ہے 1997میں ملکہ برطانیہ الیزابتھ کا 1961اور 1983 کے بعد تیسری بار دورہ ہند۔ 12 اکتوبر کو نئی دہلی پہنچنے کے بعد دوسرے روز علی الصباح یہ کھلی گاڑی میںاپنے ملک کے ہائی کمشنر سر ڈیوڈ گورے بوتھ کے ساتھ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ انھیں خراج عقیدت پیش کرنے جارہی تھیں۔ اچانک رنگ روڑ پر راج گھاٹ سے ٹھیک پہلے ان کی نظر سڑک کے کنارے متعدد خواتین پر پڑی جو انھیں دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ اس پر ملکہ نے اپنے ہائی کمشنر سے پوچھا کہ یہ سب اچانک کیوں کھڑی ہوگئیں اور کیا کررہی ہیں؟ جواب ملا کہ ’’دے آر

Read more

بیدر کے شاہین گروپ کا انوکھا تجربہ اب حافظ قرآن ڈاکٹر انجینئر بھی بن رہے ہیں

مسلم کمیونٹی میں حفظ قرآن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ساتویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں اسلام کی آمدکے بعد سے ہی دارالحفظ کا سلسلہ انفرادی یا چھوٹے چھوٹے پیمانے پر شروع ہوچکا تھا۔ مشہور مراقشی سیاح ابن بطوطہ نے14 ویں صدی میں بحیرہ عرب پر بسے شہر بھٹکل میںدورے کے دوران بچوں اور بچیوں کے علیحدہ علیحدہ دارالحفظ و تجوید کا اپنے سفر نامہ میں ذکر کیا ہے۔ ابتداء میں حفظ مکمل کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تعلیم یہیںپر ختم ہوجائے اوریہ بذات خود ایک پروفیشن بن جائے اور پھر اس سے فارغ افراد فقط مسجد کی امامت ایک قلیل تنخواہ پر کرتے رہیں۔ مگر بعد میںہوا یہی جس کے نتیجے میںحفاظ کرام جیسا طبقہ معاشی طور پر بہت کمزور ہوتا چلا گیااور

Read more

جموں و کشمیر کی معیشت بھی دم توڑ رہی ہے

ریاست جموںو کشمیر کی معیشت میںکشمیر کے ہارٹی کلچر سیکٹر کا بڑاہی اہم اور غیر معمولی کردار ہے۔ ہارٹی کلچر سیکٹر تنہا ریاست کے ریونیو میں تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے سالانہ اضافہ کرتا ہے۔ لیکن 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی موت کے بعد اب تک وادی میں تشدد او ربدامنی کے جاری رہنے سے اس سال صورت حال بہت ہی مایوس کن محسوس ہوتی ہے۔ پھلوں کے پیدا کرنے والے کے حوالے سے جو خبر آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ پھل خصوصاً سیب کے باغات خراب ہونے شروع ہوگئے ہیں کیونکہ بدامنی کے سبب ماحول اتناخراب ہے کہ درختوں سے پھلوں کو توڑنابھی فی الوقت بہت مشکل ہے۔ علاوہ ازیں جو پھل درختوںسے توڑے جارہے ہیں، ان کا بیرون کشمیر ٹرانسپورٹیشن بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر ہر سال دہلی کی آزاد پور منڈی

Read more

جماعت کی ’امن و انسانیت مہم‘ کا مظفر نگر اور شاملی کے بے گھر لوگ انتظار کرتے رہے

ہندوستان میں 68 برسوں سے آفاقی بنیادوں پر سرگرم عمل ہونے کا دعویٰ لے کر اٹھی جماعت اسلامی ہند ابھی حال میں اس وقت ملک کے ایک بڑے حلقہ کی توجہ اپنی جانب مبذو ل کراتی دکھی جب اس نے تمام مذاہب کے حاملین سے 15 روزہ ’امن و انسانیت مہم‘ کے دوران روابط بنائے اور تبادلہ خیال کئے۔اس کا مقصد تھا کہ معاشرہ میں کمیونیکیشن گیپ، مذہبی بنیادوں پر پولرائزیشن،عدم رواداری اور عدم برداشت کا جو ماحول بنتا جارہا ہے اور فروغ پارہا ہے ، اس پر روک لگانے کی کوشش کی جاسکے۔ جنرل سکریٹری جماعت محمد سلیم انجینئر کے مطابق، ملک

Read more

سنگور کے کسانوں کو انصاف ملا مگر نندی گرام اب بھی محروم

توقع ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق ہوگا جو کہ اپنے فکری اصولوں سے ہٹ کر عوام مخالف قدم اٹھاتی ہیں اور اقتدار کے نشے میں عوام کے مفادات ہی کو فراموش اور نظر انداز کردیتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کے اس عمل کو نہ عوام پسند کرتے ہیں اور نہ ہی عدالت اور وہ ہر جگہ پر مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ سنگور کے بعد نندی گرام انصاف کا منتظر ہے۔

Read more

کالا ہانڈی کا دردناک واقعہ انسانیت کی موت ہے

انسانیت سوز واقعات دنیا میں کہیں بھی ہوں،شرمناک ہیں۔ایسے واقعات درحقیقت یہ بتاتے ہیں کہ انسانیت مررہی ہے۔ ماضی قریب میں خانہ جنگی کے نتیجے میں شام میں ایلن کردی کی لاش و دیگر معصوم بچوں کی حالت زار کی جو تصاویر منظر عام پر آئیں تو ہر شخص بلا لحاظ مذہب و ملت دہل اٹھا۔ اسے تو یہ کہہ کر نمٹنے کی کوشش کی گئی کہ معاملہ خانہ جنگی کا ہے اور وہاں بحرانی کیفیت ہے ،مگر 24اگست 2016کو ریاست اڑیسہ کے کالا ہاندی میں جو کچھ ہوا ہے ،اس کی تو کوئی توضیح کی ہی نہیں جاسکتی ہے۔

Read more
Page 2 of 212