افواہ پھیلانے کے الزام میں شہلاراشدکے خلاف دہرادون میں کیس درج

Share Article
shehla-rashid
پلوامہ حملے کے بعد کئی ریاستوں میں کشمیری طالب علموں کی صورتحال کے بارے میں ایک ٹویٹ میں مبینہ طور پر غلط جانکاریپھیلانے کے الزام میں اتراکھنڈ کے دہرادون واقع پریم نگر پولیس اسٹیشن میں سابق جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر شہلا راشد کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 505، 153 اور 504 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر شہلا راشد کے خلاف دہرادون پولیس نے پیر کو ایف آئی آر درج کی ہے۔ شہلا پر الزام ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد انہوں نے ٹویٹر کے ذریعے افواہ اور خوف پھیلانے کی کوشش کی۔

پلوامہ حملے کے کئی ریاستوں میں کشمیری طلبہ پر حملوں کی خبروں کے درمیان شہلا راشدنے ٹویٹ کیا تھا 15 سے 20 کشمیری طالبات دہرادون کے ہاسٹل میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ہاسٹل کے باہر مشتعل ہجوم بھیڑ کھڑا ہے جو کہ طالبات کو کالج سے نکالنے کامطالبہ کر رہا ہے۔پولیس موقع پر موجود ہے لیکن وہ بھیڑ کو ہٹا نہیں پا رہی ہے۔حالانکہ، اتراکھنڈ پولیس نے اتوار کو صفائی دی کہ کشمیری طلبہ ہاسٹل میں نہیں پھنسے ہیں۔ پولیس نے امن بھنگ کرنے کے الزام میں شہلا راش کے خلاف ایف آئی آر درج کر لیا ہے۔


اپنے خلاف ہوئی ایف آئی آر پر ٹویٹ کرتے ہوئے شہلا راشدنے لکھاکہ ’اتراکھنڈ پولیس نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، لیکن انہوں نے بجرنگ دل کے وکاس ورما کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے جو قومی اخبارات میں اس حملے کی قیادت کر رہا تھا، اور کشمیریوں کو دہرادون چھوڑنے کا حکم دے رہا تھا۔ بتا نہیں سکتی کہ اتراکھنڈ میں کس کی حکومت ہے! ‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *